قومی سیاست کا پنڈولم۔۔اسلم اعوان

[ad_1]


مخصوص جغرافیائی حالات کے جبر اور عالمی برادری کی سنگ دلی کی وجہ سے ہماری قومی سیاست ہمیشہ مقتدر قوتوں کے دباؤ میں رہی،اس لئے یہاں وہ سیاسی کلچر پروان نہیں چڑھ سکا جس میں کسی سویلین حکومت کو دوام ملتا یا منتخب سیاسی قیادت قومی امور پہ اپنی گرفت مضبوط کر پاتی،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پچھلی پون صدی میں یہاں کوئی بھی سویلین حکومت کلیدی امور پر فیصلے کرنے میں پوری طرح خود مختار نہیں رہی،عوامی فلاح اور مملکت کی بقاءسے جڑے تمام فیصلے ہمیشہ پارلیمنٹ سے باہر ہوتے رہے بلکہ ملکی اور عالمی میڈیا میں بھی نہایت سائنسی طریقوں سے سیاستدانوں کے ناقابل بھروسہ ہونے کے تاثر کو پختہ کیا گیا،دنیا بھر کی انسانی برادری کی اخلاقی حمایت سے محروم قومی قیادت ایسے طلسماتی پروپگنڈہ کا کوئی موثر توڑ پیش نہ کر سکی،خود فریبی کے اسی ماحول میں ہمارے ارباب بست کشاد آدھی مملکت گنوا بیٹھے لیکن یہ قوم سانحہ بنگال کے ذمہ داروں کا تعین کر پائی نہ تلخ تجربات سے کوئی سبق سیکھ سکی،بدقسمتی سے حالات کی گرد سے نمودار ہونے والے ذولفقارعلی بھٹو جیسے کرشماتی لیڈر نے بھی اپنی مقبولیت کو سقوط ڈھاکہ کے محرکات پہ پردہ ڈالنے اور اس گہری سازش کے عالمی کرداروں سے سودا بازی میں بروکار لانے میں عافیت تلاش کی،یہ بجا کہ مسٹر بھٹو نے پاکستان کے انحطاط کے مظاہر سے نمٹنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس کے وجود کو مربوط رکھنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئے،وہ مسلسل بولتے رہے لیکن اپنے کردار و عمل سے کوئی ایسی مثال قائم نہ کر سکے جس کے ذریعے اپنی دانش کو دوسروں تک منتقل کر پاتے حالانکہ وہ چاہتے تو باقی ماندہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری روایات کو پختہ اساس فراہم کر سکتے تھے لیکن وہ بھی اپنی افتاد طبع کے باعث صحیح راستہ پہ چلنے کے خبط میں بھٹک گئے۔ممکن ہے اس وقت جنوبی ایشیا کا سیاسی ماحول اورعالمی تعلقات کی نزاکتیں جمہوری تقاضوں سے میل نہ کھاتی ہوں لیکن بہرحال وہ اس پوزیشن میں ضرور تھے کہ ایک ابھرتے ہوئے جمہوری تمدن کو مضبوط بنیادیں فراہم کر سکتے تھے ،بعد میں اس کی موقعہ شناسی کی صلاحیت کے فطری نتائج نے ان کے فلسفہ سیاست کو نگل لیا۔

گذشتہ بارہ تیرہ سالوںکے دوران ایک جمہوری طور پر منتخب گورنمنٹ سے اگلی حکومت میں دو بار نسبتاً پرامن انتقال اقتدار کے باوجود پاکستانی سیاست سے جنرل پرویز مشرف کی طرز حکمرانی کے اثرات ختم نہیں کئے جا سکے،یہاں تک کہ پاکستان پیپلز پارٹی (2008-2013) اور پاکستان مسلم لیگ نواز (2013-2018) کی جمہوری حکومتیں بھی ملکی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کے دباؤ تلے کراہتی نظر آئیں،اگرچہ بظاہر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام اور برطانیہ میں مقیم سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نااہلی کا مزہ چکھایا لیکن ان میں سے ایک کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی میرین کے ہاتھوں ہلاکت پہ سوال اٹھانے اور دوسرے کو ڈان لیک جیسی مبینہ جسارت لے ڈوبی۔

tripako tours pakistan

سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے غیر ملکیوں کو ویزے دینے جیسے قابل فہم الزامات کے ردعمل میں بن لادن کے یہاں مبینہ قیام پر پارلیمنٹ کے فلور پہ سوال اٹھائے تو اسے دائیں بازو کے سیاستدانوں نے ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اس پیش دستی کے ممکنہ طور پہ”سنگین نتائج“سے خبردار کیا جو بعد میں برآمد بھی ہوئے۔یہ سلسلہ ہائے واقعات بھی اس بدلتی ہوئی ڈاکٹرین کا مظہر تھا جس میںفوجی انقلاب پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے اس عرصے کے دوران مقتدرہ کی قیادت نے پوری جانفشانی سے اس امر کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی ادارہ جاتی بالادستی اور قومی امور میں ان کے فیصلوںکو چیلنج نہ کر سکے۔

تاہم میاں نوازشریف گردش حالات کے ہاتھوں بار بار زخم کھانے کے باوجود اپنے تیسرے عہد حکمرانی میں بھی روایتی قوتوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش سے باز نہ آئے توسنہ 2018 کے عام انتخابات میں پس چلمن حلقوں نے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے قومی سیاست کی تطہیر کا بیڑا اٹھا لیا،شہسواروں کو معلوم تھا کہ خان صاحب وزیر اعظم بننے کے لئے تڑپ رہے ہیں،خواہ اس کا مطلب خود اپنے آپ کوکسی کے تابع رکھنا ہی کیوں نہ ہو،تو انہوں نے پورے خشوع سے عمران خان کی فتح کی راہ ہموار بنائی،مقتدرہ کا خیال تھا کہ اگر وہ آزادانہ سوچ رکھنے والے میاں نوازشریف کو سیاست سے آوٹ کرنے کے علاوہ مرکزی دھارے کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کو سندھ میں اپنی روایتی اساس تک محدود کردیں تو وہ ان کی مرضی کے برعکس پالیسیوں پر اصرارکرنے والے سویلین سیاستدانوں سے چھٹکارہ پایا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیںکیونکہ ان اقدامات سے نہ صرف ملک بھر میں نوازلیگ کے مزاحمتی بیانیہ کو مقبولیت ملی بلکہ افغانستان میں امریکی شکست کے مضمرات سویلین بالادستی کی اسی تحریک کو عالمی برادری کے لئے بھی قابل قبول بنا گئے ہیں،مغربی میڈیا میں اب ایک ایسے پاکستان کے خدو خال نمایاں کئے جا رہے ہیں جس میں غیر منتخب قوتوں کا کردار اضافی نظرآتا ہے۔

سنہ2018 کے انتخابات میں “ہائبرڈحکمرانی” کا جو خاکہ تیار کیا گیا،اُس میں اسٹیبلشمنٹ نے انتخابی طور پر ایک کمزور حکومت تشکیل دی جسے اسمبلی میں آرام دہ اکثریت میسر نہیں ہے چنانچہ اس پسندیدہ بندوبست کا سب سے گہرا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف حکومت اور دفاعی اداروں کے مابین دلچسپی سے چلنے والا حساب کتاب اسقدر التباسات کی دھند میں کھو گیا کہ،اُن کے لئے اب اپنے جیسے لوگوں کو یہ بتانا عملی طور پر ناممکن ہوگیا کہ عسکری حکمرانی کہاں ختم اور جمہوری اقتدار کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ انتظام مقتدرہ کے حق میں کام کررہا ہے لیکن عملاً صورت حال اس کے برعکس ہو گی،ایک واضح طور پہ سویلین چہرہ رکھنے والی حکومت ملک کے بے شمار مسائل کے حل میں ناکامی کا الزام تو اپنے سر لیتی ہے لیکن وہ فیصلہ سازی کے عمل سے لاتعلق اور حکومت چلانے کا جُزوی استحقاق بھی نہیں رکھتی،اس پہ مستزاد یہ کہ اس وقت خلاف معمول بیرونی امداد کی بندش اور عالمی مالیاتی اداروں کی محدود ہوتی معاونت حکومتی منشور پہ عمل درآمدکی راہ میں حائل ہے تاہم کورونا وباءکے تدارک کے لئے بار بار کے لاک ڈاون اور مہمل سے ایس او پیز کے نفاذ نے بھی حکومتی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ شایدکووڈ کی چوتھی لہر کے ایس او پیز،پی ٹی آئی حکومت کا واٹرلو ثابت ہوں گے،چنانچہ ایک پیج کے تجربہ سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

گورننس کی ناکامیوں کی کوکھ سے پی ایم ڈی جیسی وہ مزاحمتی تحریک نمودار ہوئی جو سائیوں کا تعاقب کرنے کی بجائے براہ راست طاقت کے مراکز پہ حملہ زن ہو رہی ہے،اسی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے نواز شریف نے فوجی قیادت پر براہ راست حملہ شروع کرکے پہلی بار پنجاب کو نامطلوب سیاسی کشمکش کا میدان کارزار بنا دیا لیکن سیاسی قوتوں سے سمجھوتہ نہ کرنے والا عمران خان متحد حزب اختلاف کی یلغار سے اپنی فوج کی پیٹھ اور چہرے کو بچانے میں ناکام رہے ہیں،ہرچند کہ محاذ آرائی پی ٹی آئی کے سیاسی ڈی این اے میں شامل تھی حکمراں جماعت (پی ٹی آئی)کی اصل طاقت،جب وہ حزب اختلاف کا حصہ تھی اور اب اقتدار میں بھی نواز لیگ کے ساتھ محاذآرائی میں پوشیدہ تھی لیکن اب وہ اپنے اہداف کے تعین میں کنفیوز ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی سیاسی شناخت کو بدعنوانی،اقربا پروری اورقومی دھارے کی موروثی سیاست کے خلاف لڑنے والے ناقابل تسخیر جنگجو کے طور پہ نمایاں کیا،جب وہ حزب اختلاف میں تھے تو ان کا دعوی تھا کہ وہ اپنے بنیادی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ان کے الفاظ کی تکرار روح و معنی سے خالی ہوتی گئی۔

Advertisements

merkit.pk

لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان کے سیاسی ایجنڈے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کومسخر کرنے کی بجائے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹانے کا مقصد شامل کر کے خود ہی اپنے اصولی موقف کی تردید کرتے ہیںلیکن اب انہی پیش پا افتادہ جماعتوں کی مزاحمتی حکمت عملی تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا جال ثابت ہوئی ہے۔بلاشبہ،بسا اوقات تقدیرظاہرہ طور پہ غیر مربوط واقعات کی مدد سے کرداروں کو آگے بڑھاتی جاتی ہے اور انکی مرضی کے بغیر انہیں ان دیکھی تباہی میں پھنسا دیتی ہے۔علی ہذالقیاس،اپنے اقتدار کے ابتدائی تین سال گزار لینے کے باوجود تحریک انصاف حزب اختلاف سے ورکنگ ریلشن شپ بنا سکی نہ داخلی اور خارجہ پالیسی جیسے سنجیدہ معاملات پر عقلی فیصلے کرنے کے لئے ابھی تک کوئی ادارہ جاتی میکنزم تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور حکومت کے مابین تلخ تعلقات کی وجہ سے قانون سازی جیسے اہم معاملات آرڈیننس تک محدود ہو کے رہ گئے، یہ ایک نیا سیاسی تمدن ہے جو پاکستانی جمہوریت کے لئے انتہائی غیر صحت بخش تجربہ ثابت ہو گا۔جیسے ہی پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کی گنجائش کم ہوئی،پی ٹی آئی حکومت،اپوزیشن کو سیاسی منظر نامہ سے دور دھکیلنے کی کوشش میں سرگرداں ہو گئی،اس سے تو موجودہ حکومت ضیا الحق گورنمنٹ کی توسیع نظر آتی ہے۔



[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo