محبت، خواب، اضطراب, قسط 2 – ابنِ عبداللہ

سورج مغرب میں خون تھوک رہا تھا جب وہ اس ملنے ساحل کے کنارے پہنچا ۔
آج وہ جب وہ اپنے بے زار کر دینے والے خوابوں کے متعلق سوچ رہا تھا تب اس کا میسج ملا کے وہ آج ساحل کے کنارے ملیں گیں ۔
وہ ریت پر بیٹھی دور افق پر کچھ ڈھونڈ رہی تھی اور اس کے کھلے بال ہوا میں یوں لہرا رہے تھے جیسے طوفان میں درختوں کی شاخیں لہراتی ہیں ۔
وہ ریت پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھا اور اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھنے لگا جہاں سورج کی کرنیں پانی سے الوادعی سرگوشیاں کر رہی تھیں ۔
ساحل کی نرم اور ٹھنڈی ہوا ان دنوں کے وجود سے ٹکرا کر واپس پانی سے مل رہی تھی۔
میں واپس گائوں جا رہی ہوں ۔دو ر افق پر نظریں جمائے ہوئے اس نے مدھم لہجے میں کہا۔
ہوں ۔۔اس نے ہنکارا بھرا اور خاموش ہوگیا۔
کچھ پل یونہی گزرے اور وہ اپنی اپنی سوچوں میں کھوئے رہے۔
للہریں ساحل سے ٹکرا ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کے زندگی میں کچھ لوگ ان لہروں کی طرح ہوتے ہیں جو ایک پل کو آپ کے بہت قریب ہوتے ہیں اور دوسرے ہی پل آپ سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔
کیا تم ایسے ہی ہمیشہ اداس کہانیوں لکھتے رہو گے۔؟۔
للہروں کے شور پر تیرتی ہوئی اس کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
پتا نہیں ۔کچھ کہہ نہیں سکتا، ہوسکتا ہے کبھی میں اداسی سے چھپ کر کوئی ہنستی مسکراتی کہانی لکھوں زندگی کے رنگوں سے بھرپور شوخ و چنچل کرداروں کی پر وہ کردار مجھے پتا نہیں کب ملیں گے ۔پتا نہیں ایسے کردار ہوتے بھی ہیں یا نہیں،اب تک تو مجھے ایسا کوئی کردار نظر نہیں آیا ۔
وہ دھیرے سے مسکرائی اور بولی۔
تم کرداروں سے ملتے ہی کہاں ہو؟جب بھی ملتے ہو اپنی اداسی سے ملتے ہو ۔مجھے تو زندگی سے بھرپور بہت سارے کردار ملے ہیں اپنی زندگی کی کہانی میں ،جیسے میری کلاس فیلو مناحل زندگی کے سارے خوبصورت رنگوں سے سجی ہوئی ۔خوابوں اور خواہشوں سے لدی پھندی وہ ہمیشہ میرے ساتھ بیٹھتی تھی۔
مناحل ا،،اس نے زیر لب اس کی دوست کا نام دہرایا اور پانی میں اس کے ان دیکھا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔
تم نے اس کی ہنسی میں سے کچھ ہنسی کیوں نہیں چرائی پھر یا اس کے خوابوں سے کوئی خواب؟
وہ ہنسی اور بولی۔
مجھے اپنی مسکراہٹ کافی تھی اور اپنے خواب بھی کیا تم نے کسی کی ہنسی سے کبھی ہنسی چرائی یا کسی کے خوابوں میں سے کوئی خواب ؟
وہ سوچنے لگا کے کیا کبھی اس نے ایسا کیا ہے کافی سوچنے کے بعد اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کے اس نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا ۔شاید ہنسی کبھی اس کے ارگرد ہنسی ہی نہیں تھی۔
یہ ساحل موجوں کو پناہ کیوں نہیں دیتے ہیں ۔موجوں کی سنتے کیوں نہیں ہیں اپنے آپ سے ،ملنے کیوں نہیں دیتے ہیں۔اس نے موجوں کو ساحل سے سر پٹختے دیکھ کر پوچھا ۔
شاید ساحل بھی ہم انسانوں جیسے ہوتے ہیں ان پر کسی کی پکار اور کسی کی فریاد کا اثر نہیں ہوتا ہے ان کو سمندر کے آنسو نرم نہیں کرتے ہیں کیوں وہ ہماری طرح پتھریلے ہوتے ہیں ۔وہ ساحل سے ٹکراتی موجوں کو دیکھنے لگا ۔
ہم لوگ کیسے پتھریلے ہوتے ہیں ۔؟
ہوتے ہیں۔وہ بڑ بڑایا ۔اور کہنے لگا۔
تم نے دیکھا نہیں ہم صرف پھول چنتے ہیں کانٹے چھوڑ جاتے ہیں ۔اور کبھی انسانوں کو چھوڑ جاتے ہیں ان کے دل میں میں کانٹا بن کر اگ جاتے ہیں کوئی لاکھ روئے چیخے چلائے پر ہم پر اثر نہیں ہوتا ہے ۔کسی کے آنسو پانی بن جاتے ہمارے لئے ان موجوں کی طرح ۔اس ساحل کا پتھریلا پن جیسے سمندر کے آنسوئوں کو واپس دھکیل دیتا ہے ۔ ویسے ہی ہم کسی کے جذبوں محبتوں اور آنسوئوں کو واپس دھکیل دیتے پتھر بن جاتے ۔لوگ سمجھتے نہیں جانتے نہیں کے آنسو کیا ہوتے ہیں ،۔
تمہیں بتائوں کہ کسی کے پاس سب سے قیمتی چیز جو ہوتی نا ، وہ اس کے آنسو ہوتے ۔آنسو انسان کی سب سے قیمتی ترین متاع ہوتی ہے جو وہ کسی کے لئے نچھاور کر دیتا ہے۔
اور مطلب پرستی میں بھی یہ ساحل ہم انسانوں جیسے ہیں۔ہم بھی زندگی میں بس قیمتی چیزوں کو پاس رکھتے ہیں ان پتھریلے ساحلوں کی طرح جو روتی موجوں میں موتیوں کو تو اپنی بانہوں میں پناہ دیتے ہیں پر سمند کی آنسو ان سے ٹکرا کر واپس سمند میں غرق ہوجاتے ہیں ۔
وہ خاموش رہی اور اور افق کی سرخی کو سیاہی میں ڈھلتا دیکھتی رہی اور وہ بھی ریت پر کچھ لکیریں کھینچنے لگا۔
ادھورا ملاپ تکلیف تو دیتا ہوگا ان کو۔کچھ سوچتے ہوئے اس نے پھر سوال پوچھا۔
اس کے ہاتھ رکے اور وہ موجوں کے ادھورے ملاپ کا تماشہ دیکھنے لگا ۔
ہاں بہت جب ہم کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کا ہونا محسوس کرنے لگے اور وہ ہاتھ جھٹک دے تو ہمیں جیسے دکھ ہوتا ہے ویسے ان کو بھی ہوتا ہوگا سچ کہوں تو کسی کو پائے بنا کھو دینے کا احساس بڑا قاتل ہوتا ہے یہ ایسا ہی جیسے کسی پیاسے کو گھونٹ بھر پانی دیا جائے اور پانی کا بھرا پیالا اس دور کر دیا جائے۔ایک گھونٹ سے تشنگی کم نہیں ہوتی ہے بہت بڑھ جاتی ہے ۔
اور کسی کو پا کر کھو دینے کے بارے میں کیا کہتے ہو تم ۔؟
وہ کچھ دیر پانے کے کے لطف کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا رہا ،پر اس نے کبھی کسی کو پایا ہی کب تھا جو وہ اس لذت سے آشنا ہوتا ۔
