ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ
آج کا انسان ترقی یافتہ ضرور ہو گیا ہے، مگر سکون یافتہ نہیں۔ گھروں کے سائز بڑے ہو گئے، مگر دل تنگ ہو گئے۔ سہولتیں بڑھ گئیں، مگر برداشت کم ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ رشتہ جسے اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا تھا، وہی آج بے سکونی کی وجہ بنتا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ گھر ٹوٹ کیوں رہے ہیں؟
قرآنِ کریم اس سوال کا جواب صرف جذباتی انداز میں نہیں بلکہ اصولی اور عملی رہنمائی کے ساتھ دیتا ہے۔
1️⃣ اللہ کی حدود سے غفلت
قرآن بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے:
“تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا”
یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو۔
جب میاں بیوی، والدین اور اولاد اپنے اپنے دائرۂ کار سے نکل کر دوسرے کے حقوق پامال کرتے ہیں تو گھر کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
شوہر ظلم کرے، بیوی ضد کرے، اولاد نافرمانی کرے — یہ سب حدود شکنی کی صورتیں ہیں۔
گھر اس وقت ٹوٹتا ہے جب حق کو خواہش پر قربان کر دیا جائے۔
2️⃣ تقویٰ کی کمی
قرآن کہتا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو تو اللہ سے ڈرو۔
مگر جب تقویٰ دل سے نکل جاتا ہے تو انسان یہ سوچتا ہے:
• “میں کیوں جھکوں؟”
• “پہل وہ کرے”
• “مجھے کیا ضرورت ہے معاف کرنے کی؟”
یاد رکھیں، جس دل میں اللہ کا خوف نہیں ہوتا، وہاں انا کا راج ہوتا ہے۔
اور انا ہمیشہ رشتے توڑتی ہے، جوڑتی نہیں۔
3️⃣ صبر کا فقدان
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ”
بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
گھر اس لیے نہیں ٹوٹتے کہ مسئلہ بڑا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ٹوٹتے ہیں کہ برداشت چھوٹی ہو جاتی ہے۔
چھوٹی باتوں پر طلاق، معمولی اختلاف پر علیحدگی — یہ جلد بازی شیطانی رویہ ہے، ایمانی نہیں۔
قرآنی مزاج یہ ہے کہ رشتہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
4️⃣ شیطان کی کامیاب چال
حدیث میں آتا ہے کہ شیطان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے میاں بیوی میں جدائی ڈال دی۔
قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، مگر افسوس ہم اسے دشمن نہیں سمجھتے۔
غلط فہمیاں، بدگمانیاں، غصہ، خاموش جنگ — یہ سب شیطانی ہتھیار ہیں۔
جب گھر میں ذکر کم اور غصہ زیادہ ہو جائے تو سمجھ لیں شیطان نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔
5️⃣ قرآن سے دوری
جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا، وہاں ہدایت کی روشنی کیسے آئے گی؟
قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، زندگی چلانے کے لیے نازل ہوا ہے۔
• قرآن سکھاتا ہے معاف کرنا
• قرآن سکھاتا ہے عدل کرنا
• قرآن سکھاتا ہے زبان کو قابو میں رکھنا
مگر جب فیصلے قرآن کے بجائے جذبات اور معاشرے کے دباؤ سے ہونے لگیں تو انجام تباہی ہوتا ہے۔
6️⃣ شکر کی جگہ شکایت
قرآن کہتا ہے:
“لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
اگر تم شکر کرو گے تو میں اور عطا کروں گا۔
مگر گھروں میں آج شکر کم اور شکایت زیادہ ہے۔
• “وہ میرے لیے کیا کرتا ہے؟”
• “وہ مجھے سمجھتی ہی نہیں”
ہم نعمتوں کو دیکھنے کے بجائے کمیوں کو گنتے رہتے ہیں، اور یہی رویہ محبت کو ختم کر دیتا ہے۔
7️⃣ آخرت کی فکر کا خاتمہ
جب رشتہ صرف دنیا کے فائدے پر قائم ہو تو وہ وقتی ہوتا ہے۔
مگر جب رشتہ اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ عبادت بن جاتا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر ظلم، ہر سخت لفظ، ہر ناانصافی کا حساب ہوگا۔
اگر یہ احساس زندہ رہے تو گھر کبھی میدانِ جنگ نہیں بنے گا۔
🌿 حل کیا ہے؟
قرآن مسئلہ بھی بتاتا ہے اور حل بھی:
✔ حدود کی پابندی
✔ تقویٰ اختیار کرنا
✔ صبر و درگزر
✔ شیطان سے پناہ
✔ قرآن کو گھر میں زندہ کرنا
✔ شکر گزاری اپنانا
✔ آخرت کو یاد رکھنا
گھر دیواروں سے نہیں، کردار سے بنتے ہیں۔
رشتے محبت سے نہیں، اللہ کی اطاعت سے مضبوط ہوتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے گھروں کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں جدید نسخوں سے پہلے قرآنی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔
کیونکہ جس گھر میں اللہ کی نافرمانی ہوگی، وہاں سکون نہیں ٹھہرے گا…
اور جس گھر میں اللہ کی اطاعت ہوگی، وہاں تنگی میں بھی رحمت ہوگی۔ 🤍
Source
