اپنے کپڑوں سے، اپنے لفظوں سے، اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے
میں بس اوپر اوپر سے کھرچ رہا ہوں
جیسے کسی سرمئی برف کی سطح کو توڑنے کی کوشش ہو
اس امید میں کہ نیچے کچھ اور ہوگا
کچھ زندہ، کچھ سچا
ورنہ شاید میں خود بھی اندر سے مر چکا ہوں
میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سطح کانپتی ہے
جیسے ابھی ٹوٹ جائے گی
مگر ہر بار وہیں رک جاتی ہے
دنیا کے حالات اب مجھے نہیں کھینچتے
خبریں، واقعات، شور
سب بے معنی لگتا ہے
میں خود سے پوچھتا ہوں
کیا میں غلط ہوں
یا میں ہی کہیں پیچھے رہ گیا ہوں
میں اب وہی الفاظ نہیں چاہتا
جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے
میں ایسے لفظ چاہتا ہوں
جو وسیع ہوں، گہرے ہوں
جو دل کے پار اتر جائیں
جو صرف کہے نہ جائیں
محسوس بھی ہوں 🙂
