تبصرہ کتب : ممتاز راشد ؔلاہوری

نام کتاب: امبراں تے پینگاں (پنجابی شعر ی مجموعہ )
شاعرہ: زبیدہ حیدر زیبی ـؔ(لاہور )
سنِ اشاعت: جنوری 2013ء
صفحات : 128
قیمت: 200روپے
ناشر: نگاہ پبلی کیشنز (اعجاز فیروز اعجازؔ) FF5۔ بلاک 6۔ ٹائپ سی ۔ پی ایچ اے کالونی مصری شاہ لاہور
تبصرہ نگار: ممتاز راشدـ ؔلاہوری(مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘ (لاہور /دوحہ)۔ 31مئی 2014ء
زبیدہ حیدر زیبی ؔ لاہور کی سینئر پنجابی شاعرہ ہیں ۔ ’’امبراں تے پنگاں ‘‘ (آسمانوں پر پینگیں) ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔ سرِورق پر جھیل ، ساحل ، محل ، پہاڑ ، آسمان اور اس پر قوس قزح کا منظر ہے ۔ بیک ٹائیٹل پر ایک پرانی مغل عمارت کے سامنے گھاس پر بیٹھی زبیدہ حیدر زیبی ؔ کی عمدہ تصویر ہے ۔ سر ورق کے اندر عدل ـــؔـ منہاس لاہوری، اقبال قیصر اور اعجاز فیروز اعجازـؔؔ کے ایک ایک صفحے کے دیباچوں سے اقتباسات دیے گئے ہیں۔ بیک ٹائیٹل کی اندرونی جیب پر زیبی ـ ـؔ کی اس پنجابی غز ل کے سات اشعار دیے گئے ہیں ؎
جاگو میٹی اکھیاں چ خواب تیرے آندے رئے
خواباں وچ ہجراں دے ناگ ڈراندے رَئے
اس کتا ب کا انتساب زیبی نے اپنے ابا جی (ایم اے فریدی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ) ماں جی (زہرہ فریدی ) اور دادا جی ٹھاکر ، ہیرا سنگھ بہادر ، (کھٹمنڈو، نیپال ) کے نام ہے ۔ ان کے دادا نے اسلام قبول کر کے امام دین نام رکھا تھا ۔ اپنے ایک صفحے کے پیش لفظ میں زیبی کہتی ہیں کہ میں 9ستمبر 1950ء کو محمد نگر لاہور میں پیدا ہوئی ۔ تعلیم واجبی ہے ۔ سکول میں گانوں کی پیرو ڈی کرتی تھی ۔ 1985ء میں شاعری شروع کی ۔ 1995ء میں ایک مشاعرے میں میری نظم سن کر طالب چشتی نے ریڈیو لاہور پر آنے کی دعوت دی۔ پھر شاعری کا سفر اُن کی اصلاح کے ساتھ جاری رہا ۔ کئی ریڈیو گیت لکھے ۔ (اس کے کچھ تفصیل بھی ہے ۔ کتاب کے آخر میں شامل گیتوں کے ساتھ گلوکاروں کے نام بھی ہیں )۔ اس کتاب کے آغاز میں حمد، دعائیہ شعر، نعت اور شاہ حسین ؒ دے حضور ‘‘ کے عنوان سے منقبت ہے اس صوفی شاعر کا مزار باغبانپورہ لاہور میں ’’مادھولال حسین ‘‘ کے نام سے ہے ۔ کتاب کے دوسرے حصے میں 36غزلیں ہیں اور پھر دس نظمیں ۔ آخر میں دس گیت بھی ہیں۔ نظموں کے عنوان یوںہیں:۔ اکھاں دابھرم ، ڈھگے ، انہونی ، بارش ، ٹوپی دے ڈرامے ، حال دی گھڑی ، لہراں ، مزدور، انگ کافی ، سلطان باہو ؒ دی نذر ۔۔۔۔ زیبی ـؔ کی شاعری میں بے ساختگی اور بے تکلفی کی فضا عام ہے ۔ وہ لاہور کے مشاعروں میں اکثر شرکت کرتی ہیں اور بے تکلفی ہی سے کلام سناتی ہیں ۔ اسی بے تکلفی کے سبب وہ اکثر وزن وغیرہ کو بھی کماحقہ ، اہمیت نہیںدیتیں مگر اسی وجہ سے ان کے شعروں میں وہ مضامین آجاتے ہیں جو دوسرے شاعروں (خصوصاً شاعرات ) کے ہاں کم کم ملتے ہیں اوائل مئی 2014ء میںمغلپورہ سوسائٹی سکول کے ماہانہ مشاعرے میں انھیں میں نے اپنا شعری مجموعہ ’’کرماں دی چھاں کر دے ‘‘ پیش کیا تھا ۔ 22مئی کو میں نے اپنے ’’ادارہ ٔخیال و فن ‘‘کے زیر اہتمام اکادمی ادبیات (لاہور مرکز) میں کہانی کا ر پروین ملک کے ساتھ ایک شام رکھی ۔ وہاں زیبی ؔ نے اپنا یہ شعری مجموعہ مجھے عنایت کیا ۔ اس کا مطالعہ خوشگوار رہا ۔ آخر میں اس کتاب سے کچھ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
جندڑی ، سوہل، ملُوک ، نمانی
دُکھاں دی پنڈ چکدی جاوے
اسی ہر کسے ول پیار دی نظر ے تکدے نئیں
جنّوں تک لیّے تے فیر کدی اوہ بچدے نئیں
مُول نہ جاویں عشق دے پاسے
رُس جاون گے تیتھوں ہا سے
کالے مُول نہ ہووَن بَگّے
بھاویں نو من صابن لگے
اُنھّی آئی دانے چھَٹّن
لنگڑی آئی کنداں ٹپّن
مانواں دے پُت کھوہن تے پاسے ہو جاوَن
اللہ ای پُچھے اَیسیاں اللہ رکھیاں نوں

نام کتاب: حال (شعری مجموعے )
شاعر: محمد ندیم بھابھہ
سنِ اشاعت: ستمبر 2013ء
صفحات : 210
قیمت : 350روپے
ناشر: ورّاق اشاعتی مرکز ۔ 1-B, E-2گلبرگ ۔3۔ لاہور
تبصرہ نگار: ممتاز راشدـؔ لاہوری (مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال وفن لاہور /دوحہ )22مئی 2014ء
اردو شاعری میں تصوف کے ’’باقاعدہ ‘‘شاعروں چند ایک نام ہی نمایاں ہیں ۔ ندیم بھابھہ بھی اسی میدان کے شہسوار ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’’میں کہیں اور جا نہیں سکتا ‘‘(2000ء)اور تمہارے ساتھ رہنا ہے‘‘(2005ء)ء بھی زیر تبصرہ کتاب ’’حال ‘‘میں شامل ہیں ۔ ’’حال ‘‘کی تقریب رونمائی 19مئی 2014ء کو الحمراء ادبی بیٹھک (ہال نمبر3)میں ہوئی ۔ صدارت نامور کالم نگار عطاء الحق قاسمی کی تھی ۔ اسٹیج پر ندیم بھابہ اور اسلام آباد سے آئی ہوئی شاعرہ راشدہ ماہین ملک کے علاوہ نامور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر اور خواجہ محمد زکریا ،نامور شاعر نجیب احمد ، نامور شاعرہ صغریٰ صدفؔاور ٹی وی پروگرام ایک دن جیو کے ساتھ ‘‘والے سہیل وڑائچ بھی تھے ۔ اظہار خیال کرنے والوں میں غافر شہزاد ، شاہد ریاض گوندل، حسین مجروح ، قمر رضا شہزاد اور سعید ہمدانی بھی تھے ۔ حاضرین میں بھی بیسیوں اہل قلم تھے ۔ وہاں ندیم ؔبھابھہ اور ’’حال ‘‘کے حوالے سے کئی اہم باتیں سننے کو ملیں، وہیں راجا نیّر نے مجھے یہ کتاب بھی دی ۔ بہت خوبصورت انداز میں شائع شدہ اس کتاب کے سرورق اور اندر کے کئی صفحات پر لمبے چوغے میں ملبوس دھمال ڈالتے ہوئے قلندر کا مبہم سا عکس دیا گیا ہے ۔ سر ورق پر ندیم بھابہ کا یہ مطلع بھی ہے ؎
ہجر ہوں پورا ہجر ہوں ،عشق وصال کرے دل کی دھڑکن تال ہو ، جسم دھمال کرے
بیک ٹائیٹل پر ندیم بھابھہ کی تصویر، انکی دونوں کتب کے عکس اور آٹھ شعروں کی یہ غزل دی گئی ہے ؎
ہے مرے واسطے دعا مِرا عشق مجھ کو زرخیز کر گیا مِرا عشق
سر ورق کی اندرونی جیب پر انکی سات شعروں کی یہ غزل ہے ؎
دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے کسی غفلت کی سزادی گئی ہے
کتاب کا انتساب ندیم بھابھہ نے درگاہ سلطان باہوؔ (جھنگ )کے اپنے مرشد سائیں سلطان محمد علی کے نام کیا ہے ۔ کتاب کے دیباچہ نگاروں میں عباس تابشؔ، حسین سحرؔ اور منصور آفاق شامل ہیں۔ آخر میں ندیم بھابھہ کا پیش لفظ ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ میں زیادہ کہنے والا شاعر نہیں ہوں، شاعری کو ہنر سے زیادہ توفیق سمجھتا ہوں جو دعائوں کا ثمر ہوتی ہے سو میری شاعری میری دعا کا درجہ رکھتی ہے ‘‘ ندیم بھابھہ کی شاعری عشق ، سر مستی ، ہجر و وصال ، عالم کیف ، وجد اور دھمال وغیرہ کے تانے بانے سے بُنی گئی ہے ۔ چند اشعار دیکھیں:
شاہزادے تجھے مبارک ہو
تیری قسمت میں بادشاہی نہیں
ہم اُس کو رخ سے نہیں ، جانتے ہیں خوشبو سے
ہمارے سامنے اُس جیسا تو سنبھل کر ہو
سب نے اپنی سلامتی مانگی
میں پکارا کہ اے خدا مِرا عشق
جو مجھ میں کھیلتا رہتا تھا مر گیا لڑکا
ستم تو یہ ہے مَرا بھی جوان ہوتے ہوئے
اب اس کے بعد مجھے گفتگو میں مت رکھنا
میں تھک چکا ہوں مسلسل بیان ہوتے ہوئے
تجھے کچھ وقت چاہیے مِری جان
وقت ہی تو نہیں بچا مِرے پاس
ہم کسی زعم میں ناراض ہوئے ہیں تجھ سے
ہم کسی بات پہ اوقات سے نکلے ہوئے ہیں
رہا نہ ہجر مگر میں اُداس ہوں پھر بھی
مِری اداسی کا شاید سبب اُداسی ہے

نام کتاب: لاہور کے مینار
مصنف : غافر شہزاد (بی آر چ ، ایم آرچ ، ایم اے ) جہلم/ لاہور
سنِ اشاعت: 2001ء
صفحات: 96
قیمت: 225روپے
ناشر: ادارک پبلی کیشنز15-Fشارجہ سنٹر ، 62شاد مان مارکیٹ لاہور
تبصرہ نگار: ممتاز راشدؔلاہوری (مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘لاہور /دوحہ)8مارچ 2013ء
غافر شہزاد ادیب و شاعر تو تھے ہی ، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ماسٹر ڈگری لینے کے بعد انہوں نے لاہور کے فن تعمیر پر لکھنا شروع کیا اور زیر تبصرہ کتاب کے علاوہ ’’لاہور کا فن تعمیر ‘‘اور ’’لاہور کے مزار ‘‘بھی تخلیق کیں۔ پہلے ان کی یہ کتب آئی تھیں۔ تصویریں سانس لیتی ہیں (افسانے )1990ء ، چراغ آنکھوں میں (شاعری )1991ء ، خوابوں کی گرہ میں پڑی لڑکی (افسانے )1995ء ، ندیم کے افسانوی کردار (تنقید)1997ء ، لوک شاہی (ناولٹ )1998ء ، شہر نا تمام (افسانے ) 2001ء اور چشمِ سیاہ (شاعری )2001ء ۔۔۔۔۔ ’’لاہور کے مینار ‘‘میں صرف لاہور کی مساجد کے میناروں کا جائزہ ہے ،یعنی اس کتاب میں لاہور کے دیگر میناروں مثلاً مینارِ پاکستان ، مقبرہ جہانگیر کے مینار ، اسلامک سمٹ کانفرنس مینار، بعض شہداء کے یادگاری مینار، چوبرجی کے مینار، ریلوے اور بعض دیگر صنعتوں وغیرہ کی چمنیوں کے میناروں کے بارے میں نہیں لکھا گیا ہے۔ اس کتاب کا انتساب ’’لاہور کے عظیم تعمیراتی ورثے کے نام ‘‘ ہے ۔ پانچ سو کی تعداد میں چھپنے والی یہ کتاب شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ لاہور میں اعلیٰ معیار کے ساتھ چھپی ہے۔ سرورق پر لاہور کی نو مساجد کے میناروں کی تصاویر ہیں۔ ان میں شاہی مسجد ، مسلم مسجد، مسجد داتا دربار، مسجد شہداء ، جامعہ اشرفیہ اور مسجد وزیر خاں وغیرہ شامل ہیں۔ بیک ٹائیٹل پر غافر کی رنگین تصویر ہے ، ان کی کتب کی فہرست ہے اور ’’لاہور کے مینار ‘‘کا انگریزی میں تعارف ہے ۔ اس کتاب کے چار حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں میناروں کا جائزہ عالم اسلام کے تناظر میں لیا گیا ہے ۔ دوسرے حصے میں میناروں کا جائزہ لاہور کی مساجد کے میناروں کے تناظر میں ہے ۔ ان دونوں حصوں میں میناروں کے عمومی مطالعے کے علاوہ ان پہلوئوں پر گفتگو کی گئی ہے : مینار کا آغاز و ارتقاء ، مینار کی مروجہ اصطلاحات، مینار کے تشکیلی اجزاء ، مسجد میں مینار کی جگہ کا تعین ، مینار کی تعمیراتی تکنیک ، میناروں پر خطاطی ۔ تیسرے حصے میں لاہور کی مساجد کے اہم میناروں کا تذکرہ ہے ۔ مثلاًعہد مغلیہ کی مساجد (مسجد مریم زمانی ، مسجد وزیر خان ، بادشاہی مسجد ) کے مینار ۔۔۔پھر قیام پاکستان کے بعد کی مساجد کے میناروں کا ذکر ہے ۔ ان میں یہ مینار شامل ہیں:۔ مینار جامع مسجد قبا، باغ والی ، راوی روڈ ، مینار جامع مسجد رحمانیہ شاد مان کالونی ، مینار جامع مسجد نمرہ مزنگ روڈ، مینار مسجد داتا دربار، مینار مسجد غوثیہ رضویہ عکسِ گنبد خضریٰ مال روڈ اور دیگر اہم مساجد کے مینار ۔۔چوتھے حصے میں مسجد میں مینار کی علامتی حیثیت کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ کتاب کے آخر میں تین صفحات پر ضمیمہ جات کے زیر عنوان لاہور کی 80مساجد کے نام دیے گئے ہیں۔ آخری دو صفحات کتابیات کے ہیں۔ یہاں چھ اردو اَور تیئس انگریزی کتب کا حوالہ ہے ۔ ان میں درجن بھر کتب کا حوالہ شہر لاہور سے ہے ۔ ضمیہ جات میں لاہور کی بعض مساجد کے ناموں کے ساتھ ان کا سن تعمیر بھی درج ہے ۔ ان کے مطابق لاہور کی سب سے پرانی مسجد ’’بیگم شاہی مسجد مستی دروازہ ‘‘ ہے جو 1614ء میں بنی ۔ اور جدید ترین مسجد جامع مسجد سیٹھ عبدالرحمن کشمیر ی (بکر منڈی ، بابو صابو ، بند روڈ لاہور )ہے۔ اس کتاب میں میناروں کی تعمیر پر بڑی مفصل اور تکنیکی بحث کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ میناروں کے اسیکچ بنا کر شامل کیے گئے ہیں ۔ نیز کئی مساجد کے نقشے کے پلان کا حصہ دکھا کر اس میں مینار کے مقام کواجاگر کیا گیا ہے ۔ کئی مینار وںکا بڑی گہرائی سے مطالعہ کر کے ان کی خوبیوں کو واضح کیا گیا ہے ۔ اس بنا پر یہ کتاب ’’لاہور کے مینار ‘‘ایک خاص موضوع پر بہترین کتاب کی صورت میں سامنے آئی ہے ۔ میں یہ کتاب 2002ء میں لاہور سے خرید کر دوحہ گیاتھا اور اُسی دور میں اس کا مطالعہ کر لیا تھا مگر اس پر تبصرہ نہ لکھ سکا تھا ۔ فروری 2013ء میں ’’کہر ماء ‘‘ قطر سے میری ( 60سال عمر پوری ہونے کی بنا پر )ریٹائر منٹ ہوئی تو میں نے اپنے نجی کتب خانے کی تقریباً ایک ہزار کتب میں سے بیشتر کتب قطر میں سب سے بڑے پاکستانی تعلیمی ادارے ’’پاکستان ایجوکیشن سنٹر ‘‘ (پی ای سی ) کی شاندار لائبریری کو عطیہ کر دیں ۔ ان میںزیر تبصرہ کتاب ’’لاہور کے مینار ‘‘ بھی شامل تھی ۔

نام کتاب: قطع بُرید (روزنامے کے لیے قطعات )
شاعر: اقبال راہی ؔ (لاہور)
سنِ اشاعت: جون 2015ء
صفحات : 144
قیمت : 300روپے
ناشر : گلشنِ ادب پبلشر ز۔ 49کشمیر بلاک علامہ اقبال ٹائون ، لاہور ۔
تبصرہ نگار: ممتا ز راشد لاہور یؔ(مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘لاہور /دوحہ)۔ 23جون 2015ء
اقبال راہی کہنہ مشق شاعر ہیںاور شاعر مزدور حضرت احسان دانش مرحوم کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ برسوں سے روزنامہ ’’اوصاف‘‘لاہور میں روزانہ کی بنیاد پر قطعہ نگاری کر رہے ہیں جس میں حالات حاضرہ کوموضو ع بنایا جاتا ہے ۔ 2011ء میں ان کے ایسے ہی قطعات کا مجموعہ ’’ہائی الرٹ پاکستان ‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ وہ پاکستان کے معدودے چند نمایاں ترین بدیہہ گوشعراء میں سے ہیں۔ ان کے قطعات کا زیر نظر مجموعہ ’’قطع برید‘‘طباعتی لحاظ سے اوسط معیار کی کتاب کے بطور سامنے آیا ہے ۔ سرورق پر آٹھ غبارے ہیں جن پر رہنمائوں کی تصاویر ہیں اور ایک بچہ قینچی سے ان ے دھاگے کاٹ رہا ہے بیک ٹائیٹل پراُن کی وہ نظم ہے جو انھوں نے گذشتہ برس اپنے جو انمرگ بیٹے فرحان اقبال کی وفات پر کہی تھی، سات اشعار کی اس نظم کے اوپر اُن کی وہ تصویر بھی ہے جس میں وہ مرحوم کی آخری عیادت کر رہے ہیں ۔ کتاب کا انتساب اوّل بھی تھیلسیمیا کے ہاتھوں فوت ہونے والے اسی بیٹے کے نام ہی ہے، انتساب ثانی اگلے صفحے پر انھوں نے اپنے 33کر مفر مائوں کے نام کیا ہے جن میں شعراء و شاعرات بھی ہیں ۔ سواصفحے کے اپنے پیش لفظ میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کے پچھلے مجموعے پر نامور شعراء احسان دانش، رئیس امر وہوی ، شہزاد احمد، عطاء الحق قاسمی، ڈاکٹر اجمل نیازی ، پروفیسر پریشان خٹک ، سراج منیر اور ڈاکٹر سلیم اختر کی آرا شامل تھیں لہٰذا س کتاب ’’قطع برید ‘‘ پر وہ کسی کی رائے شامل نہیں کر رہے ۔ شروع میں وضاحت ہے کہ یہ کتاب 5۔ اگست 2013؁ء سے 3مئی 2015ء تک کے حالات کا شعری منظرنامہ ہے ۔ اس کتاب کے قطعات صفحہ نمبر11سے صفحہ نمبر 144تک ہیں ۔ ہر صفحے پر تین قطعات ہیں اور ہر قطعے کا عنوان بھی دیا گیا ہے یوں کل تقریباًچار سو قطعات ہیں ۔ یہ قطعات چونکہ ہنگامی نوعیت کی خبروں کے بارے میں ہی اس لیے ان میں متعدد قطعات کے معیار پر بات ہو سکتی ہے مگر چونکہ اقبال راہی ؔ منجھے ہوئے شاعر ہیں اس لیے ان کے بیشتر قطعات یا ان میں سے بعض قطعات کے مصرعوں میں بڑی روانی پائی جاتی ہے ۔ کتاب میں کئی رہنمائوں وغیرہ کے نام یا واقعات ایسے ہیں کہ پورا پس منظر جاننے والا ہی اس قطعے سے بہترطور پر لطف اندوز ہو سکتا ہے، بعض قطعات عمومی موضوع کے بھی ہیں اور ان کا ابلاغ بخوبی ہو جاتا ہے ۔ آخر میں اس کتاب سے کچھ منتخب قطعات:۔
ہنستے اور مسکراتے بچوں کا
کس نے نام و نشاں مٹایا ہے
راہ میں بے شمار ناکے تھے
اسلحہ پھر کہاں سے آیا ہے
زندہ رہنا تھا جن کو دنیا میں
زندگی سے نکل کے راکھ ہوئے
اک ذرا سی ہماری غفلت سے
کتنے انسان جل کے راکھ ہوئے
خوشبو کی طرح اور اُجالوں کی طرح ہو
یہ سال نہ گذرے ہوئے سالوں کی طرح ہو
اس عالمِ فانی پہ رہیں امن کے سائے
یہ سال کسی کو بھی بریدن نہ دکھائے
زمین کا رزق کب تک ہم بنیں گے
نہ جانے ختم کب ہوں گے یہ فتنے
خبر ہونے نہیں دیتے کسی کو
منعظم ہیں یہ دہشت گرد کتنے

اقبال راہی ؔکے ساتھ برسوں سے محبت کا رشتہ ہے ۔ مشاعروں وغیرہ میں اکثر ان سے ملاقات رہتی ہے وہ ماہنامہ ’’تارکین وطن ‘‘ لاہور کے دفتر 49کشمیر بلاک اقبال ٹائون لاہور کے مدیر ہیں مدیر اعلیٰ میاں منظور شاہد سے ملنے جائوں تو ان سے بھی ملاقات رہتی ہے ۔ یہ کتاب انھوں نے وہیں عنایت کی تھی۔

نام کتاب: آسمان کاغذ پر (شعری مجموعہ )
شاعرہ: حُسن بانو(لاہور )
سنِ اشاعت: دسمبر 2010ء
صفحات : 176
قیمت : 200روپے
ناشر : جاوید قاسم (علی عون پبلی کیشنز ، والٹن روڈ ، لاہور )
تبصرہ نگار: ممتاز راشد ؔلاہوری (مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘ لاہور /دوحہ)29نومبر2011ء
حسن بانو کا تعلق قتیل ـؔ شفائی کی دھرتی ’’ہزارہ‘‘ سے ہے مگر وہ برسوں سے لاہور میں مقیم ہیں اور شعری محفلوں میں فعال طور پر شریک ہوتی ہیں ۔ وہ معروف ادبی تنظیم ’’بزم جوان فکر لاہور ‘‘کی نائب صدر ہیں ۔ اس کے صدر جاوید قاسم بھی معروف شاعر ہیں ۔ 27نومبر 2011ء کو اس تنظیم کا مشاعرہ حسن بانو کے ہاں ہوا ۔نظامت بھی انہی نے کی ۔ مجھے باقی ؔاحمد پوری کے ہمراہ اس مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا ، اختتام پر حسن بانو نے یہ کتاب بھی عنایت کی ،ہلکے گلابی رنگ کے منقشی صفحات پر شائع شدہ اس کتاب کا انتساب شاعرہ نے والد مرحوم اور والدہ محترمہ کے نام کیا ہے۔ اس کے دیباچوں میں سعید قریشی کا تین اور کرامت بخاری کا پانچ صفحات کا دیباچہ شامل ہے ۔ بیک ٹائیٹل پر شاعرہ کی رنگین تصویر کے نیچے نامور شاعر باقی احمد پوری کا سولہ سطروں کا حاشیہ ہے جس میں حسن بانو کی ایک مشکل ردیف والی غزل کا مطلع بھی شامل ہے ؎
دھڑکنوں میں سل نہیں ہے باوجود اس کے کہ ہے

وہ شریک ِدل نہیں ہے باوجود اس کے کہ ہے

اس کتاب میں پانچ نظموں کے سوا سبھی غزلیں ہیں جن کی تعداد بہتر ہے ۔ آغاز میں ایک ایک حمد، نعت اور سلام بھی ہے ۔ حُسن بانو کی شاعری سلاست سے عبارت ہے ۔ اپنے جذبات کا اظہار وہ کہیں شوخی سے کرتی نظر آتی ہیںاور کہیں شکایت کے لہجے میں۔ اسی طرح کہیں کہیں طنز یہ لہجہ بھی در آتا ہے۔ تعلّی کے اشعار بھی کافی ہیں۔ انداز بیان گنجلک نہیں ہے ۔ رومانی رنگ ان کی شاعری پر حاوی ہے ۔ یہ اُن کا پہلا مجموعہ ہے اور یوں بعض خام پہلو بھی ہیں ۔ تکرارِ ردیف اور عیبِ تنافر کی مثالیں عام ہیں ۔ اچھے شعروں کی کمی نہیں حالانکہ عمومی انداز کے اشعار زیادہ تعداد میں ہیں ۔ چند منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:۔

یہ میرا حوصلہ ہے حسن بانو ؔ
غموں کو سہہ رہی ہوں مسکرا کر
زندگی ٹوٹ کے بکھری تو مجھے علم ہُوا
اِس زمانے میں کوئی چاہنے والا تھا مِرا
میں اک حرفِ دعا کا روپ لے کر
ترے ہونٹوں پہ آنا چاہتی ہوں
آج سایہ بھی مِرے ساتھ نہیں
کبھی ہوتی تھی اِک گھرانہ میں
تمہارے شہر کا موسم ہی اتنا دلکش تھا
کہ ہم نے صبح کو اکثر وہیں یہ شام کیا
تمہارے غم نے سلیقہ دیا ہے جینے کا
تمہارے درد سے آباد ہو گئی ہوں میں
بُرا مت ماننا یہ حسنؔ بانو
ذرا سا بے ادب ہونے لگی ہے
زندگی کے غبار میں اے حسن ؔ
مجھ پہ وہ آئینہ عیاں نہ ہوا
کچھ قرض چکانے ہیں مجھے تشنہ لبی کے
آئے تو کبھی ہاتھ گریبان گھٹا کا
آسماں ہوں مَیں اور لوگوں کا
تیرے قدموں کی دھول جیسی ہوں

حسنؔ بانو نے بعض مقطعوں میں معنوی لحاظ سے بھی اپنے تخلص کا خوبصورت استعمال کیا ہے ان کی غزلیں بہر حال اُن کی نظموں سے زیادہ جاندار ہیں۔

نام رسالہ : فانوس(ماہنامہ )، علامہ اقبال نمبر1
مدیران: محمد طفیل شکور،خالد علیم ، محسن فارانی ، مدثر قدیر
سن اشاعت: اپریل، مئی 2016ء
صفحات: 480
قیمت: 600روپے
مقام اشاعت: طفیل ٹاور ، 16-B، لال دین سٹریٹ ، 35جیل روڈ ، لاہور۔ (54000)
تبصرہ نگار: ممتاز راشد ؔ لاہوری ،مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘(لاہور /دوحہ)11مئی 2016ء
ادبی ماہنامہ ’’فانوس‘‘ لاہور سے قدیر شیدائی نے 1960ء میں شروع کیاتھا ۔ 1980ء کے عشرے میں خالد علیم ان کے نائب مدیر رہے ۔ پھر یہ رسالہ بوجوہ بند ہو گیا ۔ قدیر شیدائی بھی وفات پا چکے تھے مگر حالات سا زگار ہوتے ہی خالد علیم نے 2012ء میں پھر سے اس کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس کے متعدد اچھے شمارے سامنے لائے اب زیر نظر علامہ اقبال نمبر نظر نواز ہوا ہے۔ بلا شبہ یہ اقبالیات میں گرا نقدر اضافہ ہے ۔ اس شمارے میں ماہرینِ اقبال کی کئی تحریریں ہیں، خصوصاً ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ڈاکٹرتحسین فراقی کی تحریریں بہت ہی خوب ہیں۔ مدیران ’’فانوس‘‘ کے مضامین بھی عمدہ کا وشیں ہیں۔ علامہ اقبال کے حضور بعض شعراء کا منظوم خراج تحسین بھی اس رسالے کاحصہ ہے ۔ ان نظموں میں علیم ناصری اور حفیظ الرحمن احسن کی تخلیقات خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ اس شمارے میں علامہ اقبال کے سیاسی نظریات کے حوالے سے حمیدہ نجم کے 1967ء کے ایک اہم مقالے کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح محمد شکور طفیل کے قلم سے ’’اقبال کے جناح کے نام خطوط‘‘ میں سیاسی مشاورات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ سرورق پر علامہ اقبال کا ایک مصورانہ عکس ہے جس کے پس منظر میں ’’مزارِ اقبال لاہور ‘‘ میں دکھایا گیا ہے ۔ ’’فانوس‘‘ کے اس شمارے کے بیک ٹائیٹل پر مدیر اعلیٰ محمد شکور طفیل کے قائم کردہ ’’طفیل ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ کے منصوبوں کی تفصیل ہے ۔ ان منصوبوں میں بیرون لاہور سے آنے والے اہل قلم کے لیے ’’مہمان خانہ ‘‘، غرباء کے لیے سستے گھروںکی تعمیرات، گروپ آف اسکولز کے علاوہ ماہنامہ ’’فانوس‘‘ کی اشاعت ، بچوں کے ایک رسالے کی اشاعت اور طفیل پبلی کیشنز جیسے علمی و ادبی منصوبے بھی شامل ہیں ۔ بیک ٹائیٹل کے اندر کے صفحے پر جولائی2016ء میں ’’ممتاز اطہر نمبر ‘‘شائع کرنے کی نوید دی گئی ہے ۔ ’’فانوس‘‘ کے اس علامہ اقبال نمبر کو نمبر1لکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ’’فانوس ‘‘’’مزید ‘‘ اقبال نمبربھی پیش کرے گا۔ ہماری نیک تمنائیں ان کے سبھی آنے والے خاص و عام شماروں کے لیے ہیں ۔ ۔۔ ع ۔۔۔ اللہ کرے مرحلہ ، شوق نہ ہو طے

نام کتاب: دل صحرا (افسانے )
مصنفہ : نسرین نگہت سبزواری (لاہور )
سنِ اشاعت: 2012ء
صفحات : 158
قیمت: 165روپے
ناشر : پہچان پبلی کیشنز لاہور
تبصرہ نگار : ممتاز راشد ؔلاہوری (مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن ‘‘لاہور /دوحہ) 6مئی2016ء
نسرین نکہت سبزواری کا شمار لاہور کی کہنہ مشق شاعرات میں ہوتا ہے ۔ ’’دل صحرا ‘‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے ۔ اور اس کتاب میں دس طویل افسانے ہیں ۔ یکم مئی 2016ء کو حلقہ ارباب سخن کی ماہانہ ا دبی محفل حسبِ معمول اس حلقہ کی روح رواں در نجف زیبی کے ہاں واپڈا ٹائون لاہور میں منعقد ہوئی ۔ نسرین نکہت اکثر ان محفلوں میں شرکت کرتی ہیں ۔ انھوںنے اپنی یہ کتاب مجھے مذکورہ بالا محفل ہی میں عنایت کی تھی ۔ اس کا مطالعہ بڑا خوش کن رہا ۔ انتساب انھوں نے مرحوم والدین کے نام کیا ہے۔ ڈیڑھ صفحے کے پیش لفظ میں انھوں نے اپنے ادبی سفر کی روداد بھی لکھی ہے ۔ وہ دہم میں تھیں کہ اُن کی پہلی کہانی ’’زعفران کے پھول ‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں آئی۔ یہ مقبوضہ کشمیر کے بارے تھی ۔ پھر ان کے افسانے کئی رسالوں میں چھپے مثلاً حور، بانو، پاکیزہ ، کرن ڈائجسٹ ، سر گزشت ، سچی کہانیاں ، ادب لطیف، عمران ڈائجسٹ اور دو شیزہ وغیرہ میں ،بچوں کی کہانیاں ’’تعلیم و تربیت ‘‘ ، نونہال اور ’’آنکھ مچولی‘‘ میںآئیں، ان کے منجھلے بھائی سید ناظم واسطی شاعر تھے ۔ انھوں نے نسرین کے افسانوی مجموعہ کا نام ’’برق و باراں ‘‘رکھا مگر یہ نہ چھپ سکا، البتہ شعری مجموعہ ’’آئینوں کے زخم ‘‘ چھپ گیا ۔نسرین نے’’دل صحرا‘‘کی اشاعت میں تعاون پر اپنے بچوںکاشف ، عاطف ، واصف اوربڑی بیٹی سعدیہ کے علاوہ بہوئوں ، عائشہ اور آشی نیز داماد نعمان واسطی اور نندوئی سید افتخار اعجاز کا اوررفیق زندگی سید شفیق احمد سبزواری کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ اہل قلم میں سے شہناز مزمل، کرامت بخاری ، نجمہ یاسمین یوسف، طارق واصفی شاہد بخاری ، اقبال راہی اور در نجف زیبی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے اور پبلشر محبوب اقبال کا بھی ۔ تین صفحات کا دیباچہ لاہور کی نامور افسانہ نگار الطاف فاطمہ کا تحریر کردہ ہے ۔ انھوں نے نسرین کے چار پانچ افسانوں کا تجزیہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کا ہر افسانہ اپنے احوال و کوائف کے اعتبار سے رنگا رنگی کے باوجود ایک قدر مشترک یعنی عورت کی ذات سے ایک ہی لڑی میں پر ویا نظر آتا ہے ۔نسرین نکہت کا یہ افسانی مجموعہ اوسط معیار کا چھپا ہُوا ہے ۔ بیک ٹائیٹل پر ان کی پاسپورٹ سائز کی رنگین تصویر بھی ہے ۔ میری رائے میں ان کے افسانوں کے موضوعات اور منظر نگاری میں 1970ء کے عشرے کے نسائی ادب کارنگ حاوی ہے ۔ زبان و بیان پر نسرین نگہت کی گرفت بہت مضبوط ہے ۔ منظر نگاری اور جزئیات نگاری میں بھی ان کے قلم کی روانی لائق تحسین ہے ۔ ان کا دلی شکریہ کہ انھوں نے یہ گر انقد ر کتاب عنایت کی ۔

نام کتاب : سَت گُر (پنجابی کالموں کا انتخاب)
مصنفہ: صوفیہ بیدار (لاہور )
سنِ اشاعت: جون 2015ء
صفحات: 142
قیمت :300روپے
ناشر: پنجابی مرکز ۔ مکان نمبر2گلی نمبر7، کوچہ محمدی ، سلطانپورہ لاہور 54900(مقابل دربار بابا رزاق شاہ )
تبصرہ نگار: ممتاز راشد ؔلاہور ی (مدیر اعلیٰ سہ ماہی خیال و فن ‘‘ لاہور /دوحہ) 6مئی2016ء
صوفیہ بیدار عہد حاضر کی نامور ادیبہ ، شاعرہ اور کالم نگار ہیں۔ ان کے اردو کالم بھی شائع ہوتے ہیں اور پنجابی زبان میں لکھے گئے کالم بھی۔ ’’ست گُر ‘‘ اُن کے پنجابی زبان میں لکھے گئے کالموں کا انتخاب ہے اور ’’پنجابی مرکز لاہور ‘‘ کے جمیل احمد پال نے یہ کتاب معیاری انداز میں شائع کی ہے یہ کالم روزنامہ خبراں ‘‘ میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ تب جمیل پال ’’خبراں ‘‘کے مدیر تھے ۔
کتاب کا انتساب ’’وارث شاہ ‘‘ کے نام ہے پیش لفظ ،نی سیّو اسیں نیناں دے آکھے لگے‘‘کے زیر عنوان ہے۔ ’’ست گُر‘‘ میں کوئی چالیس کالم ہیں ۔ ان میں بیشتر خواتین کے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کے بارے میں ہیں اور ان کے ساتھ مردوں کے ناروا، رویّوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔ بعض کالم مردوں کے حق میں بھی ہیں اور انکے ساتھ ناروا سلوک کرنے والی خواتین پر بھی تنقید کی گئی ہے ۔ صوفیہ بیدار چونکہ لاہور آرٹس کونسل میں آفیسر ہیں اور فنکاروں سے ان کا رابطہ رہتا ہے اس لیے قدرتی طور پر ان کے کالموں میں فنکاروں کا بھی ذکر کافی آیا ہے ۔ نور جہاں اور نصرت فتح علی خان پر تو اُن کا الگ کالم بھی موجود ہے۔ صوفیہ نے ذاتی مسائل کو بھی موضوع بنایا ہے اور رومانی معاملات کو بھی۔ ماںبولی ’’پنجابی ‘‘کے ساتھ رکھے گئے ناروا سلوک پر بھی انھوں نے عمدہ کالم لکھا ہے غرضیکہ معاشرے میں درپیش سبھی معاملات پر اُن کے قلم نے روانی کے ساتھ جو لانیاں دکھائی ہیں ۔ ان کے کالم پڑھتے ہوئے پنجابی زبان کے کئی بھولے بسرے الفاظ کے ساتھ نئے سرے سے ملاقات ہو جاتی ہے اور پنجابی رھتل کے بہت سے روایتی پہلو اجاگر ہو کر سامنے آ جاتے ہیں ۔ اپریل 2016ء میں ’’پلاک‘‘ لاہورمیں ’’ست گر ‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی تھی ۔ 9مئی کو ہم نے ’’ادارہ ٔخیال و فن‘‘کے زیر اہتمام ’’راستی انٹر نیشنل ‘‘ اور اکادمی ادیبات لاہور کے اشتراک سے اس کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کی ۔ مجھے بھی کتاب پر اظہار خیال کا موقع ملا ۔ بلاشبہ یہ سنجیدہ انداز میں ،سنجیدہ موضوعات پر لکھی گئی اہم کتاب ہے اور پنجابی نثری ادب میں اہم اضافہ ہے جس کے لیے صوفیہ بیدار کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo