یہ جوانی بھی بڑھاپے کی طرح گُزرے گی
عمر جب کاٹ چُکوں گا تو شباب آئے گا
….
نجیب احمدکا یومِ وفات
9 اپریل 2021
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایسے بھی گئے گزرے نہیں ہیں
ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے
اس دائرۂ روشنی و رنگ سے آگے
کیا جانیے کس حال میں بستی کے مکیں ہیں
مری نمود کسی جسم کی تلاش میں ہے
میں روشنی ہوں اندھیروں میں چل رہا ہوں ابھی
خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا
ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا
رکوں تو حجلۂ منزل پکارتا ہے مجھے
قدم اٹھاؤں تو رستہ نظر نہیں آتا
نجیبؔ اک وہم تھا دو چار دن کا ساتھ ہے لیکن
ترے غم سے تو ساری عمر کا رشتہ نکل آیا
آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا
ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے
کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے
نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی
روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی
زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے
کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں
پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی
لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے
زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا
اکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں
وہی رشتے وہی ناطے وہی غم
بدن سے روح تک اکتا گئی تھی
اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ
آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جا رہا ہے
….
ضرورت کچھ زیادہ ہو نہ جائے
سمندر اور گہرا ہو نہ جائے
یہ دھن یہ موج لے ڈوبے نہ مجھ کو
بگولا غرق صحرا ہو نہ جائے
……………………..
عمر جب کاٹ چُکوں گا تو شباب آئے گا
….
نجیب احمدکا یومِ وفات
9 اپریل 2021
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایسے بھی گئے گزرے نہیں ہیں
ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے
اس دائرۂ روشنی و رنگ سے آگے
کیا جانیے کس حال میں بستی کے مکیں ہیں
مری نمود کسی جسم کی تلاش میں ہے
میں روشنی ہوں اندھیروں میں چل رہا ہوں ابھی
خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا
ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا
رکوں تو حجلۂ منزل پکارتا ہے مجھے
قدم اٹھاؤں تو رستہ نظر نہیں آتا
نجیبؔ اک وہم تھا دو چار دن کا ساتھ ہے لیکن
ترے غم سے تو ساری عمر کا رشتہ نکل آیا
آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا
ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے
کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے
نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی
روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی
زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے
کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں
پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی
لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے
زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا
اکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں
وہی رشتے وہی ناطے وہی غم
بدن سے روح تک اکتا گئی تھی
اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ
آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جا رہا ہے
….
ضرورت کچھ زیادہ ہو نہ جائے
سمندر اور گہرا ہو نہ جائے
یہ دھن یہ موج لے ڈوبے نہ مجھ کو
بگولا غرق صحرا ہو نہ جائے
……………………..

