ڈائری : مریم جہانگیر

وہ دونوں پہلی بار نہیں مل رہے تھے لیکن پھر بھی اسکی گھبراہٹ ایسی تھی جیسے پہلی رات تھی. جب پہلی بار اس نے چھوا اور ایک سانس کہیں اندر ہی رہ گیا تھا وہ سانس اب بھی اس کے آنے کی خبر سن کر اندر گہری سانس لینے لگتا .ایک شرعی رشتہ تھا اور بہت سا حق لیکن جب بھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ چمکتا دن بھول جاتی اور اس کے اشارون پہ جھومنے لگتی. اتنا پڑھ لکھ کر بھی اسکا دل چاہتا کہ اس کا جنم کسی ایسے دور میں ہوا ہوتا جب بادشاہت کا راج تھا۔ اس دور میں اسکا شوہر بادشاہ ہوتا اور وہ اسکی کنیز۔ جی بھرکر اس کی تابعداری کرتی، سر تسلیم خم کرتی، سیلف رسپیکٹ ایگو جیسے بھاری بھرکم لفظ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے اندر سر اٹھائے بیٹھے نہ رہتے اور وہ من کی مرضی کے عین مطابق ہارون کے قدموں سے لپٹ جایا کرتی یہ مہینے کا وقفہ آنے ہی نہ دیتی. داسی رہتی .کبھی جدا نہ ہوتی. انہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ وہ فوراً سے کان کے پیچھے پرفیوم کا آخری سپرے کر کے دروازے کی طرف بھاگی. ہارون کے پاس چابی تھی لیکن یہ اسکے آنے کا انداز تھا وہ یونہی گھنٹی بجاتا اور جب تک وہ دروازے تک پہنچتی دروازہ کھول کر خود اندر داخل ہو جاتا. آبگینہ فوراً اس کے سینے سے لپٹی تھی یہ بھی ہوش نہ رہا کے اسکو سستا ہی لینے دے۔ ہارون نے اس کے ماتھے پر آئی شرارتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا ’’بیگم اجازت ہو تو شاور لے آؤں ؟‘‘ ’’اور اگر اجازت نہ دوں تو ؟‘‘آبگینہ کے لہجے میں مان تھا. ’’غلام کی مجال آپکی مرضی کے بغیر سانس بھی لے سکے ؟‘‘ہارون شوخ ہوا آبگینہ راستے سے ہٹ گئی ہارون شاور لے کر آیا تو لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا . اسے تنہائی کی عادت سی ہو گئی تھی ایک شہر سے دوسرے شہر میں اکیلے رہتے ہوئے اور زندگی کے سفر میں خود کو گھسیٹتے ہوئے زبان ساتھ چھوڑ چکی تھی ’’آپ پھر خاموش ہو گئے‘‘ آبگینہ خفا ہوئی. ’’نہیں میں تو نہیں خاموش ‘‘ وہ منکر ہوا ’’ اس کا مطلب ہے کہ میں ہی کچھ زیادہ بولتی ہوں ‘‘ وہ نروٹھے لہجے میں بولی. ’’ہاں تمہیں باتوں کو کری ایٹ کرنا آتا ہے میں باتیں کری ایٹ نہیں کر سکتا میں خود سے نہیں بولتا جو میرا دل واقعتاً کہتا ہے صرف وہی لفظ میری زبان پر آتے ہیں ‘‘ ہارون نے آبگینہ کے کہے کی تائید کی تھی آپ کے کہنے کا مطلب ہے میں خود سے باتیں کری ایٹ کرتی ہوں ؟ باتیں بناتی ہوں ؟ ہر ذی ہوش ہر وقت ہی اپنے اردگرد سے کچھ نا کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے کسی نا کسی چیز کا مشاہدہ کرتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ میں فوراً اظہار کر دیتی ہوں اور آپ شاید انہی سوچوں میں اتنے گم ہوتے ہیں کہ اظہار ہی نہیں کر پاتے ‘‘آبگینہ کو سبکی محسوس ہوئی انا نے سر اٹھایا اور سیلف رسپکیٹ نے خود کو بچانے کی کوشش کی. ’’دیکھو اب بھی تم نے بات کری ایٹ کر لی ‘‘ ہارون ماننے والوں میں سے نہ تھا. آبگینہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسے پیار آ گیا وہ واقعی پیار کئیے جانے کے قابل تھا. کم گو نرم دل اور خواہشوں کو پورا کرنے والا آبگینہ کی صرف ساتھ رہنے کی خواہش کو پورا نہیں کر پایا تھا اسکے علاوہ کوئی آرزو رد نہیں کی تھی وہ آبگینہ کی باتیں سنتے وہی صوفے پر سو گیا. آبگینہ کمرے میں آئی اور ہارون کا سوٹ کیس کھول کر کپڑے نکالنے لگی. ہارون نے تین دن یہاں رہنا تھا وہ خاصی مہنگی ٹائیاں استعمال کرنے کا شوقین تھا اور ان ٹائیوں کے حوالے سے لانڈری والے پر بھی اعتبار نہ کرتا۔ مہینے بھر بعد گندی ٹائیاں سوٹ کیس میں لے آتا جنہیں آبگینہ خود دھو کر دیتی. سامان نکالتے اس کی نظر کالے رنگ کی ویلوٹ کی ڈائری پر پڑی۔ ازلی تجسس سے مجبور ہو کر ڈائری کو ہاتھوں میں تھام لیا ڈائری کو کھولا تو گلابوں کی مہک سے سانسوں میں خوشبو رچ گئی۔ وہ ہنسی آجکل تو لڑکیاں بھی ڈائریوں میں پھول رکھنا چھوڑ چکی ہیں اور یہ ہارون ۔۔۔…… پہلے صفحے پہ لکھا تھا میری پہلی اور آخری محبت کے نام….. آبگینہ کی سانس اٹکی اگر یہ ڈائری اس کے لئیے تھی تو اب تک اس تک پہنچی کیوں نہیں…. ’’گینو ‘‘ ہارون نے لاؤنج سے نیند میں آواز دی آبگینہ یوں گڑبڑائی جیسے چوری پکڑی گئی ہو اس نے فوراً ڈائری بند کی اور اس ارادے سے سوٹ کیس مین رکھی کہ اسے ضرور پڑھنا ہے۔ رات کے تین بج رہے تھے ہارون اپنے لمس کے سارے ذائقے آبگینہ کے حوالے کر کے خود خواب نگر میں قدم رکھ چکا تھا. اس کے ہلکے ہلکے خراٹے گہری نیند کا ثبوت تھے۔ آبگینہ فوراً اٹھی اور دوسرے روم میں گئی جہاں سوٹ کیس میں پڑی ڈائری اسے صدائیں دے رہی تھی. وہ دوسرے کمرے میں گئی تو سب سے پہلے دروازہ لاک کیا .سوٹ کیس کھولا اور ڈائری کے دوسرے تیسرے خالی صفحات کو پلٹا چوتھے صفحے پہ لکھا تھا تین اپریل : آج موسم معتدل تھا میں گھر سے نکلا مجھے کسی اچھے وقت کا انتظار تھا۔ مجھے کیا پتا تھا کہ میری خوش نصیبی گھر کی دہلیز سے باہر کھڑی مجھے نئے راستوں سے  روشناس کروانے کے لئیے بے چین ہے۔ میں نے آج اسے پہلی مرتبہ دیکھا وہ سر جھکائے کچھ لکھ رہی تھی پھر اس نے سر اٹھایا اور مجھے لگا جیسے کائنات تھم سی گئی ہو اس کے لبوں کے عین نیچے وہ چھوٹا بھورا سا تل سورج کی روشنی سے چمکے جا رہا تھا اسکی مخروطی انگلیاں قلم کو تھامے ہوئے خود کسی مصور کا شاہکار معلوم ہوتی تھی اسے لکھتے لکھتے کچھ بھول سا گیا تھا اس نے قلم اپنے دانتوں میں دبایا اور میں قلم کو دیکھتا رہا کچھ ہی لمحوں میں دل نے گستاخ کا لقب دیا وہ بھی شاید میری نظر کی گرمائش سے پگھل رہی تھی نظر اٹھا کر آگے پیچھے دیکھا میں فوراً درخت کی اوٹ میں ہوا اپنے کردار کو مشکوک نہیں کرنا چاہتا تھا . کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور نپے تلے قدم اٹھاتی اپنے گھر کو چل دی میں جو کہ آل ریڈی کمیٹڈ تھا نہ جانے کس قوت کے زیر اثر اسکا پیچھا کرتا رہا۔ گھر لوٹا تو خوشبو کا ایک ہالہ ساتھ ساتھ تھا میری آنکھیں تھی اور اسکا عکس تھا میرے خیال تھے اور اسکا احساس تھا. باقی کچھ نہ تھا چار سو کچھ نہ تھا . . آبگینے کو لگا یہ ڈائری نہیں لفظوں کے چھوٹے چھوٹے خنجر تھے جو اسکے اندر پیوست ہو گئے وہ لہولہان تھی.

اسکی ہارون سے شادی اسی سال کے جنوری میں ہوئی تھی اور تین اپریل کو ہارون نے اس لڑکی کو دیکھا تب ہی پچھلے کچھ ماہ سے ہارون کی تھکاوٹ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے .وہ مجھ سے اکتاتے جا رہے ہیں . میں سمجھتی تھی سفر کی تھکاوٹ ہے لیکن یہ تو نصیب کی مار تھی جو مجھے پڑنی تھی اور انکے راستے سے میرے مقدر تک آ رہی تھی…. اف! تحقیر کا احساس کتنا جان لیوا ہوتا ہے انسان مرتا بھی نہیں اور زندہ بھی نہیں رہتا….. وہ اٹھی اور شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اپنے خدوخال کو ہاتھ لگا کر محسوس کیا.ا کیا کمی ہے میرے چہرے میں ؟ وہ اپنے لبوں کو غور سے دیکھ رہی تھی. کیا ان میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ صرف ان تک رہتا؟ میرے ہوتے ہوئے وہ کیوں پیاسا تھا ؟ کیوں تشنہ تھا؟ آبگینہ سے زیادہ دیر کھڑا نہ رہا گیا.وہ وہیں فرش پر بیٹھ گئی. اسکی کہنی لگنے سے کرسٹل کا گلدان فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا بالکل اس کے دل کی طرح. اس نے کانچ کے ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرا خون رسنے لگ…..ا میرا دل بھی ایسے ہی رس رہا ہے. میں بھی زخمی ہوں. سہلیاں کتنی بڑی دشمن ہوتی ہیں ناں ؟ واجبی سی آنکھوں کو غزالی اور کتابی کہتی ہیں بڑے عام سے بالوں کی تعریف کئیے جاتی ہیں. سانولے سلونے چہرے کو نمکین اور جاذب نظر کہتی ہیں .جب بندہ دنیا کے آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو خود کو پہچان نہیں پاتا وہ بھی آج اپنی دنیا کے آئینے میں خود کو دیکھ چکی تھی اور کچھ بھی پر کشش نہ پا سکی. ہارون اسکا سارا جہان تھا جس نے اسے ایسا آئینہ دکھایا اب آئینہ دیکھنے کا شوق بھی نہ رہا تھا. صبح ہوئی تو ہارون نے دیکھا وہ صوفے پہ آڑھی ترچھی لیٹی تھی ’’گینو کیا ہوا ‘‘ وہ سچ میں فکر مند ہوا. ’’کچھ نہیں آبگینہ خاموش بھی نہیں رہ سکتی تھی ہارون نے آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا. آبگینہ کے لبوں سے سی کی آواز نکلی ہارون نے اسکے ہاتھ کو پلٹ کر دیکھا زخمی تھا. وہ چونکا ’’ہاتھ کو کیا ہوا ہے ‘‘ “گلدان ٹوٹا تھا رات میں” جواب دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا. ’’گلدان ٹوٹے تو پاؤں زخمی ہونا چاہئیے ‘‘ ہارون اس کے ہاتھ کو متفکر نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا. ’’میرا تو سب کچھ زخمی ہو گیا ہے ‘‘ آبگینہ نے سسکی لی تھی ہارون فوراً اسکے پاؤں کی طرف متوجہ ہوا لیکن وہاں کوئی زخم نہ تھا. اتنے میں آبگینہ ہاتھ چھڑا کر دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئی ’’میں آپ کے لئیے ناشتہ بناتی ہوں ‘‘ ہارون اسے روکنا چاہتا تھا مگر کھڑاک کی آواز سے دروازہ بند ہو گیا آبگینہ سارا دن خاموش رہی ہارون نے دو چار دفعہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا آخر اسے زبردستی باہر لے گیا. وہ ہر بار اس کے ساتھ باہر جا کر ایسا رویہ رکھتی جیسے ہر چیز پہلی دفعہ دیکھ رہی ہے . بچوں کی طرح خوش ہوتی لیکن اس مرتبہ وہ خاموشی تھی .بالکل جامد ….ہارون نے دو چار سوٹ لے کر دئیے آبگینہ نہ اچھا کہہ سکی نہ برا وہ کس سے مدد مانگتی یا کس کو کوستی . والدین عمرہ کرنے گئے تھے اور انہوں نے بس ایک رشتے والی کے ذریعے آنے والے اس رشتے کو یوں ہاں کہا تھا جیسے ہارون کوئی شہزادہ ہو. آبگینہ کو بھی آج سے پہلے وہ شہزادہ ہی لگتا تھا خیالات بدل جائیں دل اٹھ جائے تو محبت بڑی خاموشی سے بھاگ جاتی ہے جیسے کبھی ہوئی ہی نہ ہو. آبگینہ کو لگ رہا تھا دل اٹھ گیا ہے لیکن آنکھیں ابھی بھی ہرجائی کو دیکھنا چاہتی تھی اس نے محبت کو ٹٹولا تو دماغ نے کہا وہ نہیں رہی لیکن دھڑکنوں کی لرزش چغلی کھا رہی تھی. میں اکیسویں صدی کی لڑکی ہوں میں کیوں بھلا ایک ایسے شخص کے ساتھ عمر گزار دوں جو مجھے برت کر چھوڑ چکا ہے اب بس مال مفت دیکھ کر زبان کا چسکا بدل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اگلی رات بھی آبگینہ ساتھ والے کمرے کو لاک کئیے ڈائری پڑھ رہی تھی اور ٹوٹ رہی تھی اس نے آخری صفحہ کھولا آج اٹھائیس اکتوبر تھی اور ڈائری کے صفحے پہ پچیس اکتوبر کی تاریخ درج تھی پچیس اکتوبر : میں اسے جب جب دیکھتا ہوں تو اس طرح دیکھتا ہوں جس طرح آخری مرتبہ دیکھ رہا ہوں مجھ سے اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائی جاتی میرا یہ چھپن چھپائی کا کھیل نہ جانے کس دن ختم ہو گا وہ میرے روبرو ہو گی اور میں اسے چھو سکوں گا اب مجھے بھی اس کھیل میں مزا نہیں آ رہا اسکی کٹاری آنکھیں اور نمکین نقش مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں وہ جب چلتی ہے تو مجھے لگتا ہے ہوائیں تھم گئی ہیں کتنا سستا ڈائیلاگ ہے نا ؟ لیکن واقعی حقیقت ہے کے مجھے ہواؤں کا تھم جانا محسوس ہوتا ہے وہ آپ اپنی مثال ہے میں نے اسکے جیسی کوئی دوسری نہیں دیکھی آج جب اسے دیکھا تو دل نے ایک لائحہ عمل خود ہی دماغ کے ہاتھوں میں سونپ دیا رستہ کتنا ہی خاردار کیوں نہ ہو میرے پاؤں کتنے ہی جکڑے ہوئے کیوں نہ ہو میں نے اپنی منزل کو پانا ہے. ہاں!وہ میری منزل ہے اسکو اس لفظ کے علاوہ کیا نام دوں ؟ میری ساری تھکن عود کر باہر آ چکی ہے اب مجھے اسکی چھاؤں میں کچھ دیر ٹھہرنا ہے کچھ دیر سستانا ہے اور اسکے بعد اسکو اپنی محبت میں اتنا تھکا دینا ہے کہ وہ میرے پہلو میں ہی سستاتی رہے.اسکے پاس میرے حصار سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہ ہو. میں نے آج رات واپس جانا ہے اپنی پابندیوں میں اپنی بیڑیوں میں کوئی چیز ہے جو میری آنکھوں کے سامنے کے منظر کو دھندلا کر رہی ہے اور قطرہ قطرہ میرے دل کو پگھلا رہی ہے اب اس ایک آغوش کے سوا کہیں بھی چین نہیں ہے . آبگینہ ساری ڈائری پڑھ چکی تھی کافی وقفے کے بعد صفحات استعمال ہوئے تھے جا بجا محرومیوں اور نا رسائی کا رونا روتے اشعار تھے کچھ غزلیں اور وہی تعریفیں آبگینہ کو اپنے وجود سے نفرت ہوئی اس شخص کی زندگی میں میری کیا حثیت ہے ؟میں کیا ہوں ؟ پاؤں کی بیڑی ؟ بندش ؟ وہ جانتا ہے وہ کمیٹڈ ہے لیکن پھر بھی کسی اور کو منزل کہہ رہا ہے وہ مرد ہے اس لئے آزاد ہے میں عورت ہوں اس لئے پابند ہوں مرد عورت کا سر تاج بن جاتا ہے اور عورت مرد کی مجبوری یہ کیا تماشا ہے ؟ مجھے والدین نے اسلئیے پڑھایا لکھایا تھا کہ آخر میں ایک کڑوا گھونٹ بھر لوں ؟ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں لیکن اپنی عزت نفس کا سودا نہیں اس سے پہلے کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں خود اسے چھوڑ دوں گی.

اگلے دن ہارون نے واپس جانا تھا آبگینے نے اس دفعہ مسکراتے چہرے سے اسے الوداع کہا لیکن خاموش آنکھیں چرائے رکھی. اپنی انا کا سودا کسی صورت نہیں کر سکتی تھی. ہارون کو گئے ہوئے تیسرا دن تھا. ساری کاغذی کاروائی مکمل کروائی اور خلع کے کاغذات تیار کروا کے ہارون کو بھجوا دئیے .اسی دن آبگینہ کے والدین کی عمرے سے واپسی تھی. وہ کاغذات بھجوا کر انہیں لینے ائیر پورٹ چلی گئی. والدین کے ساتھ آمنہ آنٹی کو دیکھ کر اسے کوفت ہوئی ’’تمہیں پتا ہے آبگینہ ہماری ان سے ملاقات اللہ کے گھر میں ہوئی انکا بیٹا ساتھ گیا تھا لیکن اللہ کے حکم سے وہیں اسکی نوکری ہو گئی اور یہ واپس ہمارے ساتھ آ گئی ‘‘آبگینہ کی آنکھوں میں آئے سوال کا جواب اس کے ابو نے دیا تھا آبگینہ آگے ہو کر آمنہ آنٹی سے ملی عمرے کی مبارک باد دی اور دل ہی دل میں سوچا یہ رشتے کروانے والیاں چند ہزار کے لئیے چھڑے چھانٹ لڑکوں کے رشتے کرواتی ہی کیو ں ہیں ؟ آج کوئی ہارون کے گھر سے ہوتا تو شاید اسے سمجھاتا.اسے روکتا. ’’اور بیٹا ہارون ٹھیک ہے ؟‘‘یہ سوال امی نے کیا تھا ’’جی ٹھیک ہیں ‘‘وہ ابھی ہی جھٹکا نہیں دینا چاہتی تھی. ’’پیار تو کرتا ہے تم سے؟ اور خیال تو رکھتا ہے نا ں ؟‘‘ آمنہ آنٹی نے سوال پوچھنا ضروری سمجھا رشتہ انہوں نے کروایا تھا واہ واہ سننا چاہ رہی تھیں. آبگینہ نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا آمنہ آنٹی نے ساتھ بیٹھی آنگینہ کی امی کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر کہا ’’پتا ہے باجی میں ہمیشہ بھرے پرے خاندان والوں کے رشتے کرواتی ہوں میرے آفس میں بھی یہی آویزاں ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں تو بے شک ایک اور شادی کے لئیے آ جائیں لیکن اگر آپ کے گھر سے کوئی نہیں تو ہماری طرف سے معذرت قبول کریں بے شک میری بیٹی نہیں ہے لیکن اولاد والی ہوں کسی کی اولاد کے لئیے کیسے برا چاہ سکتی ہوں ؟ گھر والے بہت ضروری ہوتے ہیں. لیکن یہ واحد رشتہ ہے ہارون اور آبگینہ کا جس میں ہارون کا آگے پیچھے کوئی نہیں…… دارالامان میں پڑھا لکھا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا لیکن میں نے رشتہ کروا دیا .”آمنہ آنٹی کے علاوہ گاڑی میں موجود تینوں نفوس کے چہرون پر تذبذب کی لہر آئی تھی ’’ارے پریشان نہ ہوں میں نے اپنی آبگینہ کو بھی غیر نہیں سمجھا. دراصل یہ لڑکا ایک روز میرے پاس آیا اور آپکے گھر کا ایڈریس دے کر کہا میرا یہاں رشتہ کروا دیں میں نے اس کے چھڑے چھانٹ ہونے کی وجہ سے انکار کیا لیکن وہ پیچھے ہی پڑ گیا مجھے لگا پسند کا چکر ہے لڑکی بھی راضی ہو گی لیکن اس نے بتایا کہ لڑکی کو تو معلوم ہی نہیں. میں حیران ہوئی .میں نے سوچا ضرور کوئی فراڈ ہے. آپکا گھر دیکھ کر آپکے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے. میں نے بھگانا چاہا لیکن اگلے دن وہ ثبوت لے آیا دو ڈائریاں ایک کالے رنگ کی اور ایک سرخ رنگ کی کالے رنگ کی ڈائری میں ایسے ایسے جدائی کے اشعار تھے کہ مجھے اس بچے پر پیار آیا اور ہنسی بھی. سرخ رنگ کی ڈائری پر صرف اس دن کی تاریخ ڈال کر میرے سے ملاقات کی مختصر یاداشت تحریر تھی. کالی ڈائری میں ہر اس دن کا تذکرہ تھا جب اس نے آبگینہ کو دیکھا اور یہ سلسلہ کوئی سات ماہ سے چل رہا تھا ہم کراچی میں تھے اور وہ لاہور . میں نے استخارہ کروایا اور اچھا آیا .اسکو اطلاع دی .خوش ہوا میں اس کام میں جت گئی اور وہ پیسے کمانے میں….. جب وہ میرے پاس دفتر میں آیا تو اسکے پاس ڈھنگ کے کپڑے جوتے بھی نہ تھے وہ دوسروں کی زندگی کے لئیے تگ و دو کر رہا تھا.اپنے دارلامان سے کمیٹڈ تھا .پیسے خود پر خرچ نہ کرتا کچھ بچاتا اور کچھ دارالامان میں دے دیت.ا نومبر دسمبر اور جنوری یہ تین ماہ لگا کر اور اپنی ساری اگلے سال کی ڈبل تنخواہ نکال کر اس نے خود کو آپ لوگوں سے منوایا. اگلے پورے سال کا ڈبل شفٹ کے لئیے کمپنی سے معاہدہ کیا .پہلے دارالامان کے لئیے ا س شہر میں آتا تھا اور وہی اسکی کمٹمنٹ تھا اب وہ آبگینہ کے لئیے آتا ہے دو مہینے پہلے مجھے فون کر کے کہہ رہا تھا میں اسے ویسے لے تو آیا ہوں جیسے اسے لانے کا حق تھا لیکن اب دوری برداشت نہیں ہوتی. تھکنے لگا ہوں اگر آبگینہ کو لاہور بلوا لوں تو بیچلرز روم سے فلیٹ مین شفٹ ہونا پڑے گا اور قرضے کی قسط نہیں دے سکوں گا۔ میں نے تو آج کے دور میں ایسا چاہنے والا نہیں دیکھا .اللّٰہ جی! بس نگینہ کو خوش رکھے ‘‘ آبگینہ کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے جو ڈائری اس نے پڑھی تھی اس میں کوئی سن نہیں لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہارون ہاتھ میں خلع کا نوٹس لئیے اور اپنے بیگ سے کالی ڈائری کو غائب دیکھے اپنے اس دوست کو کوس رہا تھا جس نے کہا تھا ’’بیوی کو اگر پتا چلے وہ محبوبہ ہے تو وہ سر پر چڑھ جاتی ہے اورمرد کبھی محبوبہ کو خوش رکھ ہی نہیں سکتا .بیوی بیچاری پھر بھی خوش ہو جاتی ہے. آبگینہ کو خوش رکھنے کی کوشش کافی مہنگی پڑی تھی.

مریم جہانگیر [ads1][ads2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo