مصیبت کا ہر ایک سے ذکر کرنا بذات خود بہت بڑی مصیبت ہے اکثر لوگ دوسرے کی مصیبت سے ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے بلکہ اسے مزے لے لے کر دوسروں کے آگے بیان کرتے ہیں
کیا تم نے ایسے داستان سِرا کو تمھاری خوش بختی پر بھی خوش ہوتے دیکھا ہے ؟
غور کرو کہ تمہارے اصل خیر خواہ اور غم خوار اس دنیا میں کتنے ہیں ؟
اور کتنے ایسے نیک خصلت انسان موجود ہیں ؟
جو ہر محفل میں تمہاری نیکیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے ؟
صرف چند ایک خوش اطوار افراد ایسے بھی ہونگے مگر اکثریت ان لوگوں کی ہی ملے گی جو بد طینت(بری نیت والے) اور تمہارے بد خواہ ہوں گے –
کیا تم نے ایسے داستان سِرا کو تمھاری خوش بختی پر بھی خوش ہوتے دیکھا ہے ؟
غور کرو کہ تمہارے اصل خیر خواہ اور غم خوار اس دنیا میں کتنے ہیں ؟
اور کتنے ایسے نیک خصلت انسان موجود ہیں ؟
جو ہر محفل میں تمہاری نیکیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے ؟
صرف چند ایک خوش اطوار افراد ایسے بھی ہونگے مگر اکثریت ان لوگوں کی ہی ملے گی جو بد طینت(بری نیت والے) اور تمہارے بد خواہ ہوں گے –
چنانچہ میں نے استاد کی یہ نصیحت پلے باندھ لی ہے کہ
نہ کسی سے اپنی ناکامیوں کا تذکرہ کروں اور نہ کسی کی عیب جوئی !
تفکیر نامہ، حسن عمل ص:57
جرمن فلسفی ادیب شاعر
گوئٹے
Faraz Gondal
