تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟
وہ مورکھتا، وہ گھامڑ پن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار تمہارے
ارے بدھائی، بہت بدھائی!
بھوت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے
سارے الٹے کاج کرو گے
اپنا چمن تاراج کرو گے
بیٹھے بیٹھے کرو گے سوچا
پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو کون نہیں ہے
تم بھی کرو گے فتویٰ جاری
ہوگا کٹھن یہاں بھی جینا
دانتوں آجائے گا پسینا
جیسے تیسے کٹا کرے گی
یہاں بھی سب کی سانس گھُٹے گی
ماتھے پر سیندور کی ریکھا
کچھ بھی نہیں پڑوس سے سیکھا؟
کیا ہم نے دُر دَشا بنائی
کچھ بھی تم کو نظر نہ آئی؟
بھاڑ میں جائے سکھشا وکھشا
اب جاہل پن کے گن گانا
آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو
واپس لاؤ گیا زمانہ!
دھنیہ واد یہ گماں مٹایا
مسلمان ہے احمق جایا
جس پر ہم رویا کرتے تھے
تم نے بھی وہ بات اب کی ہے
بہت ملال ہے ہم کو لیکن
ہا ہا ہا ہا، ہو ہو، ہی ہی!
کل دکھ سے سوچا کرتی تھی
سوچ کے بہت ہنسی آج آئی
تم بالکل ہم جیسے نکلے
ہم دو قوم نہیں تھے بھائی
مشق کرو تم آجائے گا
الٹے پاؤں چلتے جانا
دھیان نہ من میں دوجا آئے
بس پیچھے ہی نظر جمانا
ایک جاپ سا کرتے جاؤ
بارم بار یہی دہراؤ
کتنا ویر مہان تھا بھارت
کیسا عالی شان تھا بھارت
پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے
بس پرلوک پہنچ جاؤ گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر
تم بھی سمے نکالتے رہنا
اب جس نرک میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
(فہمیدہ ریاض)
