پاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے نظریاتی مخمصے – نعمان علی خان

سوویت یونین کے اختتام سے پہلے، پاکستان کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس میں تین نظریاتی گروہ موجود تھے۔

اوّل؛ دائیں بازو والے، جن کی سوچ پر مولانا مودودی کی تعلیمات کا بہت گہرا اثر تھا۔ یہ گروہ ملک کے بڑے شہروں اور تعلیمی اداروں میں انتہائی قوت سے سرگرمِ عمل تھا۔ پاکستان کی زیادہ تر یونیورسٹیز میں انہی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور شہر کراچی بظاہر ان کی سیاسی طاقت کے مکمل کنٹرول میں تھا۔

دوئم؛ ملک کیلیئے سوشلسٹ معیشت کو پسند کرنے والوں کا گروہ، جن کو نظریاتی غذا سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض جیسے انسانیت پرست یا محب وطن دانشوروں سے ملتی تھی۔ یہ گروہ راولپنڈی سازش کیس اورحسن ناصر کی شہادت جیسے واقعات کے بعد، عملی طور پر ملک کی سیاست سے بے دخل ہوگیا اور آخری دنوں تک اس کی چوٹی کی قیادت بھی مزدور یونئینز کے لیڈرز کے لیول سے آگے نہ بڑھ سکی۔

سوئم؛ یہ گروہ تین قسم کے افکار پر مشتمل تھا۔ ایک لبرلز، دوسرے جعلی تصوف کے نظریات والے (قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ) اور تیسرے لامذہب۔ عوامی اور سیاسی سطح پر یہ گروہ انتہائی کمزور لیکن تعلیم یافتہ مڈل کلاس میں اور ادبی اور فکری سطح پر یہ گروہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا رہا۔

اس گروہ میں جو لوگ لبرلزم کا نعرہ لگاتے تھے وہ جمہوریت کے گیت گایا کرتے تھے اور چونکہ جماعتِ اسلامی نے اپنا سیاسی فلسفہ ’’جمہوری جدوجہد‘‘ کے ذریعے اسلامی جمہوری نظام کے قیام پر مرتکز کردیا تھا اس لیئے لبرلز اور مندرجہ بالا گروہِ اوّل، بہت اطمینان سے ایک دوسرے کو جمہوریت کے نکات پر نظریاتی سپورٹ فراہم کرتے تھے۔ انتہا پسندوں اور بائیں بازو والوں کے درمیان کوئی فکری اور نظریاتی بحث ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں یہ گروہ، بائیں بازو والوں کی حمائت کرتا ہو۔ یہ یا تو انتہا پسندوں کی حمائت کرتے تھے یا خاموشی اختیار کرتے تھے اور یا پھر جمہوری قدروں کی سربلندی کیلیئے نعرے بازی کیا کرتے تھے۔ یہ وہ دانشور تھے جو کیپیٹلسٹ معیشت اور کمیونسٹ معیشت کا موازنہ کیا کرتے تھے اور ثانی الذکر کو غلط قرار دے کر اول الذکر میں کسی امپروومنٹ کے امکان کی ضرورت کو گول کرجایا کرتے تھے۔ انہوں نے جمہوریت اور سرمایہ داری کو ایک ہی مقدس تصویر کے دو رخ قرار دیا ہوا تھا۔ ان کا ایک بے سروپا مفروضہ یہ تھا کہ کسی قوم کو اگر ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے تو وہاں جدید معاشرہ قائم ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک مارکیٹ اکانمی میں عوام کا محض صارف کا کردار بھی کیپیٹلزم ہے اور فلاحی ریاست میں عوام کی بنیادی ضروریات کے پورے کئیے جانے کا ریاست کی ذمے داری ہونا (یعنی سوشل ڈیموکریسی) بھی کیپیٹلزم ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا، اسی تیسرے گروہ میں لبرلز کے علاوہ جو دوسرا طبقہ تھا وہ لامذہب یا ملحد لوگوں کا وہ دانشور گروہ تھا جن میں سے بیشتر نے خود کو کسی معاشرتی مشکل سے بچانے کیلیئے طبقہ دوئم یعنی سوشلسٹوں کے گروہ میں پناہ لی ہوئی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سوشلسٹ معیشت کے نظرئیے کو خدا اور مذہب کے خلاف جنگ میں تبدیل کردیا۔ ملحدین کے اس گروہ کو اس بات سے کوئی غرض تھی ہی نہیں کہ پاکستان کے عوام کی بنیادی ضروریات، کسی کمترین انسانی لیول پر بھی کیوں پوری نہیں ہورہیں۔ اور اس صورتحال کا حل کیا ہے۔ ان کی دلچسپی فقط اس بات میں تھی کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ قضیات اچھالے جائیں جن کے ذریعے عام انسان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

لبرلز ہوں، تصوف والے یا ملحد، اس تیسرے طبقے نے قومی سطح پر انتہائی منافقانہ اور بعض نے ملک دشمن کردار ادا کیا ہے۔ ادب میں ان میں سے بیشتر فیض صاحب اور ترقی پسند گروہ سے خود کو منسلک رکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے ترقی پسندی کے نام پر بھی اصل عوامی ایشوز کو اجاگر کرنے کی بجائے نان ایشوز پر علم کے دریا بہادئیے۔ کوئی جنسیات اور طوائف کے موضوع پر لکھ کر اظہارِ رائے کی آذادی کی جدوجہد کرتا رہا تو کوئی بدن دریدہ جیسے شاہکاروں میں عورتوں کی آذادی کے مسلے کو اجاگر کرتا رہا اور کوئی تصوف کے مسائل کو حل کرنے کیلیئے گریڈ بائیس کے افسران میں اللہ کے پہنچے ہوئے بندے ڈھونڈتا رہا۔

جب سوویت یونین کا اختتام ہوا تو یہ تیسرا گروہ اپنی منافقت کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا۔ ملحد اور لبرلز دونوں ایک ہوگئے۔ اور ملحد جس کیپیٹلزم کو ایک زمانے میں دھر دھر گالیاں دیا کرتے تھے اسی کیپیٹلزم کے سب سے بڑے ایجنٹ بن کے ابھرے اور زیادہ تر نے مغربی امداد کے ذریعے پاکستان میں این جی اوز کھول لیں یا خود جاکر مغربی ممالک میں آباد ہوگئے اور وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں ابھرنے والی ’’انتہا پسندی‘‘ کو فرقہ واریت کا نتیجہ قرار دینے لگے اور اپنی ہر تحریر میں یہ ثابت کرنے لگے کہ اس ملک کے عوام گلی گلی میں اقلیتوں اور روشن دماغوں کو قتل کررہے ہیں۔ کوئی فرمانے لگا ’’کون کسی کو ماردے کافر کہہ کر‘‘ اور کسی کو نظم سوجھی کہ ’’جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے‘‘۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایسے ہی نام نہاد ملحدوں نے مارکسزم کی نئی نئی تعبیریں کرکے یا لبرلزم کے نام پر پاکستانی نوجوانوں کو کنفیوذ کرنے کا عمل شروع کیا ہوا ہے جو سب کچھ کہتے ہیں مگر اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ کیا کیپیٹلزم کے تھیسس اور کمیونزم کے اینٹی تھیسس کے کانفلکٹ کے  نتیجے میں ویلفئیر سٹیٹ سنتھیسس بن کے نہیں ابھری؟ اور کیا یوں مارکسزم نے جو تاریخی کردار ادا کرنا تھا وہ ادا نہیں کردیا؟ اور یہ کہ دوسرے دنیا کے آج کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان کے پاس ان کا کیا حل ہے؟

(Visited 1 times, 11 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo