میں اور مَینا از محمد عرفان رامے

میں سیکنڈ ائر میں تھا تو مَینا میٹرک میں پڑھتی تھی ۔بہت محنت کے بعد جب میں ایف ایس سی میں سرخرو ہواتو وہ بھی میرے مساوی امتحان پاس کر کے یونیورسٹی میں داخلے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔۔ وہ مزاج کی بہت گرم تھی۔ ہمیشہ اپنی بات منوانا، رعب سے بات کرنا اور خود کو دوسروں سے منفرد خیال کرنا اس کی عادت تھی۔جب کہ میرا شمار ان ستم زدہ لوگوں میں ہوتا تھا جن پر حکم چلانا وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتی تھی۔۔۔

’’میں تو بی اے کروں گا۔۔۔‘‘یونیورسٹی پہنچ کر میں نے پراسپکٹس کھولتے ہوئے کہا ۔

’’ نہیں، تم بی ایس سی کرو گے۔۔۔‘‘ مَینا نے یوں فیصلہ سنایا جیسے میں اس کا غلام ہوں۔

’’بٹ آئی لو آرٹس۔۔۔‘‘

’’ اب تم بڑے ہو چکے ہو۔۔۔ مضامین سے نہیں انسانوں سے محبت کرنا سیکھو۔‘‘ مَینا نے مجھے گھورا۔

’’ میں سائنس پڑھ نہیں سکوں گا۔ تمہارے سامنے چار سال میں ایف ایس سی کی ہے ۔بی ایس سی کا طوق گلے میں ڈال بیٹھا تو عمر بیت جائے گی۔ ۔۔‘‘

’’مرکیوں رہے ہو۔ فارم تو جمع کرواؤ ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔ دونوں ہم قدم چلیں گے تو منزل تک پہنچنے کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ ‘‘

’’مگر۔۔۔‘‘

’’ اگر،مگر،چونکہ ،چنانچہ۔۔۔مت بولا کرو ایسے الفاظ جو مجھے پسند نہیں۔ ایف ایس تک تم اکیلے تھے اسی لئے فیل ہوتے رہے۔ اب ایسا نہیں ہو گا ۔ میں مدد کروں گی ،تم آنکھیں بند کر کے مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہو۔‘‘مَیناکے لہجے میں یہ مٹھاس میں نے پہلی بارمحسوس کی تھی اس لئے انکار نہ کر سکا ۔

رشتے میں وہ میری چچا زاد تھی،مگر ہمارا زیاد ہ وقت اکٹھے ہی گزرا تھا۔ چچا کی وفات کے بعد چچی گاؤں میں رہیں۔ جب مَینانے گاؤں کے سکول سے مڈل پاس کیا تو ابو اسے شہر لے آئے اور میرے سکول میں داخل کروا دیا۔ میری طرح وہ بھی والدین کی اکلوتی اولاد تھی لیکن میں کچھ زیادہ ہی ناز نخرے میں پلا تھا۔جب کہ وہ ایک دم گاؤں کی جٹی تھی۔ لمبا قد،گول چہرہ سفید رنگت اور کالی آنکھیں۔ کھلکھلا تی تھی تو یوں گڑھے پڑتے تھے جیسے نا دیدہ انگلیوں نے گالوں کو دبا رکھا ہو۔

’’ہنستے ہو ئے تم بالکل بلی لگتی ہو۔۔۔‘‘مجھے اس سے خدا واسطے کا بیر تھا۔

’’اور تم ڈرپوک گیدڑ،جو بات بات پر رونا شروع کر دیتا ہے۔۔۔‘‘وہ خونخور بلی کی طرح غراتی۔

’’نہیں ہم گیدڑ نہیں، رحم دل شیر بادشاہ ہیں۔۔۔‘‘

’’اوہو۔۔۔اچھا جی ،تو تم شیر ہو۔۔۔‘‘

’’ تمہیں شک ہے۔۔۔؟‘‘

’’ہاں۔۔۔اگر تم واقعی شیر ہو تو دم کہاں ہے تمہاری۔۔۔؟‘‘

’’چلتے ہوئے ٹانگوں میں الجھتی تھی ،ا س لئے کٹوا دی ۔۔۔ ویسے بھی ہم شیر ہونے کا دکھاوا نہیں چاہتے ۔۔‘‘میں کھسیانے لہجے میں جواب دیتا تو وہ فاتحانہ قہقہہ لگا کر لمبی چٹیا گھماتی کچن میں غائب ہو جاتی ۔ ۔۔کچھ دیر بعد واپس پلٹتی تو ہاتھ میں گرما گرم چائے کا کپ ہوتا:

’’لو دم کٹے شیر بادشاہ، شکار تمہارے بس کا کام نہیں اس لئے دودھ پتی پیو۔۔۔‘‘

’’بادشاہ سلامت کنیزِ کی خدمت سے خوش ہوئے۔۔۔‘‘ اس کے ہاتھ کی چائے مجھے ہمیشہ اچھی لگتی تھی۔

’’ویسے تم اس قابل تو نہیں کہ خدمت کی جا ئے ،مگر کیا کریں،ہم مزاج کے سخی ہیں۔۔۔‘‘وہ ہمیشہ یہی جملہ کہا کرتی تھی غلط،بالکل غلط۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ تمہارے پاس دوسری چوائس نہیں ہے بھول ہے تمہاری۔۔۔‘‘میرا جواب مَینا کو اکثر اتنا برا لگتا کہ اس کی آنکھیں بھر آتیں، جس کا مطلب میں کبھی نہیں سمجھا تھا۔۔۔جیسے تیسے ہمت کر کے میں نے پہلا سال پاس کر لیا ۔ گو نمبر مَینا سے کم تھے مگر پھر بھی میں خوش تھا۔

’’دیکھا دانی۔۔۔ کہا تھا نا ، قدم ملا کر چلو گے تو ٹھوکر نہیں کھاؤ گے۔‘‘اس نے مجھے دانش سے دانی بنا دیا تھا۔

’’ صحیح کہا تھا تم نے۔۔۔ دیکھو میرے ہم قدم چلنے سے تم بھی فورتھ ائیر میں پہنچ گئی ہو۔۔۔‘‘ یہ سن کر مَینا نے ناراض ہونے کی بجائے قہقہہ لگایا :

’’اگر تم یہی سوچ کر سکون محسوس کرتے ہو تو یونہی سہی۔۔۔ میں کبھی تمہاری انا کو ٹھیس نہیں پہنچنے دوں گی۔‘‘

پھر واقعی اس نے سب سے کہنا شروع کر دیا کہ دانی کی راہنمائی نہ ہوتی تو مَینا کبھی پاس نہ ہوتی۔میرا دھیان زیادہ کھانے کی طرف اور اس کا میری طرف رہتا تھا۔نت نئے کھانوں کی ترکیبوں والی کتابیں ہمیشہ اس کی بک شلف میں موجود رہتی تھیں۔ کبھی ،کبھی محسوس ہوتا تھا ، وہ ہر قیمت پر میرا دل جیتنا چاہتی ہے۔۔۔یونیورسٹی میں میرا کسی لڑکی سے بات کرنا اسے یوں گراں گزرتا تھا جیسے میں نے کوئی ناجائز حرکت کر دی ہو۔ایک روز میں اپنی کلاس فیلو سے گپ شپ میں مصروف تھا کہ مَینا نے چھاپہ مار دیا۔اس نے پہلے مجھے گھورا او ر پھر بہانے سے دور بلا بولی:

’’کیا مسئلہ ہے ۔۔۔کیوں دانت نکال رہے تھے اس کے سامنے ۔کیا کام تھا اس سے۔۔۔‘‘

’’تمہیں کیوں جلن ہوتی ہے جب میں کسی لڑکی سے بات کرتا ہوں۔۔۔‘‘مجھے ان پابندیوں سے کوفت ہونے لگی تھی۔

’’یہ لڑکیاں بہت چالاک ہیں ۔تم انہیں نہیں سمجھتے۔‘‘

’’تمہیں بھی مردوں کے مزاج کا علم نہیں ہے ۔۔۔‘‘

’’کہہ سکتے ہو ۔مگر تمہارے مزاج سے میں بخوبی واقف ہوں اس لئے آئیندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘اس نے مجھے وارننگ دی اور پیر پٹختی واپس چلی گئی۔

’’یہ مردوں کی نفسیات سے واقف نہیں اور مجھے اچھی طرح سمجھتی ہے۔۔۔ یعنی یہ مجھے مرد نہیں سمجھتی۔۔۔‘‘اس کے جانے کے دس منٹ بعد ذہن میں خیال آیا تو میرا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ ‘‘

*

بی ایس سی فائنل کے امتحانات ختم ہونے کو تھے اور آخری پریکٹیکل۔دو روز بعد مَینا کی امی اسے لینے آ رہی تھیں۔چچی کا گاؤں سے فون آیا تھا جسے سننے کے بعد مَینا بھی کچھ الجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

شام کو ہم دونوں گھر کے لان میں بیٹھے آخری پیپر کی تیاری کر رہے تھے کہ مجھے محسوس ہوا مَیناکا دھیان کتاب کی طرف نہیں۔وہ بار بار کن اکھیوں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور میں ہمیشہ کی طرح سب جانتے ہوئے انجان بنا بیٹھا تھا۔

’’دانی۔۔۔‘‘

’’ہوں ۔۔۔‘‘

’’ایک بات پوچھوں۔۔۔‘‘وہ کتاب میز پر رکھتے ہوئے بولی۔

’’کتنی بار کہا ہے گفتگو کے لئے وقت پہلے سے لیا کرو۔۔۔‘‘میں نے جمائی لی۔

’’کیا تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے۔۔۔؟‘‘

’’ہاں۔۔۔کئی بار۔‘‘

’’کس سے؟‘‘

’’ بہت سی ہیں۔۔۔ایک بار تو پکڑا بھی گیا تھا۔‘‘

’’کیا کرتے۔۔۔؟‘‘ وہ چونکی ۔

’’محبت۔۔۔لڑکی کا بھائی آ گیا تھا ۔بڑی مشکل سے جان بچائی۔۔۔کیا کروں میری شخصیت ہی ایسی ہے ، لڑکیاں مجھ سے محبت کرتی ہیں اور ان کے والدین ڈرتے ہیں ۔۔۔ مگر میں یہ سب تمہیں کیوں بتاؤں۔‘‘

’’ بتا دو، دوست ہوں تمہاری۔۔۔راز رکھوں گی ۔‘‘

’’میں کس سے محبت کرتا ہوںیہ نہیں بتا سکتا۔۔۔ البتہ یہ ذہن میں رکھو کہ وہ لڑکی تم ہر گز نہیں۔۔۔‘‘میں نے قہقہہ لگاکر سامنے پڑی پلیٹ میں سے پاپ کارن کی مٹھی بھری اور کتابیں سمیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔جاتے ہوئے میں نے اس کے چہرے پر نظر دوڑائی تو دل کو دھچکا سا لگا۔ اس کی رنگت یوں ہو رہی تھی جیسے کاٹو تو لہو نہیں۔مگر پھر بھی میں خاموش رہا اور کمرے میں پہنچ کر تیاری کرنے لگا۔

اس واقعے کے بعدمَینا پر مستقل اداسی کا دورہ پڑ گیا ۔اس کی خوبصورت آنکھیں یوں مرجھا گئیں جیسے رت جگے کی عادی ہو گئی ہوںیا پھر انہوں نے خواب دیکھنے چھوڑ دیے ہوں ۔ میرے دل میں بارہا آیا کہ صاف کہہ دوں یہ سب مذاق تھااور تم ہی میری محبت ہو۔مگر حوصلہ نہ ہوا۔۔۔ امی نے بھی مَینا کے رویے میں تبدیلی محسوس کرتے ہوئے وجہ جاننے کی کوشش کی مگر معقول جواب نہ ملا۔ سب کا خیال یہی تھی کہ وہ گاؤں واپس نہیں جانا چاہتی اسی لئے اداس ہے۔ اب وہ زیادہ وقت خاموش رہتی تھی اور کبھی، کبھی خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگتی، جیسے اب بھی میرے فیصلے کی منتظر ہو۔

امتحان ختم ہوا تو تیسرے دن چچی ہمارے گھر آئیں اور مَینا کو ساتھ لے گئیں۔ میں انہیں الوداع کہنے گیٹ تک آیا۔دل چاہتا تھا اسے روک لوں۔ کہہ دوں کہ مت جاؤ، میں اداس ہو جاؤں گا۔۔۔ مگر میں نے انا کا خول ٹوٹنے نہ دیا۔خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنامجھے اچھا نہ لگا، اس لئے خدا حافظ کہہ کر واپس کمرے میں آ گیا۔

مَینا کے چلے جانے سے گھر سونا ہو گیا تھا۔درودیوار یوں وحشت برسا رہے تھے جیسے ساری رونق اسی لڑکی کے دم سے ہو۔اب میرے کمرے میں نت نئے احکام نہیں گونجتے تھے ۔ کچن میں وقت بے وقت بنائی جانے والی ڈشیں صبح ،دوپہر ، شام کے کھانے میں تبدیل ہوگیں تھیں۔۔۔وہی ضدی لڑکی جس کی ہر بات مجھے کونین کی طرح کڑوی لگتی تھی، آج اس کی آہٹ سننے کے لئے میر ے کان ترس کر رہ گئے تھے۔۔۔پھر ایک روز میری ہمت جواب دے گئی:

’’امی ۔۔۔مینا کب آئے گی۔‘‘ میں نے ناشتے کی میز پر بچوں کی طرح راگ الاپا۔

’’میں تو چاہتی ہوں، وہ کبھی واپس نہ آئے۔‘‘انہوں نے چونک کر میری جانب دیکھا۔

’’کک۔۔۔کیوں؟‘‘

’’ وہ یہاں ہوتی ہے تودونوں بات، بات پر جھگڑتے تھے۔ایک دوسرے کو دشمنو ں کی طرح آنکھیں دکھاتے تھے۔ اب چلی گئی ہے تو چار دن میں منہ لٹک گیا ہے ۔‘‘

’’چار دن نہیں ۔۔۔پندرہ دن،سات گھنٹے۔‘‘

’’جو بھی ہے۔۔۔میں بہت خوش ہوں اس کے جانے سے۔عجیب دوستی ہے ، کبھی لڑائی اورکبھی پیار ۔۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے امی اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکیں۔ ان کے لہجے میں شرارت کی آمیزش محسوس کرتے ہی میں ’’ ماں‘‘ کا نعر ہ لگا کر ان سے لپٹ گیا۔

دل کہہ رہا تھا ،اب مَینا سے تعلق دوستی کا نہیں رہا۔بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔۔۔مزید ایک ہفتہ گزر گیا ۔ بہت سوچ بچار سے کام لیتے ہوئے میں نے مَینا سے ملنے کا پروگرام بنایا اورامی، ابو کو گاؤں جانے کے لئے راضی کرنے کی کوشش شروع کر دی:

’’تم گاؤں جا کر کیا کرو گے۔۔۔‘‘ابو نے حیرت سے پوچھا۔

’’شہر کی آلودگی سے اکتا گیا ہو ں۔ چند دن فطرت کی آغوش میں گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’کون فطرت ۔۔۔؟‘‘ابو نے چشمہ درست کرتے ہوئے پوچھا۔

’’فطرت مطلب فطرت۔۔۔ دھرتی ماں، یعنی نیچر۔۔۔ جہاں ہر دم تازگی ہو۔لہلہاتے کھیت ، پیپل کی چھاؤں اور تازہ ہوا کے جھونکے۔۔۔‘‘ میں نے ہوا میں چمچ کی مدد سے ایک عدد فطرت کی تصویر بنانے کے کوشش کی۔

’’ہاں ،مگر یہ ساری خصوصیات تو گاؤں میں ہمیشہ سے رہی ہیں ۔پہلے تو تم نے کبھی وہاں جانے کا نام نہیں لیا۔۔۔بلکہ تمہیں تو وہاں تنکوں کی آگ پر پکی چائے ہضم ہی نہیں ہوتی۔ وہاں کاماحول بھی بہت آلودہ تھا ۔۔۔ گوبر کی بو ،پسینے سے شرابور گندے لوگ ،حتا کہ پینے کا صاف پانی بھی نہیں ۔۔۔پھر اچانک یہ کایا کیسے پلٹ گئی۔‘‘ ابو،امی کی طرف دیکھا۔‘‘

’’ان سب باتوں پر تو میں اب بھی قائم ہوں،مگر کبھی کبھی گاؤں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں کھلی آنکھوں سے مَینا کا سپنا دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔

’’میں تو کہتا ہوں،مینا کو مستقل اسی گھر میں لے آتے ہیں۔‘‘ ابو نے اخبار میز پر رکھتے ہوئے چشمہ اتارا۔

’’اس کی رہائش پہلے کب عارضی یہاں ۔۔۔ برسوں سے ہمارے سر پر سوار ہے۔ اب تو لوگ اسے مَینا کا گھر سمجھنے لگے ہیں اور ہمیں کرائے دار۔‘‘میری بات سن کر دونوں ہنس پڑے ۔

’’اسی لئے تو ہم چاہتے ہیں وہ مستقل یہیں آ جائے۔۔۔گھر تو سنبھال ہی لیتی ہے ،ساتھ میں تمہارے کان بھی کھینچ کر رکھے گی۔‘‘ابو نے بات آگے بڑھائی۔

’’کیا مطلب؟‘‘ میرے کانوں میں شہنائیاں بجنے لگیں ۔

’’ہم سوچ رہے ہیں تمہارے لئے مَینا کا رشتہ مانگ لیں ۔‘‘ امی نے جواب دیا۔

’’کیا ۔۔۔میں شادی کروں گا اس چڑیل سے ، ہر گز نہیں ۔‘‘

’’اُس میں کیا خرابی ہے؟‘‘ابو چونکے۔

’’ڈیڈ! خود سوچیں ،ہماری شادی کیسے ممکن ہے۔میں انسان ہوں اور وہ مَینا۔۔۔بھلا کسی چرند پرند کے ساتھ زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے۔‘‘

’’ یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں۔ بات ہے بھی قابل غور ہے ۔۔۔ اچھا ہوا تم نے فیصلہ سنا دیا، ورنہ ہمیں افسوس رہتا کہ تمہارے ساتھ برا ہوا۔ مَینا واقعی جھگڑالو لڑکی ہے۔ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ ‘‘ابو نے کرسی سے اٹھتے ہوئے س ہلایا۔مجھے اپنے بیان سے سنگین نتائج کی توقع نہ تھی ،چنانچہ ابو کے رویے میں تبدیلی دیکھ کر میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا:

’’وہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔مگر آپ کی خوشی کی خاطر میں یہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لوں گا ۔شاید وہ جانور سے انسان بن جائے۔‘‘

’’سوری بیٹا! ہم اپنی خوشی کے لئے تمہاری زندگی برباد نہیں کر سکتے۔‘‘

’’ایسی بات نہیں ڈیڈ۔۔۔میں اسے پسند کرتا ہوں،میں تو مذاق کر رہا تھا۔‘‘میری اڑی ہوئی رنگت اور لہجے کی لڑکھڑاہٹ محسوس کرتے ہوئے امی،ابو نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور کمرہ یوں قہقہوں سے گونج اٹھا جیسے یہی اعتراف چاہتے ہوں۔

*

گاؤں جانے کا پروگرام طے پا گیا۔ ہمیں ہفتے کی صبح روانگی تھی ۔ جمعہ کی شام میں گیم سے واپس لوٹا تو امی کا چہرہ اتارا ہوا تھا۔وہ گاؤں کے لئے بے دلی سے بیگ تیار کر رہی تھیں۔میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی، مگر جواب نہ ملا۔ادھر خلاف توقع ابو بھی خاموش تھے۔

’’آخر آپ لوگ بتاتے کیوں نہیں کیا مسئلہ ہے۔۔۔دو گھنٹے پہلے موڈ بالکل ٹھیک تھا،اور اب۔۔۔؟‘‘میں نے ان کے چہرے پڑھنے کی کوشش کی۔

’’میں بتاتا ہوں۔گاؤں سے تمہاری چچی کا فون آیا تھا ۔۔۔‘‘

’’پھر ۔۔۔؟‘‘

’’ تین دن بعد مَینا کا نکاح ہے ۔۔۔‘‘

’’ کک ۔۔۔کیا،نکاح۔۔۔‘‘مجھے یوں محسوس ہوا جیسے خلا میں قلابازیاں کھا رہا ہوں۔

’’اس کے ماموں کے بیٹے سے۔ ملک سے باہر ہوتا ہے ،آج کل آیا ہوا ہے۔ شادی کے چند روز بعد اسے بھی ساتھ لے جائے گا۔‘‘ابو نے تفصیل سنائی۔

’’اور آپ نے کیا کہا۔۔۔؟‘‘

’’میں نے انہیں اپنی آمد مقصد بیان کرنے کی کوشش کی تھی، مگر انہوں نے رویے میں لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔ان کے خیال میں ابھی تمہیں کسی منزل تک پہنچنے کے لئے وقت درکار ہے۔۔۔جب کہ مَیناکے لئے موجود ہ رشتہ نہایت معقول ہے۔وہ جلد از جلد بیٹی کی ذمہ داری سے فارغ ہو جانا چاہتی ہیں۔ ‘‘

’’مَینا ان کی ذمہ داری ضرور ہے،مگر بوجھ نہیں۔۔۔‘‘میں نے آہستہ سے کہا۔

’’یہ ہمارا نقطہ نظر ہے، ان کا نہیں۔۔۔اب کچھ ممکن نہیں۔ہمیں ان کی خوشی کی خاطر یہ فیصلہ قبول کرنا ہو گا۔‘‘

’’جی بہتر۔۔۔میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔‘‘میں نے ان کا حکم سن کر سر جھکا دیا اور بے دلی سے رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ گیا۔محبت کے نام پر دل میں

یہ پہلی ٹوٹ پھوٹ تھی جس کی کرچیوں نے روح تک کو گھائل کر دیا تھا۔ من چاہتا تھا دھاڑیں مار کر روؤں اور دیوانوں کی طرح اسے آوازیں دوں۔مگر مجھے خود کو سنبھالنا تھا ۔

اپنے والدین کے فیصلے کی لاج رکھنا تھی۔ کچھ دیر بعد امی میرے کمرے میں آئیں اور سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر کر بولیں:

’’ہمیں احساس ہے کہ تمہا دل دکھا ہے ۔درد ہونا بھی چاہیے، کمند اس مقام پر ٹوٹی ہے جہاں انسان منزل پر پہنچنے کا سوچ کر مطمین ہو جاتا ہے۔ ہمیں تمہاری قابلیت اور فرما برداری پر شک نہیں ۔اس لئے چھپانے کی بجائے سب سچ بتا دیا۔ ۔۔مَیناہمیں بھی اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں۔مگر والدین اولاد کے مستقبل کا فیصلہ بہتر کرتے ہیں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ حقیقت اگر تلخ بھی ہو تو منہ موڑنا دانشمندی نہیں ہوتی۔۔۔ان کی بیٹی جوان ہے۔جب کہ تمہاری تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی۔گو تمہارے ابو نے اتنا کمایا ہے کہ اگر چند سال مزید اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکو تو بھی تمہاری اور مینا کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔مگر بیٹی والے ہمیشہ اپنے نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔انہیں داماد چاہیے ،جس کی قابلیت وہ فخر سے بیان کر سکیں۔جس کی کمائی پر ان کی راج کرے ،جو سہارا ڈھونڈنے کی بجائے سہارا بننے کی اہلیت رکھتا ہو اور یہ سب خوبیاں ابھی تم میں نہیں ہیں۔ تمہیں اس مقام تک پہنچنے میں وقت درکار ہے ۔۔۔یاد رکھو، محبت ہمیشہ پانے کا نام نہیں ۔کسی کا احترام بھی محبت ہے اور کسی کے بہتر مستقبل کے لئے دستبردار ہو جانا بھی محبت ۔اگر معاشرتی اور اخلاقی حدود پھلانگ کر کسی کو پانے کی کوشش کرو گے تو ہاتھ صرف جسم آئے گا،روح نہیں۔۔۔ جب کہ دل صرف وہی لوگ فتح کرتے ہیں جو روح میں اتر جائیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر امی نے میری پیشانی پر بوسہ لیا اور خاموش ہو گئیں۔

’’میں کمزور نہیں ہوں امی۔میں ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتا جس سے آپ دونوں کا وقار مجروح ہو ،یا جو مجھے میری نظروں سے گرا دے۔۔۔ یہ شکست میری کمزوری نہیں ، طاقت بنے گی۔ مجھے زندگی میں کچھ پانے کے لئے آگے بڑھنے کا حوصلہ دے گی۔ آنے والا کل یقیناًمیرا ہوگا ۔۔۔آپ تیاری کریں ،ہم تقریب میں شرکت کے لئے کل گاؤں ضرور جائیں گے۔‘‘

*

دوسرے روز ہم گاؤں پہنچ گئے۔چچی حسب عادت نہایت محبت سے پیش آئیں مگر مَیناکا چہرہ اُترا ہوا تھا۔جب وہ خوش دکھائی دینے کے لئے مسکراتی تو محسوس ہوتا اس کا دل رو رہا ہے۔وہ باتیں کرتی یوں گم ہو جاتی تھی جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو ۔ میں اسے ملنے سے مسلسل کترا رہا تھا،مگر نکاح سے ایک روز قبل مجھے تنہا پر کر پائیں باغ میں آ دھمکی۔۔۔

’’تم ابھی تک بے مہار گھوم رہی ہو اے دلہن نما لڑکی ۔۔۔‘‘میں نے اسے سامنے پا کر کہا۔

’’میری مرضی۔۔۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی۔

’’کوئی بات نہیں چلا لو حکم ،آخری دن ہے۔ کل ویسے ہی تمہاری قربانی ہے ۔۔۔تمہارا وہ کاٹھا انگریز خچر پر سوار ہو کر آئے گا اور نکاح ہوتے ہی ہماری جان ہمیشہ کے لئے چھوٹ جائے گی۔ پھر دیکھوں گا کون برداشت کرتا ہے تمہارا رعب۔۔۔‘‘یہ سب سنتے ہی مَیناکی آنکھیں یوں چھم چھم برسنے لگیں جیسے رونے کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہو۔

’’کیا ہوا ۔۔۔ اس میں رونے والی کون سی بات تھی۔ ‘‘میں اس کی حالت دیکھ کر سنجیدہ ہو گیا۔

’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘

’’ پھر بن بادل یہ برکھا کیسی۔۔۔تم خوش تو ہو نا۔‘‘

’’تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔‘‘ اس نے حسب عادت الٹا سوال داغا۔

’’میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘

’’تم بچے نہیں ،سب جانتے ہو۔اب بھی میری زبان سے سننا چاہتے ہو ،صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے۔ ۔۔تاکہ یہ کہہ سکو کہ محبت کا اعتراف تم نے کیا تھا میں نے نہیں۔۔۔‘‘

کیا حماقت ہے۔۔بد شگونی مت کرو ۔

’’لیکن میں آج بھی تمہارا سر جھکنے نہیں دوں گی ۔۔۔تم مت اعتراف کرو ۔مگرمیرا یقین کر لو، مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘

’’یہ ان باتوں کا وقت نہیں۔۔۔‘‘

’’ابھی وقت ہاتھ سے نکلا ہی کہاں ہے کہ افسوس کیا جائے۔۔۔جب مذہب نے مجھے پسند نا پسند کا حق دیا ہے تو خاموش کیوں رہوں۔ کہاں لکھا ہے کہ دوسروں کی خوشی کے لئے سولی چڑھ جانا ہی جنت کی کنجی ہے۔‘‘وہ بحث پر اتر آئی تھی۔

’’جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں اپنی خوہشات مار کر دوسروں کے لئے ہی جینا پڑتا ہے اور تمہیں بھی یہ سب کرنا ہو گا ۔‘‘میں نے سخت لہجے میں جواب دیا۔

’’یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا۔میں بغاوت کروں گی ان اصولوں کے خلاف۔‘‘

’’جذباتی مت بنو۔چچی نے تمہارا رشتہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور مجھے ان کے فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں ۔۔۔‘‘

’’وجہ۔۔۔کیا تمہیں میرا زرا احساس نہیں؟‘‘ وہ چیخ کر بولی۔

’’احساس ہے ،اسی وجہ سے سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔ مجھے اپنے پاؤ ں پرکھڑا ہونے کے لئے وقت درکار ہے۔ جب کہ جوان بیٹیوں کو گھروں میں بٹھائے رکھنا ہماری روایت نہیں۔۔۔‘‘

’’کیا دلوں کو توڑ دینا،بیچ راہ تنہا چھوڑ جانا ہماری خاندانی روایت ہے۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا۔

’’تم حقیقت سے منہ موڑ رہی ہو ۔۔۔‘‘

’’نہیں میں اُس حقیقت سے نظریں ملانے کے لئے تیار کھڑی ہوں جس سے تم نظریں چرا رہے ہو۔بولو کتنا عرصہ درکار ہے تمہیں خود کو منوانے کے لئے۔۔۔تین سال،پانچ سال یا اس سے بھی زیادہ۔۔۔‘‘

’’معلوم نہیں،لیکن وقت لگے گا۔شاید اتنا کہ تمہارے دو چار بچے ہو جا ئیں اور جب میں تمہیں ملنے آؤں تو وہ ماموں، ماموں چلاتے جونکوں کی طرح مجھ سے چپک جائیں ۔ ۔ ۔ ‘‘میں نے سنجیدگی سے جواب دیا اور پھر خود ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔

’’مت لگاؤ کھوکھلے قہقہے،کسی کی موت پر ہنسنا اچھی بات نہیں۔‘‘ وہ پھر سے رونے لگی ۔ اس کی آنکھ سے ٹپکنے والا ہر آنسومجھے چھلنی کیے چلا جا رہا تھا۔ مگر میں نے خود پر قابو رکھا۔ میں محض تسلی کے نام پر بھی کوئی ایسا جھوٹا دلاسہ نہیں دینا چاہتا تھا جو اس کی نئی زندگی میں زہر گھول دے ۔۔ ۔ کچھ دیر رونے کے بعد مَینا نے سر اٹھایا اور سرگوشی کے انداز میں بولی :

’’ایک بات کہوں۔۔۔‘‘

’’بولو۔‘‘

’’چلو بھاگ چلیں۔‘‘

اچھا۔۔۔کہاں جائیں گے؟‘

’’کہیں بھی۔۔۔ہم بالغ ہیں،شادی کر سکتے ہیں۔میں ملازمت کرلوں گی ۔ہم محنت سے تنکا تنکا چن کر آشیانہ بنائیں گے۔۔۔دیکھو مان لو ۔مجھے زندہ درگور ہونے سے بچا لومیں گھٹ گھٹ کر مرنا نہیں چاہتی۔۔۔‘‘

’’کبھی نہیں۔میں اگر تمہیں پا نہیں سکتا تو فتح بھی نہیں کروں گا،اوریہ بات تم بھی ذہن میں رکھنا۔‘‘ یہ الفاظ میں نے کچھ ایسے سخت لہجے میں کہے کہ مَینا کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی اور وہ کچھ کہے بغیر بھیگی پلکیں صاف کرتی واپس لوٹ گئی۔

*

اگلے روز مَینا کا نکاح ہو گیا اور ہفتے بعد وہ شوہر کے ہمراہ بیرون ملک سدھار گئی۔۔۔ روانگی والے دن میں ،امی اور ابو کے ساتھ اسے الوداع کہنے ائرپورٹ گیا۔ بظاہر وہ بہت خوش تھی ،مگر جب بھی ہماری نظریں ملیں میں نے ان میں اداسی کے سوا کچھ نہ پایا۔

اس کے جاتے ہی میں نے ایم بی اے میں داخلہ لے لیا۔ دو سال یوں گزر گئے جیسے چند گھنٹے ۔اس دوران چند بار مَینا سے بات بھی ہوئی مگر صرف ہائے ،ہیلو کی حد تک۔ مینا کی شادی کے بعد چچی بھی گاؤں کو خیر آباد کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں اور انہوں نے وہاں اپنے بھائی کے قریب ہی نیا گھر خرید لیا۔ یوں گاؤں سے رہا سہا تعلق بھی دم توڑ گیا۔

تعلیم مکمل ہوتے ہی مجھ بہت اچھی ملازمت مل گئی۔ بے روز گاری کے دور میں ،میں نے اس ملازمت کو نعمت جانا اور محنت سے کام کیا جس کے نتیجے میں کچھ ہی عرصہ بعد کمپنی مجھے ترقی دینے پر مجبور ہو گئی۔اچھی ملازمت ملنے پرجہاں اور بہت سی خوشگور تبدیلیاں رونما ہوئیں وہیں میری ملاقات فاریہ سے بھی ہوئی ۔۔۔

وہ میری دفتری ساتھی تھی اور پہلی نظر میں عام سی لڑکی دکھائی دیتی تھی۔ مگر اپنی نفاست،رکھ رکھاؤ اور ذہانت نے اسے ادارے میں اہم مقام دلا دیا تھا۔جو بھی اس سے گفتگو کرتا شخصیت کا قائل ہو جاتا تھا۔دھیرے دھیرے ہماری دوستی گہری ہونے لگی ۔کچھ ہی عرصہ میں اس نے میرا دل یوں جیت لیا کہ ذہن پر جمی تلخ یادوں کی گرد مستقبل کے سہانے خوابوں تلے دب کر رہ گئی۔۔۔

اب مَینا کے فون آنا بھی بند ہو گئے تھے۔البتہ کبھی کبھار ای میل آ جاتی تھی ۔ بعض اوقات چیٹ بھی ہو جاتی مگر خیر خیریت کے علاوہ ہم لمبی بات نہیں کرتے تھے۔ اگریہ کہا جائے

کہ بات کرنے سے ہم ہی دونوں کتراتے تھے تو غلط نہ ہو گا۔ میں نے اس عرصہ میں یہی اندازہ لگایا کہ مَینا نے زندگی سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور اپنے گھر خوش ہے۔۔۔ادھر فاریہ کے سحر نے مجھ حصار میں کچھ اس طرح جکڑا کہ میں اس پر فدا ہو گیا۔ کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل میں نے اس کی ملاقات امی، ابو سے بھی کروائی۔ وہ دونوں میری پسند پر بہت خوش تھے او ر اسے اپنی بہو بنانے کے لئے بے چین بھی۔چنانچہ ایک سہانی شام چائے کی میز پر میں نے اسے اپنے دل کا حال سناتے ہوئے شادی کے لئے پرپوز کر دیااور اجازت چاہی کہ میرے والدین تمہارا رشتہ مانگنے گھر آئیں۔

رات آٹھ گھر پہنچا تو امی ،ابو ٹی وی لاونج میں پریشان بیٹھے تھے۔میں نے انہیں آج کی کاروائی سناتے ہوئے فاریہ کے گھر جانے کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کرلیا ، مگر چہروں پر خوشی کے وہ آثار نمایاں نہ ہوئے جن کی میں توقع کر رہا تھا:

’’آپ دونوں تو یوں بیٹھے ہیں جیسے میری شادی ہو چکی ہو۔۔۔‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ابو چونکے۔

’’سنا ہے جب بیٹے کی غیر موجودگی میں بہو سے جھگڑا ہو تا ہے تو ماؤں کا موڈ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔‘‘میں نے سامنے پڑا اخبار اٹھایا۔

’’ایسی بات نہیں۔۔۔‘‘امی بولیں۔

’’تو پھر کیا مسئلہ ہے۔‘‘

’’مَیناواپس آ گئی ہے۔۔۔‘‘انہوں نے آہستہ سے کہا۔

’’گڈ۔۔۔چھٹیاں گزارنے آئی ہو گی۔‘‘میں نے چہرے کو تاثر سے عاری رکھا۔

’’نہیں۔۔۔اسے طلاق ہوگئی ہے۔‘‘

کیا۔۔۔‘‘ اس بار میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔

’’ اس کا شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا۔بات کھلنے پر اس نے مَینا کو طلاق دے دی۔‘‘

’’کب ہوا یہ سب؟‘‘

’’چھ ماہ قبل۔۔۔‘‘

’’چھ ماہ۔۔۔اور ہمیں خبر بھی نہیں۔‘‘

’’ تمہاری چچی کا فون آیا تھا۔ بہت رو رہی تھیں۔انہوں نے مَینا کی خواہش پر یہ خبر خفیہ رکھی تھی۔‘‘

’’یہ تو بہت برا ہوا۔۔۔‘‘ میرا ذہن ماؤف ہو گیا تھا۔

’’کل مینا یہاں آ رہی ہے۔ ‘‘ امی نے نیا دھماکہ کیا۔

’’آپ نے بلایا؟‘‘

’نہیں وہ خود آنا چاہ رہی تھی۔ چند روز یہاں رکے گی تو آب و ہوا بدلنے سے ذہن پر اچھا اثر پڑے گا ۔مجھے تو رونا آرہا ہے اس بچی کی قسمت پر۔ تم کل اسے ائر پورٹ سے لے آنا۔ ‘‘

’’جی بہتر۔۔۔‘‘میں نے جواب دیا اور بظاہر اخبار پڑھتے ہوئے سوچوں میں گم ہو گیا۔

مینا کی واپسی نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔وہ محبت جسے میں ہمیشہ کے لئے دفن کر چکا تھا،ابھی تک سانس لے رہی تھی۔وہ رات میں نے آنکھوں میں گزاری۔ فاریہ یا مینا ۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی میرا ذہن الجھ کر رہ گیا تھا۔مَینا میری بچپن کی محبت تھی ، شاید اسی لئے تقدیر نے مجھے واپس لوٹا دی تھی۔ ۔۔ جب کہ فاریہ، چند ہی ماہ میں میرے دل میں یوں گھر کر چکی تھی کہ اس کے بنا جینا محال دکھائی دیتا تھا۔کون دل ہے اور کون دماغ۔کون روح ہے اور کون جسم ۔صبح صادق تک میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے کس کا انتخاب کرنا ہے۔۔۔

اگلی صبح دس بجے میں مَیناکو لینے ائر پورٹ پہنچ گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں تین سال پہلے اسے الوداع کہنے آیا تھا۔ شادی کے بعد میں اسے پہلی بار مل رہا تھا۔ فلائٹ لیٹ تھی ۔کافی انتظار کے بعد استقبالیہ دروازہ کھلا اور وہ باہر نکل کر میری جانب بڑھی۔

اسے سامنے پا کر دل میں درد کی لہر سی دوڑ گئی تھی۔ اس عرصہ میں وہ کافی بدل گئی تھی۔۔۔ سفید رنگت کو غموں کی دھول نے سانولا کر دیا تھا اور وہ آنکھیں جن میں کبھی خواب بستے

تھے چشمے کے پیچھے دُھندلائی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں:

’’کیسے ہو۔۔۔‘‘ وہ قریب پہنچ کر مسکرا ئی تو گالوں پر نمودار ہونے والے گڑھوں نے اس کے اصلی مَینا ہونے کا یقین دلایا۔

وہ کہتے ہیں نا Feeling fit like a horsبالکل ویسا ہی ۔‘‘ اسے سامنے پاتے ہی میرے لہجے میں نئی تازگی آ گئی ۔

’’ہاہاہا۔۔۔i like it تم بالکل نہیں بدلے ،بس تھوڑا سمارٹ ہو گئے ہواور یہ بال کیوں جنگلیوں کی طرح پیشانی پر لہرا رہے ہیں ۔ فلموں میں ایکسٹرا کے رول تو نہیں ملنے لگے ۔۔۔‘‘

’’جتنا غور مجھ پر کر رہی ہو ،اتنا خود پر کیا ہوتا تو حالت یوں نہ ہوتی ۔۔۔‘‘وہ واقعی مرجھا گئی تھی۔

’’کیوں کیا ہوا مجھے۔۔۔‘‘

’’مَینا کم اور چمگادڑزیادہ لگ رہی ہو۔۔۔‘‘

’’اب سنور جاؤں گی ۔جیسا چاہو گے ویسی ہی دکھائی دوں گی۔۔۔ اتنے غور سے کسی نے دیکھا ہی نہیں تھا کہ ہار سنگھار کی نوبت آتی۔۔۔‘‘اس کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’آئینہ کافی نہیں تھا، تنقید کے لئے۔‘‘

’’آئینہ تو روز دیکھتی تھی،مگر عکس کسی اور کا دکھائی دیتا تھا۔۔۔‘‘

’’باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے تمہاری صحت ہی نہیں دماغ پر بھی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔۔۔ بند کرو یہ ڈائیلاگ بازی اور سامان اٹھاکر باہر آ جاؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔‘‘

’’میں سامان اٹھاؤں۔۔۔‘‘ وہ حیرت سے بولی۔

’’جی ہوں تم۔۔۔ اور یہ مت سمجھنا کہ اتنے عرصے بعد آئی ہو تو تمہیں سپیشل پروٹوکول ملے گا۔ ‘‘

’’ رعب جمانے کی ضرورت نہیں ۔میں آج بھی اپنا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتی ہوں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔

’’سوری۔۔۔میرا یہ مطلب نہیں تھا۔میں تو بس ویسے ہی۔۔۔‘‘مجھے اپنی بات پرشرمندگی ہوئی۔

’’اور یہ بھی مت سمجھنا کہ تمہارے ہوتے ہوئے میں اپنا سامان خود اٹھاؤں گی ۔۔۔چلو بن جاؤ قلی ۔ خالی شرمندہ ہونے سے تمہاری جان چھوٹنے والی نہیں۔ اس نے شان بے نیازی سے بیگ میری جانب دھکیلا اور خود باہر نکل گئی۔ اس کے آگے بڑھتے ہی میں نے لاچاری سے کندھے اچکائے اور بیگ اٹھائے کار میں آ بیٹھا۔

’’ایک بات کہوں۔۔۔‘‘ائر پورٹ سے نکلتے ہی اس نے گفتگو کا آغاز کیا۔

’’کہو دو۔۔۔میرے انکار پر کون سا تمہاری زبان کو تالا لگ جائے گا۔ ‘‘

’’مجھے آج بھی تمہاری ڈانٹ سن کر اچھالگا۔ تمہارے لہجے میں وہی اپنائیت ہے جو تین سال قبل تھی۔۔۔ارے ارے گاڑی روکو۔۔۔‘‘ وہ یکدم چلائی۔

’’کیا ہوا۔۔۔کچھ رہ تو نہیں گیا ائر پورٹ۔۔۔‘‘ میں نے بدحواسی میں بریک پر پاؤں رکھا۔

’’نہیں یار۔۔۔ بھول گئے، ہم جب بھی ائر پورٹ آیا کرتے تھے تم مجھے پھول خرید کر پیش کیا کرتے تھے۔‘‘ اس نے فٹ پاتھ پر سجے پھولوں کے اسٹال کی طرف اشارہ کیا۔

’’میں تو نہیں بھولا، تمہاری یادشت پر برا اثرپڑا ہے۔۔۔‘‘میں نے گہرا سانس لیا۔

’’وہ کیسے۔۔۔؟‘‘

’’ پھول میں خوشی سے نہیں تمہارے اصرار پر لا کر دیتا تھا،اور پیسے بھی تمہارے ہی ہوا کرتے تھے۔۔۔‘‘

’’ہاں،ہاںیاد ہے۔میں یہ ناٹک خود کرتی تھی۔۔۔صرف اُس ایک لمحے کو جینے کے لئے جب تم پھول لا کر مجھے پیش کرو اور میں شرما کر قبول کرتی تھی۔ اس موقعے پر راہ چلتے لوگ جب ہمیں دیکھ کر مسکراتے تھے ، عورتیں اپنے شوہروں کو کہنیاں مار کر ہماری طرف متوجہ کرتی تھیں تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔اتنا اچھا ،جیسے میں دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی ہوں۔‘‘ یہ دلچسپ انکشاف سن کر میں نے بے ساختہ قہقہہ لگایا اور کار سے اتر کر اس کا پسندیدہ پھول لے آیا:

’’لو جان من۔۔۔تنخواہ کم ہے، اس لئے گلدستے کی بجائے صرف ایک پھول سے گزارا کرو ۔‘‘ میرا فلمی انداز دیکھ کر اس نے تھینکس بولا اورخاموش ہو گئی۔اس کے چہرے کی

اداسی پھر سے لوٹ آئی ۔

’’کیسے ہوا یہ سب۔۔۔بقول چچی کے تم بہت خوش تھیں اس کے ساتھ۔‘‘میں نے اس کے ماضی کو کریدا۔

’’عورت کی خوشی ہوتی ہی کیا ہے۔گائے بھینس کی طرح جس کھونٹے سے باندھ دیا ، محبت سے سرشار ہو کر اسی کے گرد طواف کر تے زندگی گزار دی۔‘‘

’’ نوبت یہاں تک کیسے پہنچی؟‘‘

’’وہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ ایک سال بعد راز کھلا تو گھر میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ بات جب زیادہ بڑھی تو ماموں نے فیصلہ اسی پر چھوڑ دیا کہ وراثت میں حصہ چائیے یا دوسری بیوی۔چنانچہ اس نے دولت کو محبت پر قربان کر دیا۔‘‘

’’بہت افسوس ہوا۔۔۔‘‘میں نے اس کا غم بانٹنا چاہا۔

’’ہاں وہ تو ہے۔۔۔مگر یہ بندھن ٹوٹنے سے مجھے ذہنی سکون ملا ہے۔ مانتی ہوں اس نے میرے ساتھ برا کیا، پھر بھی مجھے اس کی یہ بات اچھی لگی کہ کم از کم کسی ایک عورت کے ساتھ تو مخلص ہے ۔۔۔دو کشتیوں میں سوار ہو نے سے فاصلے نہیں کٹتے ،بلکہ انسان خود کو اذیت میں مبتلا کر کے منزل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔‘‘

’’مجھ اچھا نہیں لگا کہ تم چھ ماہ سے پاکستان میں ہواور رابطہ نہیں کیا۔۔۔‘‘میں نے اس کی کہانی سن کر گلہ کیا۔

’’ میں بہت ڈسٹرب تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے نا اُمیدی کے گہرے سمند میں غوطے کھا رہی ہوں اور کنارہ بہت دور ہے۔۔۔اب کچھ سنبھل گئی ہوں۔ عدت کے دن بھی پورے ہوگئے اور کراچی میں اچھی ملازمت بھی مل گئی ہے ۔۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تم ساتھ ہو ۔مجھے یقین ہے زندگی بہت جلد معمول پر آ جائے گی ۔۔۔‘‘

’’انشااللہ۔۔۔‘‘میں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ گھر پہنچ گئے۔ امی، ابو اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور یوں شفقت سے پیش آئے جیسے ان کی سگی بیٹی آئی ہو ۔ ان کا رویہ مَینا کے ساتھ بالکل پہلے جیسا تھا۔ یہاں تک کہ امی نے مَینا کی آمد سے قبل ہی اس کا کمرہ تیار کروا دیا تھا۔ اس کے گھر آتے ہی رونق بحال ہو گئی تھی۔ کچن میں نت نئے پکوان بننے لگے تھے اور پہلے کی طرح پھر سے اس کا حکم مجھ پر چلنے لگا تھا۔۔ ۔ ایک شام وہ میرے کمرے میں آئی تو بہت خوشگوار موڈ میں تھی ۔

’’ تو بہ ،کتنا گندہ کمرہ ہے ۔ کیسے رہتے ہو اس کچرے کے ڈھیر پر۔ کوئی چیز جگہ پر نہیں۔۔۔‘‘

’’سب ٹھیک ہے محترمہ،صرف تمہاری آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔‘‘ میں نے بسکٹ کھاتے ہوئے جواب دیا۔

’’ایک موذہ سٹڈی ٹیبل پر پڑا ہے اور دوسرا بک شلف پر۔۔ ۔‘‘ اس نے باریک بینی سے کمرے کا جائزہ لیا۔

’’ پرسوں جوتا اتارتے ہوئے خیال آیا کہ جو کتاب میں ڈھونڈ رہا ہوں اسے بک شلف پر ہونا چاہیے ۔ چنانچہ اتارا ہوا موزہ سٹڈی ٹیبل پر رکھ کر شلف کے پاس جا پہنچا ،مگر کتاب وہاں موجود نہیں تھی ۔پھر کہا ں گئی؟یہی سوچتے دوسر ا موزہ اتار کر شلف پر رکھا اور کمرے سے نکل کر ٹی وی لاونج میں چلا گیا ۔اتنی سی بات ہے ۔‘‘

’’تو کیا یہ جرابیں پرسوں سے اسی حال میں پڑی ہیں۔۔۔‘‘

’’پرسوں نہیں ترسوں سے ۔۔۔پرسوں والی تو میں نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں رکھی تھیں ۔یاد دلانے کا شکریہ، ورنہ انہیں بھی ڈھونڈنا پڑتا۔‘‘

’’ تمہاری عادتیں بالکل نہیں بدلیں دانی ۔۔۔خیر، اب آ گئی ہوں تو تمہیں تیر کی طرح سیدھا کر کے دم لوں گی۔۔۔‘‘

’’اچھی بات ہے۔مجھے بھی ایسے دوست کی اشد ضرورت تھی جو میری بگڑی عادتیں سدھار سکے،تاکہ فاریہ کو مسئلہ نہ ہو۔۔۔‘‘موقعہ ملتے ہی میں نے بات چھیڑی ۔

’’کون فاریہ۔۔۔؟‘‘اس نے حسب عادت مجھے گھورا۔

’’ چاند ہے، چاند۔۔۔ دیکھو گی تو تمہارا یہ خربوزے جیسا گول منہ کھلا رہ جائے گا ۔‘‘

’’جتنا مرضی ستا لو،میں زچ ہونے والی نہیں۔کیوں کہ جانتی ہوں دنیامیں سوائے میرے ایسی کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی جو تمہیں برداشت کر سکے ۔۔۔‘‘ اس نے بظاہر لا پروائی کا اظہار ، مگر آنکھوں میں شک کے بادل امڈ آئے تھے۔

’’ ایسی بات بھی نہیں۔آج بھی حسین و جمیل لڑکیوں کی اکثریت مرتی ہے مجھ پر۔۔۔‘‘

’’ہاں میں نے بھی دیکھا تھا، ایدھی والے ایمولینس کی بجائے ٹرک میں لڑکیوں کی لاشیں بھر رہے تھے۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شہر میں کوئی خوفناک انسان آ دھمکا ہے جس پر نظر پڑتے ہی خوبصورت لڑکیاں بے موت مرنے لگی ہیں۔۔۔‘‘اس نے منہ بنایا۔

’’میں سنجیدہ ہوں۔۔۔‘‘

’’نہیں یار، تم سنجیدہ نہیں دانی ہو۔۔۔سنجیدہ تو میری سہیلی ہے۔‘‘ اس نے میز پر پڑا چائے کا خالی کپ اٹھایا اور یوں تیزی سے باہر نکل گئی جیسے اپنا خواب ٹوٹنا اسے گوارہ نہ ہو ۔۔۔ لیکن کچھ ہی دیربعد واپس لوٹ آئی اس کی طبعیت میں بڑھتی ہوئی بے چینی واضح محسوس ہو رہی تھی:

’’ایک بات پوچھوں؟‘‘

’’بولو۔۔۔‘‘

’’تمہیں واقعی کسی سے محبت ہو گئی ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں۔لیکن میں فاریہ کو پسند کرنے لگا ہوں۔۔۔‘‘میں نے ہاتھ میں پکڑی کتاب میز پر رکھی۔

’’کون ہے وہ۔۔۔‘‘

’’میرے دفتر میں کام کرتی ہے۔‘‘

’’ تمہیں تو ورکنگ ویمن پسندنہیں۔؟‘‘

’’ہاں۔مگر اس میں الگ ہی بات ہے۔۔۔ ویسے بھی شادی کے بعد وہ ملازمت چھوڑ دے گی۔ ‘‘

’’کیا الگ بات ۔۔۔ایسی کیا خاص بات ہے اس میں کہ تم بنا سوچے سمجھے دل دے بیٹھے۔‘‘ وہ میرے مقابل کرسی پر آ بیٹھی۔

’’اس کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔۔۔‘‘ میں نے ٹھنڈی آہ بھرکر اسے ستانا چاہا۔

’’وہ تو میری بھی ہیں۔ غور سے دیکھو۔۔۔ان میں آج بھی تمہاری محبت کا الاؤ روشن ہے۔ کیا ہوااگر میں نے چشمہ پہن لیا۔ تمہیں پسند نہیں تو اتار دوں گی ۔ ہم لینز استعمال کر لیں گے۔ ہرا، نیلا ،شربتی۔۔۔جیسا تم چاہو گے یا پھر جیسا فاریہ کی آنکھوں کا رنگ ہو گا۔ میں خود کو ہر اس رنگ میں رنگنے کے لئے تیار ہوں جو تمہارے لئے باعث راحت ہو۔ اب بولو۔۔۔ لیکن یاد رہے، اس بار تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔سچ یہ ہے کہ میں اپنے شوہرکے ساتھ دوسری عورت کے ہوتے ہوئے بھی نبھا کر سکتی تھی۔ مگر مجھے اندازہ تھا ،تم میر ے بغیر جی نہیں پاؤ گے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں تمہارے بغیر جی نہیں سکی۔ اسی لئے جھگڑے سے فائدہ اٹھا کر واپس لوٹ آئی ۔ تا کہ تمہارے نام پر حرف نہ آئے۔۔۔ اب بولو اور کیا خوبی ہے فاریہ میں۔

’’اس کی آواز بہت اچھی ہے ،وہ باتیں بہت اچھی کرتی ہے۔۔۔‘‘نا چاہتے ہوئے بھی میری زبان سے تعریفی کلمات نکل گئے۔

’’سب عام سی خصوصیات ہیں۔کوئی ایسی خوبی نہیں کہ تم انفرادیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دل دے بیٹھو۔ مجھے یقین ہے اس لڑکی نے تمہیں اپنے جال میں پھنسایا ہے ۔وہ کسی اچھے گھرانے سے نہیں ہو گی۔ ۔۔ویسے بھی تم کیا جانو عورت کی نفسیات کہ وہ مرد کی کس خوبی پر مرتی ہے۔۔۔تم مجھ پر غور کرو۔ میں یقین دلاتی ہوں، تمہاری توجہ سے میری دلکشی واپس لوٹ آئے گی۔میں شادی شدہ ہوں ، مرد کی خواہشات سمجھتی ہوں ۔میں تمہیں زندگی میں وہ سکون دوں گی کہ دوسری عورت کا نام تک بھول جاؤ گے۔‘‘

’’مَینا کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔‘‘مجھے اس کے رویے سے الجھن ہونے لگی ۔

’’مجھے کچھ نہیں ہوا ۔ تم پر جادو کر دیا ہے اس چڑیل نے ۔کھا جائے گی وہ تمہیں اورمیں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ تم مجھ پر نظر کرم کرو۔مجھ سے پیار کرو۔صرف ایک بار آزمانے کی کوشش کرو ،میں تمہارے بنا نہیں جی سکتی۔۔۔ اور ہاں، اب کی بار بھولے سے بھی ایسی بات مت کہنا جس سے میرا دل ٹوٹے۔۔۔میں اپنی ذات میں بہت تنہا ہوں ۔ مجھے تم سے اپنی ان تمام محرومیوں کا کفارہ چاہیے جو بن مانگے میری جھولی میں ڈال دی گئی تھیں اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا تھا ۔۔۔ ‘‘

’’دیکھو کسی کو ملے بنا ،دیکھے بغیر غلط رائے قائم کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ ۔۔میں ملواؤں گا تمہیں فاریہ سے۔وہ تمہیں اچھی لگے گی۔‘‘مَینا کے رویے نے مجھے پریشان کر دیا تھا۔

’’میں۔۔۔میں ملوں گی اس ڈائن سے ،کبھی نہیں،کبھی بھی نہیں۔۔۔ نہ ہی آئیندہ تم ملو گے اس سے۔۔۔She is Bitch‘‘

’’مینا۔۔۔Behave yourself۔‘‘میں نے سخت لہجے میں کہا۔

’’ کیا۔۔۔تم نے مجھے ڈانٹا، اُس بازاری لڑکی کی خاطر جو سَرے راہ چند ملاقاتوں میں تمہیں اپنا عاشق مان بیٹھی ۔۔۔مجھے ،جس نے بچپن سے جوانی تک کا ایک ،ایک پل تمہاری پرستش میں گزارا ۔۔۔ نہیں دانی!اب ایسا نہیں ہو گا۔ تمہیں ہر صورت اسے بھولنا ہو گا۔‘‘

’’یہ نہیں ہو سکتا۔میں اس سے محبت کا اقرار کر چکا ہوں۔۔۔‘‘میرے اس انکشاف نے جلتی پر تیل کا کام دیا:

’’یہ کیسے ممکن ہے۔اقرارِمحبت تو آج تک تم نے مجھ سے نہیں کیا ۔اس کے سامنے گھٹنے کیسے ٹیک دیے۔۔۔ تمہیں برسوں سے اپنے فراق میں سسکتی محبت دکھائی نہیں دی او ر اس

ڈائن کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں۔۔۔تم مجھ سے جھوٹ بول رہے ہو۔ کنوارے مرد ہونے کی حیثیت سے مجھ مطلقہ کو اپنانے سے پہلے اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہتے ہو۔۔۔ ٹھیک ہے، اگر تمہیں اسی طرح تسکین ملتی ہے تو میں یہ سب سننے کے لئے بھی تیار ہوں اور تمہاری محبت کو احسان سمجھ کر قبول کر لوں گی ۔۔۔ مگر یاد رہے، میں اتنی گئی گزری بھی نہیں۔غور کرو میرے وجود پر۔ یہ جسم اب بھی پر کشش ہے۔ میرے خدو خال ،میرا سراپا آج بھی اس قابل ہے کہ قیمت لگوانے سڑک کے کنارے کھڑی ہو جاؤں تو شہر کا ہر دوسرا نوابزادہ قدموں میں ہو ۔۔۔‘‘اس نے آنچل اتار کر فرش پر پھینکا اور بے حجابی کا نمونہ بن کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔

مَینا کی حرکت دیکھ کر میرا خون کھول گیا اور میں نے کچھ کہے بغیر زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔۔۔

اب کمرے میں گہری خاموشی تھی۔ جیسے وقت تھم گیا ہو ۔بہت دیر ہم دونوں ایک دوسرے سے منہ موڑے اجنبیوں کی طرح بیٹھے رہے، پھر مَینا نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور آنسو صاف کرتے ہوئے بولی:

’’تمہیں مزید کچھ کہنے کی ضروت نہیں۔مجھ اپنے سوال کا جواب مل گیااور اپنی اہمیت کا احساس بھی ہو گیا۔۔۔ میں تمہاری زندگی سے چلی جاؤں گی اور اس دن کا انتطار کروں گی جب تم خود آ کر مجھ سے محبت کی بھیک مانگو گے۔۔۔رو گے ،گڑگڑاؤ گے اور کہو گے کہ میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا۔۔۔مگر اس دن فریاد تمہاری ہو گی اور فیصلے کا حق صرف مجھے ۔۔ ۔‘‘ یہ کہہ کر مَینا نے دوپٹہ اٹھایا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اس رات مجھے لمحہ بھر نیند نہ آئی۔ رہ ،رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کہ میں نے اس پر ہاتھ کیوں اٹھایااور یہ اقرار کیوں نہ کیا کہ مجھے آج بھی تم سے محبت تھی۔۔۔ اس بے رخی کی وجہ یقیناًفاریہ تھی جس نے ہماری محبت میں شراکت قائم کر کے میری بنیادوں کو کمزور کر دیا تھا۔دیر تک سگریٹ پھونکنے کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ کل دفتر سے آ کر اسے منا لوں گا اور قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ ایک بار فاریہ سے مل لے۔۔ ۔

*

اگلی صبح تیار ہو کر ناشتے کی میز پر پہنچا تو معلوم ہوا، مَینا کے سر میں درد ہے اور سو رہی ہے ۔ گھڑی دیکھی تو وقت کم تھا، چنانچہ اسے جگانے کی بجائے دفتر چلا گیا کہ واپسی پر بات کرؤں گا ۔اتفاق سے دن بہت مصروف گزرا۔شام کو دیر سے گھر پہنچا تو امی اکیلی بیٹھی تھیں۔

’’مَینا کہاں ہے۔۔۔کیا پھر سو گئی ؟‘‘

’’نہیں۔۔۔وہ چلی گئی۔‘‘ امی نے مختصر جواب دیا۔

’’کہاں ۔۔۔؟‘‘ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔

’’کراچی۔۔۔ تمہارے ابو ائر پورٹ چھوڑنے گئے ہیں۔ اب تک فلائٹ جا چکی ہو گی۔ ‘‘

’’مجھے ملے بغیرکیسے چلی گئی ۔۔۔‘‘

’’ اس نے تمہیں فون کیا تھا، مگرشاید تم میٹنگ میں تھے۔‘‘میں سمجھ گیا، اس نے جھوٹ بولا ہے۔ آج میری کوئی میٹنگ نہیں تھی اور سارا دن آفس میں رہا تھا۔

’’ ایسی کیا ایمرجنسی ہو گئی کہ اسے جانا پڑا۔۔۔ رات تک تو اس نے واپسی کا نام نہیں لیا تھا۔ ۔ ۔۔‘‘

’’ صبح پروگرام بنا۔کہہ رہی تھی، کمپنی نے فوری کال کر لیا ہے۔ کل ڈیوٹی پر جانا ضروری ہے۔‘‘وجہ سن کر میں خامو ش ہو گیا۔

’’ایک بات بتاؤ۔۔۔؟‘‘امی نے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’جی پوچھیں؟‘‘

’’ تم نے اسے فاریہ کے بارے بتایا تھا؟‘‘

’’جی ہاں۔۔۔‘‘

’’مجھے یقین ہے وہ اسی وجہ سے گئی ہے۔‘‘

’’یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں؟‘‘ میں چونکا۔

’’عورت کبھی اپنی محبت میں شراکت پسند نہیں کرتی۔جب وہ شادی کے بعد سوتن قبول نہ کر سکی تو تنہائی کی آگ میں جلتے ہوئے تمہاری زبان پر دوسری لڑکی کا نام کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ ۔۔اچھا کیا ،جو اسے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔مَینا ہمیں اب بھی اتنی ہی عزیز ہے جتنی پہلے تھی ۔ اگر تم ا سے شریک حیات بنانے کا فیصلہ کرتے تو بھی ہمیں اچھالگتا ۔ مگر

فیصلے کا اختیاراس بار تمہارے پاس ہے ۔ منزل کٹھن ہے،بہت سوچ کر قدم اٹھانا۔ ہم نہیں چاہتے تمہاری شخصیت دو محبتوں کے نام پربٹ کر رہ جائے۔ابھی تمہیں اندازہ نہیں کہ تقسیم شدہ زندگی انسان کے لئے روگ بن جاتی ہے۔ اس لئے ہر اس روگ سے بچو جوتمہاری زندگی کو کھوکھلا کر دے۔۔۔‘‘امی نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور کچن میں چلی گئیں۔۔۔

*

امی کی باتیں سو فیصد درست تھیں۔ میں واقعی اندر سے تقسیم ہو چکا تھا۔میرا وجود غیر محسوس طریقے سے دو حصوں میں منقسم ہو گیا تھا۔ہر حصے میں الگ نام کی دھڑکن تھی ،ہر ذہن اپنے ہی حق میں دلائل دے رہا تھا۔

دو ماہ بعد میری شادی فاریہ سے ہو گئی۔ تقریب میں صرف چچی نے شرکت کی جب کہ مَینا نے مصروفیت کا بہانہ بنایا۔اس نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔اگر کبھی کال کرتا بھی تو آواز سنتے ہی ریسیور رکھ دیتی یا چچی کو پکڑا دیتی۔

شادی کے بعد غم کا پہلا جھٹکا اس روز لگا جب امی، ابو ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگئے۔ یہ غم میرے لئے نا قابل برداشت تھا۔میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتااور پاگلوں جیسا حال کر بیٹھا تھا۔ غم کی اس گھڑی میں فاریہ کی محبت نے مجھے پھر سے جینے کا حوصلہ دیا۔۔۔اسی دوران ہمارے ادارے نے بیرون ملک اپنی برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا اور مجھے وہاں کا چارج سنبھالنے کی پیش کش کی۔والدین سے جدائی کے بعد میرا دل اچاٹ رہنے لگا تھا۔ اس لئے میں نے کوچ کرنامناسب سمجھا اور فاریہ کے ساتھ ملک سے باہر چلا گیا۔

شادی کے ابتدائی مہینوں میں، میرے اور فاریہ کے تعلقات بہت اچھے رہے۔مگر مَینا میری سوچوں سے جدا نہ ہو سکی۔ فاریہ سے گفتگو کے دوران اکثر میں غیر ارادی طور پر مَینا کے ساتھ بیتے دنوں کی یادیں دھرانے لگتا، جس سے اسے بہت کوفت ہوتی تھی۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں ہردوسری بات میں مَینا کا حوالہ دے کر اس کا موڈ خراب کر بیٹھتا تھا۔ عموماََ یہ سب اتنا اچانک ہو جاتا کہ مجھے خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ فاریہ چونکہ مینا کے متعلق کافی جانتی تھی اس لئے میرا یوں بات ،بات پر پٹری سے اتر جانا اس کے لئے خطرے کا الارم تھا۔

ایک دن خبر ملی کہ چچی کا انتقال ہو گیا ہے۔ میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا۔ میری فوری وطن واپسی ممکن نہیں تھی اس لئے مَینا کو فون کرنے کا فیصلہ کیا۔روٹھ کر جانے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب اس نے مجھ سے بات کی ۔اس روز فون پر وہ اتنا روئی کہ ہچکی بندھ گئی۔ دنیا میں میرے سوا اب اس کا کوئی نہیں تھا۔ وہ بالکل تنہا رہ گئی تھی۔ چچی کی وفات کے بعد میرے دل میں یہ احساس شدت اختیار کر گیا تھا کہ اس کی تنہائی کا ذمہ دار صرف میں ہوں۔

فاریہ کا رویہ اب میرے ساتھ بالکل بدل گیا تھا۔ اسے غم کی گھڑی میں میرا، مَیناکو دلاسہ دینا اچھا نہیں لگا تھا۔ بلکہ اس نے موقع ملتے ہی یہ الزام بھی عائد کر دیا کہ ہمارے رابطے بدستور جاری اور عشق زندہ ہے۔۔۔ الزام کسی حد تک درست بھی تھا ۔مَینا کو بھلانا میرے لئے نا ممکن تھا،شاید اس لئے کہ دلوں سے نفرت کی میل تو ختم کی جا سکتی ہے، محبت کی روشنی نہیں۔

مینا نے اس ایک کال کے بعدمجھ سے پھر کبھی بات نہ کی۔ دل چاہتا تھا ، وہ اپنا دکھ، درد مجھ سے بانٹے ۔اور نہیں تو ، اکلوتا کزن ہونے کے ناطے ہی مجھ سے بات کر لیا کرے۔مگر ایسا نہ ہو سکا۔۔۔ہاں البتہ مہینے میں ایک دو بار نیٹ پر چیٹ ضرور ہو جاتی تھی ۔ یہی میرے پاس اس کی خیریت جاننے کا واحد ذریعہ تھا۔

پریشانی مزید بڑھی تو خدا نے نئی مہربانی کی۔مجھے اپنے ایک کلاس فیلو جوادکا فون آیا ۔ اس نے بتایا کہ وہ کراچی منتقل ہو گیا ہے اور اتفاق سے اسی ادارے میں ملازمت کر رہا ہے جہاں مَیناہے۔یہ خبر میرے لئے جواد سے زیادہ اہم تھی۔۔۔ نیکی اور پوچھ ،پوچھ۔ میں نے جواد سے علیک سلیک کو گہری دوستی میں بدل دیااور مختلف بہانے فون کر کے مینا کی خبر رکھنے لگا۔۔۔

وقت کا پرندہ مخصوص رفتار سے اڑتا رہا ۔ ایک دن جواد نے بتایا کہ مَینا نے گھر تبدیل کر لیا ہے۔ وہ اپنا بڑا گھر چھوڑ کر چھوٹے سے گھرمیں منتقل ہو گئی ہے کیوں کہ اتنے بڑے گھر میں اکیلے رہتے ہوئے اسے وحشت ہوتی تھی۔۔۔اس بات کا تذکرہ خود مَینا نے کبھی چیٹ کے دوران نہ کیا ، البتہ اس نے ایک دو بار جواد کا ذکر ضرور کیا کہ وہ اسی کے ادارے میں کام کر رہا ہے اور اکثر تمہارا ذکر ہوتا رہتا ہے۔۔۔

*

شادی کا تیسرسال شروع ہوتے ہی ہماری ازدواجی زندگی تباہی کے دہانے پر آ پہنچی۔بقول فاریہ ، مجھے خود پر قابو نہیں رہا تھا اور میں نیند میں بھی مَینا کے نام کی مالا جپتارہتا ہوں

اس کی شکایت بجا تھی۔ مَینا روح طرح میرے جسم میں سرائیت کر چکی تھی۔ دل،دماغ حتاکہ سوچ پر بھی اس کے عشق کا پہرا تھاجو میری توجہ کسی اور جانب بٹنے کی اجازت ہی نہیں دیتاتھا ۔ ان حالات میں فاریہ تو کیاکسی بھی عورت کا میر ساتھ گزارہ ناممکن تھا۔ یہ اختلاف اس رات حد پار کر گیا جب میں نیٹ پر مَینا سے چیٹ میں مصروف تھا اور فاریہ موقعے پر پہنچ گئی۔

اب فاریہ مجھ سے ا علیحدگی کا مطالبہ کر دیااورلاکھ سمجھانے کے باوجود صلح پر آمادہ نہ ہوئی۔ اس کے دل میں میرے لئے نفرت کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔آخر ایک اُداس صبح ہمارے راستے جدا ہو گئے ۔فاریہ نے مجھ سے طلاق لے لی۔ہمارے درمیان سارامعاملہ باہمی رضامندی سے طے پایا ۔فاریہ نے پاکستان واپس جانے کی بجائے وہیں مستقل سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ادارے میں ملازمت شروع کر دی، جس پر اعتراض کرنااب میرا حق نہیں رہا تھا۔ ۔۔

فاریہ زندگی سے الگ ہوئی تو دل میں چھپی عشق کی چنگاری الاؤ بن گئی اور رہا سہا سکون بھی غارت ہو گیا :

’’ ایک روز تم خودآؤ گے مجھ سے محبت کی بھیک مانگنے۔۔۔رو گے ،گڑگڑاؤ گے اور کہو گے کہ میں تمہارے بنا ادھورا ہوں۔۔۔مگر اُس لمحے فریاد تمہاری ہو گی اور فیصلے کا حق صرف مجھے۔۔۔‘‘ مَینا کے کہے الفاظ میر ے کانوں میں بازگشت بن کر گونجنے لگے تھے۔ اسے بھول پانا میرے بس میں نہیں رہا تھا، چنانچہ جب زندگی موت سے بدتر ہو گئی تو میں نے انا کا بت اپنے ہاتھوں سے پاش پاش کرتے ہوئے واپسی کا ارادہ کیا۔۔ ۔

*

چند ہفتے بعد میں زندگی کی تلاش میں پاکستان آ گیا۔میں نے اپنی آمد مَینا سے خفیہ رکھی ،یہاں تک کہ آخری چیٹ میں بھی وطن واپسی کا ذکر نہ کیا۔۔۔ آج اس کی سالگرہ تھی اور میں خوشی کے اس لمحے اچانک پہنچ کر اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا تا کہ وہ تمام رنجشیں بھلا کر مسکراتے ہوئے میر استقبال کرے۔۔۔پاکستان میں میری آمد کا علم صرف جواد کو تھا۔ میرے جاننے والوں میں وہی ایسا شخص تھا جسے مَینا کے نئے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔چنانچہ میں نے اسے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا اور خصوصی درخوست کی کہ یہ سب راز ہی رہے ۔ ۔۔

دیو ہیکل جہاز کے پہیوں نے پاک سر زمین کو چوما تو دھرتی سے رابطہ بحال ہوتے ہی ذہن میں اچھی بری یادیں پھر سے تازہ ہو گئیں۔ ائرپورٹ کے عملے سے جان چھڑا کر استقبالیہ ہا ل میں پہنچا تو جواد میرا منتظر تھا:

’’تم شاید مجھے ہی لینے آئے ہو۔۔۔؟‘‘

’’مجبوری تھی، میرے علاوہ کوئی دوسرا اس کام کے لیے تیا رنہیں تھا۔‘‘اس نے بے ساختہ جواب دیا اور پھر مسکراکر مجھ سے لپٹ گیا۔ ہم کئی سال بعد ملے تھے مگر پھر بھی پہلی نظر میں ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا۔

’’کیا کھاتے ہو۔ دیکھوپیٹ کدھر جارہا ہے۔۔۔میں تو کہتا ہوں الٹرا ساونڈ کروا ہی لو،تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں۔۔ ۔‘‘ میں نے اس کی بڑھی ہوئی توند کی طرف اشارہ کیا۔

’’ ہم خوش خوراک لوگ ہیں، تمہاری طرح کھا پی کر حرام نہیں کرتے ۔‘‘ اس سانس کھینچ کر پیٹ چھوٹا کرنے کی ناکام کوشش کی ۔

’’ابے ،یوں سانس مت روکو۔۔ ۔ اندر والا مر جائے گا۔‘‘جواباََا س نے فلک شگاف قہقہہ لگایا اور ہم سامان اٹھاکر ائرپورٹ سے باہر نکل آئے۔

’’یہا ں تو کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔سب ویسا ہی ہے، جیسا چھوڑ کر گیا تھا۔میں نے کار میں بیٹھتے ہوئے ارد گرد کا سرسری جائزہ لیا۔

’’ ایسا نہیں ۔۔۔بہت کچھ بدل چکاہے۔‘‘

’’مثلاً کیا بدل گیا ہے ۔۔۔زراہمیں بھی تو پتا چلے۔‘‘میں نے دلچسپی سے پوچھا۔

’’سب کچھ۔رشتے ،وفاداریاں ،احساس حتا کہ چہرے بھی۔‘‘

’’کسی حد تک تمہاری بات درست ہے۔حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔۔۔‘‘کار ائر پورٹ سے نکل کر مین روڈ پر سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ میں نے وقفے کے بعد دوبارہ بات شروع کی:

’’مَینا کیسی ہے۔۔۔؟‘‘

’’ہمیشہ کی طرح اپنے حال میں مست،یا پھر تمہارے خیال میں کھوئی ہوئی۔ جب سے میں جانتا ہوں ا س نے زندگی کا کوئی پل تمہارے تصور کے بغیر نہیں گزارا۔

۔۔‘‘جواد نے جواب دیا۔

’’صحیح کہتے ہو۔وہ واقعی بہت عجیب ہے۔ مجھ سے محبت بھی کرتی ہے اور ناراض بھی ہے۔ یقین مانو،گذشتہ تین برسوں میں صرف ایک بار فون پر بات کی ہے اس نے ۔ وہ نیٹ پر چیٹ توکرتی رہی لیکن اس کی آواز سننے کے لیے میرے کان ترس گئے تھے۔۔۔ آج اس کی سالگرہ ہے۔‘‘ میں نے اسے بتانا چاہا۔

’’مجھے معلوم ہے۔۔۔ میرا خیال ہے، پہلے گھر چلتے ہیں ۔فریش ہو کر اس کے طرف چلیں گے۔ ‘ ‘اس نے سر ہلایا۔

’’نہیں یار۔۔۔گھر بعد میں، پہلے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘

’’ امی نے کھانا تیار کر رکھا ہے۔وہ ناراض ہوں گی۔‘‘

’’انٹی سے میں خود معذرت کر لوں گا۔۔۔پلیز مجھے مجبور نہ کرو۔۔۔‘‘

’’اوکے۔۔۔جیسے تمہاری مرضی۔‘‘جواد کا شکریہ ادا کر کے میں نے گاڑی سڑک کے کنارے رکوائی اور فٹ پاتھ پر سجے اسٹال سے مَینا کے پسندیدہ پھولوں کا گلدستہ خرید لایا۔

’’اس اسٹال سے میں اور مَینا اکثرپھول خریدا کرتے تھے ،لیکن پیسے وہی دیا کرتی تھی۔۔۔ ‘‘ میں نے واپس کار میں بیٹھتے ہوئے جواد کو بتایااورپرانی باتیں یاد کر کے خود ہی ہنس پڑا ۔وہاں سے ہمارا سفر شروع ہوا تو منزل مَینا تھی۔۔۔ جواد مسلسل خاموش تھا اور اس کے چہرے پر سنجیدگی گہری تھی ۔جب کہ میں ماحول خوش گوار بنانے کے چکر میں بات سے بات نکالے چلا جا رہا تھا:

’’ مزے کی بات سنو۔ ایک مرتبہ میں اور مَینا ٹریفک سگنل پر رکے تو پھول بیچنے والا لڑکاآدھمکا۔میں نے چند پھول خریدکر اس کی جانب بڑھائے تووہ مسکرا کر بولی ۔’اس لڑکے کے نزدیک پھول بیچنا صرف کاروبارہے اور پھول ایک بے حس چیز ۔اسے صرف پیسوں سے مطلب ہے ،اس بات سے غرض نہیں کہ خریدار پھول کسی کھنکتے جوان جسم کی نظر کرتاہے یا پیارے کی قبر کے۔‘عجیب سٹپٹادینے والی باتیں کرتی تھی۔‘‘

’’ٹھیک ہی کہا تھا اس نے ۔ضروری تو نہیں کہ جسم ہی پہلے فنا ہو ، بعض اوقات سانس چلتی رہتی ہے ،مگر روح کا جنازہ اٹھ جاتا ہے۔۔ ۔ ‘‘ جواد نے ونڈ سکرین سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

’’تم پر بھی مَیناکا اثر ہو گیا ہے۔جو بھی اس کی صحبت میں رہے گا فلسفی بن جائے گا۔۔۔‘‘میں نے منہ بنا کر کہا اور تیزرفتار کار کے باہر پیچھے دوڑتی عمارتیں دیکھنے لگا ۔

*

نصف گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد جواد نے کار ایک سنسان سڑک پر موڑی اور کچھ دور پہنچ کر انجن بندکردیا ۔

’’رُک کیوں گئے۔۔۔ پٹرول تو ختم نہیں ہو گیا ۔ ‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’مَینا کا گھر آگیاہے۔۔۔‘‘وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

’’یہاں ۔۔۔اس ویرانے میں؟‘‘

’’ہاں اس نے شہر کی رونق سے اکتا کر ویرانے میں بسیرا کر لیا ہے۔۔۔‘‘

’’تم کہنا کیا چاہتے ہو۔۔۔؟‘‘میرا دل تیزی سے دھڑکا۔

’’صرف یہی کہ مَینا اب دنیا میں نہیں رہی۔۔۔وہ مرچکی ہے۔‘‘اس نے جواب دیتے ہوئے چند گز دور قبرستان کے گیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔

’’مَینامرگئی۔۔۔‘‘

خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ لمحہ بھر میں یوں بے رنگ ہو گیا جیسے اس خبر نے مجھے کلر بلائنڈ کر دیا ہو۔ میرے کانوں میں آندھیاں چلنے لگیں اور پر نم آنکھوں کے سامنے قبرستان کا گیٹ دھندلا پڑ گیا۔ وقت تھم سا گیا تھاجیسے چاند ،سورج نے بھی گردش روک دی ہو۔ ۔۔ پھر جواد کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی:

’’ وہ سال پہلے دنیا چھوڑ گئی تھی۔ ڈاکٹرز کے مطابق اسے کینسر تھا ۔۔۔‘‘

’’کینسر۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے دیکھا ۔

’’ہاں،شاید روح کا۔۔۔ آخری دنوں میں وہ مجھ پر بہت اعتماد کرنے لگی تھی۔اسے قطرہ قطرہ مرتے دیکھنا میری زندگی کا کربناک ترین دور تھا۔میں چاہتا تھا وہ

تمہارے آنے تک زندہ رہے۔مگر وہ حوصلہ ہار بیٹھی تھی۔ ڈاکٹرز کہتے تھے اگر زندگی سے پیار کرے تو اس کی سانسیں بڑھ سکتی ہیں، مگر اسے جینے کی آرزو ہی نہیں تھی ۔۔۔ تمہیں بہت یاد کیا کرتی تھی وہ ۔ جب بھی تمہاراذکر ہوتا ، تمہاری شخصیت یوں پورٹریٹ کرنے کی کوشش کرتی جیسے تم میں کوئی خامی ہی نہیں۔ میں نے تمہارے خلاف اس کی زبان سے کبھی ایک لفظ نہیں سنا تھا۔ ۔۔ بستر مرگ پر اسے تمہارا انتظار بہت بڑھ گیا تھا ۔ہر آہٹ پر چونک اٹھتی اور بار، بار پوچھا کرتی تھی ۔آخری دنوں میں تو شاید اس کے جسم کا لہو بھی آنسوؤں میں ڈھل کر آنکھوں سے بہہ گیا تھا۔۔۔بہت محبت تھی اسے تم سے،اتنی اگر مجھ سے ہوتی تو اسے مرتا دیکھ کر جان دے دیتا۔۔۔ ‘‘جواد بچو ں کی طرح رو نے لگا۔

’’اور وہ چیٹ۔۔۔ جو ہفتہ پہلے نیٹ پر مجھ سے ہوئی تھی ؟‘‘ میں نیا خیال ذہن میں آتے ہی چونکا۔

’’چیٹ مَیناکے آئی ڈی سے میں کرتا تھا۔۔۔وہ چاہتی تھی تم پر اس کی موت کا انکشاف اس روز ہو، جب تم صرف اور صرف اسی کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر واپس لوٹو۔۔۔‘‘یہ کہہ کر جواد نے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور میرے طرف بڑھاتے ہوئے بولا:

’’تمہارے نام مَینا کا آخری پیغام۔۔۔‘‘

میں نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ پکڑا اورکھول کر کاغذ پر لکھی تحریر پڑھنے لگا:

ستم اک بارہی کرلو

زمانے بھرکا تم مجھ پر

میں تم کوبھول جاؤں گی

کبھی یہ سوچنا بھی مت

میں تنہاتھی، رہوں گی بھی

میں زندہ ہوں،جیوں گی بھی

مگراک لاش کی مانند

کہ دل میں آس ہوجس کے

کبھی تم لوٹ آؤ گے

میری پلکوں کوچوموں گے

میرے سرکواٹھاؤ گے

کہو گے گود میں رکھ کر

میں ناداں تھا،میں پاگل تھا

مجھے اک اور موقعہ دو

نہ غم تم کو کبھی دوں گا

میں دھیرے مسکراؤں گی

کہوں گی اب بھی ناداں ہو

کہ تھوڑے اب بھی پاگل ہو

کیے جو اتنے وعدے تھے

کہاں پوراکیا کوئی

جو،اب کہ مان جاؤں میں

نہ یوں تم کو ستاؤں میں

مجھے تم بھول جاؤ بس

اسے اپنا بناؤ اب

جوتیری زندگی میں ہے

جوتیری خوشی میں ہے

میں تم سے ملنا چاہوں گی

مگرکسی اور دنیا میں

جہاں نہ خواب ٹوٹیں گے

نہ کوئی رنجشیں ہوں گی

مگرنہ دل براکرنا

نہ شک مجھ پر کبھی کرنا

یہ وعدہ تھا ہمیشہ سے

میں تم کوپھرسے کہتی ہوں

میں تیری تھی زمین پرتو

رہوں گی آسماں پر بھی

محمد عرفان رامے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo