شجر ممنوعہ از عرفان رامے

میں خلق خدا کے اس طبقے سے تعلق رکھتی ہوں جو ہر صبح اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ کر خود کو دن بھر ملنے والی نئی اذیتوں کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے کم عمری میں ہی اپنی محرومیوں سے دوستی کر کے خواہشات کے جزیرے پر جینا سیکھ لیا تھا ۔

امی نے جب کبھی ابو کے سامنے اپنے بے گھر ہونے کا رونا رویا، جواب ہمیشہ یہی ملا کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔تم بھی اس رب کائنات کی مصلحت میں خوش رہنا سیکھ لو تو ذہنی اور قلبی سکون محسوس کرنے لگو گی۔

’’ ہاں! بشرطیکہ میری قلبی حرکت ذہنی پریشانیوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈال دے۔ ‘‘

چند لمحے توقف کے بعدامی اپنے مجازی خدا سلیمان احمد کو اپنی بیماری کا احساس بھی دلا جاتیں تو وہ گہری سانس لیتے ہوئے ناک پر ٹکی عینک اتار کر میز پر رکھتے اور نہایت شفقت بھرے انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ۔

’’ دل چھوٹا نہیں کرتے تانیہ بیگم ۔ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔ وقت کا تو کام ہی گردش کرنا ہے ۔ تم دیکھنا ایک دن ہم اپنا گھر ضرور بنائیں گے جہاں ہر وہ قانون نافذ ہو گا جو تم چاہو گی۔ ‘‘

میں ابو کے ان دو چار جملوں میں اک عجیب سا کرب اور بے بسی محسوس کیا کرتی تھی ۔ سچ بھی یہی تھا ، آخر کون چاہتا ہے کہ وہ پیاروں کے ہمراہ ساری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دے اور اُس کی خزاں زدہ زندگی میں بہار کبھی اپنے پنکھ نہ پھیلائے۔ گھر سے محبت بھی ماں کی گود کی طرح ہوتی ہے ۔ انسان جہاں پیدا ہو، جہاں اُس نے اپنے والدین کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا ہو،جہاں اُس نے اپنے سنہرے مستقبل کے خواب بننا سیکھے ہوں اس جگہ کو وہ کیسے بھلا سکتا ہے ۔ لوگ تو سات سمندر پار سے بھی اپنا آخری وقت آبائی گھر وں میں گزارنے کے لیے وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ایسے میں کسی بے گھر شخص کی معاشرے میں کیا شناخت ہو سکتی ہے۔

سب کچھ جانتے ہوئے بھی ابو سے مختصر بحث کے بعد امی بے بسی کے عالم میں میری جانب دیکھتیں تو میں فوراََ نظریں جھکا کر کسی کام کے بہانے پاس سے اُٹھ جایا کرتی تھی۔اس کہ وجہ ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ میں نے دوسال قبل کالج کو خیر آباد کہا تھا۔ شکل وصورت بھی بری نہیں تھی شاید اسی وجہ سے اُنہیں میر ارشتہ کسی اچھی جگہ نہ ہونے کا دکھ بھی اندر ہی اندر کھائے چلا جا رہا تھا۔

اس لمحے مجھے اپنی بے قدری کا احساس کئی گنا بڑھ جاتا تھا جب لو گ میری تعلیم و تربیت کو یکسر نظر اندا زکر کے اس بنا پر واپس لوٹ جاتے تھے کہ باپ انکم ٹیکس میں ملازمت کرتاہے ، اکلوتی بیٹی ہے مگر پھر بھی اپنا گھر نہیں ہے۔ جو لوگ زندگی بھر اپنا گھر نہ بنا سکے ،بیٹی کو جہیز میں دعاؤں کا علاو ہ کیا دے سکتے ہیں۔

مجھے یاد ے کہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو جیسے ہی ابو تنخواہ لے کر گھر پہنچتے تھے تو امی سب سے پہلے کرایہ کی رقم اُس میں سے الگ کر لیا کرتی تھیں:

’’ سلیمان احمد!میں ہر ماہ کرایہ کہ رقم الگ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچتی ہوں کہ ہم تو شاید کماتے ہی مالک مکان کے لیے ہیں۔ اس آزاد ملک میں رہنے کے لیے ہمیں اپنے ایک ایک سانس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ دو دن کرایہ دینے میں تاخیر ہو جائے تومالک مکان ماتھے پر آنکھیں رکھ کر دروازہ پیٹ ڈالتا ہے ۔ آخر یہ گھروں کے مالک ہمیں خود سے کمتر کیوں سمجھتے ہیں؟‘‘

’’ یہ سب میرے رب کا نظام ہے تانیہ بیگم ۔ وہ کسی کو دے کر آزماتا ہے تو کسی سے واپس لے کر ۔ ‘‘

ابو کے لہجے میں وہی ازلی سکون محسوس کرتے ہی امی زیر لب جانے کیا کچھ بڑبڑا کر رہ جاتیں ۔جب کہ میں ان کی جھنجھلا ہٹ دیکھ کر مسکرا دیا کرتی تھی۔

۔*۔

جن دنوں فہیم سے میرے رشتے کی بات چل رہی تھی امی کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں۔ فہیم کی ایک پرائیوٹ فرم میں اوسط درجے کے ملازمت تھی۔ خاندان شریف تھا اور فیملی بھی زیادہ بڑی نہیں تھی۔اس کے باوجود امی کو یہ رشتہ دل سے قبول نہیں تھا۔ انہیں اس بات پر شدید اختلاف تھا کہ فہیم کے پاس اپنا گھر نہیں ہے۔ ان کے نقطہ نظر سے ابو بھی متفق تھے لیکن اپنی قناعت پسندی نے اس بار بھی انہیں فہیم کے حق میں دلائل کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا تھا:

’’ تانیہ بیگم! رشتہ بہت معقول ہے ۔ لڑکا او ر اس کے گھر والے بھی دیکھے بھالے ہیں۔ اگر گھر نہیں ہے تو کیا ہوا۔ ساری دنیا اپنے گھروں میں تو نہیں رہتی۔ اللہ نے چاہا تو ایک دن فہیم بھی اپنا گھر بنا ہی لے گا۔ ‘‘

’’ یہ سب اس قدر آسان ہوتا تو آج ہم لوگ بھی بے گھر نہ ہوتے ۔ یہ بہت نفسانفسی کا دور ہے سلیمان احمد ۔ پیسہ ہمیشہ پیسے والے پر ہی مہربان ہوتا ہے ۔ جس کے پاس آج ایک مکان ہے کل اُس کے پاس دو ہونے کہ اُمید تو رکھی جا سکتی ہے ۔ لیکن کرائے دار تو چھید کیے ہوئے برتن کی طرح ہوتا ہے ۔ اُس کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی کیوں کہ اُسے اپنے ہر سانس کی قیمت چکانا ہوتی ہے ۔‘‘

’’ تم وسوسوں میں پڑ نے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں سوچو۔ بیٹیوں کو زیادہ عرصہ گھر بٹھائے رکھنا دانش مندی نہیں ۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کر چکی ہے ۔ چند سال مزید گزر گئے تو رشتوں کاکال پڑ جائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی پر کبھی ایسا وقت آئے ۔ لہٰذا جلد بازی میں انکار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اس کے ہر پہلو کا جائزہ لینا ہو گا۔ ‘‘

ابو جان کے اصرار پر امی نے فہیم کے سلسلے میں نیم رضامندی کا اظہار تو کر دیا تھا لیکن دل سے خوش نہیں تھیں۔

فہیم کا رشتہ تایا جان کی معرفت آیا تھا ۔ بات ابھی کسی فیصلے تک نہیں پہنچی تھی کہ میری زندگی کا منحوس ترین لمحہ آن پہنچا۔ ابو اور امی کسی عزیز کی عیادت کے لیے ہسپتال جا رہے تھے کہ موٹر بائیک پر ایک قاتل بس چڑ ھ دوڑی۔ عینی شاہدو ں کے مطابق حادثہ اس قدر اچانک پیش آیا تھا کہ میرے والدین کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔ امی ابو مجھے ہمیشہ کے لیے بے یارو مدد گار چھوڑ کر فلک کے اُس پا ر جابسے تو مجھے بھی کرائے کا مکان چھوڑ کر تایاجان کے ہاں منتقل ہونا پڑا۔

تایا جان کو کبھی بھی مجھ سے انسیت نہیں رہی تھی۔ اُ ن کے مالی حالات ہم سے بہت بہتر تھے یہی وجہ تھی کہ وہ صرف عید شب برا ت پر ہی ہمارا حال احوال پوچھنے کی زحمت کیا کرتے تھے۔ وہ مجھے اپنے ہاں صرف برادری کا منہ بند کرنے کے لیے لائے تھے۔ رہی سہی کسر تائی جان نے پوری کر دی تھی ۔ وہ مجھے اپنے بیٹیوں کے لیے نحوست قرار دے کر جلد از جلد بیاہ دینے پر تلی ہوئی تھیں۔ حالانکہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میری موجود گی سے ان کی بیٹیوں کے حقوق غصب ہو جاتے ۔

’’ سلیمان احمد تھا تو میرا سگا بھائی مگر عقل سے بالکل پید ل تھا۔ ‘‘ تاتا جان ہر چوتھے روز ڈائنگ ٹیبل پر چائے کا کپ ہاتھ میں آتے ہی اس موضوع پر زہر فشانی کرنے لگتے تھے۔ ’’ساری عمر انکم ٹیکس جیسے محکمے میں ملازمت کرنے کے باوجود اکلوتی بیٹی کو کرائے کے مکان میں چھوڑ گیا۔لوگ صحیح کہتے تھے کہ جس روز شہر میں سو احمق مرے تھے اُسی روز سلیمان احمد نے دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔۔۔ ساری زندگی ایمانداری کا میڈل سینے پر سجائے خود بھی ذلیل ہوتا رہا اور اولاد کے لیے بھی کچھ نہ کر سکا۔‘‘

تایا جان کے الفاظ میری روح تک کو چھلنی کر جاتے تھے مگر مجھے نہایت صبر سے کام لینا تھا ۔ کیوں کہ زندگی نے کبھی مجھے دوسری آپشن دی ہی نہیں تھی۔ بہت جلد مجھ پر یہ عقد بھی کھل گیا کہ اس ساری سنگ زنی کا مقصد مجھے ذہنی طور پر فہیم سے شادی کے لیے تیار کرنا تھا۔ تائی جان کو مجھ سے مستقل جان چھڑانے کا یہی ایک طریقہ سوجھا تھا کہ فہیم سے شادی کر دی جائے۔

چنانچہ ایک روز تاتا جان نے اپنی مجبوریوں کا رونا روتے ہوئے مجھ سے اس رشتے کی بابت حتمی رائے طلب کی تو میں نے ان کے فیصلے کو اپنا فیصلہ قرار دے کر مسئلے کو منتقی انجام تک پہنچا دیا۔ فیصلہ تو شاید وہ پہلے ہی کیے بیٹھے تھے۔ بس کارروائی کے طور پر میری ہاں سننا باقی تھی۔

۔*۔

کچھ دنوں بعد سادگی سے میرا نکاح فہیم رضا سے کر دیا گیا اور رخصتی بھی ہو گئی۔

فہیم متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد وفات پا چکے تھے جب کہ والدہ کا سایہ سر پر موجود تھا۔ وہ دو بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ان کے گھریلو مسائل بھی بالکل وہی تھے جن سے میں ساری زندگی نبرد آزما رہی ۔ اسی لیے پیا گھر پہنچ کر مجھے اجنبیت کا احساس بالکل نہیں ہوا تھا ۔

فہیم مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔وہ اپنی بساط میں رہتے ہوئے میری ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔میں خود بھی اپنی زندگی سے بہت خوش تھی لیکن یہ کسک اکثر دل کو افسردہ کر دیا کرتی تھی کہ کاش میرا بھی ایک گھر ہوتا جسے میں بہت محبت اور چاہت سے سنوارتی۔ جس کی ایک ایک اینٹ سے میری جذباتی وابستگی ہوتی اور اس کے درو دیوار ہر پل مجھے تحفظ کا احسا س دلاتے ۔ لیکن افسوس کہ یہ سب خواب و خیال کی باتیں تھیں۔

شادی کے بعد میرا صرف ٹھکانہ بدلا تھا حالات نہیں۔ ہر ماہ کی یکم تاریخ کو فہیم اپنی خون پسینے کی کمائی لے کر گھر میں داخل ہوتے تو میں اپنی ماں کی طرح سب سے پہلے اُس میں سے مکان کا کرایہ نکال کر الگ کرتی اور پھر باقی مانندہ رقم اور اخراجات کی لسٹ سامنے رکھ کر سر پکڑ لیتی۔

گھر بھر کی کفالت فہیم کے ذمہ تھی اور وہ بہت جاں فشانی سے محنت کر رہے تھے ۔یہ ان کی محنت کا نتیجہ تھا کہ صرف دو سال کے اندر انہوں نے اپنی دونوں بہنوں کو بیاہ کر اپنے اپنے گھر رخصت کر دیا۔ شادیوں کی تقریب گو کہ بہت سادگی سے منعقد ہوئی لیکن پھر بھی قرض کا سہارا لینا ہی پڑا تھا ۔

وقت کا پہیہ اپنی مخصوص رفتار سے گھومتا رہا اور یوں زندگی کے دس سال گزر گئے۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بیٹی نادیہ اور بیٹے قاسم کی انمول نعمت سے بھی نواز دیا۔جب کہ فہیم کی والدہ اور میرے تایا جان اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔

ہم اپنی زندگی سے کافی حد تک مطمئن تھے۔ گو آمدن اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ہر آسائش میسر ہوتی لیکن اللہ کا شکر تھا کہ کبھی اُس نے بھوکا نہیں سونے دیا تھا۔ ا ب ہماری زندگی کا اہم ترین مقصد اپنے گھر کا حصول رہ گیا تھا ۔ ہماری اپنی زندگیاں تو جیسے تیسے گزر ہی گئی تھیں مگر دل میں یہ خواہش ضرور تھی کہ اپنی اولاد کو اس ذلت سے بچایا جا سکے۔

فہیم خود بھی اس سلسلے میں پر عزم تھے۔ انہی دنوں فہیم کے ایک دفتری ساتھی نے اپنا پلاٹ فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ پلاٹ شہر کے مضافات میں نو تعمیر شدہ ہاوسنگ سوسائٹی میں تھا۔ فہیم نے مجھ سے مشورے کے بعد وہ پلاٹ خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ تمام تر جمع پونجی کا حساب لگانے کے باوجود ہمارے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ پلاٹ کی قیمت ادا کی جا سکتی ۔ بہت سوچ بچارکے بعد میں اپنا تمام تر زیور لا کر فہیم کی جھولی میں ڈال دیا ۔

’’یہ تم کیا کر رہی ہو۔ یہ زیور ہی تو ہمارا واحد اثاثہ ہے۔ اگر آج اسے سنبھال کر رکھ لیں گے تو کل نادیہ کی شادی میں کام آ جائے گا۔ ‘‘

وہ تو اس زیور کے بارے بہت دور کی سوچے بیٹھے تھے۔ لیکن میں نے مصمم ارادہ کرنے کے بعد ہی انہیں زیور فروخت کرنے کے لیے دیا تھا ۔میں نے اُن کا موقف توجہ سے سنا اور پھر قریب بیٹھ کر جواب دیا:

’’ سونا کبھی بھی غریب کا نصیب نہیں ہوا کرتا۔ یہ صرف ان جھولیوں میں پھلتا پھولتا ہے جہاں ان پر نظر نہیں رکھی جاتی۔ غریب تو اس سلسلے میں سدا کا عیبی ہے۔ جب بھی اس کے گھر پر کوئی قیامت ٹوٹتی ہے اُس کی نظر سب سے پہلے کانوں کے جھمکوں، گلے کے ہار اور ہاتھوں کے کنگن پر جاتی ہے ۔ آپ اللہ کا نام لیں اور اسے سنارکے حوالے کر آئیں۔ زندگی نے وفا کی اور اگر قسمت میں ہوا تو اُوپر والا پھر سے کوئی وسیلہ بنا دے گا۔ ۔۔ویسے بھی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ گھر کا نہ ہونا ہے۔ گھر بن گیا تو کرائے سے جان چھوٹ جائے گی اور بچت خود بخود ہونے لگے گی۔ جب ہاتھ میں پیسہ آنا شروع ہو جائے تو کوئی بھی مسئلہ ،مسئلہ نہیں رہتا۔ ‘‘

فہیم میری ساری تمہید سر جھکائے سنتے رہے ، وہ بالکل خاموش تھے ۔ بظاہر ان کے پاس میری تجویز کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی ۔لیکن میں جانتی تھی کے ان کی روح میں اُس پل ٹوٹ پھوٹ کا عمل بہت تیز ہو گیا تھا۔ ان کی جھکی ہوئی پلکوں میں ہونے والی تھرتھراہٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ ان کی آنکھیں نہیں پر دل ضرور رورہا ہے ۔شادی کے بعد انہوں نے اپنی بہنوں کی شادیاں کیں تو سر پر قرض بھی چڑھ گیا تھا۔لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری بلکہ شام کے وقت ایک پارٹ ٹائم ملازمت تلاش کر کے جیسے تیسے اپنے سر سے قرض کا بوجھ اتار پھینکا تھا ۔ان مشکل حالات میں اگر وہ چاہتے تو مجھ سے زیور لے کر آسانی سے اپنا قرض اتار سکتے تھے اورمیں یہ قربانی دینے میں ایک پل کی دیر نہ کرتی مگر انہوں نے خود اپنے لیے مشکل راستہ چنا تھا۔ جو اُن کی خودداری اور فرض شناسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

قصہ مختصر کافی بھاگ دوڑ کے بعد ہم لوگ زمین کا وہ ٹکڑا خریدنے میں کامیاب ہو گئے جس پر ہمارے خوابوں کو مجسم حالت میں ظہور پذیر ہونا تھا۔ تمام تر جمع پونجی اور زیور فروخت کرنے کے باوجود بھی ہمارے پاس رقم پوری نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ فہیم نے اپنے دوست کی منت سماجت کر کے اُسے قائل کر لیا کہ باقی رقم دو سال کے اندر اقساط میں ادا کر دی جائے گی۔

جس روز یہ معاملات طے پائے ہمارے گھر میں عید کا سماں تھا۔ سب کے چہروں سے خوشی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں اور میں سوچ رہی تھی کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ چند مرلے کا پلاٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جنہیں اس کرب کا احساس ہی نہیں ہو گا کہ اپنا گھر نہ ہونے پر انسان کو کن اذیتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ جب کہ بے شمار لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں وراثت میں جائیداد ملی اور وہ عمر بھر خود کو فرعون سمجھ کر بنا ہاتھ پاؤں ہلاے ان کی کرائے کھاتے رہے۔لیکن پھر میں نے سوچا کہ ابو صحیح کہا کرتے تھے ۔اس میں بھی ربِ کائنات کی مصلحت ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے دے کر آزماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چھین کر ۔

وقت ایک مرتبہ پھر پر لگا کر اُڑنے لگا ۔پلاٹ کی اقساط ختم ہو گئیں تو ہم نے یہ اہم مرحلہ طے ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ فہیم بہت پر عزم تھے کہ آیندہ چند برسوں میں ہم ضرور اس قابل ہو جائیں گے کہ اپنا گھر تعمیر کر سکیں۔

اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے وہ اب بھی صبح شام دو جگہ ملازمت کر رہے تھے۔ لیکن ان کی صحت اب تیزی سے گرنے لگی تھی۔میں جب بھی انہیں اپنا مکمل چیک اپ کروانے کا مشورہ دیتی، جواب یہی ملتا کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے کچھ تھکاوٹ ہو جاتی ہے ۔ دیکھنا جب ہمارا گھر بن گیا تو میں پھر سے ہشاش بشاش ہو جاؤں گا۔

بچے اب بڑے ہو چکے تھے چنانچہ میں نے فہیم کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ مجھے بھی ملازمت کرنے کی اجازت دے دیں۔ وہ اس بات کے لیے دل سے راضی تو نہیں تھے لیکن جب میں نے سمجھایا کہ اس طرح ہم جلدی رقم جمع کر کے گھر کی تعمیر کا آغاز کر سکتے ہیں تو وہ نیم رضامند ہو گئے اور یوں میں نے بھی ایک فرم میں ملازمت کا آغاز کر دیا۔

اب ہم دونوں کو دنیا جہان کا کوئی ہوش نہیں رہا تھا۔ اپنے گھر کا حصول ہماری زندگی کا واحد نصب العین بن کر رہ گیا تھا۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایک روز چھٹی کے بعد میں ابھی گھر واپس پہنچی ہی تھی کہ دروازے پر تیز دستک سنائی دی ۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے دو لڑکے موٹر بائیک پر موجود پائے۔

’’ آپ فہیم صاحب کی اہلیہ ہیں؟ ‘‘

’’جی ہاں فرمائیں۔ ‘‘ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا تو ان میں سے ایک بائیک سے اتر کر میرے قریب چلا آیا اورمودبانہ لہجے میں بولا:

’’ بھابی! ہم فہیم بھائی کے ساتھ دفتر میں کام کرتے ہیں۔کچھ دیر قبل فہیم بھائی اچانک دفتر میں بے ہوش ہو گئے تھے۔ ہمارے باقی ساتھی انہیں ایمبولینس میں ہسپتال لے گئے ہیں۔‘‘

’’کک۔۔۔کیا ہوا فہیم کو؟ ‘‘ مجھے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا’’ وہ ٹھیک تو ہیں؟ ‘‘

’’ یہ تو معلوم نہیں البتہ انہیں ہوش بالکل نہیں تھا اور چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔ اس وقت وہ نیشنل ہسپتال میں ہیں۔ پلیز آپ وہیں پہنچ جائیں ۔ہمارے سیکشن انچارج نصیر بھائی اس وقت اُن کے پاس ہی موجود ہیں۔ بس آپ دیر مت کیجئے گا۔ ‘‘

’’جی بہتر۔۔۔۔‘‘

میں نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا اور اپنے بیٹے قاسم کو ہمراہ لے کر گھر سے نکل پڑی ۔ نیشنل ہسپتال وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا ۔ ہم دونوں ٹیکسی میں وہاں پہنچنے تو گیٹ پر فہیم کے دوست اور سیکشن انچارج نصیر بھائی سے ملاقات ہو گئی۔ وہ فوراََ ہمیں تسلیاں دیتے ہوئے ایمرجنسی میں لے گئے جہاں فہیم ایک بستر پربے سدھ پڑے تھے۔

ڈاکٹر کے مطابق انہیں برین ٹیومر تھا۔ وہ مرض جسے وہ ہمیشہ عام سردرد سمجھ کر محلے کے ڈاکٹر سے علاج کرواتے رہے تھے اب ایک عفریت کا روپ دھا ر چکا تھا۔ڈاکٹر نے اُن کی حالت دیکھ کر فوری طورپر چند مہنگے ٹسٹ تجویز کیے تھے اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مرض بہت بڑ ھ چکا ہے ۔

یہ سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تو میں اُٹھ کر واش روم میں جا گھسی ۔ زندگی مجھ سے ایک نئے امتحان کی متمنی تھی ۔وقت ایک بار پھر مجھ سے قربانی کا متقاضی تھا۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی شاید اس لیے کہ میں آ ج ہی رو لینا چاہتی تھی ۔یہ بات مجھے قطعاََ گوارہ نہیں تھی کہ میری آنکھوں کی نمی فہیم کو مزید کمزور بنا دے۔

چند روز ہسپتال میں گزارنے کے بعد میں فہیم کو گھر واپس لے آ گئی۔ زندگی پہلے سے بھی مشکل ہو گئی تھی۔ اب مجھے اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ فہیم کی دیکھ بھال بھی کرنا تھی۔ فہیم کی صحت روز بروز گرتی چلی جا رہی تھی ۔ پرائیویٹ نوکری تو ہوائی روزی ہوا کرتی ہے ۔ وہاں قدر انسانوں کی نہیں کام کی ہوتی ہے ۔ لہٰذا بمشکل ایک ماہ بعد انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

فہیم جو کہ اپنی بیماری سے لا علم تھے اس صدمے نے انہیں مزید نڈھال کر دیا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس حالت میں سڑکوں پر نوکری کے لیے مارے مارے پھریں۔لہٰذا اب میں انہیں کسی نہ کسی بہانے باہر جانے سے روکنے لگی تھی۔ لیکن وہ بہت خودار تھے۔ انہیںیہ سب قطعاََ اچھا نہیں لگتا تھا اور وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگے تھے ۔

ایک صبح ناشتہ تیار کرنے کے بعد جب میں فہیم کو جگانے کمرے میں گئی تو وہ بے ہو ش پڑے تھے۔ انہیں اس حالت میں دیکھتے ہی میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ میں نے فون کر کے فوراََ ایمبولنس منگوا لی۔

فہیم کودوبارہ ہسپتال لے جایا گیا اور ان کے بہت سے ٹسٹ ہوئے ۔مرض پوری طرح اپنے پنجے گاڑ چکا تھا او ر اب اپریشن کرنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھااب اُن کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ مرض لا علاج ہو چکا ہے البتہ ادویات کے متواتر استعمال سے ان کی تکلیف میں کچھ کمی کی جا سکتی تھی۔

کینسر اُن موذی امراض میں سے ایک ہے جو اگرکسی کا گھر تاک لیں تو کچن کے برتن تک بک جاتے ہیں۔ یہ صرف مریض کے لیے ہی اذیت ناک نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیاروں کو بھی زندہ درگور کر دیتا ہے ۔ جب وہ اپنی عزیز ترین ہستی کو یوں قطرہ قطرہ مرتے دیکھتے ہیں تو خود بھی نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتے ہیں۔

ڈاکٹرنے فہیم کے علاج کے سلسلے میں جن تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا تھااس کے لیے خاصی رقم کی ضرورت تھی۔فہیم میری زندگی کا واحد اثاثہ تھے ۔ ان کے بغیر جینا میرے لیے موت سے بھی بد تر تھا لہٰذا بہت سوچ بچار کے بعد میں نے اپنا پلاٹ فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

فہیم نے پلاٹ کی رجسٹری جانے کیا سوچ کر میرے نام کروائی تھی۔ میں نے ان کے علم میں لائے بغیر ایک پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کیا اور پھر اسی کے توسط سے ایک ہفتے کے اندر اندر پلاٹ فروخت کر دیا۔

اس بات کا اندازہ مجھے بخوبی ہو چکا تھا کہ پراپرٹی ڈیلر اور خریدار نے میری مجبوری سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہت کم رقم کی پیش کش کی تھی مگر مرتی کیا نہ کرتی ۔ اس وقت مجھے رقم کی اشد ضرورت تھی۔ ادویات پر اُٹھنے والے بے پناہ خراجات نے سارے گھر کا نظام درہم برہم کر دیا تھا ۔ اُدھر فہیم کی حالت دن بدن بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی اس لیے رقم ہاتھ میں آتے ہی میں انہیں ایک اچھے ہسپتال میں لے گئی۔

ہسپتال میں فہیم اکثر مجھ سے علاج پر اُٹھنے والے اخراجات کی بابت استفسار کرتے رہتے تھے مگر میں ادھر ادھر کی باتیں کر کے موضوع کو ٹال دیا کرتی تھی۔

ایک شام جب میں ان کے قریب بیٹھی باتیں کررہی تھی تو انہوں نے لمحہ بھر کے لیے میری آنکھوں میں جھانکنے کے بعدمیرا ہاتھ تھام لیا اور پر سکون لہجے میں بولے:

’’ تم بہت عظیم ہو عالیہ۔ اپنے دکھ کو فراموش کر کے میرے دکھ کی شدت کم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہو۔ حالانکہ یہ جانتی ہو کہ موت دھیرے دھیرے میری روح پر قابض ہوتی چلی جا رہی ہے۔ُ ُ

’’یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔ ہم دونوں تو یک جان دو قالب ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔ بیماری تو جسم کا صدقہ ہوا کرتی ہے۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ آپ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ ‘‘ان کی بات سن کر میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔

’’مجھے بہلاؤ مت عالیہ۔ میں بچہ نہیں ہوں۔ یہ بات میں عرصے سے جانتا ہوں کہ مجھے برین ٹیومر ہے۔ ‘‘

ان کی زبان سے یہ انکشاف سن کر لمحہ بھر کے لیے تو میں سکتے میں آ گئی تھی۔

’’اگر آپ جانتے تھے تو مجھ سے کیوں چھپایا ؟ ‘‘

جواباََ وہ بے دلی سے مسکرا کر بولے:’’ یہ سوال میں بھی تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ تم نے میری ہی بیماری کو مجھ سے کیوں چھپایا ۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ تم نہیں چاہتی تھیں کہ مجھے یہ خبر سن کر تکلیف پہنچے۔کچھ ایسے ہی جذبات میرے بھی تھے۔ جب ڈاکٹر نے مجھے برین ٹیومر کے بارے میں بتایا تھا تو میں نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنی محنت کو دوگناکر دیا تھا ۔ میری دلی بلکہ شاید پہلی اورآخری خواہش یہی تھی کہ مرنے سے قبل میں تم لوگوں کو ایک چھت دے جاؤں۔میرا خاندان میری آنکھیں بند ہوتے ہی بے سائباں نہ ہو جائے۔ مگر میں ایسا نہ کر سکا۔۔۔ مجھے معاف کر دو عالیہ۔ میں بیچ راہ میں تمہیں بے یارو مدد گار چھوڑ کر رخت سفر باندھ بیٹھا ہوں۔بہت بدنصیب ہوں میں جو اس کرب کو ساتھ لیے قبر میں اُتر جاؤ ں گا کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کو بے یارومدد گار چھوڑ آیا ہوں۔ اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنا ہے یہ میرے نزدیک۔میں گناہ گار ہوں تمہارا اور اپنے بچوں کا۔ ‘‘

فہیم کے الفاظ جب مجھے نشتر کی طرح چبھنے لگے تو ضبط کے تمام بندھن بھی ٹوٹ گئے۔ اس وقت یقیناًمیں اپنے حواس میں نہیں تھی اور فہیم سے لپٹ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر روئے چلی جا رہی تھی۔

’’ میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گی فہیم۔ نہ تو میں کسی مرحلے پر خود ہمت ہاروں اور نہ ہی آپ کو حوصلہ ہارنے دوں گی۔میری دنیا صرف آپ سے ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر لاوارث نہیں ہونا چاہتی ۔ ‘‘

’’محبتیں کبھی مرتی نہیں ہیں عالیہ۔ جسم خاک سے مل کر خاک ہو جاتے ہیں لیکن محبتیں اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک خستہ حال قبروں پر پھول دکھائی دیتے رہیں۔ تمہیں بہت حوصلے سے کام لینا ہو گا۔ ‘‘

وہ جانے مجھے کیا کچھ سمجھارہے تھے اور میں ان کے سینے پر سر رکھے مسلسل روئے چلی جا رہی تھی۔ یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا ۔ پھر جیسے فہیم کے ذہن کے تاریک پردے پر بجلی سی کوندی تھی:

’’ سنو !اتنے مہنگے ہسپتال میں تو روز بہت خرچہ ہوتا ہو گا ہمارا۔اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس۔کہیں تم نے وہ پلاٹ تو نہیں بیچ دیا ۔ ایک روز قاسم بتارہا تھا کہ مما پراپرٹی ڈیلر سے ملنے گئی ہیں۔‘‘

’’ آپ بے فکر رہیں۔ میں وہ پلاٹ کیسے فروخت کر سکتی ہوں جسے آپ نے اتنی چاہت سے خریدا تھا۔ آپ کے علاج کا سارا خرچہ وہ کمپنی برداشت کر رہی ہے جہاں میں ملازمت کرتی ہوں۔ پراپرٹی ڈیلر کے پاس تو میں یہ پوچھنے گئی تھی کہ وہ مجھے کسی اچھے کنسٹرکشن والے سے ملوا دیں۔ کیوں کہ میں ہاؤس بلڈنگ سے قرضہ لے کرفوراََ مکان بنوانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔‘‘

وقت نے مجھے اپنے عزیز ترین شوہر سے جھوٹ بولنا بھی سکھلا دیا تھا۔ میں نے اصل بات گول کرتے ہوئے فہیم کو ایک نئی آس دلائی تو اُن کی ویران آنکھوں میں چمک سی آ گئی ۔ ’’ کیا تم سچ کہہ رہی ہو عالیہ۔ کیا ہمیں ہاؤس بلڈنگ سے واقعی قرضہ مل جائے گا۔ ‘‘

’’ جی بالکل بہت جلد۔ میرے دفتر کی ایک سہیلی کے والد ملازمت کرتے ہیں وہاں۔ بہت اچھی پوسٹ پر ہیں۔ انہوں نے بہت مدد کی ہے میری اس سلسلے میں۔ میں نے تو کیس تیار کر کے فائل بھی جمع کروا دی ہے ۔ ‘‘

’’کیا واقعی ،مگر تم نے یہ سب مجھ سے کیوں چھپایا؟ ‘‘ فہیم نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کیا۔

’’میں آپ کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔ آپ کے چہرے پر وہ طمانیت دیکھنا چاہتی تھی جس کے لیے برسوں آپ نے دن رات محنت کی ہے۔ ‘‘میں نے ان کے کاندھے پر سر رکھ دیا تو وہ دھیر ے سے مسکرا کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگے:

’’ خدا جانے وہ دن کبھی میری زندگی میں آئے گا بھی یا نہیں۔ ‘‘

’’ کیوں نہیں آ ئے گا۔ اب تو ہم اپنی منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو بہت جلد ہم اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے۔ ایسا گھر جسے ہم فخرسے اپنا کہہ سکیں گے۔ ‘‘

’’ انشاء اللہ۔‘‘

فہیم نے مختصر جواب دیا اور پھر نقاہت محسوس کرتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

۔*۔

چند ہفتے بعد فہیم کی حالت اچانک تشویش ناک ہو گئی ۔ اب ان کا زیادہ وقت ہسپتال میں گزر رہا تھا ۔ میں انہیں ہر قسم کی اذیت سے بچانا چاہ رہی تھی اسی لیے آئے روز کوئی نیا جھوٹ بول کر انہیں خوش رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔بچوں کو بھی میں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ اپنے بابا کو کسی صورت یہ مت بتائیں کہ ہمارا پلاٹ فروخت ہو چکا ہے ۔

اب میں نے فہیم سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہاؤس بلڈنگ سے قرضہ منظور ہو گیا ہے اور ٹھیکے دار کو پہلی قسط کی ادائیگی ہوتے ہی تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا۔انہیں اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں نے کاغذ پر بنا ہو امکان کا ایک فرضی نقشہ بھی دکھا دیا تھا۔

جب میں نے فہیم کو وہ نقشہ دکھایا تو اُن کی خوشی قابل دید تھی۔ وہ بار بار مجھ سے تعمیر سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کر رہے تھے:’’ اگر میں تندرست ہوتا تو خود سارے کام کی نگرانی کرتا۔ یہ ٹھیکیدار لوگ تو کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ ‘‘

’’ آپ فکر مت کریں ٹھیکیدار بھروسے کا آدمی ہے ۔ میری سہیلی کے والد نے ہی اُسے ہمارا کام کرنے کے لیے رضامند کیا ہے۔ ‘‘

’’ جس روز ٹھیکیدار اپناکام شروع کرے تم مجھے وہاں لے جانا ۔میں اپنے گھر کی تعمیر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ ان کے لہجے میں اس قدر حسرت تھی کہ مجھے اپنی روح تک گھائل ہوتی محسوس ہوئی ۔

’’ضرور چلیں گے مگر ابھی نہیں۔ فی الحال ڈاکٹرز آپ کووہاں جانے کی اجازت بالکل نہیں دیں گے۔ جیسے ہی حالت تھوڑی سنبھلے گی میں خود آپ کو ساتھ لے جاؤں گی۔ ‘‘

’’ وعدہ کرو۔ ‘‘

’’وعدے تو ٹوٹ جایا کرتے ہیں فہیم۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ آپ کی خواہش ضرور پوری ہو گی۔ ‘‘

میں اپنی جانب سے انہیں مطمئن رکھنے کی ہر دم کوشش کر رہی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ مکان کی تعمیر کا سن کر ان کے اندر پھر سے زندہ رہنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اگر وہ خود جینے کی کوشش کریں گے تو موت کبھی اُن پر حاوی نہیں ہو پائے گی مگر یہ سب میری خام خیالی تھی۔ ہوتا وہی ہے جو کاتب تقدیر لکھ دیا کرتا ہے۔

اُسی رات اچانک فہیم کی حالت بہت خراب ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے اُنہیں بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں مگر کون ہے جو وقت اور ریت کو مٹھی میں قید کر پایا ہے ۔ میں کبھی نہیں بھول پاؤں گی کہ وہ رات کا پچھلا پہر تھا جب فہیم مجھے اور بچوں کو بلکتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

وقتی طور پر تو جیسے میں اپنا ذہنی توازن ہی کھو بیٹھی تھی۔ میں لاکھ جتن کرنے کے باوجود اپنی زندگی کا وہ مضبوط ترین سہارا کھو بیٹھی تھی جس نے مجھے حقیقی معنوں میں جینا سکھایا تھا ۔ جو میری زندگی کا حاصل تھا۔

فہیم کی تدفین قریبی قبرستان میں کر دی گئی ۔قبر کے لیے جگہ کیسے اور کس نے منتخب کی میں نہیں جان پائی تھی ۔البتہ اتنا معلوم تھا کہ اس نیک کام میں حصہ لینے والے فہیم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

قاسم ابھی خود بچہ تھا ۔ اُسے ان چیزوں کے بارے کچھ علم نہیں تھا بس غم سے نڈھال آنسوؤں کے نذرانے پیش کرتاباپ کے جنازے کے ساتھ ہو لیا اور پھر سینکڑوں لوگوں کی موجود گی میں فہیم کو سپرد لحد کر دیا تھا۔

باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد بچوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں رہا تھا۔فہیم کی بہنیں چند روز بھائی کی موت کا سوگ منا کر واپس لوٹ گئیں تو گھر کی حالت آسیب زدہ سی ہو گئی۔

نادیہ راتوں کو چیختی چلاتی نیند سے بیدار ہو جاتی تھی اور قاسم کو تو جیسے چپ سی لگ گئی تھی۔ وہ کتاب کھول کرہاتھ میں پکڑ لیتا اور پھر اس کیاآڑ میں گھنٹوں کسی گہری سوچ میں گم رہتا تھا۔ شروع شروع میں تو وہ اکثر فہیم کی قبر پر چلا جایا کرتا تھا ۔ جب واپس لوٹتا تواُس کی خوبصورت آنکھوں کی لالی اس بات کی چغلی کھاتی دکھائی دیتی کہ وہ باپ کے سرہانے بیٹھا روتا رہا ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر میں تڑپ اٹھتی تھی۔ لہٰذا ایک روز میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر بیٹے یوں تنہا باپ کی قبر پر جانے سے منع کر دیا ۔

ان مشکل حالات میں اگر کسی نے میرا بھرپور ساتھ دیا تو وہ صرف میرا ادارہ تھا۔ ہمارے مالک بہت خدا ترس انسان تھے۔ انہوں نے عدت کے دنوں میں نا صرف میری طویل رخصت منظور کی بلکہ تنخوا اور دیگر الاؤنسس میں بھی کسی قسم کی کمی نہ آنے دی۔یقیناًیہ ایک ایسا نیک عمل تھا جس کا اجر انہیں خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا۔

عدت ختم ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اپنی رہائش تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس گھر میں ہر سو فہیم کی یادیں بکھری ہوئی تھیں۔ ہر چیز میں ہمیں ان کے لمس کا احساس ہوتا تھا ۔ میں جانتی تھی کے بچوں کے لیے باپ کی یادوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے اپنے ماضی کی یادوں میں کھو کر مستقبل سے غافل ہو جائیں ۔

گھر کا انتظام ہو گیا تو اس سے اگلے روز میں نے قاسم اور نادیہ کو ہمراہ لیا اور ہم فہیم کی قبر پر پھولوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے قبرستان روانہ ہو گئے۔

عدت مکمل ہونے کے بعد میں پہلی مرتبہ شوہر کی قبر پر جا رہی تھی۔میرے ہاتھوں میں سنگ مرمر سے بنا ہوا ایک چھوٹا ساکتبہ تھا جس پر ’’ بیت الفہیم‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں یہ کتبہ اپنے ہاتھوں سے فہیم کی قبر پر لگانا چاہتی تھی۔ اس لمحے میرے دل پر نا قابل بیان رقت طاری تھی اور ذہن میں اچھے دنوں کی یادیں کسی فلم کی طرح مناظر بدل رہی تھیں۔

لیکن جیسے ہی ہم تینوں قبرستان کے قریب پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھتے ہی ہمارے ہوش اڑ گئے۔ وہ جگہ جہاں فہیم کی قبر ہوا کرتی تھی اس مقام پر سڑک کو کشادہ کرنے کے لیے بہت سی قبروں کو مسمار کیا جا چکا تھا۔

’’یہاں تو قبر تھی میرے شوہر کی ؟‘‘

’’کیا ہے یہ سب ؟‘‘

’’ کہاں ہے میرے شوہر کی روئے زمین پر آخری نشانی؟ ‘‘

یہ منظر دیکھتے ہی میں قریب کھڑے اس شخص پر برس پڑی جو کام جلدی نمٹانے کے لیے مزدوروں کی ڈانٹ ڈپٹ کر رہا تھا۔ میرے لہجے کی لڑکھڑاہٹ اور زرد پڑتی رنگت دیکھتے ہی اُس نے لمحہ بھر کے لیے توقف اختیار کیا اور نرم لہجے میں بولا:

’’مجھے آپ کے دکھ اور کرب کا احساس ہے بہن جی۔ لیکن اس میں ہمار ا کوئی قصور نہیں ہے ۔ حکومت نے تو سال بھر پہلے ہی قبرستان انتظامیہ کو اس جانب مزید قبریں بنانے سے منع کر دیا تھا لیکن بد بخت گورکن لوگوں سے پیسے بٹور کر یہاں قبریں کھودنے سے باز نہ آ ئے۔۔۔ جب کہ یہ سڑک بننا بھی ضروری تھا لہٰذا چند روز قبل ہم نے ایک خصوصی اجازت نامے کے تحت قبر کشائی کر کے ان تمام کچے گھروں کے مکینوں کو قبرستان کی بائیں دیوار کے ساتھ منتقل کر دیا۔اس موقع پر جن قبروں کے ورثا کا علم قبرستان انتظامیہ کے ذریعے ہو سکا ان کو اطلاع بھی کر دی گئی تھی۔ آپ کے شوہر کی قبر یقیناًا ن لوگوں میں شامل ہو گی جن کے بارے ہمیں کوئی سراغ نہ مل سکا۔‘‘

یہ کہہ کروہ آدمی قاسم کو منتقل کی جانے والی قبروں کی جگہ سمجھا کر وہاں سے رخصت ہو گیا۔

اس کے بعد تو جیسے مجھے اپنا ہوش ہی نہ رہا ۔ قاسم اور نادیہ روتے ہوئے مجھے سہارا دے کر اُن بے نام قبروں کے نزدیک لے گئے جو سب ایک سی دکھائی دے رہی تھیں۔اُس لمحے میری حالت بہت عجیب تھی ۔ آنکھیں خشک تھیں پر دل رو رہا تھا۔ سانس چل رہی تھی پر اپنے زندہ ہونے کا احساس کہیں کھو سا گیا تھا ۔ میں دیکھ سکتی تھیں مگر ذہن کسی بھی منظر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

درجن بھر تازہ قبروں میں سے ’’بیت الفہیم‘‘ کون سا تھا۔شہر خاموشا ں کے انت گنت مکینوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اُس کی چوکھٹ تک میری راہنمائی کر سکتا۔

’’کیسی قسمت لے کر پیدا ہوئے تھے ہم دونوں فہیم احمد!ہم جیتے جی مر گئے اور تمہیں مرنے کے بعد بھی ایک گھر میں رہنا نصیب نہ ہو سکا۔ ‘‘

یہ سوچ کر میں نے اپنے گھٹتے ہوئے دم کو بحال رکھنے کے لیے گہری سانس لی اوراُن سب قبروں پر تازہ پھول نچھاور کرنے لگی جن میں سے کوئی ایک گھر ’’بیت الفہیم‘‘ بھی تھا۔

۔*۔*۔*۔

شجر ممنوعہ از عرفان رامے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo