افسانہ نگار ، ناول نگار ، نقاد ، کالمسٹ ( اردو اور انگریزی) نعیم بیگ کا انٹرویو

افسانہ نگار ، ناول نگار ، نقاد ، کالمسٹ ( اردو اور انگریزی) نعیم بیگ کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

نعیم بیگ۔۔نعیم بیگ

تفکر – قلمی نام؟

نعیم بیگ۔۔نعیم بیگ

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

نعیم بیگ۔۔21 مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوا۔

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

نعیم بیگ۔۔گریجویشن اور قانون کی ڈگری

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

نعیم بیگ۔۔والد سرکاری ملازم تھے جس کے سبب ابتدائی تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

نعیم بیگ۔۔گوجرانوالہ اور لاہور کے کالجوں میں زیرتعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔

تفکر – پیشہ؟

نعیم بیگ۔۔ ۱۹۷۵میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھااورملک کےدوردرازعلاقوں میں خدمات سرانجام دیں۔ بالآخر لاہور سےوائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوا۔ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزاراجہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتا رہا۔

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

نعیم بیگ۔۔۲۰۰۹ء میں پہلا افسانہ ’’آخری لمحہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ جو جنگ کے ادبی صفحہ پر شائع ہوا۔

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

نعیم بیگ۔۔یوں تو سبھی شاعر پسند ہیں.تاہم شاعری میری تخلیقات میں شامل ہیں نہ میں نے تلمذ اختیار کیا۔ ایک آدھ نظم کہی بھی تو صرف اپنے لئے.

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟ اور کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

نعیم بیگ۔۔میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ کہانی میرے اندر سمائی ہوئی ہے،شاعری کا خمار،موسیقی کے سر اور تال،مصوری کے جھلملاتے رنگ درحقیقت فنونِ لطیفہ کی وہ اصناف ہیں جو انسانی جمالیات کو یقینی طور پر ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے لیکن میں نثری اصناف میں اپنے جذبات،لطیف خیالات اور تصورات کو کہیں بہتر سمجھتا اور بیان کر لیتا ہوں۔میرے لئے حقیقی دنیا سے امیجنری دنیا کا سفر اور پھر واپسی کاسفر انہی الفاظ کے تانے بانوں پر طے ہوتا ہے۔میرے قلم میں وہ سب خیالات جو تصوراتی دنیا سے نکل کر الفاظ کا روپ دھارتے ہیں ان میں انسان اور اس کے دکھ سب سے پہلے جگہ پاتے ہیں۔میں ادب کو انسان سے منسلک پاتا ہوں اور انسانی دکھوں کا مداوا سمجھتا ہوں۔لہذا انہیں یقینی طور پر سیاست کے راستے ایسے مقام پر دیکھتا ہوں جہاں سے انسانی اقدار کی نمو،سماجی افزودگی اور معاشی بڑھوتری ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے فکشن جو میرا جنوں ہے اسے اپنایا۔وہی زیادہ پسند ہے اور وہی اب تک لکھی ہے۔میری مختصر کہانیوں کے دو مجموعے اور انگریزی کے دونوں ناول فکشن میں حقیرانہ سی سعی ہے۔ہاں البتہ تنقید کا میدان میری دوسری کنڈلی ہے جو کبھی کبھی مجھے تنقیدی میدان میں لے جاتی ہے۔

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

نعیم بیگ۔۔۱۔ ٹرپنگ سول ( انگریزی ناول۔ سوشل ) شائع ۲۰۱۰
۲۔ یو۔ ڈیم۔ سالا ( اردو افسانوی مجموعہ ) شائع ۲۰۱۳ ۔
۳۔ کوگن پلان ( ناول ۔ انگریزی ۔ وار آن ٹیرر ) ۲۰۱۴
۴۔ پیچھا کرتی آوازیں ( اردو افسانوی مجموعہ ) ۲۰۱۶

زیر تصنیف ہیں
۱۔ اردو ناول سوشل متوقع اگست ۲۰۱۷
۲۔ انگریزی کتاب تقسیم ہند (شرمناک و شتابی انخلا) ریسرچ ورک
۳۔ درجنوں اردو انگریزی افسانے و تنقیدی مضامین ، کتاب تبصرے ، کالمز مطبوعہ روزنامہ ڈان کراچی ، ایکسپرس ٹرئبون پاکستان ، واشنگٹن پوسٹ ، امریکہ ، روزنامہ جنگ لاہور کراچی کوئٹہ ملتان ، دنیا لاہور ، ایکسپرس کراچی، نیشن لاہور ، روزنامہ ازکار اسلام آباد ، سہ ماہی ثالث بہار، سہ ماہی فنون لاہور ، سہ ماہی کاغذی پیرہن لاہور ، سہ ماہی استفسار انڈیا ، سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز انڈیا ، ماہانہ جرس کراچی ، لائو روسٹرم آن لائن ، ایک روزن آن لائن ، ہم سب آن لائن ، لالٹین آن لائن ، نعیم بیگ بلاگ آن لائن ، سکریپڈ آن لائن ، دیدبان آن لائن ، جنگ ٹرینٹو کینیڈا ۔ اکیڈیمیہ آن لائن ، گڈ ریڈز آن لائن ۔

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

نعیم بیگ۔۔میرا تعلق اندرون شہر لاہور سے ہے۔مغلوں کی ایک بڑی آبادی وہاں مقیم تھی،ہماری طرح کچھ لوگ نکل گئے اور کچھ ابھی بھی وہیں ہیں۔میرے چچیرے دادا میرزا اعظم بیگ لاہور کے سیشن جج تھے۔والدہ کے ماموں زاد معروف بیورو کریٹ ایچ۔ یو ۔ بیگ تھے جو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی رہے۔میرزا طاہر بیگ،میرزا افضل بیگ لاہور چھاؤنی میں رہائش پزیر تھے۔میرے اپنے ایک کزن میرزا حمید اللہ بیگ پاکستان کے پہلے ایف ،آر ، سی ، ایس ڈاکٹر تھے بعد میں یہ کنگ ایڈورڈ کالج کے پرنسیپل بھی رہے۔میرے والد میرزا بشیراحمد بیگ آزاد منش انسان تھے۔ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں ہی رہائش پزیر رہے۔تقسیم پر وہ واپس لاہور آئے تھے۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

نعیم بیگ۔۔میری ازدواجی زندگی اتنی ہی پرسکون رہی جتنی ایک زندگی ہو سکتی ہے ۔

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

نعیم بیگ۔۔ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں،زندگی کے مدو جزر زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ان سے کبھی منفی اثرات نہیں لینے چاہیں۔ ویسے بھی سیدھی لائن پر چلنے والی زندگیوں میں اتار چڑھاؤ زیادہ آتے ہیں۔دو بیٹے اور دو بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔دو بچے ملک سے باہر ہیں اور دو یہیں ملک میں رہتے ہیں۔سنہ 2015 میں لاہور آواری ہوٹل میں جب میرے انگریزی ناول ” کوگن پلان ” پر یو۔ایم۔ٹی (یونیورسٹی آف منجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ) ایوارڈ کے لئے میرا نام پکارا گیا،تو میں نے بیوی کا نام پکارے جانے کو کہا اور انہیں بلا کر ایوارڈ دلوایا۔ جس پر موجود سبھی سینئر دوستوں بشمول مستنصر حسین تاڑر،امجد اسلام امجد،منزہ ہاشمی و دیگر نے خوب سراہا۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

نعیم بیگ۔۔لاہور پاکستان

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

نعیم بیگ۔۔یوں تو سارا بچپن مختلف شرارتوں میں ہی گزرتا ہے،لیکن میں ذرا کم گو اور خاموش طبع تھا اور ہوں،لہذا کوئی ایسا ناقابل فراموش یا قابل ذکر واقعہ قارئین کے طبعِ ذوق کے لئے پیش نہ کر پاؤں گا۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

نعیم بیگ۔۔بلوچستان یونیورسٹی کے زمانہ طالب علمی میں گو میں اردو یا انگریزی ادب کا باقاعدہ طالب علم تو نہیں تھا لیکن میری صبح و شام،میرا اٹھنا بیٹھنا ہمیشہ اردو اور انگلش ڈیپارٹمنٹ میں رہتا۔ میرے ایک اسکول کے زمانے کے دوست اور کلاس فیلو فاروق احمد ان دنوں یونیورسٹی میں تازہ بہ تازہ لیکچرر کے طور پر تقرر ہو چکے تھے۔( بعد میں ڈاکٹر فاروق احمد اردو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ،ڈین اور پرو وائس چانسلر بھی رہے۔ملک کے بہترین شاعروں اور نقادوں میں ان کا شمار ہے۔اللہ ان کی مغفرت کرے اب انتقال کر چکے ہیں ) ہم ہر وقت ایک ساتھ رہتے تھے۔انہیں وہیں یونیورسٹی کالونی میں ایک فلیٹ الاٹ ہو گیا تھا سو شام اور رات گئے کی محفلیں وہیں جمتیں۔اس وقت ڈاکٹر کرار حسین وائس چانسلر تھے۔ پروفیسر مجتبیٰ حسین اردو شعبہ کے ہیڈ تھے۔پروفیسر وارث صاحب انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔چونکہ ان سب کا تعلق کراچی سے تھا لہذا یہ سب بیچلر ہی وہیں یونیورسٹی کی رہائشی کالونی میں رہتے تھے اور شام کو فاروق کے گھر محفل جمتی تھی۔سبھی وہیں جمع ہو جاتے۔فاروق کے دیگر نجی دوستوں میں افضل مراد ( ڈائریکٹر اکیڈمی ادبیات ) ڈاکٹر بیرم غوری شعبہ ابلاغیات، خاکسار و دیگر کچھ دوست ہوتے۔ یونہی وقت گزرتا گیا۔
ایک دن ابھی سنیئر حضرات نہیں پہنچے تھے کہ ہماری بے تکی اور ٹھٹھا بازی کی محفل جوان تھی۔ کہ ڈاکٹر فاروق نے اچانک کہا دوستو،مجھے کراچی یونیورسٹی سے اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری کی پیشکش آئی ہے ۔ سوچ رہا ہوں کہ چلا جاؤں۔یہاں بلوچستان میں اردو کا مستقبل مخدوش ہے۔اس سے پہلے کوئی اور بولتا،خود ہی کہنے لگے۔چلا تو جاؤں پر سوچتا ہوں یہاں یونیورسٹی نے گھر دے رکھا ہے۔کچھ ایڈیشنل الاؤنس بھی ملتے ہیں،اور آپ دوستوں کی محفل بھی ہے یہ سب کچھ کراچی میں کہاں ملے گا،یہ سب مشکل ہے۔
تب اچانک میرے اندر کی رگ ظرافت پھڑکی اور میں بلا سوچے سمجھے بول اٹھا،فاروق بھائی،ہاں ایک مشکل اور بھی ہے،وہاں کراچی میں سب کو اردو بھی آتی ہے۔
بس جناب میرا یہ کہنا تھا کہ ایک دلدوز قسم کا قہقہہ بلند ہوا جسے روکنے کے لئے باقاعدہ دوست اوندھے اور لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ڈاکٹر فاروق احمد اتنے دل براشتہ ہوئے کہ کئی دنوں تک مجھے سے ناراض رہے اور ہمارے درمیان بات چیت بند ہو گئی۔پھر کھانا کھلانے کی شرط پر دوبارہ صلح ہوئی۔ہماری اتنی شدید دوستی تھی کہ مرنے سے چند روز پہلے مجھے خصوصی طور پر نییو یارک سے یاد کیا اور گھنٹہ بھر باتیں ہوئیں۔خدا ان کی مغفرت کرے۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

نعیم بیگ۔۔آپ کسی کا انتخاب یوں نہیں کرسکتے۔ادب میں حقیقی،فطری،ترقی پسند اور جدید تصورات کے حامل بہت ادباء اور شعرا ہیں ۔سبھی کا کام متاثر کن ہے۔ میں ان تصورات کے خلق ہونے میں عصری عہد کے انسان کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ہیومنزم یوں تو اب ایک الگ فلسفیانہ تصور بھی بن چکا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم لکھ کیا رہے ہیں؟ کیا وہ کسی عہد اور اس کے اچھے،برے نتائج کو آشکار کرتا ہے یا یونہی ادب برائے ادب کا پرتاؤ ہے۔
میرے ایک مضمون کے اِس مختصر اقتباس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں،میں جب کسی عہد کو پینٹ کرتا ہوں تو سبھی ثقافتی،لسانی، سیاسی اور تہذیبی رحجانات شامل ہو جاتے ہیں۔
” اس کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ مذہبی عقائد اور انتہا پسندی کو ریاستی سطح پر اس قدر قوت بخش دی اور حاصل کر دہ طاغوتی قوتوں کے اثر میں ہم نے طارمِ اعلیٰ کو نہ صرف چھو لینے کا اہتمام کر لیا بلکہ ہم نے اپنے تخلیق کردہ خداؤں کی شبیہ تک طشت از بام کردی۔ ہم نے مخلوق ہوتے ہوئے اپنے خالق کو بیچ دیا اور اس سے کئی ایک نئے خدا خرید کر اپنی اپنی چاندنی بچھائے سِکوں کی بارش کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ منافقت کے بازار سرگرم کر دیے۔ سستے داموں کی آڑ میں جھوٹ سے لبریز تھیلے بانٹے جانے لگے ۔ بوجہ سنسر شپ اور ریاستی جبر و استبداد، کوڑوں کی سزا ، صحافیوں کو جیلیں ، بڑے دانشور طبقے کا ملکی انخلاء ، یہیں سے نئے تخلیق کردہ نظریہ پاکستان کی رو سے شعر و ادب او ر میڈیا پروپیگنڈا کے نام پر کمزور اور پلپلاتی تحاریر ہمارا خاصہ بنیں اور منقسم فقہی عقیدوں کے کوئلوں پر بھُنی ہوئی لاشیں ہمارا کاروبار بنیں ۔۔۔ اور ہم نے طے کر دیا کہ اب یہاں کوئی بھی مر سکتا ہے۔”
میں چونکہ بنیادی طور پر فکشن نگار ہوں مجھے کہانی سے عشق ہے ۔ میری سرشت میں کہانی ہمیشہ ایک نئے جنم کے ساتھ زندہ رہتی ہے ۔ ایسے میں میَں یہ کہہ سکتا ہوں جن ادباء نے میری ابتدائی زندگی (بچپن کہہ لیجیئے) میں مجھے اعتبار بخشا اور میری روحانی رہنمائی فرمائی ۔۔۔ وہ کچھ یوں تھے کہ میں نے کہانی کے پیچ و خم ابن صفی سے سیکھے ۔۔۔ الفاظ کی بنت اور بیانیہ اے حمید سے اور کرداروں کے جھرمٹ میں ثقافت اور لوکیل شکیل عادل زادہ سے سیکھی۔ انگریزی میں میرے روحانی استاد معروف برطانوی فکشن نگار فریڈرک فورستھ اور ادیب روئے جنکنز ہیں۔
تاہم کلاسیک اردو ادب میں میر ، میرزا غالب ، فرحت اللہ بیگ ، پریم چند ،عصمت چغتائی ، سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر اور غلام عباس ہیں۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

نعیم بیگ۔۔اردو افسانے تواتر سے مختلف ادبی اخباری صفحات جنگ ، دنیا ، ایکسپریس و دیگر رسالوں میں چھپنے لگے۔ جن میں فنون لاہور ، ثالث مونیگر بہار انڈیا ، دربھنگہ ٹائمز پٹنہ انڈیا ، کاغذی پیرہن ، لاہور  و دیگر جریدے شامل ہیں۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

نعیم بیگ۔۔اکثر و بیشتر ادبی محافل میں گفتگو کے دوران اختلاف رائے ہوا اور ایسا ہونا صحت مند علامت ہے۔حلقہ ارباب ذوق میں تنقیدی مجلسی اجلاس میں ایسا اکثر ہوتا ہے چونکہ میں متوازن خیالات پر مبنی انسانی تصورات رکھتا ہوں لہذا کبھی کوئی بد مزگی پیدا نہیں ہوئی۔میرے تصورات زندگی طبقاتی کشمکش میں نبرد آزما محنت کشوں کے قریب ہیں۔ترقی پسند شعرا و ادباء انقلابی سوچ رکھتے ہیں ۔ میں ان خیالات سے متفق ہوں لیکن بین ہی زندگی کی حقیقتوں سے قریب رہتا ہوں تاکہ انسانی جدو جہد میں اپنا ذاتی ،سماجی ، ادبی و سیاسی کردار ادا کر سکوں۔ محبت و آشتی میرا اولین پیغام ہوتا ہے ۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

نعیم بیگ۔۔ادب کے حوالے سے اب ایک دو برسوں سے حکومتی سطح پر کچھ ہلچل ہوئی ہے۔حکومتوں کو کبھی بھی ادیب و شاعر حضرات سے انس نہیں رہا کہ وہ ان کے سب سے بڑے نقاد ہوتے ہیں۔ان کی تحاریر اور شاعری ادبی اور عوامی سطح پر ہیجان خیز ہوتی ہے اور انہی کی بات کرتی ہے،اشرافیہ کی زندگیوں میں انسانی دکھ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک بڑا عرصہ مارشل لاء رہا،اس میں ضیا الحق جیسا وقت بھی آیا کہ سرکاری سطح پر ایک مخصوص گروپ یا ٹولہ بنا لیا گیا جو حکومتی پالسیوں کو سراہتا رہا اور دوسرے ناپسندیدہ ادباء کو انہوں نے دبائے رکھا۔
آج کی حکومت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ چند سرکردہ ادبی اداروں میں وہی پرانے چاپلوس لوگوں کو آزمایا جا رہا ہے۔بہرحال یہ اُن مارشل لاؤں سے بہتر ہے کہ جمہوری دور میں ان پر عوامی دباؤ رہتا ہے۔چونکہ ایسی اخلاقی تنزلی ہمارے پورے سماج میں رچ بس گئی ہے، اس لئے صرف حکومتی سطح پر ادبی پالیسی ہی نہیں،دیگر سماجی و معاشرتی،مذہبی پالیسیوں پر بھی روشن خیال اور ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کو تحفظات ہیں۔جس کا اظہار بیشتر ادیب اپنی تخلیقات میں کرتے رہتے ہیں۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

نعیم بیگ۔۔یہ اتفاق ہے کہ میں نے اس سے پہلے تفکر کا کوئی شمارہ نہیں دیکھا,ورنہ مفصل رائے پیش کرتا۔چونکہ یہ آن لائن ہے لہذا موقع ملتے ہی اسے ضرور دیکھوں گا۔بہرحال یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جہاں ادباء و شعرا کی تخلیقات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں وہیں عصری ادیبوں اور شاعروں کے تفصیلی انٹرویوز ہمیشہ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ ادیب و شاعر دنیا میں موجود نہ ہوں تو ان کی کہی باتیں ہمارے لئے مشعل راہ بن جاتی ہیں۔آپ کی یہ کاوش لائق صد ستائش ہے۔اس سلسلے کو جاری رکھیں۔

تفکر – شعر یا تحریر؟

نعیم بیگ۔۔” جب انسان داخلیت سے نبرد آزما ہو تو خارجیت کہیں زیادہ گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ ” (نعیم بیگ )
” زندگی ایک ہیرے کی مانند ہے۔جتنا اسے تراشیں گے اتنی ہی وہ خوبصورت ہوتی چلی جائے گی ” ( نعیم بیگ )
” زندگی بہادری کا دوسرا نام ہے۔تحفظ صرف ایک ذہنی تصواراتی جالا ہے جو ہم اپنی ذات کے گردبن لیتے ہیں،فطرت کا اس سے اغماض ہے ۔” (نعیم بیگ )
” زندگی کو جھوٹ اور بے ایمانی سے جیتنے سے اصولوں پر ہار دینا کہیں بہتر ہے ” (نعیم بیگ )
اپنی ایک نظم پیش کرتا ہوں

آخری رات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں
زندگی صرف تپسیا ہے وجود کی
ایک انتظار گاہ ،
ہوا میں معلق
ایک لمحہ احساس
کہکشاؤں میں لاشریک
اک جھلک ، اک حسین جلوہ ، اک تجلّی
روح بے تاب ہے اُڑ جانے کو
اورفطرت مضطرب ، بہلانے کو
سو یہی پہلی اور آخری رات ہے
آؤ کہ مِل بیٹھیں
سفر اور خواب دونوں کو
عکس عکس کچھ دیر رو لیتے ہیں
اس سے پہلے کے قافلے
اپنی اپنی منزلوں پہ سَرِ وائے بدن ہوں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo