اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںاردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا کا...

اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا کا…

اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا کا یوم پیدائش
(پیدائش: 7 اپریل 1768ء– وفات: 1 اگست 1824ء)
——
منتخب کلام
——
چنداؔ کے دیکھنے کی جو خواہش کرے کوئی
رکھتا ہو وصف اپنے میں وہ عز و جاہ کا
——
بجز حق کے نہیں غیر سے ہر گز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
——
جو پوچھے ہجر کی حالت مری وہ بے وفا ہنس کر
تصدق ہوکے کہہ باآہِ سرد و چشم تر قاصد
——
سوجان سے ہوگی وہ تصدق مرے مولا
چندا کی جوکونین میں امداد کرو گے
——
مری نازک مزاجی کی خبر رکھتا نہیں ہرگز
وہ سنگیں دل نہیں ممکن کسی کا ہوکبھی عاشق
——
سرفرو ہرگز نہ ہوچندا کسی سے دہر میں
یہ جناب مرتضیٰ کی ہے کنیزی کا غرور
——
شاہ و گدا تو دنگ ہوے رقص پر ترے
عاشق ہے نیم جان ‘ نئی لئے میں تان بھر
——
حسن کے شعلے سے تیرے جب کہ ٹپکے ہے عرق
شرم سے بس ابر کے دامن میں ہے تر آفتاب
——
عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا
میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا
——
خورشید رو قسم ہے یہ زلفوں کی تونے کل
وعدہ کیا تھا دن کا مگر رات ہوگئی
——
ہماری چشم نے ایسا کمال پایا ہے
جدھر کو دیکھئے آتا ہے تو نظر ہم کو
——
گرمی وہ ہووے حسن میں چندا کے یا علی
جلوے کو اس کے دیکھ کے بس لوٹ جائے برق
——
گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے
ہر کلی جان کو مٹھی میں لئے بیٹھی ہے
کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوفِ خزاں
بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے
——
یاد آ گئی دل کو میرے آہ کسی کی
تکتا ہوں شب و روز جو میں راہ کسی کی
خواہش تجھے غیروں کی سدا رہتی ہے لیکن
ہم کو نہیں ہے تیرے سوا چاہ کسی کی
——
ظاہر میں یا کہ خواب میں صورت دکھا کہیں
تڑپے ہوں انتظار میں اے شوخ ، آ کہیں
میں پوچھتا ہوں دن کی تو کہتا ہے رات کی
معلوم یوں ہوا کہ تیرا دل لگا کہیں
——
آیا نہیں ہے خواب میں بھی یار اب تلک
ہیں منتظر یہ دیدۂ بیدار اب تلک
——
سج کے اس طرح سے نکلا وہ طرحدار کہ بس
جان و دل ہو ہی گیا دیکھ گرفتار کہ بس
کوہکن پر بھی کیا جور مگر شیریں نے
تو نے اس طرح کیا ہے مجھے بیزار کہ بس
——
رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض
دامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیض
پر نور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سے
رکھتی ہے دو عالم پہ تری ایک نظر فیض
اک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کو
کس کی نگہ مست سے رکھتا ہے خمر فیض
محروم نہیں کوئی ترے خوان کرم سے
ہے حصر خدائی کا ہی تجھ پہ مگر فیض
چنداؔ رہے پرتو سے ترے یا علی روشن
خورشید کو ہے در سے ترے شام و سحر فیض
——
تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو
لگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو
ٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب
یہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو
ہر چند دل دکھانا کسی کا برا ہے پر
رنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو
اے ہمدمو جو مجھ سے ہے منظور اختلاط
جز ذکر یار تم کوئی مذکور مت کرو
روشن رکھو جہان میں مولا مثال مہر
چندہ کے منہ سے نور کو تم دور مت کرو
——
عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا
میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا
ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق
دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا
گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب
تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا
ناصح عبث کرے ہے منع مجھ کو عشق سے
آ جائے وہ نظر تو پھر انکار دیکھنا
نداؔ کو تم سے چشم یہ ہے یا علی کہ ہو
خاک نجف کو سرمۂ ابصار دیکھنا
——
دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب
پھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب
کب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سے
جی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب
ساقی لگا کے برف میں مے کی صراحی لا
آنکھوں میں چھا رہا ہے نشہ کا خمار خوب
آیا نہ ایک دن بھی تو وعدہ پہ رات کو
اچھا کیا سلوک تغافل شعار خوب
ایسی ہوا بندھی رہے چنداؔ کی یا علی
با صد بہار دیکھے جہاں کی بہار خوب
………………….
بشکریہ اردوئے معلٰؔی
…..


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/