سہیلی

قارئین آپ کے لئے ایک فکر انگیز تحریر لئے حاضر ہیں۔ یہ تحریر قسط وار شائع کی جائے گی۔آپ سے خصوصی التماس ہے کہ کہانی کو مکمل پڑھیئے کیونکہ اس کے کردار ہماری زندگی کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔

سہیلی

فاطمہ تم عائشہ کے گھر گئیں یا نہیں؟رائحہ نے کئی بار پوچھا ہوا سوال آج پھر دہرایا۔نہیں رائحہ باوجود کوشش اور خواہش کے میں عائشہ کے گھر نہیں جا سکی۔لیکن آخر تم بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس کے گھرمیں ایسا کون سا شاہکارہے کہ اگر میں اسے نہ دیکھ سکی تو اللہ نہ کرے کسی بڑی سعادت سے محروم رہ جاؤں گی؟فاطمہ وہ وہاں جاکردیکھنے اورمحسوس کر نے کی بات ہے۔تم وہ منظر دیکھ کر انگشت بہ دنداں رہ جاؤگی۔خیر میں نے یہ بتانے کے لئے فون کیا ہے کہ کل میں عائشہ کی طرف جا رہی ہوں۔تم ٹھیک ۱۰ بجے تیار رہنا ،میں جاتے ہوئے تمہیں پِک کرلوں گی،ان شاء اللہ۔ اوکے میں تیار رہوں گی ،ان شاء اللہ،فاطمہ نے جواب دیا۔
اگلے دن 10بجے میں رائحہ کے ساتھ عائشہ کے گھر جاتے ہوئے دل ہی دل میں اندازے لگا رہی تھی کہ شاید یہ بات ہوگی،شاید وہ بات ہوگی۔خیر اللہ اللہ کر کے ہم عائشہ کے گھر پہنچے۔گھنٹی کی آواز پر میں نے دروازہ کھولنے والی خاتون کا جائزہ لیا۔وہ گندمی رنگت ،درمیانے قد،متناسب نقش ونگار والی ایک خاتون تھی جس کے چہرے پر ایک معصومیت،ایک تقدس تھا۔اس نے ہلکے رنگوں والا پرنٹڈ سوٹ پہنا ہوا تھا۔وہ بہت حسین تو نہیں تھی،پر اس میں ایک عجیب سی کشش تھی۔شاید اس کے من کی خوبصورتی نے اس کے عام سے چہرے کو خاص بنا دیا تھا۔اس نے مسکراتے ہوئے چہرے سے ہمارا استقبال کیا۔”فاطمہ یہ عائشہ ہے”اور عائشہ یہ میری دوست فاطمہ ہے۔رائحہ نے تعارف کروایا۔
عائشہ ہمیںسادہ مگر خوبصورتی سے سجے ڈرائنگ روم میں لے گئی۔جہاں اس نے چائے اور دیگر لوازمات سے ہماری تواضح کی۔اس دوران میں پہلے ایک بچہ آیا،ہمیں سلام کیا اور ماما کہہ کر باقی بات کان میں بتا کر چلاگیا۔تھوڑی دیر بعد ایک اور بچہ آیا اور عائشہ کی گود میں بیٹھ گیا۔اس بچے نے بسکٹ دیکھ کر کہا۔۔۔ماما بسکٹ۔عائشہ نے اسے پیار کیا اور ایک بسکٹ اسے دے دیا۔میں نے نوٹ کیا دونوں بچوں کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔لیکن میں نے سوچا ایک ماں جیسا ہوگا دوسرا باپ جیسا۔گفتگو کے دوران رائحہ نے پوچھا سارہ کہاں ہے؟عائشہ نے جواب دیا وہ بچوں کو نہلا رہی ہے،ابھی آجاتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد ایک خاتون ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔اس کی رنگت عائشہ کی نسبت گوری تھی۔وہ مجھے ایک ہنس مکھ خاتون محسوس ہوئی۔ اس نے بالکل عائشہ جیسا سوٹ پہنا ہوا تھا۔یہ سارہ ہے،رائحہ نے تعارف کروایا۔میں نے نوٹ کیاعائشہ اورسارہ کے جوتے بھی بالکل ایک ہی ڈیزائن اور رنگ کے تھے ۔دونوں کی چوڑیاں اور باقی زیورات بھی بالکل ایک جیسے تھے۔زہراکے پیچھے پیچھے ایک بچہ بھی آگیا جس کی شکل سب سے پہلے ڈرائنگ روم میں داخل ہونے والے بچے سے ملتی تھی۔سارہ نے عائشہ کی گود میں بیٹھے ہوئے بچے سے کہا بیٹا ماما کے پاس آئو۔بچہ فوراً سارہ کے پاس آگیا۔اتنے میں ایک تیسرابچا ماما ،ماما کرتا سارہ کے پاس آیا اور پیسے مانگنے لگا۔سارہ نے عائشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بیٹا ماما سے لے لو۔یہ بھی ماما۔۔وہ بھی ماما۔۔۔میرا سر چکرانے لگاکہ
ع یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے؟
میں نے رائحہ کے کان میں کہا یہ سب کیا ہے؟رائحہ نے ہنستے ہوئے کہا”رہ گئیں نہ انگشت بہ دنداں؟اورعائشہ سے کہا “بھئی میری دوست کو مزید پریشان مت کرو اوردونوںمامائوںکا تعارف کروائو تاکہ یہ حیرت کے سمندر میں مزید غوطے کھانے سے بچ جائے۔جس پرعائشہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا اچھا بھئی میں تعارف کرواتی ہوں۔
میں اورسارہ ،ہم دونوں سہیلیاں ہیں۔اسی لئے ہم دونوں نے ایک جیسے کپڑے،ایک جیسے جوتے اور ایک جیسے زیور پہن رکھے ہیں۔تو یہ گھر کس سہیلی کا ہے؟میں نے سوال داغا۔ہم دونوںکا،سارہ نے جواب دیا۔میںہونّقوں کی طرح دونوں کو دیکھنے لگی۔اور یہ بچے؟میں نے ایک اور سوال کیا۔یہ بھی ہم دونوں کے ہیں،عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا۔میں نے کہا ایسا”سَہیل پنا”تو پہلی دفعہ دیکھا ہے۔۔۔ سہیلیوں کے ایک جیسے کپڑے،جوتے،زیور تو سنے بھی تھے اور دیکھے بھی تھے۔۔۔مگر یہ مشترکہ بچے۔۔۔ہر بچہ کا دونوں کو ماماکہنا۔۔۔۔ میری سمجھ سے بالا تر ہے۔اس پرعائشہ اور سارہ کا مشترکہ قہقہہ سنائی دیا۔
میں نے پھر روئے سخن رائحہ کی طرف کیا اور کہا رائحہ پلیز مجھے سچ سچ بتائو یہ سب کیا ہے؟رائحہ نے کہا:سارہ ، عبدالرحیم صاحب کی پہلی بیوی ہے جب کہ عائشہ ان کی دوسری بیوی ہے۔سارہ کے عبدالرحیم صاحب سے دوبیٹے ہیں۔عائشہ کے تین بیٹے اس کے پہلے شوہر سے ہیںاور عبدالرحیم صاحب سے شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ کو یہ بیٹی خدیجہ عطا فرمائی ،جو یانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔عائشہ کے شوہر کی وفات ہوگئی ،وہ عبدالرحیم صاحب کے ملنے والوں میں سے تھے۔عبدالرحیم صاحب نے شرعی پردہ کرنے کی وجہ سے اگرچہ عائشہ کو کبھی دیکھا تو نہیں تھا مگر اس کی دین داری،اچھے اخلاق وسیرت،سلجھی ہوئی طبعیت کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔سو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ میںعائشہ سے شادی کرلوں۔ایک بیوہ عورت اور اس کے یتیم بچوں کی سرپرستی سے اللہ خوش ہوگا اور یقیناًاس عمل سے ہمارے رزق میں مزید برکت دے گا اور عائشہ پروفیسر ہونے کی بنا ء پربچوں کی تعلیم وتربیت میں بھی بہترین معاونت کا باعث ہوگی۔
سو عبدالرحیم صاحب نے عائشہ کو شادی کا پیغام بھیجا،مگر عائشہ نے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ مجھ پر اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔کوئی اجنبی میرے بچوں کو باپ کاپیار کیسے دے سکے گا؟میں نہیں چاہتی کہ میرے کسی غلط فیصلے سے میرے بچوں کی زندگی خراب ہوجائے۔ سو میں ہرگز ہرگز دوسری شادی نہیں کروں گی۔پھر رائحہ نے روئے سخن عائشہ کی طرف کرتے ہوئے کہا :عائشہ بہتر ہے کہ تم اپنی کہانی فاطمہ کو خود سنائو۔اس پر عائشہ یوں گویا ہوئی:
جب عبدالرحیم صاحب نے مجھے پرپوز کیا تو میں نے ان سے کہا الحمد للہ آپ کی بیوی حیات ہے،ماشاء اللہ وہ خوبصورت بھی ہے، اللہ نے آپ کو دوبیٹوں کی صورت میں اولاد سے بھی نوازا ہے۔آپ کو اپنی بیوی سے کوئی شکایت بھی نہیں،اس میں کوئی کمی بھی نہیں پھر مجھ سے شادی کا آپ کے پاس کیا جواز ہے؟عبدالرحیم صاحب نے ہر مرد کی طرح جواب دیا کہ اسلام نے مجھے چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ میں نے کہا بہت سی وجوہات کی بناء پرمرد کوایک سے زائد شادیوں کی ایک رخصت دی گئی ہے۔اسلام محض اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لئے کثرت ِازواج کی رخصت نہیں دیتا بلکہ اس رخصت پر خاص شرائط کے ساتھ عمل کیا جا سکتا ہے۔اس پر عبدالرحیم صاحب نے جواب دیا کثرت ازواج رخصت نہیں ہے بلکہ اللہ رب العزت کا حکم بھی ہے اور سنتِ نبوی ﷺبھی۔میں بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق ایک سے زائد نکاح کا حکم بے نکاحی خواتین کی پاکدامنی اور حقوق کے تحفظ کا باعزت طریقہ ہے ۔اسلام جہاں اس سہولت کے ذریعے یتیم،خلہ یافتہ ،طلاق یافتہ اور بیوہ عورتوں کی کفالت اور دلجوئی چاہتا ہے،وہاںعورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلّت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانا بھی اس کا ایک اہم مقصد ہے۔ اوریہ بھی یاد رہے کہ دوسری شادی کے لئے یتیم،بیو ہ یامطلقہ کی شرط ہرگز نہیں رکھی گئی مگریہ ایک سنّت ہے اور سنّت پر عمل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔سو میرے پیشِ نظر محض شادی نہیں ہے ،میں اس کے ذریعے یتیموں کے سر پر دستِ شفقت بھی رکھنا چاہتا ہوںاور آپ کودوبارہ ایک خوش وخرم انسان کے طور پر زندگی کی شاہراہ پر گامزن بھی کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے آپ ٹھنڈے دل ودماغ سے اس پر سوچیں۔
میں نے کہا عبدالرحیم صاحب زبانی باتوں اور عمل میں زمین ،آسمان کا فرق ہوتا ہے۔یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔عورت جس کے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر مامتا کا جذبہ رکھا ہوا ہے،جب سوتیلی ماں بنتی ہے تو یہ جذبہ پتا نہیں کہاں جا سوتا ہے؟تو سوتیلے باپ کا کیسے اعتبار کیا جائے؟عبدالرحیم صاحب نے کہا سوتیلی ماں کا جوگھنائونا کردار ہمارے معاشرے میں معروف ہے اس کاسبب ہندوئوانہ سوچ کے اثر کے ساتھ ساتھ بے دینی اور قرآن و سنّت سے لا علمی بھی ہے۔جہاں دین داری،اللہ کا خوف اور اللہ پر توکل ہو وہاں اس قسم کے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ میں نے ایک اعتراض یہ بھی کیا کہ آپ نہ صرف عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں بلکہ آپ کی تعلیم بھی مجھ سے کم ہے۔عورت اگر تعلیم کی کمی کو اہمیت نہ بھی دے …مرد اس حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے اور یہ احساس زندگی میں تلخیاں پیدا کردیتا ہے ،پھر میں کیونکہ عمر میں آپ سے بڑی ہوں اس لئے شاید میں آپ کا وہ احترام نہ کرسکوں جو بحیثیت بیوی مجھ پر فرض ہے ۔ عبدالرحیم صاحب کا جواب تھا نبی کریم ﷺ نے اپنے نکاحوں سے مسلمانوں کو عملی سبق دیا کہ صرف کنواری اور جوان عورتوں ہی کی طرف نہ جائیں بلکہ ناداربیوائوں، طلاق یافتہ اور بڑی عمر کی عورتوںکو ترجیح دیں۔امّہات المومنین رضی اللہ عنہنّ میں صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کنواری اور کم عمر تھیں۔نبی کریم ﷺ نے پہلی شادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کی جو نہ صرف عمر میں آپ ﷺ سے پندرہ برس بڑی تھیںبلکہ ایک بیوہ خاتون تھیں۔اور آپ نے دیکھا کہ دونوں کی زندگی کس قدر خوشگوار گزری کہ آپ زندگی بھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یاد کرتے رہے ۔
اس پر عائشہ نے کہا آپ کی پہلی بیوی الحمد للہ نہ صرف حیات ہے بلکہ خوبصورت اور جوان بھی ہے،مجھے ایسا محسوس ہوگا کہ میں اس کا حق مار رہی ہوں۔میں سمجھتی ہوں یہ اس سے زیادتی ہوگی۔عبدالرحیم صاحب کا فوری جواب تھا کہ کیا اماّں عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر امّہات المومنین خوبصورت نہیں تھیں؟آپ ﷺ نے ان کی زندگی میں اور شادیاں کیں۔دراصل ا سلام اس بات کا حکم دیتا ہے کہ عورت کواس کے خاندان کے مرد تحفظ دیں،سخت حالات میں ہرطرح اس کی کفالت کریں۔اگر خاندان میں کوئی کفیل نہ ہوتو آپ ﷺنے برادری سے ہٹ کر دوسرے قبائل میں نکاح کرکے ثابت کیا کہ اصل معیار دین داری ہے برادری یا خاندان نہیں۔
میں نے کہا میں یہ فیصلہ کرچکی ہوں کہ میں دوسری شادی ہرگز نہیں کروںگی۔عبدالرحیم صاحب کا جواب تھا کہ دوسری شادی نہ کرنا تو ہندوئوانہ سوچ ہے۔ہندو معاشرے میں دوسری شادی کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔آپ اتنی تعلیم یافتہ ہوکر ایسی سوچ رکھتی ہیں؟ میں نے کہا لیکن اسلام نے بیوہ کے لئے دوسری شادی کی شرط نہیں رکھی۔عدّت کے دوران میں نے کتاب”بیوگی کاسفر” پڑھی تھی جس میں بچوں کی خاطر نکاح ثانی سے انکار کی مثال موجود ہے۔واقعہ یوں ہے کہ حضرت امّ ہانی رضی اللہ عنہا (بنتِ ابو طالب)کو نبی کریم ﷺ نے نکاحِ ثانی کا پیغام دیاتو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی :
” یا رسول اللہ ﷺ!آپ مجھے اپنی آنکھوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں لیکن شوہر کا حق بہت زیادہ ہوتا ہے اور میرے بچے بھی ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں شوہر کا حق ادا کروں گی توبچوں کی طرف سے غافل ہوناپڑے گا اور اگر بچوں کی پرورش میں مصروف رہوں گی تو شوہر کا حق ادا نہ کرسکوں گی۔”(بیوگی کا سفر۔الہدیٰ پبلی کیشنز ص۱۲۷)
میری خوش فہمی تھی کہ یہ دلیل سن کر عبدالرحیم صاحب لاجواب ہوکر پیچھے ہٹ جائیں گے۔۔مگر انہوں نے کہا آپ اکثر صحابیات رضی اللہ عنہنّ کا اسوہ اپنانے کی بجائے انفرادی مثال کو کیوں نمونہ بنا رہی ہیں؟ابھی آپ کے بچے چھوٹے ہیں،آج کل کے حالات میں مرد کی سرپرستی کے بغیر خاص طور پر لڑکوں کی دینی تربیت بہت مشکل کام ہے۔ہادیٔ برحق ﷺ نے توبیوہ عورتوں سے نکاح کرکے ان کی تعظیم وتکریم کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا عملی نمونہ قائم کیا ہی تھا،قرآن مجید نے بیوگان سے نکاح کی باقاعدہ تحریک چلائی۔ارشادِ ربّانی ہے:
و انکحوا الایامیٰ منکم
ـ”اور اپنے میں سے بے نکاح مردوعورت(بیوائوں اور رنڈووں)کا نکاح کردیا کرو”(النور:32)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بیوہ اور مسکین کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا اور ان کی خدمت کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا،
جیسا وہ نمازی جو نماز سے نہیں تھکتا اور جیسا وہ روزہ دار جو کبھی روزہ کا ناغہ نہیں کرتا”(بخاری)
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
“میں اور یتیم کی پرورش کا ذمہ دار دونوں جنت میں ایسے ہوں گے جیسے یہ دونوں”
اور شہادت اور درمیان والی انگلی کا اشارہ کرکے بتایا۔(بخاری)

میں نے ایک اور خدشے کا اظہار کیا کہ آپ کے ماشا ء اللہ اپنے بچے بھی ہیں،آپ کی بیوی ہے،ہم چارافراد کے اضافے سے اخراجات میں جو اضافہ ہوگا وہ آپ کیسے پورا کریں گے؟انہوں نے جواب دیا: میں بیرونِ ملک ملازمت کرتا ہوں۔الحمد للہ میری اتنی آمدنی ہے کہ میں دو خاندانوں کا خرچ آسانی سے برداشت کرسکتا ہوں۔ ویسے بھی نکاح فراخئی رزق کا باعث بنتا ہے۔کیونکہ میاں بیوی دو افرادِ خانہ ہوتے ہیں،اگر ایک کا رزق تنگ بھی ہوگا تو دوسرے کارزق اسے بھی کفایت کرجائے گا۔دور نبوت میں مفلس ترین شخص کے نکاح کی مثال ملتی ہے ۔عبدالرحیم صاحب نے مزید کہا:امام بخاری رحمۃ اللہ علیہہ نے صحیح بخاری میں عنوان قائم کیا ہے:”باب تزویج المعسر”(تنگ دست کی شادی کرانا)۔وہ اس کے جواز کے لئے قرآن مجید کی اس آیت کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِن یَکُونُو فُقَرَائَ یُغنِھِمُ ا ﷲ مِن فَضلِہ ط وَ ا ﷲُ وَا سِعٌ عَلِیمٌ(ا لنور 32)
ترجمہ:اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ(نکاح کی برکت )سے انہیں غنی کردے گا،اور اللہ تعالیٰ وسعت والا جاننے والا ہے۔
اس سلسلہ میں علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہہ فرماتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو غِنٰی کو نکاح کے سوا کسی اور چیز میں تلاش کرتا ہے
حالانکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ اگر فقیر ہوگے تو اللہ تعالیٰ(نکاح کے بعد) غنی کردے گا۔(تفسیر البغوی 342/3)
یعنی انسان اپنی اسستطاعت کے مطابق رزق کی تلاش میں بھر پور کوشش کرتا رہے کیونکہ نکاح کے بعد جس مخلوق کو بھی پیدا فرمائے گا اس کے رزق کی ذمہ داری اللہ رب العزت اپنے ذمہ لی ہے،اس لئے یہ خالق اور مخلوق کا معاملہ ہے،آپ کا کیاخیال ہے کہ بیوی بچوں کو اللہ نعوذ باللہ بھوکا مارے گا؟ہرگز نہیں۔اس نے ہر کسی کا جتنا رزق لکھ دیا ہے وہ اسے مل کر رہے گا۔ میرا یقین ہے کہ اللہ میرے رزق میں یوں اضافہ کرے گا کہ دوسری بیوی اور اس میں سے پیدا ہونے والی اولاد کے مقدر کی روزی بھی مجھے ملنے لگے گی۔ان شاء اللہ۔

(جاری ہے) دوسری قسط پڑھے  کے لئے یہاں کلک کیجئے

رضیہ رحمٰن

اسسٹنٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo