گذشتہ صدی میں خواتین ناول اور افسانہ نگاروں نے جو …

[ad_1] گذشتہ صدی میں خواتین ناول اور افسانہ نگاروں نے جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ اردو ادب کا دامن معرکتہ ا لآراء ناولوں سے بھر دیا۔
پہلی خاتون ناول نگار ’’رشیدہ النساء‘‘ ہیں جنہوں نے ۱۸۸۱ میں ناول ’’اصلاح النساء ‘‘ لکھا تھا۔ڈپٹی نذیر احمد اور اس دور کے دیگر ناول نگاروں کی طرز پر لکھا ہوا یہ ناول ان کے صاحب زادے محمد سلیمان نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا۔جب وہ ولایت سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر کے واپس آئے۔اس کی ابتدائی اشاعتوں پر مصنفہ کے بجائے والدہ محمد سلیمان لکھا گیا ہے۔یہ کتاب نایاب تھی اس کا نیا ایڈیشن ۲۰۰۰ء ؁ میں مصنفہ کے اصل نام سے چھپا ہے۔اصلاح النساء کی اشاعت میں ۱۳ سال کی تاخیر، اس کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں مصنفہ کا نام نہ ہونا اور سارے مردانہ رشتوں کے حوالے اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ انیسویں صدی کے اختتام تک ادب کے میدان میں قدم رکھنا محال تھا۔ تا ہم بیسویں صدی کے وسط میں خواتین ناول نگارں نے وہ معرکہ انجام دیا کہ اردو ادب کی تاریخ ان کے ناول اور افسانوں کے حوالے کے بغیر لکھنا ممکن نہیں رہا۔عصمت چغتائی کا ناول ’’ ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور قرۃ العین حیدرکا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ اردو کے اہم ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے پہلے بیگم نذر سجاد حیدر اور بیگم حجاب امتیاز علی تاج کی تحریریں پڑھنے والوں کی توجہ حاصل کرچکی ہیں۔مگر عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں نے قارئین اور ناقدین پر مطالعے کے نئے باب کھولے۔ عصمت چغتائی کا ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور افسانہ ’’لحاف ‘‘ نسائی اظہار کی بہت واضح مثال ہے۔ٹیڑھی لکیر میں عصمت چغتائی نے بہت جرأت سے اس نسائی شعور کا اظہارکر دیا ہے جو اس وقت تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اسی طرح قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ نقادوں کے مطابق جن میں ژولیا کر سٹیوا سر فہرست ہیں،عورت کے تصور وقت کی مثال پیش کرتا ہے۔قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی شعور کا مکمل ادراک و اظہار ملتا ہے اور کہیں کہیں بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔’’اگلے جنم موہے بٹیانہ کی جیو ‘‘ اس کی مثال ہے۔

ترقی پسند تحریک خواتین کے لئے خصوصاً افسانہ نگار اور ناول نگار خواتین کے لئے بہت ساز گار ثابت ہوئی جس نے ڈاکٹر رشید جہاں، صدیقہ بیگم سہاروی،عصمت چغتائی، خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور جیسی لکھنے والیوں کو سامنے لا کر یہ غلط فہمی دور کر دی کہ خواتین کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتیں۔خدیجہ مستور کے ناول ’’ آنگن ‘‘ کی پذیرائی ہوئی۔ان کے فوراً بعد جمیلہ ہاشمی کے ناول ’’تلاش بہاراں ‘‘ اور ’’ دشت سوس‘‘ الطاف فاطمہ کا ناول’’ دستک نہ دو ‘‘ رضیہ فصیح احمد کا ناول ’’آبلہ پا ‘‘ مقبول ہوئے۔ہاجرہ مسرور ،بیگم اخترجمال،نثار عزیز بٹ، خالد ہ حسین،فرخندہ لودھی کی تحریروں نے ادبی مقام حاصل کیا۔ بانو قدسیہ اپنے افسانوں،ناولوں اور ڈراموں کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوئیں اور بہت معتبر حوالہ بنیں۔ زاہدہ حنا۔رشیدہ رضویہ،فردوس حیدر،نیلم بشیر احمد، نگہت حسن افسانے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔حال ہی میں فہمیدہ ریاض کی کہانیوں کا مجموعہ ’’خط مرموز ‘‘ اور عذرا عباس کا مجموعہ ’’راستے مجھے بلاتے ہیں ‘‘ سامنے آیا ہے جن میں نسائی شعور نمایاں ہے۔ میری کہانیوں کے مجموعے’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں ‘‘ کے دیباچے میں ضمیر علی نے ان کہانیوں کو نسائی شعور کی مثال قرار دیا ہے۔

ہندوستان میں واجدہ تبسم اور جیلانی بانو نے ان موضوعات کا احاطہ کیا جو خواتین کے تجربے ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک لکھنے والی خواتین میں محسنہ جیلانی،نعیمہ ضیاء الدین، رفعت مرتضیٰ، پروین فرحت اور دیگر کئی خواتین اچھی کہانیاں لکھ رہی ہیں۔
افسانوں کے حوالے سے خالدہ حسین کا نام ا س لئے بہت اہم ہے کہ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے افسانوی ادب کو جس مقام تک پہنچایا تھا خالدہ حسین نے وہاں سے ایک اور رخ کی طرف سفر اختیار کیا۔ان کے افسانوں نے جدید ادب کے ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کیا مگر ان کا اس طرح مطالعہ اب تک نہیں کیا گیا جیسا ’’سواری‘‘ جیسی کہانی لکھنے والی کا ہونا چاہیے تھا۔خالدہ حسین نے اس کہانی میں علامت اور واقعہ نگاری کا ایک ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو معنی اور کیفیت دونوں سطح پر قاری کو متاثر کرتا ہے۔ان کی کہانیوں میں ایک ایسی فضا ہے جس میں ہمارے دور کی تلخیاں دل میں غبار سا بکھیر دیتی ہیں۔ایسے افسانے جس کی کچکچاہٹ دانتوں میں محسوس ہو سانحہ بھوپال کے بعد ’’سواری ‘‘ کی شدت کو پوری طرح محسوس کیا گیا۔ خالدہ حسین کی کہانیاں اس پراسراریت کے شعور کو بیدار کرتی ہیں جس پر آرٹ کی بنیاد ہے۔جس کی مثال تمام بڑے شعرأاور فنکاروں کے یہاں ملتی ہے۔
تنقید میں خواتین کا نام صرف ممتاز شریں تک محدود رہ گیا۔ وہ اچھی افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی ادب کی بڑی نقاد بھی تھیں۔ منٹو کی کہانیوں کا انہوں نے تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا اور اس میں شک نہیں کہ منٹو کے کرداروں کے تجزئیے سے ان کی کہانیوں کی جہتیں کھلتی ہیں اور بحیثیت افسانہ نگار منٹو کی قامت کا اندازہ ہوتاہے۔ممتاز شیریں نے منٹوکی کردار نگاری کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی نشا ندہی بھی کی ہے جہاں ان کی گرفت کردار پر ڈھیلی پڑ گئی ہے جس کی وجہ ممتاز شیریں کے خیال میں غیر ضروری تفصیلات ہیں۔وہ اس حوالے سے ایک کامیاب تجزیہ نگار ہیں کہ وہ کہانی لکھنے والے کو تبصرہ نگار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ان کے اس روئیے میں ان کے افسانوی ادب کے مطالعے کا بڑا دخل ہے۔مثلاً انہوں نے موپساں اور چیخوف کا تقابلی موازنہ کرتے ہوئے منٹو کو موپساں کے قبیلے میں رکھا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ موپساں کے افسانوں اور ناول میں کہانی کردار نگاری سے بڑھتی ہے اور کردار اپنے رویوں سے ابھرتے ہیں،مصنف کے تبصرے سے نہیں۔ ممتاز شیریں کا وسیع مطالعہ ان کے تنقیدی روئیے کی تشکیل میں مدد گار ہے اور ان کے تخلیقی ذہن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا جہاں نقاد او رتخلیق کار ایک ہو جاتا ہے۔ تنقید میں انہوں نے نئے موضوعات پر قلم اٹھایا۔منفی ناول (Anti Novel) وجودی نقطۂ نظر،مغربی رجحانات پوری تفہیم کے ساتھ ان کا موضوع بنے اور اس طرح انہوں نے اردو ادب میں نئے دریچے کھولے۔ان کی تحریروں میں آج کے عہد کی حسیت نمایاں ہے جس میں مشرق و مغرب کا متوازن ثقافتی امتزاج جھلکتا ہے۔آج جب کہ تنقید میں عالمی تناظر (World View) پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ان کے مضامین کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اردو کی پہلی نقاد ہیں جن کے یہاں World View ہے۔بلا شبہ ممتاز شیریں نے تنقید کے شعبے میں خواتین کو صف اول میں لا کھڑا کیا ہے مگر ان کے بعد کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔خواتین ادیب و شاعرات کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ تنقید کے شعبے کو متوازن کرنے کے علاوہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا بھی ہے جو نسائی ادب کی تفہیم کے لئے بالکل سازگار ہے۔خواتین کی تحریروں کا بہتر تجزیہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔مرد ناقدین کا رویہ یا تو سر پرستانہ (Patronizing) ہے یا جانب دارانہ(Prejudiced)۔یہ دونوں صورتیں تخلیقی ادب کے لئے نقصان دہ ہیں۔
بین الاقوامی صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۶۰ء ؁ سے خواتین کی تحریک نے ادبی مطالعے کا رخ بدل دیا ہے۔مغرب میں بھی تنقید کی ذمہ داریاں زیادہ تر مردوں کے کاندھوں پر تھیں لیکن اب جو خواتین نقاد سامنے آ ئی ہیں انہوں نے نسائی کلچر کو فائدہ پہنچایا ہے۔اب تنقید خالصتاً مردانہ فلسفوں یا ادبی تھیوری کی بنیاد پر نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس نقطہ نظر سے بھی ادب کو دیکھاجا رہا ہے کہ ان میں مردانہ اور نسائی اقدار کو کس حد تک سمویا گیا ہے اور نسائی تنقید ادبی تجزئیے کی ایک اہم بنیاد بن گئی ہے۔ہمارے یہاں نسائی تنقید پر سنجیدہ توجہ کی بے حد ضرورت ہے کیوں کہ جب بھی نسائی ادب پر بات ہوتی ہے تو فوری رد عمل یہ سامنے آتا ہے کہ خواتین کا الگ ڈبہ بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ خواتین کا مسئلہ کیا ہے ؟ انہیں سب کچھ تو حاصل ہے وہ آخرچاہتی کیا ہیں ؟ اور پھر اس بات پر اتفاق کر لیا جاتا ہے کہ نسائی ادب مغرب سے آنے والا فیشن ہے جسے کپڑوں اور میک اپ کی طرح خواتین نے اپنا لیا ہے۔ متعصب ناقدین جو کچھ بھی لیں وہ اس بات کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکے کہ نسائی شعور کا مطالعہ کرنے والوں کو کس خانے میں رکھا جائے اور کیا خواتین کی تخلیقات کا مطالعہ سماجی اور تاریخی رویوں کو نظر انداز کر کے کیا جا سکتا ہے جوان کی تحریروں پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور ان کی تحریروں کی جانب مرد تنقید نگاروں کے رویوں پر بھی مغرب سے آنے والی تحریکوں نے جب بھی ہمارے پورے ادب پر اثر ڈالا ہے اتنا شدید رد عمل کیوں سامنے نہیں آیا۔مثلاً ترقی پسند جدیدیت،وجودیت،ساختیات کی رو کہاں سے آئی ؟ اب اگر خواتین مغرب میں لکھی جانے والی نسائی تنقید کو اپنے یہاں ادبی رویوں پر منطبق دیکھ رہی ہیں تو اسے صرف مغرب کی تقلید کہنے کا کیا جواز ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں خواتین کا نام نہیں ملتا ؟کیا یہ درست نہیں کہ ادا جعفری کا ذکر صرف یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ وہ پہلی شاعرہ ہیں جس نے اردو شاعری میں اپنا مقام بنایا۔مردانہ ڈبے میں یہ مقام کہاں ہیں ؟ اس پر خاموشی ہے۔

نسائی ادب ،اردو ادب کا قابل قدر حصہ رہا ہے۔ نسائی شعور کی روایت ہمارے ثقافتی رجحان Cultural Mindset کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ خواتین کی ادراک و شعور کی آئینہ دار ہے۔نسائی اظہار کا رویہ تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔نسائی ادب و تنقید نہ تو مغرب کی نقالی ہے نہ اس کا کوئی تصادم ہمارے اقدار سے ہے بلکہ یہ ہماری آبادی کے نصف حصے کی ذہنی و فکری سفر کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔یہ خواتین قلم کاروں کا نقطۂ نظر(point of view)کو پیش کر رہا ہے اور آج ادب میں نقطہ نظر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مابعد جدیدیت کے مختلف اسکول نسائی شعور کے نقطۂ نظر پر متفق ہیں


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo