نور کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

[ad_1]


بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے
دھند کا محلول بادل
الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا
مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے
’’گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے دیے بجھنے سے پہلے
ڈھونڈھو اپنی روشنی جو کھو چکے ہو!‘‘
روشنی؟
میں دھند کے کمبل کو اوڑھے
ٹھوکریں کھا تا ہوا
کچھ کچھ سنبھلتا، روح کی گہرائی میں سوئے ہوئے ’آکاش ‘
یعنی پانچویں عنصر کے قطرے سے بس اتنا پوچھتا ہوں
’’روشنی کا چہرہ مہرہ، نور کی شکل و شباہت
کس طرح دیکھوں ، مرے اے جوہرِ یکتا کہ میں تو
اپنی روح الاصل کو
اس عالمِ ناسوت میں آنے سے پہلے کھو چکا ہوں؟
مجھ کواتنا تو بتاؤ
نور کیا ہے؟‘‘
اور میں معمول کی مانند سو جاتا ہوں
اتنا پوچھ کراُن سب ، عظیم المرتبت علمائے دیں سے
جن کے ارشادات کو میں عمر بھر پڑھتا رہا ہوں
’’چاند دیکھو …‘‘ ایک عالم بولتا ہے
’’نورِ حادث ہے، یہ مانگے کا اجالا…
عارضی ہے
اس کا منبع، یعنی سورج، سوکھ جائے
تو یہ اک تاریک کرّہ، روشنی کو خود ترستا
طے شدہ ، گردش کی راہوں پر بھٹکتا ہی رہے گا
گویا نور ِ عارضی نا مستقل ہے، موت ہی اس کا مقدر ہے ہمیشہ!
جسم ہے یہ آدمی کا
چلتا پھرتا، جاگتا جیتا ہوا خاکی بدن ہے
تیرگی اس کے مقدر میں لکھی ہے۔‘‘
روح متجلیٰ، مجرد نور کی اک قاش ہے….‘‘
اب دوسرے عالم کی باری تھی، کہا اُس نے ….’’سنو، نادان
علمِ ذات ، یعنی ذہن کا جوہر مجرد نور ہے
جس کی وساطت سے شعوری، لا شعوری صورتیں
ازلی اندھیروں سے نکل کرروشنی میں جلوہ گر ہوتی
شہود و کشف پاتی ہیں ہمیشہ!
روشنی باہر کی، یعنی چاند کی، تاروں کی
ہیولیٰ ہے، فقط اک عکس ہے نور مجرد کا …
بعید الاصل… بالکل عارضی ہے!‘‘
’’کیا کوئی ایسا وسیلہ ہے کہ جس سے
اپنے نورِ عارضی یا ٹھوس مادہ (جسم) کو نورِ مجرد میں سمو دوں؟ ‘‘
دفعتاً ہی نیند میں ڈوبے ہوئے پوچھا …
جواباً یہ صدا آئی …
’’وسیلہ؟ ہاں، یقیناً ہے
اگر تم سیکھ لو، تو !
عشق، رغبت، جاذبیت، نقطۂ جذب و کشش ہی وہ وسیلہ ہے
جسے ہم سب مراتب سے برتتے ہیں
کہ اپنے ٹھوس مادہ (جسم) کو نورِ مجرد (روح) کے نزدیک لائیں
تا کہ (جزوی ہی سہی!) ایسا تعلق بن سکے
دائم نہ ہوکر بھی کسی صورت میں قائم تو رہے اس زندگی میں!‘‘
’’نور، (جزوی ہی سہی …) لیکن
مجھے اتنا بتائیں ، پیر و مرشد
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنے نور عارضی کو، ٹھوس مادہ (جسم) کو
اُس آخری حد تک منّور کر سکے
اور اس کی خاص معیت میں ہی بالآخر غریقِ رحمتِ اقنوم ہو جائے..
کہ نورِ عارضی نورِ منور کی کوئی ضد تو نہیں ہے؟‘‘
ایک چُپ…
بالکل خموشی
گنگ ، نا گویا تھے سب ملائے مکتب، عالم و فاضل، معلم!
صرف اتنا اک اشارہ سا ملا
ہم واقفِ علمِ الہی ہیں، مگر ہم لوذعی عالم نہیں ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم کے لیے شیخ ابو سعید ابوالخیر، حکیم سنائی، فرید الدین عطار، مولانا رومی، سوامی وویکا نند، سوامی رام تیرتھ کے علاوہ کچھ دیگرعلما اور شعرا سے استفادہ کیا گیا۔ خصوصی طور پر خواجہ فرید الدیں عطار کے تصوف کے راستے میں گنوائے گئے سات مراحل (وادئ طلب، وادئ عشق، وادئ معرفت، وادئ استغنا، وادئ توحید، وادئ حیرت اور وادئ فنا پر غور و خوض کے لیے کچھ ہمعصر دوستوں کے خیالات سے استفادہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ تصوف اور بھگتی تحریک کے حوالے سے’’عشق یا نقطۂ جذب و کشش ‘‘کے لیے سوامی رام تیرتھ کے خیالات بیش بہا ثابت ہوئے۔



[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo