منتخب غزلیں
یہ زندگی سے خوشیاں جدا ہوگئی ہے کیوں قدرت نا جان…

یہ زندگی سے خوشیاں جدا ہوگئی ہے کیوں
قدرت نا جانے ہم سے خفا ہوگئی ہے کیوں
جیسے دیا جلے تو مگر روشنی نہ ہو
ویسے ہمای زیست بھلا ہوگئ ہے کیوں
جاری رہے کرم ترا ہے لب پہ یہ دعا
یہ دور ہم سے تیری عطا ہوگئی ہے کیوں
افسوس اٹھ رہی ہیں تری نعمتیں سبھی
مثلِ غبار ہائے دعا ہوگئی ہے کیوں
آتی نہیں نوید ظفر اب تو کوئی بھی
امیدِ کامرانی ہوا ہوگئی ہے کیوں
انکھیں تو کھول جھانک گریبان میں زرا
نا مہربان تجھ پہ فضا ہوگئی ہے کیوں
دیتے نہیں عروج کسی بے عمل کو ہم
غافل عبث امید بھلا ہوگئی ہے کیوں۔
عروج واسطی۔
![]()


