اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںجلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے اندھیرے غم کے تو ...

جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے اندھیرے غم کے تو …

جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے
اندھیرے غم کے تو آتے ہیں اور جاتے ہیں
..
شمشاد جلیل شاد کا یومِ وفات
9 اپریل 2021
گلابوں سی تمہاری یاد ہر جانب مہکتی ہے
تمہاری جستجو میں اب ہوا کی رو بھٹکتی ہے
جہاں بھر میں ہزاروں بولیاں میٹھی بہت لیکن
مری اردو زباں ان میں نگینے سی چمکتی ہے
بزرگوں کی نشانی ہے جسے چادر میں کہتی ہوں
اسے جب اوڑھ لیتی ہوں مری صورت دمکتی ہے
سکوں ملتا مجھے یہ جان کر بیٹی بہت خوش ہے
تبھی تو خواب میں آ کر وہ ہنستی ہے چہکتی ہے
نظر جب آپ کی ہوگی کھلیں گے باب رحمت کے
وگرنہ روح انسانی اندھیروں میں بھٹکتی ہے
جو خواہش ہو نہیں سکتی زمانے میں کبھی پوری
دبا کے درد سینے میں وہی خواہش سسکتی ہے
….
قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے
دید کا تری اب تک انتظار باقی ہے
دل کو ٹوٹنا ہی تھا ٹوٹ کے وہ بکھرا بھی
ہاں مگر ابھی تک کچھ یادگار باقی ہے
ڈوبتی رہی کشتی ساگروں کی لہروں میں
ساحلوں پہ تم ہوں گے اعتبار باقی ہے
چاند خود مسافر ہے ساتھ کب تلک دے گا
رہبروں کا اب بھی کیوں انتظار باقی ہے
پھول بکھرے راہوں میں ہے حسیں سفر لیکن
راستے میں اب بھی کچھ خار زار باقی ہے
ختم ہو ہی جائے گی تیرگی غموں کی اب
صبح ہونے والی ہے انتظار باقی ہے
زندگی جو جینا ہے اس کے واسطے اے شادؔ
ڈھیر ساری خوشیوں کا آبشار باقی ہے
….
خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں
کہ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں
جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے
اندھیرے غم کے تو آتے ہیں اور جاتے ہیں
کبھی جو دل میں وفا کے چراغ جلتے تھے
مگر وہ آج کہاں روشنی لٹاتے ہیں
جہاں بھی جاؤں وہاں پر سکوں نہیں ملتا
ہر اک جگہ پہ نئے حادثے ستاتے ہیں
جو ہو بھی جائے تمنا کا خون سہہ لینا
یہ ابر وہ ہیں جو موسم بدل کے جاتے ہیں
ترے نصیب کے تارے بھی شادؔ چمکیں گے
ہم اب چراغ تری راہ میں جلاتے ہیں
………..


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/