گو میں کبھی کسی کو پایا نہیں پر کہہ سکتا ہوں پاکر کھودینے بنا پائے کھو دینا زیادہ اذیت ناک ہوگا ۔کیوں کے جب ہم کسی کو پاتے ہیں تب اس کے ساتھ گزرے گئے حسین پل جدائی کی بڑھکتی آگ میں آپ کو راحت دے سکتے ہیں ۔ہر انسان کے پاس اس کی خوبصورت یادوں کا اچھا خاصا زخیرہ ہوتا ہے۔یادوں کے درخت پر کبھی خزاں نہیں آتی ہے ہم جب کبھی حال کی دھوپ سے بھاگتے ہیں تو ہمیشہ یادوں اور خوابوں کی پناہ لیتے ہیں وہاں کچھ دیر رک کر سانس لیتے ہیں ۔یہ یادیں اور خواب نہ ہوں تو انسان بہت جلد بنجر ہو جائے سوکھ کر ٹوٹ کر بکھر جائے۔
پر کبھی کبھی یادیں دکھ دیتی ہیں پھولوں کی طرح یادوں کی بھی ہزاروں اقسام ہوتی ہیں ۔
کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کے ماضی میں گزارے گئے حسین لمحات ہی آپ کے حال کا ناسور بن جاتے ہیں ۔وہ لمحات جب آپ ماضی میں جیتے ہیں تو آپ کو بڑی لذت ملتی ہے لیکن جب وقت کا بے رحم ہاتھ آپ کو کھینچ کر حال میں لیکر آتا تو وہی لمحات آپ کی روح تک ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں کتنی عجیب بات ہے نا ایک ہی لمحات آپ کے درد اور راحت کا سبب ہوتے ہیں ۔فرق صرف اتنا ہوتا کہ آپ وہ کہاں جینا چاہتے ہیں اپنے حال میں یا اپنے ماضی میں درد شناس لوگ اپنے حال میں وہ پل جیتے ہیں اور جب تھک کر ٹوٹنے لگتے ہیں چند قدم پیچھے ماضی کی راہ لیتے ہیں کہ وہ بہترین جگہ ہوتی ہے ٹوٹ کر بکھرنے کے لئے کیوں کے حال میں آپ کو پھر سے اپنا آپ کو سمیٹنا ہوتا ہے اور ماضی ،،وہ تو خود ہی بکھرا ہوا ہوتا ہے جا بجا۔
وہ اس کی باتیں سنتی رہی اور ساحل پر تاریکی کو پنجے گاڑھتا دیکھتی رہی ۔
مجھے جانا ہوگا کل صبح گائوں کے لئے نکلنا ہے بابا سائیں کی طبعیت خراب ہے۔شاید ہم پھر ملیں ۔یا نہیں کون جانے ،پر تمہارے ساتھ گزرے گئے وقت میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔اس نے الوداع انگیز لہجے میں اسے مخاطب کیا۔
الوادع جتنا تکلیف دہ ہوتا ہے اتنا ہی آپ کی زندگی میں بار بار آتا ہے اور آپ کو نا چاہتے ہوئے بھی الوادع کہنا پڑ جاتا ہے،
اتنا کہہ کر وہ تاریکی میں چلتے کسی پر اسرار سائے کو دیکھنے لگا ۔
سورج پانیوں میں دفن ہو چکا تھااور ساحل تاریکی میں ڈوبنے لگا وہ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔
پھر اسے وقت گزرنے کا احساس ہوا اس لئے وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے بولی ۔
ملاقات تمام ہوئی امید کرتی ہوں ہم پھر جب ملیں گے تو بہت کچھ بدل چکا ہوگا ۔ان دنوں نے الوادعی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر وہ اس کے بنائے گئے قدموں کے نشانوں کو تاریکی میں ڈھونڈتے ہوئے اس کی نظروں سے دور ہوتے ہوتے تاریکی کا حصہ بن گئی ،جس وقت وہ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ٹھیک اسی وقت شہر میں ایک گڑیا آئی تھی اور شہر کے بیچ ایک محبت پیدا ہونے والی تھی وہ محبت جس کا اس سے بہت گہرا تعلق تھا۔محبت کے معبد کا وہ پراسرار بیچاری جس نے بوڑھے کو اس کی محبت کی خبر دی تھی وہاں پہنچ چکا تھا اور محبت کی اس داستان میں اس کا کردار طے کر رہا تھا ۔اور وہ اس بات بے خبر تاریک ہوتے ساحل پر بیٹھا کچھ تاریک لکیریں دوبارہ ساحل کی ریت پر کھینچ رہا تھا اور سوچ رہا تھا نجانے آج کون کون سے خواب اسے راستے میں ملیں گیں۔
————————————–
حیدر تھک ہوا گھر میں داخل ہوا تو لائونج میں سے آتی آوازوں کو سن کر ٹھٹک گیا ان میں ایک آواز اس کے لئے قطعی اجنبی تھی۔سو کمرے کی طرف جاتے اس کے قدم لائونج کی طرف مڑ گئے۔
آپ اس کو اپنا ہی گھرسمجھیں کسی بھی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دے لیجئے گا میں جن کی طرح وہ چیز لیکر آپ کی خدمت میں حاجر ہو جائوں گی۔
بس ہمارے بھیا سے بچ کا رہئے گا ان کو غصہ بن موسم کی برسات جیسا ہے کب آجائے کون جانے۔
یہ اس کی چھوٹی بہن عرشی تھی جو نجانے کس سے مخاطب تھی ۔
تمہات لئے عرشی کے ساتھ والا روم سیٹ کر دیا ہے بیٹی کوئی کمی محسوس کرو تو نلا جھجک کہہ لینا جیسے کے عرشی نے کہا اسے اپنا ہی گھر سمجھنا کسی ایک لمخے کو بھی یہ خیال مت کرنا کے تم کسی پرائے کے گھر میں ہو۔اور تمہاری ماں سے تو میں بات کروں گی غضب خدا کے بھائی کا گھر ہوتے ہوئے تمہیں ہاسٹل میں رہنے کو بوال دیا وہ تو شکر ہے انیہوں نے تمہیں یونیورسٹی کے پاس کھڑے دیکھ لیا ورنہ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا کے تم شہر آئی ہو پڑھنے۔
اب اسکی امی بول رہی تھیں ۔
لائونج میں داخل ہوتے ہی سامنے کا منظر واضع تھا۔اس کی امی اور چھوٹی بہن کسی لڑکی کو صوفے پر لئے بیٹھی تھیں اور سلطان جہانگیری سامنے والے صوفے پر بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
اس کے داخلے پر سب ہی چونکے اس پہلے کوئی کچھ بولتا ، اس کی بہن نے لپک کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور بولنے لگی۔
بھائی جان دیکھیں ہمارے گھر کون رہنے آیا ہے ۔ہماری پھپو کی بیٹی شفاء ۔اس نے حیرت بھری نظروں سے پہلے صوفے پر سکڑی سمٹی بیٹھی لڑکی کو دیکھا ایسا لگتا تھا جیسے گلاب کا ٹوٹا ہوا پھول شاخ پر سمٹا ہوا گرنے کا منتظر ہو۔پھر اس نے ماں کی طرگ سوالیہ نطروں سے دیکھا اور وہ اس کے آنکھوں میں چپھا سوال پڑھ کر بولیں ۔
یہ کلثوم کی بیٹی ہے تمہاری پھوپھو کی آج سے یہ یہیں ہمارے ساتھ رہے گی گائوں سے یونیورسٹی پڑھنے آئی ہے۔ہاسٹل میں رہتی پر تمہارے بابا نے اسے دیکھ لیا اور اپنے ساتھ لے آئے اچھا ہی ہوا ہاسٹل کا ماحول اور یہ معصوم بچی توبہ۔
اس نے سر ہلایا۔
بھیا کیسی لگیں آپ کو شفاء ۔پیاری ہیں نا ؟
ابھی وہ کچھ بولنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ عرشی پھر سے چہکنے لگی۔صوفے پر بیٹھی شفاء کا رنگ سرخ ہوا اور وہ خود بھی بوکھلا گیا ۔
ہمیشہ الٹے ہی سوال کرنا تم ۔سکینہ بیگم نے اسے غصے سے گھورا اور پھر اس سے مخاطب ہوئیں،
فریش ہوکر نیچے آئو ہم کھانا اکھٹے کھائیں گے ۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور جاتے جاتے ایک نظر صوفے پر بیٹھی اس چھوئی موئی سی لڑکی پر ڈالی۔
جب وہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو سلطان جہانگیری موبائل پر اپنی بہن سے گلے کرنے میں مصروف تھے ۔اب یہ بھی ہمارے ساتھ رہے گی۔اس نے بے زاری سے سوچا تھا۔
—————————————–

رات اپنے آخری حصے میں لڑکھڑا رہی تھی ا ور نیند کی دیوی نے اپنا آنچل بنی آدم پر پھیلا دیا تھا ..ہر طرف سکوت ہلکورے لے رہا تھا اور ہوا ساکت کھڑی تھی ۔وہ تنہائی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اکثر روح کے در د رات کے پچھلے پہروں میں جاگ اٹھتے ہیں. جب ہم اکیلے ہوتے ہیں اور ہماری تنہائی کے بیچ ایک اور تنہائی آباد ہوتی ہے .. ، کتنی اکیلی ہوتی ہیں یہ راتیں اور کتنے تنہا سے ہوتے ہیں کچھ لوگ ،کتنا کچھ چھپا ہوتا ان رات کی تاریکیوں میں ۔
کتنے آنسوؤں کی گمنام قبریں کھودی جاتیں کتنی سسکیاں ان تاریک فضاؤں میں تحلیل ہو جاتیں اف یہ رات کی تاریکیاں..اس نے ایک ایک جھری سی لی۔
رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے اور نیند اس کی پلکوں پر سو چکی تھی ، خواب راستوں میں مر گئے تھے وہ بے قرار ہوگیا اور کھڑکی میں آکھڑا ہوا ۔ جنوب میں بادل چمک رہے تھے اور ان کی چمک میں مسجد کے منارے پر کچھ کوے اونگھتے دکھائی دے رہے تھے وہ سوچنے لگا کے جلد رات کے مردہ بطن سے کل کا روشن دن پیدا ہونے والا ہے۔شہر خوابوں کی دھند میں کھو چکا تھا اور سارے منظروں پر سیاہی پھیل چکی تھی ،اس نے گلی میں دیکھنے کی کوشش کی پر تاریکی کی چادر میں اس کی نگاہیں کھوگئیں تو وہ واپس آبیٹھا اور قلم ہاتھ میں لیکر اپنے افسانے کا انجام سوچنے لگا۔ سوچتے سوچتے اس کے کان میں موت نے سرگوشی کی تو وہ چونک اٹھا ۔ہاں موت ٹھیک رہے گی اس سے بہترین انجام کیا ہوسکتا کسی کہانی کا وہ دل ہی دل میں بولا اور شہر میں پھرتی تاریکی اور اپنے اندر کی وحشت کو صفحات پر منتقل کرنے لگا۔وہ لکھ رہا تھا،
۔
سورج آگ برسانے کے بعد مغرب میں آرام کرنے لگا اور پہلی تاریخ کا چاند ستاروں کو ہمراہ لئے آسمان پر چل قدمی کرنے نکل آیا .جہاز ساحلوں پر آلگے اور پرندے گھونسلوں میں لوٹ گئے پھول ٹہنیوں پر اونگھنے لگے اور پتے شاخوں پر سوگئے.کبھی ہوا کا جھونکا ان کی نیند میں خلل ڈالتا تو وہ جاگ جاتے اور ایک پراسرار”سرسراہٹ”میں صدائے احتجاج بلند کرتے اور پھر نیند کی بانہوں میں ہچکولے کھانے لگتے..جیسے سمندر میں خالی ناؤ…
شہر کی گلیوں میں تاریکی آوارہ پھرنے لگی اور خاموشی نے آواز کا گلا گھونٹ دیا. کبھی کبھی کوئی مینڈک چلا اٹھتا یا جھینگر کی آواز سناٹے کی چادر کو چیر کر رکھ دیتی اس کے علاوہ ہر سو خاموشی تھی.. اتنی خاموشی کے دل دھڑکنے کی صدا دور تک جاٰتی تھی ۔
اس وحشت ناک ماحول میں ایک سایہ سڑک پر لّڑ کھڑاتے ہوئے چل رہا تھا چال سے لگتا تھا اس کا کاندھے پر بہت بھاری بوجھ ہے ۔ صرف وہی جانتا تھا کہ اس کاندھے پر اس کی امیدوں کی لاش ہے .شاید ہر شخص آپ اپنی امیدوں کی لاش ہوتا ہے .. وہ سایہ
چلتے چلتے ایک چوراہے میں آن پہنچا چوراہے میں لیٹے بھوکے کتوں نے اس اجنبی ساٰئے پر ایک نظر ڈالی اور واپس دبک گئے ..
اب وہ سڑک پر نصب بلب کو دیکھ رہا تھا..جس کی روشنی ہر ساعت تاریکی پر غالب آتی اور دوسرے لمحے تاریکی سے مغلوب ہو جاتی..
وہ کچھ دیر اس روشنی اور تاریکی کی جنگ دیکھتا رہا اور پھر اپنے وجود کو گھسیٹنے کر آگے قدم ڈالنے لگا. چند قدم کے بعد اس کے ٹانگوں نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس کا وجود زمین سے ٹکرایا اس ٹکراؤ سے فضا میں ایک معنی خیز آواز بلند ہوئی جیسے خشک لکڑی ٹوٹی ہو…
اب وہ سایہ منہ کے بل زمین پر پڑھا تھا اور مٹی اس کے ٹوٹے دانتوں سے نکلنے والے خون سے تر ہونے لگی .اور اس کے منہ سے دبی دبی سسکیاں نکل رہی تھیں…جن کو خاموشی پیدا ہوتے ہی نگل لیتی..
کچھ لمحے یونہی اس سایہ پر سے گزرے اور پھر وہ سیدھا ہوگیا اب وہ نیلی چادر اوڑھے آسمان کو دیکھ رہا تھا …قدرت نے ستاروں کی شکل میں اس نیلی چادر پر خوبصورت کام کیا تھا. .
اب اس کی سانسیں اکھڑ سی گئیں تھیں اور جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا…پیاس نے گلے میں کانٹے اگا ڈالے تھے..
ان آخری ساعتوں میں اس شکستہ وجود میں لرزش طاری ہوئی اور اس کے زخمی ہونٹوں سے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ کچھ الفاظ برامد ہوئے.. وہ الفاظ یہ تھے..
اے خداوند…اسے میرے پاس واپس بھیج دے اور میری محبت کو اس کے دل میں بیٹھا دے.
اے بزرگوں کے بزرگ.. اے داناؤں کے دانا..اس کی جدائی کی آگ نے سینے میں دل پگھلا کر رکھ دیا اور آنکھیں اشکوں سے خالی ہوگئیں..تو اسے مجھے سونپ دے اور میرے منزل کو مجھ تک لا..یا خدا ضبط نے مجھے ادھ موا کر دیا اور مایوسی مجھے توڑ گئی ..روح ادھیڑ سی گئی اور خواہشیں سینے میں مر گئیں..
اب تو اسے میرے سامنے لا اور میرے دل کو اس کی دید سے سکون بخش دے…
اے حکمت کے خدا…اگر تیری رضا یہ نہین تو مجھے خود سے ملا اور میری روح کو جنت کی وادیوں میں لے جا…یہی میری آخر التجا ہے .
الفاظ مدھم ہوتے چلے گئے اور رات کچھ اور تاریک ہوگئی…
اگلے دن جب چوراہے پر سورج کی کرنوں نے اجالا کیا تو لوگوں نے دیکھا ایک نوجوان پھٹے پرانوں کپڑوں میں پڑھاہے جس کے پاؤں لمبی مسافت سے زخمی تھے اور چہرہ خون سے لت پت ۔.لوگوں نے اس کے حال پر کچھ قیاس آرائیاں کی اور پھر اسے شہر سے باہر کہیں دفنا آئے ..
ان آخری لمحوں اس نوجوان کی دوسری دعا قبول ہوئی تھی
۔
. یہاں تک لکھ کر اس نے کہانی سمیٹ لی اور
قلم روک لیا۔۔ انجام لکھا جا چکا تھا ۔
،اب وہ اپنی لکھی سطروں کو پڑھنے لگا ۔کیا ہی اچھا انجام ہے کیا ہی زبردست اختتام ہے اس نے خود سراہا ۔
تمہیں اسے مارنا نہیں چاہئے تھا اس زندہ رکھتے اور اس سے ملا دیتے جس کے لئے وہ در بدر تھا اور انجام ہنستا مسکراتا کرتے۔اس کے اندر کوئی بولا۔
نہیں،اس نے شدت سے نفی میں سر ہلایا ۔ ملاپ لازم نہیں ہے کبھی کبھی ایک کردار کی موت لازمی ہوجاتی اس نے کسی ان دیکھے وجود پر نظریں جماتے ہوئے کہا،
پر موت ہی کیوں ۔؟تمہیں اس جوان پر زر بھی رحم نہیں ۔کتنا بگایا تم نے اسے کتنا رولایا کتنی اذیتیں دیں اور پھر جب وہ اپنی منزل کے قریب پہچا تو تم نے اسے مار دیا ۔
اس کے اندر پھر کوئی بولا۔
وہ اسی ان دیکھے وجود پر نظریں جمائے جمائے کہنے لگا۔
زندگی بھی تو ایسا ہی کرتی ہمیں دوڑاتی ہے تڑپاتی ہے اور پھر موت کا انجام ہمارے ہاتھوں میں تھما کر ہنستی مسکرتی کسی اور کی ہوجاتی ہے میں نے بھی ایسا ہی کیا ایک کردار مار دیا اس کہانی کا انجام کر دیا ۔اور یہ جوان ،وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور صفحات پر پڑی لاش کو دیکھا۔پھر سلسلہ کلام جوڑا۔کبھی کبھی کسی کہانی کو انجام دینے کے لئے اس میں سے کوئی کردار ختم کرنا پڑ جاتا ہے جیسے میں نے کیا۔
اب اس کے اندر خاموشی تھی ۔رات اپنی آکری سانسیں گن رہی تھی اور صفحات میں مرے جوان کو دیکھ کر چار سو ماتمی فضا چھا رہی تھی۔
—————————————–
یونیورسٹی جانے کا فیصلہ اس کا اپنا تھا اور ماں کے لاکھ سمجھانے کے باواجود وہ اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی اور کے اس نے جانا ہے تو بس جانا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس کی ضد رنگ لائی اور ماں ہار گئی۔اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہر میں کس کے پاس رہتی ماں نے اپنے بھائی ذکر کیا پر وہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی سو انکار کر دیا اور ہاسٹل میں رہنے کو ترجیح دی اس کے وہم و گمان میں نہیں تھا اس کے تیا اسے یوں دیکھ لیں اور اپنے گھر لے آئیں گے۔اب وہ عرشی کے ساتھ اپنے کمرا دیکھنے آئی تھی تو دل ہی دل میں سوچ رہی تھی پتا وہ یہاں کیسے رہے گی۔وہ شروع سے ہی بہت حساس تھی اپنے گھر سے باہر تو دور اپنے بستر کے علاوہ اسے نیند نہیں آتی تھی ۔اب وہ ایک اجنبی شہر اور ایک اجنبی گھر میں مقیم تھی۔
گائوں کیسا ہوتا ہے دیدی؟کیا وہاں کھیت ہوتے جیسے ٹی وی پر دکھائے جاتے؟۔عرشی نے پوچھا تو وہ چونکی۔
ہاں بڑے بڑے کھیت ہوتے جن میں کسان ہل چلاتے گندم چاول کے وہ مسکرائی۔
پر میں وہاں نہیں گئی مجھے گائوں دیکھنے کا شوق ہے بابا کو کتنی بار کہا مجھے گائوں لیکر جائیں پر وہ ہمیشہ ٹال دیتے ہیں ۔کیا آپ مجھے اپنے گائوں لیکر جائو گی؟،وہ سوال پر سوال کئے جا رہی تھی ۔
ہاں کیوں نہیں جب مجھے یونیورسٹی سے چھٹیاں ملیں گیں تو ہم دونوں ساتھ چلیں گیں ۔اس نے چھوٹی کی خواہش کو بڑھا دیا ۔
وعدہ کرتی نا۔اس نے زبردستی اس کا ہاتھ تھام لیا تووہ ہنس پڑی ۔ ہاں وعدہ ہم ساتھ چلیں گیں اس نے زبدستی کا وعدہ کرنے میں دیر نہیں کی تھی ۔
ہمارا گھر کیسا لگا آپ کو؟ایک اور سوال حاضر تھا،
بہت پیارا ہے ۔ خاص کر گارڈن، میں نے آتے ہویء وہاں بہت سارے پھول دیکھے ہیں ۔
وہ تو بھیا کا شوق بہت سارے پھول لاتے رہتے ہیں جب دیکھو باغ میں کسی نا کسی پودے کے ساتھ لگے ہوتے۔اس نے برا سا منہ بنایا ۔
تو اس سنجیدہ مزاج شخص کو پھول بھی پسند ہیں ۔اس نے دل میں سوچا۔
اسے یاد آیا کے و ہ سب ایک بار گائوں آئے تھے تب وہ بھی چھوٹی سی تھی اور حیدر نے اس کے ناک میں دم کر کے رکھ دیا تھا کبھی اس کی گڑیا توڑ دیتا کبھی اس کی چوڑیاں۔اور امی ہمیشہ ہی اس کا ساتھ دیتیں تھیں کے مہمان ہے کچھ دن میں چلا جائے گا۔ماں کی یاد آنے پر وہ اداس ہوگئی تھی۔
آپ کو بھی پھول پسند ہیں کیا حویلی میں پھول ہیں ؟اس کے سوال ختم ہونے میں نہیں آرہے تھے ۔
ہاں بہت سارے ۔پھولوں پر اسے پھر بچپن میں حیدر کے ہاتھوں مسلے ہوئے پھول یاد آئے جب وہ وہاں گیا تھا حویلی کا کوئی پھول بھی سلامت نہیں بچا تھا ۔پتا نہیں اسے یاد ہوگا سب یا نہیں ،وہ پھر سے سوچنے لگی تھی۔
افف آپ یہ بار بار کہاں کھو جاتی ہیں جیسے میری حساب کی ٹیچر کھو جاتیں بات بات کرتے وہ اس کے یوں بار بار سوچنے پر تنگ ہوئی تھی۔
اس پہلے کے وہ اس کی بات کوئی جواب دیتی نیچے سے سلطان جہانگیری نے اسے پکارہ تو وہ آئی بابا کہہ کر نیچے بھاگ گئی۔
اس نے ایک طویل سانس اپنے اندر کھینچا اور پھر اپنی سوچوں میں کہیں کھو گئی۔

پہلی قسط پڑھیئے

ابنِ عبداللہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo