عکس

عکس از فرحین
’’ ارے کیا کر رہے ہو ارسلان ؟ اتنی زور زور سے سائیکل کو دیوار سے کیوں ٹکرا رہے ہو۔۔۔ پاگل ہوکیا ۔۔۔؟‘‘
پاپا نے زور سے ارسلان کی گدی پکڑی جوپچھلے پانچ منٹ سے سائیکل دیوار پر مار کر اسے کا سامنے کا ہینڈل اپنی ہی منطق سے ٹھیک کر رہا تھا ۔
’’ ہونہہ۔۔۔ پاگل لڑکے ! اتنی مہنگی سائیکل خراب کرے گا ۔۔۔ چل بھاگ !‘‘
پاپا نے یہ کہہ کر اسے زبردستی سائیکل سے اتار کر اندر بھگا دیا ۔ ارسلان کا موڈ آف ہو چکا تھا اس کے ساتھ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا ۔ وہ اکثر کوئی نہ کوئی کام کرنے کی کوشش میں غلطیاں کرتا اور پھر ماما پاپا دونوں سے خوب ڈانٹ کھاتا ۔ اور اب بھی یہی ہوا تھا وہ تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی بڑی ارم پانچویں اور چھوٹی ثنا دوسرے گریڈ میں تھی ، مگر ارسلان کا رعب دونوں پر ہی چلتا تھا۔
’’اوئے ارم جلدی سے میرے لئے آلو کے چپس بنا کر لاؤ ۔‘‘ ارسلان نے بڑی بہن پر رعب ڈالا۔
’’ کیوں جی ۔۔۔ میں کوئی تمہاری نوکر لگی ہوں؟‘‘ ارم بھی چمک کر بولی۔’’ ہاں تو اور کیا نوکر ہی تو ہو۔۔۔ لڑکیاں نوکر ہی تو ہوتی ہیں گھر میں۔۔۔ کل پاپا نے بھی ماما کو یہی کہا تھا ۔‘‘
ارسلان ارم کو چڑانے کے موڈ میں تھا اور ارم بھی خوب چڑ گئی بس پھر کیا تھا ارم نے ارسلان کو ایک تھپڑ لگا دیا اور جواب میں ارسلان نے ارم کو لاتوں اور گھونسوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نوازا۔ وہ مسلسل بولتا جا رہا تھا ۔
ان دونوں کی لڑائی شدید ہونے ہی لگی تھی کہ دھڑ سے دروازہ کھلا۔
’’ اوئے گدھو۔۔۔ انسان بنو کیا شور مچا رکھا ہے ۔‘‘ پاپا سخت غصہ میں ارسلان کی طرف لپکے اورایک طمانچہ لگا دیا۔
’’ میں توبس میکرونیز ہی کھاؤں گا۔۔۔ مجھے نہیں کھانے چاول۔‘‘ارسلان نے پلیٹ سائیڈ پر اتنی زور سے سرکائی کہ وہ نیچے گر گئی
’’ ارسلان ۔۔۔ خبیث لڑکے ! یہ کیا کیا ہے ؟ امی غصہ سے چلائیں اورارسلان کو پکڑ کے دھنائی بھی کردی ۔ ’’ حالات دیکھو نواب صاحب کے ۔ دن بدن بگڑتا جا رہا ہے ۔‘‘
امی کا تھپڑ لگنے کی دیر تھی کہ ارسلان نے بھی جواب میں امی کا ہی لفظ دہرایا ۔ ‘‘ ’’خبیث‘‘
’’ اُف تمہاری یہ جرأت کہ ماں کو گالی دو ۔ ‘‘ امی تو بپھر ہی گئیں اور ارسلان سے بائیکاٹ ہو گیا ۔
رات کوپاپا آئے تو ان کے سامنے بھی خوب شکایت لگی مگر ارسلان تو جیسے دن بدن ڈھیٹ ہو تا جا رہا تھا ۔ کسی چیز کا اثر اس پر نہ ہوتا ۔ ایک دن تو حد ہی ہو گئی جب سکول سے کال آگئی کہ والدین فوراً تشریف لائیں ۔
ماما، پاپا دونوں سکول پہنچے تو میڈم نے انہیں اپنے آفس میں بلوایا۔
’’ تو آپ ہیں ارسلان کے Parents۔‘‘
’’ جی ۔۔۔ ‘‘ وہ دونوں بولے ۔
’’ دیکھیں آپ کو بلوانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کوارسلان کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے ۔وہ دن بدن ڈھیٹ اور بد تمیز ہوتا جا رہا ہے اور آج تو حد ہی ہو گئی اس نے اپنی کلاس فیلو کو گالی دی اور جب کلاس ٹیچر نے ڈانٹا تو ان کو بھی گالی دی ۔ ہم ایسے بچے کو زیادہ دیر افورڈ نہیں کر سکتے ۔ یا تو اس کی فوری تربیت کریں گھر میں وگرنہ ہم مجبورہوں گے اس کوسکول سے نکال دیں تاکہ اور بچے اثر نہ لیں ۔‘‘
میڈم کی بات سن کر تو دونوں کے ہوش ہی اڑ گئے واپسی کا سارا رستہ وہ ایک دوسرے کو ہی کوستے آئے کہ زیادہ اس کی ڈانٹ اور مارسے بچہ بگڑا ہے ۔
’’ اچھا اب مجھے Blameکرنا چھوڑیں اور ارسلان کا سوچیں ورنہ اتنے اچھے سکول سے نکل گیا تو اور ہاتھوں سے نکلے گا۔‘‘
’’یہ سب تمہاری تربیت کا نتیجہ ہے ۔ کہ آج اتنی سبکی ہوئی ذرا بھی عقل نہیں تم میں اسی لئے بچے بگڑے ہیں ۔ ‘‘
’’ ہاں ہاں ۔۔۔ آپ تو جیسے باپ ہو کر ذمہ داریوں سے الگ ہیں۔یہ جو آپ اتنے خوبصورت الفاظ منہ سے نکالتے ہیں نا ۔۔۔ یہی ارسلان نے سیکھے ہیں ۔‘‘
وہ بھی بحث کے موڈ میں تھی کہ اتنے میں گھر آگیا۔
’’ اب مجھے چائے پلا دو اچھی سی ۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گئے اور ٹی وی لگا لیا ۔ تھوڑی دیر میں بیگم بھی چائے لے کر وہیں آگئیں۔
ٹی وی پہ ایک شو چل رہا تھا جس میں مہمان ایک بچوں کا نفسیات دان تھا ۔ میزبان بچوں کی تربیت کے حوالے سے سوال کر رہی تھی۔
’’ ڈاکٹر صاحب، ہمارا آج کا یہ بہت ہی عمومی مسئلہ ہے کہ بچے بگڑتے جا رہے ہیں ۔ بڑوں کا ادب نہیں کرتے اور کنٹرول نہیں ہوتے تو ایسی صورت میں کیا کریں ؟‘‘
’’ دیکھیں محترمہ! اصل میں بچہ بالکل صاف سلیٹ کی مانند ہے ۔ اس پہ جو لکھیں گے وہ سیکھ لے گا ۔ اب تربیت کا پہلا مرحلہ گھر سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر میاں بیوی اس معاملے میں سمجھ دار ہوں توہی بچے سنورتے ہیں وہ اس طرح کہ شوہر بیوی کو بچوں کے سامنے عزت دے اور اس کی تضحیک نہ کرے اور بیوی شوہر کا ادب کرے تو بچے یہ سب محسوس کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں آپس میں دوستانہ رویہ ، پھر بچوں کے ساتھ اچھی گفتگو اور اچھے الفاظ کا چناؤ یہ سب بچوں کی تربیت کا اہم عنصر ہے ۔ گالم گلوچ ان کے ساتھ کریں گے تو یہی کام وہ باہر کریں گے ۔ دراصل تربیت کی ضرورت پہلے میاں بیوی کوہے کہ آپس میں کتنا اچھا رویہ رکھتے ہیں ۔ بچے خود بخود سدھر یں گے ۔ ‘‘
مہمان نے ہنستے ہوئے کہا ۔
پروگرام کافی دیر چلتا رہا ۔ وہ دونوں میاں بیوی دم بخود ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔ آخر گھنٹی کی آواز نے انہیں متوجہ کیا ۔ بچے سکول سے آگئے تھے ۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اپنی غلطیوں کا احساس ہوچکا تھا۔ بس اب ازالہ کرنا تھا ۔ وہ دونوں دروازے کی طرف لپکے ،دروازہ کھولا بچے اندر داخل ہوئے تو با آواز بلند بولے ’’ السلام علیکم پیارے بچو!‘‘ بچے حیرت سے اپنے ماما پاپا کو یوں دیکھ رہے تھے گویا وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں ۔
*۔۔۔*۔۔۔

فرحین اقبال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo