جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط6)۔۔محمد اقبال دیوان

[ad_1]

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور 

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

tanks nikal parey
mujeeb ke do qatil, paris mein major farooq aur hamzulf major rasheed

والا حساب رہا۔
ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

چیف ایڈیٹر :انعام رانا

پانچویں قسط کا آخری حصہ
موتی جھیل ڈھاکہ کے چوک میں جب اس پولیس پارٹی نے مسلح لوگوں کی ایک یہ ویگن دیکھی تو سمجھے کہ ملزمان ہاتھ لگ گئے ہیں۔انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فائرنگ کی اور گولی سیدھی کمال کی گردن پر لگی۔ خون کا ایک فوارہ بلند ہوا۔جب وہ کود کر ویگن سے باہر آیا اور اپنی شناخت کرائی تو پولیس پارٹی کو اس خوفناک حقیقت کا علم ہوا کہ مجروح کون ہے۔ علاقے کا ڈپٹی کمشنر نیند سے جگایا گیا اور وہ سیدھا بنگ بندھو کی رہائش گاہ۲۳۔ دھان منڈی پہنچ گیا کہ وزیر اعظم کو اصل حقیْت سے آگاہ کردے۔شیخ مجیب الرحمان نے ٹھنڈے دل سے ساری واردات سنی اور آہستہ سے کہا۔” مرنے دو اس کو”۔ہسپتال میں شیخ مجیب الرحمان اپنے صاحبزادے کو دیکھنے تک نہیں گئے۔ وہ اس کی رسوائی اور حرکات سے پہلے ہی پریشان تھے۔ان کی اس سرد مہری کا بیگم مجیب کو بہت قلق تھا۔
چھٹی قسط کا آغاز
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ع
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ، ایک دم، نہیں ہوتا

andhay hafez jee

کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیش کی فوج کے ٹینکوں کے ساتھ ہوا۔ یہ ٹینک جذبہء خیر سگالی کے تحت مصر نے انہیں اس تحفے کے عوض دئیے تھے جو بنگلہ دیش نے کئی سو ٹن خوشبو دار چائے کی صورت میں مصری فوج کو عرب اسرائیل جنگ کے دوران دیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان کی مرضی نہ تھی کہ وہ یہ تحفہ قبول کرتے۔ وہ فوج کو کمزور اور بے سرو سامان رکھنا چاہتے تھے۔مگر وزارت خارجہ اور کچھ دیگر وزراء کے کہنے پر وہ رضامند ہوگئے۔ بنگلہ دیش کی فوج کے پاس اس سے قبل صرف تین پرانے ٹینک تھے۔تحفے میں ملے یہ ٹینک وصول کرنے والوں میں اس سازش کا سرغنہ میجر فاروق الرّحمٰن تھا جس کا تعلق پہلی بنگال لانسرز سے تھا جو ان کی فوج کی واحد آرمرڈ رجمنٹ تھی۔ ایک سال بعد یہی ٹینک میں بیٹھ کر میجر فاروق نے اپنے ساتھیوں سمیت، شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا۔
میجر فاروق کی اس سازش میں سب سے پہلے اس کا ہم زلف کرنل  عبدالر شید خوندکر شریک ہوا۔بہت دنوں تک ان سے یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ وہ کس دن اور کیوں کر شیخ مجیب الرحمان کو قتل کریں،
ایک لمحے وہ یہ بھی سوچتے رہے کہ کیوں نہ انہیں انڈونیشیا کے سابق صدر عبدالرحیم سوئکارنو کی طرح نظر بند کرکے رکھا جائے۔وہ ان دونوں رہنماؤں میں بڑی مماثلت پاتے تھے۔ مگر اس میں خطرہ یہ تھا کہ عوامی لیگ یا ہندوستان کی مدد سے وہ آزاد کرالیے جائیں گے۔

ان کے قتل کا ایک طریقہ یہ سوچا گیا کہ  سکوارڈن لیڈرلیاقت اپنے ساتھ ایک آٹومیٹک پستول رکھے اور ہیلی کاپٹر میں انہیں اس وقت گولی مار کر لاش کسی دریا میں اچھال دے جب ہیلی کاپٹر ایک فلائٹ کنٹرول زون سے دوسرے کنٹرول زون میں داخل ہونے کے  قریب ہو۔ یہ پلان وہ کئی دن تک سوچتے رہے مگر اس پر عمل درآمد کی نوبت نہ آئی اس لئے کہ وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان کے دوروں کا پروگرام بہت اچانک بنتا تھا۔

shekh mujeeb ka mazar
shekh mujeeb ka mazar
present pm sheikh hasina with her father
col rasheed

کمال کی بات یہ ہے کہ دیر سے پکنے والی سازش کی اس کھچڑی کا علم اکثر فوجیوں کو تھا ،حتی کہ فاروق کی بہن نے کرنل رشید کو بتایا بھی کہ اس کا نام ڈھاکہ یونیورسٹی میں مجیب کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں میں لیا جارہا ہے۔خود ہندوستان نے مجیب کو اس سازش سے باخبر کیا تھا مگر مجیب نے ساری انٹیلی جینس جرنیلوں کے پیچھے لگا رکھی تھی جب کہ سازش کا زور میجر لیول کے افسران میں تھا۔
جب سب تیاریاں مکمل ہوگئیں ،تو میجر فاروق  نے اپنی بیوی فریدہ کو چٹاگانگ میں اندھے حافظ  کے پاس ایک دن پہلے یعنی 14 اگست کو بھیجا۔اس حافظ جی کو وہ تین ماہ پہلے مل چکا تھا اور اسی بہاری حافظ نے اسے نوید دی تھی کہ اگر وہ یہ کام ملک کی بہتری اور ذاتی مفاد سے بلند ہوکر کرے گا اور راز داری رکھے گا تو کامیابی ہوگی۔بیگم کے اس تک پہنچنے میں ٹیکسی تین مرتبہ راستے میں خراب ہوئی۔اندھے حافظ نے اس کی بیگم کو حیرت زدہ کردیا کیوں کہ جس چھوٹی سی جھونپڑی میں وہ بیٹھا تھا وہ پنکھا نہ ہونے کے باوجود نہ صرف ٹھنڈی تھی بلکہ اس غریب بستی میں جہاں جابجا گندگی تھی یہ وہ واحد جگہ تھی جو انواع اقسام کی خوشبوؤں سے مہک رہی تھی۔ اس اندھے حافظ (انہیں وہاں اسی نام سے پکارا جاتا تھا)کی  بعد میں  پاکستان کی ایک اہم سیاست دان خاتون شخصیت  سے  ملاقات بھی ہوئی، اسی نے انہیں بتایا تھا کہ جب ہوا میں آموں کی پیٹیاں پھٹیں گی تو مسند اقتدار انہیں مل جائے گی۔

حافظ جی نے جمعہ کا دن فجر کا وقت اس واردات لئے سعد تجویز کیا۔ یوں بھی میجر فاروق ان چند لوگوں میں سے تھا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جمعہ کا دن اس کے لئے بہت موزوں ہے۔شیخ مجیب الرحمان کو ان کی موت کی پیش گوئی ایک ماہ قبل ان کے دفتر کے ایک سیکرٹری روح القدس نے بھی کی تھی جو علم نجوم میں خاصی درک رکھتا تھا۔

بارہ اگست 1975 کو فاروق کی شادی کی تیسری سالگرہ تھی، تقریب کو پُر رونق بنانے کے لئے اس نے اخراجات اپنا پروجیکٹر بیچ کر پورے کیے  تھے۔اسی تقریب میں برگیڈیئر منصور الحق نے انہیں ایک بڑا گلدستہ پیش کیا جو ان کی جان بچا گیا ،وہ شیخ مجیب الرحمان کے ملٹری سیکرٹری تھے۔سولہ اگست کو ہفتے کے دن صدر نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب سے دوران اپنے آپ کو بنگلہ دیش کا تاحیات صدر بننے کا اعلان کرنا تھا۔کچھ دن پہلے ان کی بھانجی کی شادی کی وجہ سے تمام قریبی عزیز بھی ڈھاکہ آئے ہوئے تھے یوں اجل ان سب کو کھینچ کر لے آئی تھی۔

پندرہ اگست کی صبح جب تمام ٹینک اور ٹرک بمع سپاہیوں کے اپنے مشن پر نکلے تو انہیں راستے میں کہیں بھی مزاحمت کا سامنا نہ ہوا۔ ڈھاکہ کنٹونمنٹ میں۔میجر فاروق کے والد کو البتہ حیرت ہوئی کہ یہ فوجی قافلہ صبح ہی صبح کہاں چل پڑا ہے۔ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے کچھ دیر پہلے نماز کے لئے اٹھے تھے۔ ان کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ ان میں سے ایک ٹینک میں ان کا اپنا بیٹا فاروق بنگلہ دیش کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے سوار ہے۔راستے میں  انہیں رکھی باہنی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنا پڑا ،یہ وہ اسپیشل فوج تھی جو صدر شیخ مجیب الرحمان  کی حفاظت پر مامور تھی۔ وہاں موجود سپاہیوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ جس کی حفاظت کا ذمہ انہیں سونپا گیا ہے وہی ان کے ہاتھوں اجل کا نشانہ بنے گا۔

سوا پانچ بجے صبح جب یہ میر پور روڈ پر ایک ایسے پوائنٹ پر پہنچے،اس وقت مسجدوں سے فجر کی آذان بلند ہورہی تھی۔ فاروق  نے اسے ایک خوش آئند نوید جانا۔ جہاں سے انہیں اپنے تین اہداف،۲۳ دھان منڈی جہاں صدر مقیم تھے، میجر ہدیٰ جس کی ملاقات دوران واردات  شیخ  مجیب  الرّحمان سے گھر  کی سیڑھیوں پر ہوئی وہ انہیں دیکھ کر بوکھلاگیا اور انہیں نیچے آنے کا کہتا رہا۔اس دوران میجر نور پہنچ گیا جسے دیکھ کر ایک روایت کے مطابق بنگ بندھو نے گالی دی اور جواب میں اس کی اسٹین گن سے گولیوں کا ایک برسٹ نکلا اور شیخ مجیب الرحمان کے سیدھی  جانب سے خون کا ایک فوارہ بلند ہوا اور وہ فوراً ہی جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ گھر کی سیڑھیوں پر ان کی لنگی اور سفید کرتے میں ملبوس لاش چار گھنٹے سیڑھیوں پر اس طرح پڑی رہی کہ سیدھے ہاتھ میں بدستور انہوں نے پائپ پکڑا ہوا تھا۔ جو وہ پیا کرتے تھے۔ قاتلوں کی تین ٹولیوں نے ان تمام افراد کو جن میں مجیب کاگیارہ سال کا چھوٹا بیٹا رسل ان کے صاحبزادے کمال اور جمال ان کی بیگمات سب کے سب شامل تھے گولیوں سے بھون ڈالا۔کچھ ملتا جلتا حال دیگر دو مقامات یعنی انکے بہنوئی سرینیبت کے گھر پر ہوا جہاں میجر ڈیلم نے حملہ کیا تھا اور بھانجے شیخ مونی کے گھر پر این سی او مصلح الدین مسلم نے دھاوا بولا تھا۔شیخ مجیب الرحمان کے تمام اہم رشتہ دار اس قتل کی سازش میں مارے گئے صرف دو صاحبزادیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ زندہ بچ گئیں کیوں کہ یہ دونوں اس وقت ملک سے باہر تھیں۔ بریگیڈئر منصور الحق کو فرار ہوتے وقت دیگر دو فوجیوں کے ساتھ پکڑلیا گیا تھا اور کنٹونمنٹ میں ایک ستون سے باندھ کر رکھا تھا جسے خوش  قسمتی سے میجر فاروق نے واپسی پر دیکھ لیا اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ آپ اچھے آدمی ہو،آپ نے ہمیں شادی کی سالگرہ پر گلدستہ پیش کیا تھا۔ سچ ہے کہ کوئی اچھا عمل رائیگاں نہیں جاتا۔

operation blue star
gen s . k sinha

فاروق کے ہم زلف میجر عبدالرشید نے پہلے ہی خوندکر مشتاق جو مجیب کی کابینہ میں وزیر تھا اس سے مجیب کے بعد صدر بننے کی بات کر رکھی تھی۔ ان کی اس سلسلے میں کئی ملاقاتیں بھی ہوئیں تھیں۔میجر عبدالرشید جب اسے لینے کے لئے پہنچا تو شان نزول یہ تھی کہ ڈھاکہ کی مسیح لین جہاں مشتاق کا گھر تھا وہ ایک جیپ اور ٹینک کے ساتھ پہنچا۔ ہاتھ میں اسٹین گن بھی تھی۔مشتاق اسے اس حالت میں دیکھ کر گھبراگیا۔پیشکش کے جواب میں اس نے تیار ہونے کا وقت مانگا۔ بعد کے انٹرویوز میں مشتاق نے بتایا کہ اس نے عہدہ قبول کرنے کا فیصلہ ٹوائلٹ میں  کیا۔اسے یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ ممکن ہے مجیب سے قربت کی بنیاد پر اسے وہ مارنے کے لئے لینے آیا ہو۔اپنے تین منزلہ مکان کی سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے سوچا کہ ان کی نیتوں کا حال اسے نیچے پہنچ کر اسوقت  معلوم ہوجائے گا جب وہ اس کی جیپ میں بیٹھیں گے۔اگر جیپ کا دروازہ اسے خود کھولنا پڑا تو اگلی منزل موت ہے اور اگر جیپ کا دروازہ میجر عبدالرشید یا کوئی اور اس کے لئے کھولتا ہے تو ان کی نیت صاف ہے۔ جیپ کا دروازہ کھولنے سے پہلے اسے وہاں موجود سپاہیوں اور میجر نے باقاعدہ ضابطے کے مطابق سیلوٹ پیش کیا اور ایک سپاہی نے بصد آداب دروازہ کھولا۔اب منزل آسان تھی۔

ایک بات عجیب ہے کہ وہ تمام کردار جن پر پاکستان توڑنے کا الزام تھا ایک عبرت ناک اور درد انگیز موت کا شکار ہوئے۔ حتیٰ کہ وہ باقی کردار بھی جو شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ ہلاک ہونے سے بچ گئے تھے وہ بعد میں اپنے ایام ِاسیری میں ایک جوابی انقلاب کے نتیجے میں مارے گئے۔  شکسپیئر نے کہا تھا” انسان جو برائیاں کرتا ہے وہ پیچھے رہ جاتی ہیں مگر اس کی اچھائیاں اسے کے ساتھ قبر میں داخل ہوجاتی ہیں ” اس سے کہیں عمدہ نکتہ ایک حدیث پاک میں بیان ہوا ہے کہ “ہر برائی اپنے کرنے والے کی طرف مڑ کر آتی ہے۔

تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال، ویسے ہی
ہماری جان ہے، جاں پر وبال ویسے ہی(احمد فرازؔ)

ہندوستان کی سنیے، وہاں اکال تخت گردوارہ ہرمندر صاحب جسے دنیا گولڈن ٹیمپل امرتسر کے نام سے جانتی ہے وہاں باغی سکھ لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کو گرفتار کرنے کے لئے آپریشن بلیو اسٹار کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔جرنیل سنگھ اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ اس مقدس عبادت گاہ میں پناہ گزیں تھا۔ فوج کے اکثر جرنیل اس  آپریشن کے مخالف تھے مگر و زیر اعظم اند را  گاندھی صاحبہ بضد تھیں کہ یہ آپریشن کئے بغیر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اندرا گاندھی نے جب لفٹننٹ جنرل ایس کے سنہا وائس چیف آف آرمی سے آپریشن بلیو اسٹار والے حملے کا پلان بنانے کو کہا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی کہ سکھوں کے اہم ترین مذہبی مرکز گردوارہ ہرمندر صاحب پر حملے سے سکھ کمیونٹی کے جذبات شدید مجروح ہوں گے۔ یہ مخالفت انہیں پسند نہ آئی جس پر لفٹننٹ جنرل ایس کے سنہا جن کی ترقی بطور چیف ہونا تھی۔ انہیں برطرف کردیا گیا اور ان کے ماتحت جنرل ارون ودیا سے یہ کام لیا گیا۔اس آپریشن کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو اسی حکم عدولی کی پاداش میں ملازمت ختم ہونے سے ایک دن پہلے ہی غبن کا الزام لگا کر ریٹائر کردیا گیا اور وہ ناراض ہوکر خود جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی دمدمی ٹکسال سے جا کر مل گئے اور ہندوستانی فوج کے خلاف لڑے۔

ذکر تھا خفیہ ایجنسی کی بمبئی برانچ کے سربراہ مرلی بالاسنگھم کا،جو ایک پیکر بدصورتی تھا۔ آبنوسی سیاہ رنگت جس پرجا بجا سبز جھائیاں، ایسا لگتا تھا جیسے ڈیزل کے تالاب پر کائی جم گئی ہو۔ بڑے بڑے دانت، موٹے شیشے کے چشمے کے پیچھے سے جھانکتی جذبات سے عاری بے رحم آنکھیں،سازشوںسے کلبلاتا ذہن،موٹی ناک جسکے نتھنوں سے ہر وقت وہ سگریٹ کا دھواں خارج کرتا رہتا تھا،مستقل تھامے رہنے والے سگریٹ کی وجہ سے اسکے سیدھے ہاتھ کی پہلی دو انگلیاں پیلی پڑ گئی تھیں، اس پر طبیعت اور مزاج ایسا کہ اپنی ماں پر بھی شک کرنے سے نہ چوکے۔انگریزی لکھتا بہت اچھی تھا مگربولتا بڑے بھونڈے تلفظ کے ساتھ تھا۔ اسکی انگریزی اگر بی بی سی والے سن لیتے تو اپنے انگریزی پروگرام بند کردیتے تھے۔شراب اور عورتوں کا بہت رسیا تھا اور بمبئی کے فارس روڈ   کی ٹوٹی پھوٹی کھولیوں سے لے کرانتہائی فیشن ایبل علاقے، کف پریڈ پر واقع بنگلوں میں موجود قحبہ خانوں میں جسم فروشی کرنے والی اکثر عورتوں سے اسکے ایسے تعلقات تھے کہ وہ اس کے لئے سراغ رسانی کاکام بھی کرتی تھیں۔ اپنی عیار ذہنیت، تعلقات اور سراغ رسائی کے معاوضے کا وہ ان کے معاملے میں بہت موثر استعمال کرتا تھا۔

مرلی کا تعلق مدراس کے ایک نواحی علاقے سری پیرمپودر سے تھا(یہ وہ علاقہ تھا،جہاں راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا) اس کی بڑی آرزو تھی کہ اسے برطانیہ یا امریکہ پوسٹ کردیا جائے۔ اسکی ملازمت کے خاتمے میں چند برس باقی تھے۔ اس کے لئے اس نے کانتا کے والد، مکیش اگروال جی کے کسی دوست سے سفارش بھی کرائی مگر وہ اس بات پر رضامند نہ ہوئے کہ وزیر اعظم کو اسکی برطانیہ یا امریکہ پوسٹنگ کے لئے سفارش کریں۔ یہ بہت خفیہ معاملات تھے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے ان کی وزیر اعظم سے دوستی پر حرف آتا۔ مگر اس کے مقابلے میں جو آفیسر تھا وہ بھی یو پی کا تھا اور پونا کی ایک بڑی کاروباری فیملی کی سفارش پر وہ امریکہ چلا گیا۔ برطانیہ البتہ وزیر اعظم صاحب نے جس افسر کو بھیجا اس سے  مکیش اگروال جی کے عمدہ تعلقات تھے۔جس سے اس کی پُرخاش کا آغاز ہوا۔
مرلی بالاسنگھم کو یوں اپنے نظر انداز ہونے کا بہت دکھ ہوا۔ اسے شک ہوا کہ دونوں باہر کی پوسٹنگزمیں مکیش جی نے ان افسروں کی مدد کی ہے۔کیوں کہ یہ دونوں افسر یوپی کے تھے۔ وہ بہت خواہشمند تھا کہ یہ پوسٹنگ اسے مل جاتی تو اسکے تینوں بچے جو اب کالج جانے کی عمر میں تھے کسی نہ کسی اچھے ادارے میں برطانیہ میں نہ صرف زیرِ  تعلیم ہو سکتے تھے۔ اس کا یہ بھی خواب تھا کہ اس کی بیٹی اور بیٹے کے لئے سری لنکا سے بھاگے ہوئے مالدار تاملوں میں اچھے رشتے بھی مل سکتے تھے۔ان نئی رشتہ داریوں کی بنیاد پر اپنی بقیہ زندگی آرام سے برطانیہ میں گزار سکتا تھا۔یوں محرومیوں اور خطروں میں گھری زندگی کو ایک سکون ،ایک عمدہ مستقبل بھی مل جاتا۔اسکی نوکری میں کُل تین سال باقی تھے اور وہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہاں رچنا بسنا چاہتا تھا۔اسے لگتا تھا کہ مکیش اگروال صاحب نے اسے اچھی انگریزی، ولائتی شراب اور گوری لڑکیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا کردیا ہے۔

مکیش اگروال صاحب نے اسکی مدد نہ کرکے اس کے سارے خواب چکنا چور کردیے  تھے۔بمبئی کی پوسٹنگ میں اس ادارے کے افراد اپنے لئے بہتر مستقبل کا بندوبست کرتے تھے۔اسکے معاملے میں ایسا نہ ہوا تو اس ناکامی کا اسے بہت صدمہ ہوا۔یوں مکیش اگروال نے اپنے خلاف ایک کمینے دشمن کا اضافہ کرلیا تھا ان کے خلاف اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگی۔ وہ اس دھن میں لگ گیا کہ کس طرح مکیش اگروال سے بدلہ لے۔

اس دوران اس کا تبادلہ دہلی ہوگیا جہاں اس کا کام پاکستان کے اندر تخریبی کاروائیوں کے لئے ایجنٹ بھرتی کرنا تھا۔ یہ خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ لوگ دل کے بڑے کالے اور سفاک ہوتے ہیں۔ میلے، جرائم پیشہ اور بے رحم لوگوں کے ذریعے کام لے لے کہ ان کی طبیعت کا رنگ ان کے مزاج کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ ان کا سارا مقصد ومنتہا سونپے گئے مشن میں کامیابی حاصل کرنا ہوتا ہے۔اس مقصد میں کامیابی کے لئے وہ کوئی اخلاقی اصول سامنے نہیں رکھتے۔ اپنے مقصد کے حصول میں اگر کسی معصوم کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اسے مشن کا حصہ گردانتے ہیں۔

مرلی بالاسنگھم نے اپنے فرائض منصبی کی آڑ میں ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ بمبئی میں اپنے ادارے کے ایک افسر کے ذریعے جسے سکھبیر پانڈے سے بڑی پُرخاش تھی اس نے جوگیندر سے ملاقات کرکے ایک مشن سونپا۔ مشن کی تفصیلات جان کر جوگیندر کے تو اوسان خطا ہوگئے مگر اب اس کے سامنے دو راستے تھے یا تو ان سے مشن کی تکمیل میں تعاون کرے یا اپنی کاروائیوں کا علم ان تمام لوگوں کو ہوجانے دے جن کے خلاف اس نے جاسوسی کی تھی۔ دوسرے راستہ میں جان کا خطرہ تھا اور پہلے میں دوستیاں اور احسان مندیاں برباد ہوتی تھیں۔ بہت دن سوچ کر بالآخر وہ ان سے تعاون پر رضامند ہوگیا۔

Advertisements

merkit.pk

جاری ہے



[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo