ذرا سی پی لی ، ذرا دیر کو بہک بھی گئے
قصور سارا مہکتی ہوئی فضا کا تھا
——
معروف ناول نگار ، شاعر ،افسانہ نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار کشمیری لال ذاکر کا یوم پیدائش
(پیدائش: 7 اپریل 1919ء – وفات: 31 اگست 2016ء)
——
منتخب کلام
——
تمام رات اندھیرے سے شمع لڑتی رہی
یہ مسئلہ تو اصولوں کا تھا ، انا کا تھا
——
ذاکرؔ تھا جس کا نام اسے جانتے تھے لوگ
اُس کی کہانیوں میں غضب کا رچاؤ تھا
——
ذرا سی پی لی ، ذرا دیر کو بہک بھی گئے
قصور سارا مہکتی ہوئی فضا کا تھا
——
سخت جاں بھی ہیں اور نازک بھی
درد کے باوجود جیتے ہیں
زندگی زہر ہے، مگر ہم لوگ
چھان کر گیسوؤں میں پیتے ہیں
——
تیرے جمال کی پُرکیف راحتوں کی قسم
حدودِ کون و مکاں سے گزر بھی سکتا ہوں
میں جس خلوص سے جیتا رہا ہوں تیرے لیے
اُسی خلوص سے اے دوست مر بھی سکتا ہوں
——
بہت سے جلوے تصور کی دین ہیں ہمدم
بہت سے پردے خود اپنی نظر کے ہوتے ہیں
وہ زخم ہم جنہیں اپنا سمجھ نہیں پاتے
بہت سے اُن میں دلِ معتبر کے ہوتے ہیں
——
سفر کو اپنے ذرا اور معتبر کر دیں
کہ رہنما ہی کو ہم اپنا ہم سفر کر دیں
مسافروں کو سرِ شام لُوٹ لیتے ہیں
ابھی تو دن ہے ذرا ان کو باخبر کر دیں
——
میرا اپنا وجود کچھ بھی نہ تھا
درد کی کائنات اس کی تھی
وہ تھا ذہن و خیال کا مالک
میری ساری حیات اس کی تھی
——
میری خوشبو ، میرا غم ،، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
——
ہر سال مرے دوست ، مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
——
دیوانگی کا درد کہاں جانتے ہیں لوگ
میں تیرا نام لوں تو برا مانتے ہیں لوگ
——
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں
نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں
کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں
کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں
انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں
خلوص درد محبت وفا رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں
تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
——
شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا
اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے گا
جو لمحہ کھو گیا ہے اسے پھر نہ ڈھونڈنا
جو چاند ڈھل چکا ہے وہ خوابوں میں آئے گا
دکھ دے رہی ہیں اس کی یہ برفیلی عادتیں
پگھلے گا ایک دن تو شرابوں میں آئے گا
پہچان بھی سکو گے نہیں اپنے نام کو
آئے گا بھی تو اتنے حجابوں میں آئے گا
جب تیرا نام حسن کی تاریخ بن گیا
پھر میرا ذکر دل کی کتابوں میں آئے گا
——
پتوں کو ہواؤں میں بکھرنے نہیں دیتے
یہ لوگ فضاؤں کو نکھرنے نہیں دیتے
تاریک مکانوں کے ابھرتے ہوئے سائے
سورج کو بھی آنگن میں اترنے نہیں دیتے
یخ بستہ ہواؤں کے ٹھٹھرتے ہوئے جھونکے
موسم کو کسی طور سنورنے نہیں دیتے
ہر سال ، مرے دوست مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
احباب کی خاطر تو میں سُولی پہ چڑھا تھا
احباب ہی سولی سے اترنے نہیں دیتے
——
میری خوشبو ، میرا غم ، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
ریت پر معصوم بچے چیختے رہ جائیں گے
ایک طوفاں آئے گا سب کچھ بہا لے جائے گا
تجھ کو تو معلوم ہے میری کتابوں کا مزاج
چھپ گئیں تو ایک دن کوئی اُٹھا لے جائے گا
مجھ سے رخصت ہو گا تو اپنی حفاظت کے لیے
باندھ کر آنچل میں وہ میری وفا لے جائے گا
جب غزل پر گفتگو ہو گی تو اک نقادِ فن
میرے افسانوں کی کچھ آب و ہوا لے جائے گا
قصور سارا مہکتی ہوئی فضا کا تھا
——
معروف ناول نگار ، شاعر ،افسانہ نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار کشمیری لال ذاکر کا یوم پیدائش
(پیدائش: 7 اپریل 1919ء – وفات: 31 اگست 2016ء)
——
منتخب کلام
——
تمام رات اندھیرے سے شمع لڑتی رہی
یہ مسئلہ تو اصولوں کا تھا ، انا کا تھا
——
ذاکرؔ تھا جس کا نام اسے جانتے تھے لوگ
اُس کی کہانیوں میں غضب کا رچاؤ تھا
——
ذرا سی پی لی ، ذرا دیر کو بہک بھی گئے
قصور سارا مہکتی ہوئی فضا کا تھا
——
سخت جاں بھی ہیں اور نازک بھی
درد کے باوجود جیتے ہیں
زندگی زہر ہے، مگر ہم لوگ
چھان کر گیسوؤں میں پیتے ہیں
——
تیرے جمال کی پُرکیف راحتوں کی قسم
حدودِ کون و مکاں سے گزر بھی سکتا ہوں
میں جس خلوص سے جیتا رہا ہوں تیرے لیے
اُسی خلوص سے اے دوست مر بھی سکتا ہوں
——
بہت سے جلوے تصور کی دین ہیں ہمدم
بہت سے پردے خود اپنی نظر کے ہوتے ہیں
وہ زخم ہم جنہیں اپنا سمجھ نہیں پاتے
بہت سے اُن میں دلِ معتبر کے ہوتے ہیں
——
سفر کو اپنے ذرا اور معتبر کر دیں
کہ رہنما ہی کو ہم اپنا ہم سفر کر دیں
مسافروں کو سرِ شام لُوٹ لیتے ہیں
ابھی تو دن ہے ذرا ان کو باخبر کر دیں
——
میرا اپنا وجود کچھ بھی نہ تھا
درد کی کائنات اس کی تھی
وہ تھا ذہن و خیال کا مالک
میری ساری حیات اس کی تھی
——
میری خوشبو ، میرا غم ،، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
——
ہر سال مرے دوست ، مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
——
دیوانگی کا درد کہاں جانتے ہیں لوگ
میں تیرا نام لوں تو برا مانتے ہیں لوگ
——
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں
نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں
کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں
کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں
انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں
خلوص درد محبت وفا رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں
تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
——
شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا
اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے گا
جو لمحہ کھو گیا ہے اسے پھر نہ ڈھونڈنا
جو چاند ڈھل چکا ہے وہ خوابوں میں آئے گا
دکھ دے رہی ہیں اس کی یہ برفیلی عادتیں
پگھلے گا ایک دن تو شرابوں میں آئے گا
پہچان بھی سکو گے نہیں اپنے نام کو
آئے گا بھی تو اتنے حجابوں میں آئے گا
جب تیرا نام حسن کی تاریخ بن گیا
پھر میرا ذکر دل کی کتابوں میں آئے گا
——
پتوں کو ہواؤں میں بکھرنے نہیں دیتے
یہ لوگ فضاؤں کو نکھرنے نہیں دیتے
تاریک مکانوں کے ابھرتے ہوئے سائے
سورج کو بھی آنگن میں اترنے نہیں دیتے
یخ بستہ ہواؤں کے ٹھٹھرتے ہوئے جھونکے
موسم کو کسی طور سنورنے نہیں دیتے
ہر سال ، مرے دوست مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
احباب کی خاطر تو میں سُولی پہ چڑھا تھا
احباب ہی سولی سے اترنے نہیں دیتے
——
میری خوشبو ، میرا غم ، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
ریت پر معصوم بچے چیختے رہ جائیں گے
ایک طوفاں آئے گا سب کچھ بہا لے جائے گا
تجھ کو تو معلوم ہے میری کتابوں کا مزاج
چھپ گئیں تو ایک دن کوئی اُٹھا لے جائے گا
مجھ سے رخصت ہو گا تو اپنی حفاظت کے لیے
باندھ کر آنچل میں وہ میری وفا لے جائے گا
جب غزل پر گفتگو ہو گی تو اک نقادِ فن
میرے افسانوں کی کچھ آب و ہوا لے جائے گا

