منتخب نظمیں

چار سو سے زیادہ ہاتھ ایک ساتھ سفید لفافوں کی طرف …

💥 چار سو سے زیادہ ہاتھ ایک ساتھ سفید لفافوں کی طرف بڑھے۔ 🥺❤️

تقریب ختم ہونے ہی والی تھی۔

ہال میں کیمروں کی چمک، موبائل فونوں کے بلند ہوتے ہاتھ، والدین کی بےتاب نظریں، اور سبز گاؤن پہنے لڑکے لڑکیاں اپنی ٹوپیوں کے کنارے تھامے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جس کے لیے برسوں کی نیندیں گروی رکھی گئی تھیں۔

تب پرنسپل نے مائیک پر جھک کر کہا، "ایک منٹ… ڈگری کے ساتھ جو سفید لفافہ آپ کو ملا ہے، اسے گھر جا کر نہیں… ابھی کھولیے۔”

ہال میں ایک عجیب سی خاموشی اتری۔

جیسے کسی نے سینکڑوں دلوں کی دھڑکن ایک ہی وقت میں سننے کی ضد کر لی ہو۔

ٹوپیاں ہوا میں نہیں اُڑیں۔

چار سو سے زیادہ ہاتھ ایک ساتھ سفید لفافوں کی طرف بڑھے۔
..

سرکاری ڈگری کالج کے اردو کے استاد، سلیم صاحب، اسٹیج کے ایک کونے میں کھڑے تھے۔ ان کے کوٹ کی کہنیوں پر کپڑا ہلکا سا گھس چکا تھا اور عینک بار بار ناک سے پھسل جاتی تھی۔ پورا سال انہوں نے شاید ہی کوئی ایسا دن دیکھا ہو جب انہیں اپنے پیشے پر شک نہ ہوا ہو۔

ہر مہینے کوئی نہ کوئی کہتا تھا، "سر، آج کل بچوں کو استاد نہیں، یوٹیوبر پسند ہیں۔”

کبھی کسی والد نے شکایت کی، "آپ نے میرے بیٹے کو کم نمبر کیوں دیے؟”

کبھی دفتر میں فائلوں کے انبار، کبھی نصاب بدلنے کی میٹنگ، کبھی بجلی غائب، کبھی کلاس میں پچاس بچوں کے درمیان صرف ایک ٹوٹا ہوا وائٹ بورڈ۔

اور ہر شام وہ گھر جا کر اپنی میز کی دراز کھولتے، جہاں ایک بندل میں سفید لفافے رکھے ہوتے۔

ان پر صرف نام لکھے تھے۔

ہر رات ایک لفافہ کم ہو جاتا۔

..

"ابو، آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟”

ایک رات ان کی بیٹی نے پوچھا تھا۔

سلیم صاحب نے قلم روک کر مسکرا دیا۔

"بعض بچے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی کے ہاتھ سے اپنا نام محبت سے لکھا ہوا دیکھتے ہیں۔”

بیٹی نے جواب نہیں دیا۔

اس نے صرف دیکھا کہ والد ایک کاغذ پر لفظ مٹاتے، پھر دوبارہ لکھتے، پھر پھر مٹاتے۔

جیسے ایک جملہ نہیں، کسی انسان کی ٹوٹی ہوئی آواز درست کر رہے ہوں۔
..

ایک لفافہ فہد کے نام تھا۔

وہی فہد جسے پورا کالج "مسئلہ” کہتا تھا۔

کلاس سے غائب۔

ہوم ورک ادھورا۔

آنکھوں میں مستقل بےزاری۔

اکثر لڑائی۔

دو بار معطل۔

سلیم صاحب نے کئی مرتبہ اس کے گھر فون کیا تھا۔

کبھی نمبر بند ملا، کبھی کسی نے کہا، "کام پر گیا ہے۔”

ایک دن وہ خود اس کے محلے پہنچ گئے تھے۔

تنگ گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا مکان تھا جہاں فہد اپنے بیمار باپ کی جگہ شام کو پنکچر لگاتا تھا۔

اگلے دن کلاس میں سلیم صاحب نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔

صرف اپنی میز پر ایک اضافی سموسہ رکھ دیا۔

فہد نے خاموشی سے کھا لیا۔

اس کے بعد بھی وہ زیادہ نہیں بدلا۔

لیکن جب کبھی حاضری لگتی، وہ "جی سر” ضرور کہتا۔

ایک لفافہ مریم کے لیے تھا۔

جس نے پورے سال کسی تقریب میں حصہ نہیں لیا۔

ہر سوال کا جواب آہستہ دیتی۔

جیسے آواز بلند ہوئی تو کچھ ٹوٹ جائے گا۔

ایک دن مضمون لکھتے ہوئے اس نے صرف ایک جملہ لکھا تھا۔

"گھر میں خاموشی بھی کبھی کبھی شور سے زیادہ ڈراتی ہے۔”

سلیم صاحب نے کاپی واپس کرتے ہوئے صرف اتنا لکھا تھا۔

"تمہاری خاموشی بھی ایک زبان ہے۔ اسے مرنے مت دینا۔”

اس دن کے بعد مریم نے پہلی بار لائبریری سے اپنی مرضی کی کتاب جاری کروائی تھی۔

ہر سفید لفافے کے اندر مختلف لفظ تھے۔

لیکن ہر جملے میں ایک چیز مشترک تھی۔

کسی نے کسی کو دیکھا تھا۔

واقعی دیکھا تھا۔

ہال میں کاغذ پھٹنے کی نرم آوازیں پھیلنے لگیں۔

پہلے ایک۔

پھر دس۔

پھر سینکڑوں۔

کوئی ہنس رہا تھا۔

کوئی اپنی آنکھیں چھپا رہا تھا۔

کوئی فوراً ساتھ کھڑے دوست کو اپنا خط دکھا رہا تھا۔

کچھ بچوں نے ڈگری کرسی پر رکھ دی۔

لفافہ سینے سے لگا لیا۔

ایک لڑکے نے اپنی ٹوپی زمین پر گرنے دی۔

اسے خبر بھی نہ ہوئی۔

سلیم صاحب کی نظر اچانک فہد پر جا کر ٹھہر گئی۔

لفظ پڑھتے پڑھتے اس کے ہونٹ کانپ گئے تھے۔

وہ بار بار ایک ہی سطر پڑھ رہا تھا۔

"تم نے زندگی کو ہرانے نہیں دیا… یہی تمہاری سب سے بڑی ڈگری ہے۔”

فہد نے جلدی سے آستین سے آنکھ رگڑی۔

پھر اردگرد دیکھا کہ کسی نے دیکھ تو نہیں لیا۔

لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔

وہ خود اپنی نظروں سے نہیں بچ سکا تھا۔

مریم اپنا لفافہ بند نہیں کر رہی تھی۔

وہ اسے دونوں ہاتھوں میں ایسے پکڑے بیٹھی تھی جیسے سردیوں میں لوگ چائے کا گرم کپ پکڑتے ہیں۔

اس کی ماں، جو آخری قطار میں بیٹھی تھی، بیٹی کے چہرے پر پہلی بار وہ سکون دیکھ رہی تھی جو کسی کامیابی سے نہیں، کسی یقین سے پیدا ہوتا ہے۔

تقریب ختم ہوئی۔

تصویریں بنیں۔

ہار پہنائے گئے۔

قہقہے لگے۔

لیکن اس شام کالج کے میدان میں سب سے زیادہ احتیاط سے اگر کوئی چیز سنبھالی جا رہی تھی تو وہ ڈگریاں نہیں تھیں۔

وہ سفید لفافے تھے۔

لوگ آہستہ آہستہ رخصت ہو گئے۔

کرسیوں کی قطاریں خالی ہونے لگیں۔

جھاڑو دینے والا مالی زمین سے رنگین کنفیٹی سمیٹ رہا تھا۔

ٹوپیوں کے ٹوٹے ہوئے دھاگے، ربن اور پانی کی خالی بوتلیں ایک طرف جمع ہو رہی تھیں۔

سلیم صاحب نے دیکھا کہ سب کچھ کچرے میں جا رہا ہے۔

سوائے سفید لفافوں کے۔

ایک بھی لفافہ فرش پر نہیں تھا۔

وہ اپنی میز صاف کرنے لگے۔

جیب سے رومال نکالا تو ایک آخری سفید لفافہ گر پڑا۔

اس پر ان کا اپنا نام لکھا تھا۔

خط ان کے ساتھی اساتذہ نے رکھا تھا۔

انہوں نے آہستہ سے کھولا۔

اندر صرف ایک سطر لکھی تھی۔

"جن بچوں کو دنیا نے شرارتی، سست یا ناکام کہا، آپ نے ان کے نام لے کر انہیں پکارا… شاید اسی لیے آج وہ خود کو بھولے نہیں۔”

بہت دیر تک وہ کرسی پر بیٹھے رہے۔

ہال تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

کھڑکی سے شام کی روشنی اندر سرک رہی تھی۔

ان کی گود میں ڈگری نہیں تھی۔

کوئی تمغہ بھی نہیں۔

صرف ایک سفید لفافہ تھا۔

اور انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض استاد پوری عمر نصاب نہیں پڑھاتے…

وہ لوگوں کو یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ کسی کے لیے محض حاضری نمبر نہیں، ایک مکمل انسان ہیں۔

اس رات کالج کی تمام روشنیاں بجھ گئیں۔

مگر شہر میں چار سو سے زیادہ گھروں میں ایک سفید لفافہ دیر تک کھلا رہا۔

افسانہ: سفید لفافہ
©️ انتخاب سخن

#teachers #teachersofinstagram #teacherlife

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/