ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںگھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم بیگانہ اتنے ہوت...

گھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم بیگانہ اتنے ہوت…

گھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم
بیگانہ اتنے ہوتے گئے زندگی سے ہم

کیوں کہ بدل دیں نعمت غم کو خوشی سے ہم
کس طرح مانگ لائیں تبسم کسی سے ہم

کچھ ایسی باتیں سیکھ گئے دوستی سے ہم
کرتے نہیں اب اپنا تعارف کسی سے ہم

کہہ دو شب فراق کے تاروں سے ڈوب جاؤ
مانوس اب نہیں ہیں کسی روشنی سے ہم

خاموشیوں نے قصۂ غم بھی بھلا دیا
اب بات بھی کریں تو کریں کیا کسی سے ہم

خود اپنے دل سے ہو گئے بیگانہ اس طرح
جیسے جھجک رہے ہوں کسی اجنبی سے ہم

آخر کو چلنے والوں نے پہچان ہی لیا
نکلے جو سر جھکائے تمہاری گلی سے ہم

شاید اسی سے اشک بھی آنکھوں میں آ گئے
تاریکیوں کو دیکھ نہ لیں روشنی سے ہم

جس نے جلا دئے ہیں تمناؤں کے چراغ
عاجز سے ہو گئے ہیں اسی زندگی سے ہم

اب فضلؔ حسرتیں ہیں نہ فکر و نظر میں ضو
جاں نذر کر رہے ہیں بڑی بیکسی سے ہم

(فضل لکھنوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/