محبت اور امید کی شاعرہ یاسمین کنول

قائم علی،صوابی

شاعری دلی جذبات اور احساسات کے اظہار کا نام ہے ۔شاعر کبھی کرب ذات کو لفظوں کا روپ دے کر اپنا تزکیہ کرتا ہے تو کبھی معاشرتی نارسائیوں کو قرطاس پہ منتقل کرتا ہے۔ممتاز محقق اور دانشور جناب ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’شاعری جذبات کی دلآویز موسیقی ہے، احساسات کی حسین مصوری ہے، تخیل کا اک رقص دلفریب ہے، وہ جنت نگاہ بھی ہے اور فردوس گوش بھی۔ اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر ہوتا ہے، وہ حواس کے تاروں کو چھیڑتی ہے اور روح پر سرخوشی بن کر چھا جاتی ہے۔ یہ عقل و جنون کی مشترک بزم جمال اور عشق و حکمت کا مقام اتصال ہے۔‘‘
ان خواص کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ہمیں محترمہ یاسمین کنول کی شاعری کے کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ انتہائی سادہ لب و لہجے میں زندگی کی حقیقتوں کو اتنی چابکدستی اور تسلسل کے ساتھ برتنا ایک ایسی ہنروری ہے جو ان کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔ ان کی شاعری بیک وقت رومانی نشاط انگیزیوں کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے حالات و واقعات کی بھی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ غم جاناں کے ساتھ ساتھ غم دوراں کو اتنے خوبصورت پیرائے میں پرونے کا ایسا جادو چلایا ہے کہ قاری کو اپنے سحر سے نکلنے نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجئے:
تبصرہ کروں میں کیا، زندگی کے بارے میں جانتی ہی کیا ہوں میں زندگی کے بارے میں
آپ کتنے اچھے ہیں آپ کتنے پیارے ہیں

آپ کو بتاؤں کیا، آپ ہی کے بارے میں

اعتمادِ باہمی دشمنی کی زد میں ہے

آدمی ہے بے خبر آدمی کے بارے میں

محترمہ یاسمین کنول کی شاعری میں غم جاناں کے ساتھ غم حیات کے سارے رنگ بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ زندگی کی تیز رفتاری جس طرح اعلیٰ انسانی اقدار کو پامال کر رہی ہے، سائنس کی کرشمہ سازیوں سے مادی ترقی اپنے بام عروج پر ہے، جس نے انسان کو سہولتیں تو فراہم کر دی ہیں مگر دلی سکون دینے سے یکسر قاصر ہیں۔ اسی نام نہاد خوشحا لی کا پردہ اپنے اشعار میں یوں چاک کرتی ہیں:

اب تو تازہ ہوا بھی ملتی نہیں

اس ترقی پہ ہنس رہی ہے حیات

وفا، خلوص، مروت سبھی ہیں گردش میں

محبتوں کے سبھی قافلے سفر میں ہیں

روا داری، محبت، بھائی چارہ

یہ قدریں ساری ہم کھونے لگے ہیں

اردو شاعری کی تاریخ پہ اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ہمیں بہت سی خواتین شعراء کے نام جگمگاتے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے کمال فن سے شہرت دوام پائی۔ خواتین کے اس قافلے کی سرخیل محترمہ ادا جعفری مانی جاتی ہیں جنہوں نے اپنے مخصوص لب و لہجے اور متنوع شاعری سے چاردانگِ عالم میں قبولِ عام پایا۔ ان کے بعد اس قافلے کے نمایاں ناموں میں سے پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض ،ثمینہ راجہ، نوشی گیلانی اور دیگر خواتین شامل ہیں۔ یاسمین کنول بھی جدید دور میں رہتے ہوئے اسی روایت کی امین ہیں۔ خاتون ہونے کے سبب ان کی شاعری کا امتیازی وصف تانیثیت ہے۔ عورتوں کے مسائل اور ان کے جذبات و احساسات کو اپنی شاعری کے ذریعے ایسے اجاگر کیا ہے کہ عورت کا کردار ہر رشتے میں اپنی تمام تر نیرنگیوں کے ساتھ نمایاں نظر آنے لگا ہے۔ نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

گھر بسانے کو اپنی بیٹی کا مائیں اکثر اداس رہتی ہیں
بوجھ بیٹے کا اٹھایا ماں نے کاش وہ اس کا سہارا ہوتا
جس لڑکی کی ماں مر جائے اس کا میکہ چھوٹ گیا
ہر رشتہ اک شیشہ ہے ٹھیس لگی اور ٹوٹ گیا

یاسمین کنول کو اپنی صلاحیتوں اور خوبیوںکا بخوبی ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو خوشگوار انداز اور موزوں آہنگ میں بیان کرنے پر قدرت بھی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

بجھی ہے آگ شراروں کی سوچ رکھتی ہوں

زمیں پہ رہ کے ستاروں کی سوچ رکھتی ہوں

اگرچہ آج اندھیرا ہے میرے چاروں طرف

اندھیری رات میں تاروں کی سوچ رکھتی ہوں

تلاش کرتی ہوں بیٹھی امید کے جگنو

کوئی بھی رُت ہو بہاروں کی سوچ رکھتی ہوں

میں زندگی کے سمندر میں بہہ رہی ہوں کنول

بھنور ہے ساتھ کناروں کی سوچ رکھتی ہوں

خوداعتمادی اور خودداری سے بھرپور جناب پروفیسر سحر انصاری صاحب کا شعر دیکھئے:

فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے
کسی بھی بابِ رعایت سے میں نہیں آیا

اسی مضمون کو یاسمین کنول کچھ یوں بیان کرتی ہیں:

ہم پہ احسان اب کسی کا نہیں
ہم نے ہر صبح خود نکھاری ہے

موجودہ تناظر میں جبکہ ہر طرف جنگ و جدل کے بازار گرم ہیں اور ناامیدی کی گھٹائیں آسمان پر چھائی ہوئی ہیں مگر محترمہ یاسمین کنول ہمیں ایک نئی صبح کی امید دلاتی ہیں۔ مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی یہ شاعری ان کے حساس دل کی ایسی تخلیق ہے جو ناامیدی کے اندھیرے میں بھٹکتے مسافروں کے لئے ایک شمع فروزاں کا کردار ادا کر رہی ہے۔ شاعرۂ خوش نوا محترمہ یاسمین کنول کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی بصیرت سے مایوسی کی فضا کو ختم کرتی ہے۔ ہجر سے وصال کی لذت، غم سے خوشی کی کیفیت اور مشکل سے آسائش کشید کر لینے کا ہنر بخوبی جانتی ہیں۔ منزلوں کی نوید دینے والی یہ شاعرہ پیہم جستجو اور جہد مسلسل کی تلقین بھی کرتی نظر آتی ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اشعار پیش خدمت ہیں:

رات کی تاریکیوں کا ڈر نہیں ہے اب مجھے

جانتی ہوں میں کہ شب کی انتہا ہے روشنی

حبس حد سے کنول جو بڑھ جائے

پھر تو بارش کہیں برستی ہے

اپنے خوبصورت اشعار سے دعوتِ عمل دیتے ہوئے نامرادی اور ناامیدی کو ایسے مسترد کرتی ہیں کہ دل کے نہاں خانوں میں خوشی اور امید کے جگنو جگمگانے لگتے ہیں۔ جناب احمد فراز صاحب کے اس شعر کے ساتھ ذرا ان کا بھی وہی مضمون دیکھئے:

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

یہی مضمون محترمہ یاسمین کنول کے ہاں کچھ یوں وارد ہوتا ہے:

نامرادی کو بھول جاؤ گے
کچھ دئیے آس کے جلاؤ تو

آجکل اس دنیا کو ایک رہنما کی ضرورت ہے ،جو اس کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے اور بھٹکے ہوؤں کو سیدھا راستہ دکھائے۔ اس رہنما کا تصور اور اس کی پوری شبیہہ ہمیں محترمہ یاسمین کنول کی شاعری میں گاہے بگاہے دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار دیکھئے:

رہے دور تیرہ شبی سے

میری زندگی وہ سحر مانگتی ہے
بچائے جو انساں کو حیوانیت سے

یہ دنیا کوئی چارہ گر مانگتی ہے

اماں جس کے دنیا میں پنہاں ہو دائم

یہ دنیا وہ شام و سحر مانگتی ہے

ایک ہی غزل میں کئی طرح کے مضامین کو اتنے خوبصورت انداز میں پرونا کہ جس میں نصیحت بھی ہو، روشِ عام سے بغاوت بھی ہو اور دعوتِ عمل بھی ہو، ان کے کمال فن کو ظاہر کرتا ہے۔ نمونے کے طور پر ان کی ایک غزل کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:

جس سے شہرت ہو اور عزت بھی

کام ایسا وہ باکمال کریں

جو نہیں مانتا کسی کی بھی

اس کو باتوں میں ہم خیال کریں

توڑ بیٹھے ہیں جس کو مدت سے

آؤ وہ رابطہ بحال کریں

معاشرتی جبر اور نا انصافی پہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یوں اظہار خیال کیا ہے:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہرخوشۂ گندم کو جلا دو

یاسمین کنول کا عصری شعور ان کو معاشی اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر اکساتا ہے اور بالآخریہی جذبہ الفاظ کا روپ دھارے اس خوبصورت قالب میں ڈھل کریہ شعر بن جاتا ہے:

جو غریبوں سے چھینتے ہیں حیات
ان کا جینا کنول محال کریں

یاسمین کنول کی شاعری کے مطالعہ کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ان کی شاعری زندگی کے تمام رنگوں سے مزین ہے ،جس میں ایک طرف محبت کی رنگینیوں کی بات ہے تو دوسری طرف نارسائی کی کسک ہے۔ ان کی شاعری میں عصری شعور بھی جھلکتا ہے اور امید کی کرن بھی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھئے:

خوشی کے گیت سناؤ بہار آئی ہے

ہنسی لبوں پہ سجاؤ بہار آئی ہے

پرندے بولتے ہیں، دل کی بات کرتے ہیں

تم اپنا حال سناؤ بہار آئی ہے

کھلے ہیں پھول چمن میں مہک رہی ہے فضا دلوں کے رنج مٹاؤ بہار آئی ہے
چلو کہ دل کی اداسی کو ختم کرتے ہیں کنول کو ڈھونڈ کے لاؤ بہار آئی ہے

قائم علی،صوابی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo