محمد اسلم لودھی ادیب ٗ دانش وار و کالم رائٹر کا انٹرویو

محمد اسلم لودھی ادیب ٗ دانش وار  و  کالم رائٹر

تفکر – آپ کا پورا نام؟

محمداسلم لودھی۔۔۔محمد اسلم خان لودھی

تفکر – قلمی نام؟

محمداسلم لودھی۔۔۔محمداسلم لودھی

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

محمداسلم لودھی۔۔۔26 دسمبر 1954 قصور شہر (کوٹ مراد خاں

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

محمداسلم لودھی۔۔۔ گریجوایشن

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

محمداسلم لودھی۔۔۔گورنمنٹ پرائمری سکول واں رادھا رام (حبیب آباد ) اور بعد ازاں میٹرک کا امتحان گلبرگ ہائی سکول سے پاس کیا۔

تفکر – پیشہ؟

بینکاری ( بنک آف پنجاب میں بطور میڈیا کوارڈی نیٹرمحمداسلم لودھی۔۔۔

تفکر – ادبی سفر کا آغاز کب ہوا؟

محمداسلم لودھی۔۔۔ کالم نگاری 1994ء  اورکتاب لکھنے کا آغاز  1998ء  میں اس وقت ہوا ۔

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

محمداسلم لودھی۔۔۔میں یقینا نثر نگار ہی ہوں لیکن نثر لکھنے میں میرا آئیڈیل پروفیسر حفیظ الرحمن احسن ٗ خلش ہمدانی اور مستنصر حسین تارڑ ہیں ۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

محمداسلم لودھی۔۔۔نثر اور شاعری دونوں  ۔

تفکر -کس شخص سے آپ نے اس حوالے سے رہنمائی لی ؟

محمداسلم لودھی۔۔۔لکھنے لکھانے میں میری رہنمائی کا ابتدائی فریضہ جناب اشرف قدسی مرحوم ٗ مراتب علی شیخ مرحوم اور پروفیسر حفیظ الرحمن احسن نے
انجام دیا۔ان کی رہنمائی ہی میں نثر نگاری میں کامیاب ہوا ۔

تفکر۔نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

محمداسلم لودھی۔۔۔نثر کی میری شائع شدہ کتابوں کی تعداد34 ہے ۔جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
-1نور کائنات ﷺ -2تخلیق کائنات  -3 ماں  -4 لمحوں کا سفر -5 رشتے محبتوں کے-6  محبت-7  قومی ہیروز حصہ اول
-8 قومی ہیرو ز حصہ دوم-9  قومی ہیرے -10 عدلیہ کی آزادی حقیقت یا خواب -11 درد کے آنسو -12 معصوم افغانوں کا خون کس کے سر ؟-13مسلمانوں پر امریکی یلغار-14  عراق کے بعداب کس کی باری ہے؟  -15نور الہی کے پروانے -16 گلدستہ اولیا -17 افواج پاکستان تاریخ کے آئینے میں -18 پاک فضائیہ تاریخ کے آئینے میں  -19سربراہان مملکت -20 نشان حیدر-21  کارگل کے ہیرو -22کارگل سے واپسی کیوں-23 ؟  پاکستان میں قیامت کی پہلی دستک-24 توہین رسالت غیرت ایمانی کی آزمائش -25شہادتوںکا سفر -26 وطن کے پاسبان-27 شہدائے وطن-28 کوسوو کاالمیہ-29 مشرقی تیمور سامراجی سازشیں  -30صدام ہیرو یا زیرو -31 ایران -32 فلسطین کب آزاد ہوگا ؟ -33 اسرائیل ناقابل شکست کیوں ؟ -34 پاکستانی گلوکار / گلوکارائیں
زیر طبع کتابوں کے نام
مشرقی پاکستان کے رستے زخم ٗ پاک فوج کے عظیم جنگی کارنامے ٗ ذوالفقار علی بھٹو کا عہد ستم ٗ اسلام کا عظیم سپہ سالار جنرل محمد ضیاء الحق ٗ وفائوںکا حصار ٗ انمول ہیرے ٗ سچے موتی ٗ کوزے میں سمندر ٗ عکس جہاں ٗ قلم کی نوک پر ٗبے شک انسان خسارے میں ہے ؟ ٗصدارتی ریفرنس کا عدالتی سفر ٗپہلے صدارت پھر پاکستان ٗدھنک ٗسچے موتی ٗ ہیرے اور نگینے

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

محمداسلم لودھی۔۔۔میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے ۔ میرے والد محمد دلشاد خان لودھی پاکستان ریلوے میں کانٹے والاکی حیثیت 1954ء میں ملازم ہوئے اور یارڈ فورمین کے عہدے پر پہنچ کر 1988ء کو ریٹائر ہوگئے ۔ جس دن والد صاحب کوملازمت ملی وہی دن میری پیدائش کا تھا ۔ اس لیے میری آمدکو خاندان کے لیے نیک شگون تصور کیاگیا ۔میرے دادا خیر دین خان لودھی بھارت کے شہر فیروز پورجبکہ میرے نانا  سردار خان بھارت ہی کے شہر فرید کوٹ کے رہنے والے تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد دادا جان کی پوسٹنگ قصور میں ہوگئی۔ جہاں وہ  ریلوے میں کیبن مین کی حیثیت سے فرائض انجام دینے لگے ۔ میرا ننھیال پاکپتن کے نواحی شہر عارف والا میں جابسے۔ جہاں انہوں نے سبزی منڈی میں بطور منشی کے فرائض سنبھال لیے ۔ میرے والد اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے جبکہ میری والد بھی اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی تھیں ۔دونوں آپس میں خالہ زاد تھے ۔ دونوں کا تعلق بھی غریب گھرانے سے تھا ۔ میرے والد ریلوے میں ملازم ہونے کے بعد پریم نگر ٗ قلعہ ستار شاہ ٗ واں رادھا رام (حبیب آباد) اور آخرمیں لاہور کینٹ فرائض کی انجام دہی کے لیے تعینات رہے ۔ میں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز واں رادھا رام کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے کیا اور گریجوایشن کا امتحان پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت پاس کیا۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

محمداسلم لودھی۔۔۔شادی شدہ ہوں ۔

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

محمداسلم لودھی۔۔۔میری اہلیہ کانام عابدہ اسلم ہے ۔ وہ ایک فوجی کی بیٹی ہے جو ایک باعمل مسلمان اور ولی کامل بھی تھے ۔ میری 6 اپریل 1978ء کو لاہور میں ہی ہوئی ۔ پہلے بیٹی تسلیم اسلم 7 مارچ 1979ء کو پیدا ہوئی۔ اس کے بعد ایک بیٹا شاہد اسلم لودھی 12 اگست 1981ء کو پیدا ہوا جبکہ دوسرا بیٹا 23 مارچ 1985ء میں پیدا ہوا ۔ بیٹی کی شادی ریلوے کے ایک سگنل انجینئر حافظ تاج محمود سے ہوچکی ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں دو چاند سے بیٹے عطا کیے ہیں ۔ میرے دونوں بیٹے شادی شدہ ہیں۔بڑا بیٹا محمد شاہدلودھی روشن پیکجز میں آڈٹ آفیسر ملازمت کررہاہے جبکہ چھوٹا بیٹا محمد زاہد لودھی بنک آف پنجاب میں گریڈ تھری آفیسر ہے ۔  بڑے بیٹے شاہد کے گھر دو بیٹیاں اور ایک بیٹا جبکہ چھوٹے بیٹے کے گھر ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہے ۔ یہی میری زندگی کا سہارا ہیں جن کی شرارتیں ہی میری زندگی کا حسن ہیں ۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

محمداسلم لودھی۔۔۔آ ج کل میری رہائش والٹن روڈ لاہور کینٹ سے ملحقہ آبادی قادری کالونی نمبر 2 میں ہے ۔

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

محمداسلم لودھی۔۔۔بچپن تو سب کاہی انمول ہوتا ہے ۔ بے شمار واقعات ذہن میں محفوظ رہتے ہیں لیکن ایک واقعہ بطور خاص بہت اہمیت کا حامل ہے کہ مجھے اپنے والد سے بہت پیار تھا ۔اس کی تفصیل کچھ یوں ہے  اگر والد سامنے ہوتے تو مجھے کلاس کا سبق مکمل طور پر یاد ہوتا ۔اگر والد نظروں سے اوجھل ہوجاتے تو میں سب کچھ بھول جاتا ۔ یہ واں رادھا رام کی ہی بات ہے کہ کچی ٗپکی ٗپہلی اور دوسری جماعت کا جب سالانہ امتحان ہوا تو والد بطور خاص سکول کی کچی دیوار کے اس پار اس وقت تک کھڑے مجھے اپنا چہرہ دکھاتے رہے جب تک استاد  میرا
زبانی  امتحان لیتا رہا ۔ جیسے ہی استاد سوال پوچھتا میں والد صاحب کا چہرہ دیکھتا  اور جواب دے دیتا ۔اس طرح میں کچی پکی پہلی اور دوسری جماعت پاس ہوتا چلا گیا ۔ لیکن جب تیسر ی جماعت کے سالانہ امتحان کا  وقت آیا تو والد صاحب ڈیوٹی کی وجہ سے نہ آسکے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے فیل کردیاگیا ۔ جب اس بات کی خبر والد صاحب کو ملی تو وہ غصے میں لال پیلے ہوگئے۔ انہوںنے ایک تھپڑ مجھے رسید کیااور بازو سے پکڑ کر ہیڈماسٹر صاحب کے پاس لے آئے اور گزارش کی کہ میرے سامنے میرے بیٹے کاامتحان لیاجائے ۔ جب ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھ سے سوال پوچھنے شروع کیے تومیں سوال سن کر والد صاحب کا چہرہ دیکھتا اور جواب دے دیتا ۔ اس طرح میں تمام سوالوں کا صحیح جواب دے کر پاس ہوگیا ۔ اس لمحے ہیڈ ماسٹر ابراہیم صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑکر کہا مجھے اس بچے کی نفسیات سمجھ نہیں آئی ۔یہ اپنے والد کو اس قدر پیار کرتا ہے کہ ان کے بغیر یاد کیا ہوا سبق بھی بھول جاتا ہے اور جب وہ سامنے آتے ہیں تو بھولا ہوا سبق بھی یاد آجاتاہے ۔ یہ بچہ زندگی میں والد کے بغیر زندہ کیسے رہے گا اور کیسے کامیاب زندگی گزارے گا ۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ میرے والد کا انتقال 19 جنوری  1994ء کو لاہور میں ہوا تھا ۔اسوقت سے لے کر آج تک شاید ہی کوئی رات ایسی گزر ی ہو جب والد میرے خواب نہ آتے ہوں ۔ جب میں کسی بھی مشکل کا شکار ہوتا ہوں تو والد اور والدہ دونوں مجھے خواب میں آکر حوصلہ دیتے ہیں ۔گویا وہ دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود میری زندگی میں آج بھی اسی طرح موجود ہیں جس طرح پہلے تھے ۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

محمداسلم لودھی۔۔۔میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی سوانح عمری لکھنے کا آغاز کیا تو میری بیگم بولی آپ کی رونے دھونے اور غربت میں لتھڑی ہوئی
کہانیاں کون پڑھے گا۔ میری نظر میں تو آپ وقت اور پیسہ ضائع کررہے ہیں ۔ میں اس کی بات سن کر اس لیے خاموش ہوجاتاہے
اگر کوئی نہیں پڑھے گا تب بھی میری یاداشتیں آنے والی نسلوں کے کام تو آہی سکیںگے ۔ جب میری سوانح عمر ی “لمحوں شائع ہوئی
تو میں ڈرتے ڈرتے اپنی سوانح عمری پاکستان کے ممتاز ادیب اور دانش ور جناب مجیب الرحمان شامی صاحب
کو پیش کرنے کے لیے ان کے دفتر گیا۔انہوں نہا یت مہربانی کر تے کتاب وصول کرکے تصویر بھی بنوا لی ۔ میں کتاب دیتے ہی
جلدی سے ان کے دفتر سے اٹھ آیا ۔ کہ کہیں میرے سامنے ہی کتاب کھول کر پڑھنے نہ لگ جائیں اور مجھے ڈانٹنے لگیں کہ اس طرح
کتاب لکھی جاتی ہے ۔ چند دن گزرگئے تو ایک دن مجھے جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کے دفتر فون کال موصول ہوئی ۔ان
کے پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ آپ کو شامی صاحب ملنا چاہتے ہیں ۔میں اس اگلے دن مقررہ وقت پر شامی صاحب کے دفتر
پہنچ گیا ۔اس وقت میں بہت گھبرایا ہوا تھا کہ یقینا مجھے ڈانٹ پڑے گی ۔ کیونکہ میدان صحافت میں شامی صاحب ہی میرے  پہلے
سرپرست اور رہنما ہیں ان کے بعد جناب مجیدنظامی صاحب کی سرپرستی حاصل ہوئی ۔ بہرکیف شامی صاحب کے روبر و
بیٹھا میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے فون کا ریسور رکھتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا ۔لودھی صاحب آپ نے جو
اپنی سوانح عمری لکھی ہے اس کا انداز بیان تو بہت کمال کاہے ۔ میں آپ کو پہلے رائٹر نہیں مانتا تھا لیکن لمحوں کا سفر پڑھنے کے بعد
میں آپ کو رائٹرتسلیم کرتا ہوں ۔میں نے کتاب کا ہر باب پڑھا اور ہر باب ہی مجھے منفرد محسوس ہوا۔پڑھنے والا اس کتاب میں شامل
کہانیوں کو خود اپنی کہانی سمجھنے لگتا ہے آپ نے اپنے دور کے حالات و واقعات کو بہت خوبصورتی سے لفظوںمیں پرویا ہے لیکن یہ
کتاب صرف دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔ جو ناکافی ہے۔ آپ ان موضوعات پر مزید لکھیں تاکہ کتاب کی ضخامت تین سو صفحات سے زیادہ ہوجائے ۔
شامی صاحب نے مزید کہا  آپ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کی تیاری کریں ۔اس کتاب کی پروف ریڈنگ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل جناب شعیب بن عزیز کریں گے۔ آپ ان کو میری جانب سے پیغام پہنچا دیں ۔ اگر انہوںنے پروف ریڈنگ کا وعدہ نہ کیا تو میں
پھر میں خود یہ کام کروں گا ۔کیونکہ میں آپ کی اس سوانح عمری کو ادب میںہمیشہ زندہ رہنے والی کتاب قرار دیتا ہوں ۔پھر جب
میں مسودہ لے کر جناب شعیب بن عزیز صاحب کے دفتر پہنچا اور انہیں شامی صاحب کا پیغام دیا تو انہوں نے معذرت کرتے
ہوئے کہا کہ میری ڈیوٹی بطور ڈائریکٹر جنرل ٗ وزیر اعلی کے ساتھ ہے اور مجھے صبح سے رات گئے تک ان کے ساتھ رہنا پڑتا ہے
اس لیے کتاب کی پروف ریڈنگ کے لیے یا تو میرے OSD بننے کا انتظار کریں یا شامی صاحب سے کہیں کہ وہ خود یہ کام کرلیں
۔جب یہ پیغام میں نے شامی صاحب کو دیا تو انہوں نے کہا ٗ ٹھیک ہے۔ میںہی اس کتاب کی پروف ریڈنگ کر تا ہوں ۔ انہوں نے
مسودے کو باکس فائل میں ڈال کر اپنے میزپر رکھ لیا ۔ شامی صاحب کی پسندیدگی اور سرپرستی  یقینا میرے
لیے ایک اعزاز کادرجہ رکھتی تھی ۔پھر انہوںنے تین چار مہینوں میں پروف ریڈنگ کا کام مکمل کر ہی دیا اور کتاب کادوسرا ایڈیشن بھی
شائع ہوگیا ۔
یادرہے کہ میری گیارہ کتابیں صوبہ پنجاب ٗ صوبہ سرحد اور آزادجموںو کشمیر کے تعلیمی اداروںاور لائبریریوں کے لیے منظور ہیں لیکن میری سوانح عمری “لمحوںکا سفر” واحد کتاب ہے جو تینوں صوبوںمیں یکساں مقبول اور منظور ہوئی۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

    محمداسلم لودھی۔۔۔مستنصر حسین تارڑ ٗ خلش ہمدانی ٗ جاوید چودھری (کالمسٹ )

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

محمداسلم لودھی۔۔۔یوں تو لکھنے لکھانے کا سلسلہ 1985 سے ہی شروع ہوچکا تھا لیکن باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز 1995ء میں جناب جمیل اطہر اور عرفان اطہر کی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار روزنامہ جرات لاہور سے کیا ۔ دو تین سال یہاں لکھنے کے بعد سعادت ٗ جہاں نما ٗ روزنامہ دن ٗ روزنامہ آج پشاور ٗ روزنامہ پاکستان میں ہفتہ وار کالم لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ 2008ء سے آج تک نوائے وقت میں باضابطہ کالم نگار کی حیثیت سے کالم لکھ رہا ہوں ۔ مجھے آئی ایس پی آر کی جانب سے نشان حیدر حاصل کرنے والے پاک فوج کے افسرو جوانوں کے کارناموں پر مشتمل ڈرامائی کہانیاں لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ میری کہانیاں ٗ افسانے ٗ فیچر اور تجزیئے  ہفت  روزہ فیملی ٗ ہفت روزہ اخبار جہاں ٗ پندرہ روزہ فلورنس ٗ ماہنامہ وویمن ٹائمز ٗ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ اور اب ہفت روزہ میگزین مارگلہ نیوز انٹرنیشنل اسلام آباد میں شائع ہورہے ہیں ۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

محمداسلم لودھی۔۔۔نہ میںنے کسی کی مخالفت کی اور نہ ہی کسی نے میری مخالفت کی۔ حساب برابر جارہا ہے۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

محمداسلم لودھی۔۔۔حکومتی پالیسی کے حوالے سے اس لیے اختلاف ہے کہ حکومتی سطح پر ایوارڈ دیتے ہوئے تحقیقی اور تخلیقی کاوشوں کو مدنظر نہیں رکھاجاتابلکہ وہ چاپلوسوں کا ایک گروپ ہر دور میں متحرک رہتا ہے ۔ میرا نام تمغہ حسن کارکردگی کے لیے 2005میںدو مرتبہ کیبنٹ ڈویزن گیالیکن وہاں سے ایک پیغام ملا اگر کوئی سفارش ہے تو کروالیں وگرنہ ایوارڈ ملنا بہت مشکل ہے ۔ نہ ہمارے پاس سفارش تھی اور نہ ہی اِثرو رسوخ ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں فخر زمان گروپ جبکہ مسلم لیگ کے دور میں عطا الحق قاسمی گروپ کی سفارش سے ایوارڈ ملتے ہیں ۔جس کے سر پر یہ ہاتھ رکھ دیں وہ پاکستان کا سب سے بڑا ادیب اور شاعر بن جاتاہے ۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

محمداسلم لودھی۔۔۔جو لوگ اس وقت ادب سے وابستہ ہیں ان کے لیے یہی پیغام ہے کہ اپنی تسکین کے لیے کام کرتے جائیں اگر کہیں سے توصیف مل جائے تو غنیمت سمجھیں اگر نہ ملے تو “نیکی کر دریا میں ڈال ” والے مقولے پر کاربند ہوجائیں ۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

محمداسلم لودھی۔۔۔آپ کی یہ کاوش بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ دیر آئے درست آئے ۔ چلیں کسی کو تو اس کام کی فرصت اور ہمت ملی ۔ کاش یہ کام اکادمی ادبیات ٗ نیشنل بک فائونڈیشن اور ادب کے حوالے سے دیگر سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی کرتے ۔ جو ادب کے نام پر بھاری تنخواہیں تو وصول کررہے ہیں لیکن ادیبوں کی حالت زار اور ان کی ادبی کاوشوں کو پذیرائی دینا شاید ان کے منشور میں شامل نہیں ہے ۔

S N 10

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo