افسانے
شرمناک حقیقت ۔ ایک انڈین ایڈ میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک چور چوری کرنے کے بعد گھر …
شرمناک حقیقت ۔
ایک انڈین ایڈ میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک چور چوری کرنے کے بعد گھر کی مالکن کو کہتا ہے کہ کام تو مکمل ہو گیا مگر ثبوت تو مٹانا پڑے گا ناں آنٹی! یہ کہہ کر وہ چاقو سے عورت کا گلا کاٹا ہی چاہتا ہے کہ وہ
بندھی ہوئی عورت کہتی ہے کہ بیٹا تمہاری ماں کی عمر کی ہوں میری آخری خواہش تو پوچھ لو۔ ارے میری ماں کا نام لے لیا چلو بتاؤ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ وہ چور کہتا ہے۔ اس پر وہ عورت کہتی ہے کہ وہ سامنے والا بٹن آف کر دو ۔۔ چور وہ بٹن بند کر دیتا ہے جس کے ساتھ ہی ایک لڑکا لیپ ٹاپ لئے اپنے کمرے سے نکل کر ہال میں آ کر غصّے سے پوچھتا ہے ” یہ وائی فائی کس نے بند کیا ؟ چور لڑکا پلٹ کر دیکھتا ہے ، اتنے میں شوہر ہال میں آ کر پوچھتا ہے کہ وائی فائی کو اب کیا ہو گیا ؟ چور گھبرا کر اس کی طرف دیکھتا ہے تو بیٹی تیسرے کمرے سے نکل کر بولتی ہے ماما نیٹ ورک پھر پرابلم کر رہا ہے ۔۔ خاتون مسکرا کر چور کی طرف دیکھ رہی ہے جس پر تینوں مل کر چور کی پٹائی کرتے ہیں ۔
اگر وہ خاتون نام لے کر بیٹے ،شوہر اور بیٹی کو پکارتی تو وہ پہلے تو اس کی پکار کو اگنور کرتے ، پھر ایک دوسرے کو آواز دیتے ،پاپا مما بلا رہی ہیں ، وشنو تیری امی بلا رہی ہے اور وشنو کہتا ارے مایا یار ماں کو دیکھ لے اب کیا ہو گیا ۔۔
کسی بوڑھے کے گر جانے یا اسٹروک آ جانے کی پکار کون سنے گا ،، انسان گھر میں بیٹھ کر بھی جنگل میں یکہ و تنہا بیٹھا ہوتا ہے ۔
ایک انڈین ایڈ میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک چور چوری کرنے کے بعد گھر کی مالکن کو کہتا ہے کہ کام تو مکمل ہو گیا مگر ثبوت تو مٹانا پڑے گا ناں آنٹی! یہ کہہ کر وہ چاقو سے عورت کا گلا کاٹا ہی چاہتا ہے کہ وہ
بندھی ہوئی عورت کہتی ہے کہ بیٹا تمہاری ماں کی عمر کی ہوں میری آخری خواہش تو پوچھ لو۔ ارے میری ماں کا نام لے لیا چلو بتاؤ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ وہ چور کہتا ہے۔ اس پر وہ عورت کہتی ہے کہ وہ سامنے والا بٹن آف کر دو ۔۔ چور وہ بٹن بند کر دیتا ہے جس کے ساتھ ہی ایک لڑکا لیپ ٹاپ لئے اپنے کمرے سے نکل کر ہال میں آ کر غصّے سے پوچھتا ہے ” یہ وائی فائی کس نے بند کیا ؟ چور لڑکا پلٹ کر دیکھتا ہے ، اتنے میں شوہر ہال میں آ کر پوچھتا ہے کہ وائی فائی کو اب کیا ہو گیا ؟ چور گھبرا کر اس کی طرف دیکھتا ہے تو بیٹی تیسرے کمرے سے نکل کر بولتی ہے ماما نیٹ ورک پھر پرابلم کر رہا ہے ۔۔ خاتون مسکرا کر چور کی طرف دیکھ رہی ہے جس پر تینوں مل کر چور کی پٹائی کرتے ہیں ۔
اگر وہ خاتون نام لے کر بیٹے ،شوہر اور بیٹی کو پکارتی تو وہ پہلے تو اس کی پکار کو اگنور کرتے ، پھر ایک دوسرے کو آواز دیتے ،پاپا مما بلا رہی ہیں ، وشنو تیری امی بلا رہی ہے اور وشنو کہتا ارے مایا یار ماں کو دیکھ لے اب کیا ہو گیا ۔۔
کسی بوڑھے کے گر جانے یا اسٹروک آ جانے کی پکار کون سنے گا ،، انسان گھر میں بیٹھ کر بھی جنگل میں یکہ و تنہا بیٹھا ہوتا ہے ۔
قاری حنیف ڈار
Source


