ارتقا، علماء اور ہماری ذمہ داری

سنہ 1940 سے پہلے کا علم معاشیات اٹھائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ آج کی معاشیات سے تقریبا تقریبا 180 ڈگری پر تھا۔
کلاسکل اور نیو کلاسکل معیشت دانوں نے اپنے وقت کے حساب سے معاشیات کی جو اصطلاحات مقرر کی تھیں اور جو تعریفات بیان کی تھیں وہ جدید دور کے معیشت دانوں نے یکسر مسترد کردیں حتیٰ کہ بابائے معاشیات “آدم اسمتھ” کی تعریفات پر انتہائی قسم کی جرح کے بعد اسے کوڑے دان کی نذر کردیا گیا۔
کنزیومر تھیوری ہو یا آئی سو کوسٹ لائن، بجٹ کنسرینٹ ہو یا انڈفرنس کرو۔ یہ تمام تحقیقات بہت بعد کی ہیں۔ بلکہ شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ معاشیات کو باقاعدہ طور پر مائکرو اور میکرو میں تقسیم بھی اسی دور میں کیا گیا اس سے پہلے صرف معاشیات تھی۔
انگریز معیشت دان “کینز” (آنجہانی 1946) نے کچھ تھیوریز دے کر علم معاشیات کو ایک نیا رُخ دیا۔ لیکن اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ سنہ 1970 کی دہائی میں جب زر کرنسی کی پشت سے ہٹ جائے گا تو عالمی معیشت کی لگامیں اور معیارات ایک دم پلٹ جائینگے۔
بلکہ یہ بات تو ہم بھی نہیں کہہ سکتے کہ آئندہ چالیس پچاس سالوں بعد کرنسی کی شکل کس طور تبدیل ہونے والی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کرنسی اپنی اصل شکل کھو بیٹھے اور کوئی نئی شکل ایجاد ہو جیسے آج سے پچاس سال پہلے کے لوگ ڈیبٹ/کریڈٹ یا اے ٹی ایم کارڈ کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
بہرحال ہوا یوں کہ ایک کے بعد ایک معیشت دان آتا گیا اور زمانے کے حساب سے معاشیات میں اپنے طور پر تبدیلیاں کرتا گیا۔ لیکن آپ کہیں بھی یہ نہیں سنیں گے کہ کسی نے معاشیات کو برا بھلا کہا ہو یا ان معیشت دانوں پر قدغن لگائی ہو۔
اسی طرح علماء اسلام کا معاملہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے تعریفات وہی ایک قران و سنت ہیں جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود تبدیل نہیں ہوئی ہیں نہ ہی کبھی ہونگی۔
البتہ علماۓ امت نے اپنے اپنے وقت کے حساب سے فتاویٰ جات مرتب کیئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے ارتقاء میں آج کل غیر موزوں ہوگئے۔ ان پرانے فتاویٰ جات کو لے کر علماء پر قدغن لگانا بھی بے وقوفی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے اعتبار سے احکامات مرتب کیئے جو اس وقت صحیح تھے اور بعد میں آنے والوں نے اپنے زمانے کے اعتبار سے احکامات مرتب کیئے جو اب صحیح لگتے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ نیا آنے والا زمانہ کچھ نئی چیزیں لائے تو ان نئی چیزوں کا حکم الگ ہوجائے گا۔
اسی کو کہتے ہیں وقت کے ساتھ چلنا۔
اگر علماء غلط کرتے ہیں تو معیشت دانوں کا بھی مذاق اڑنا چاہیئے۔ بابائے معاشیات کا بھی ٹھٹہ اڑنا چاہیئے لیکن یہ دوہرے معیارات کیوں بنائے گئے ہیں؟
ظاہر ہے بغض کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟
قاضی محمد حارث

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo