آج آسی غازی پوری کا یوم وفات ہے نام محمد عبدالعلی…

[ad_1] آج آسی غازی پوری کا یوم وفات ہے

نام محمد عبدالعلیم۔ تاریخی نام دو ہیں ظہور الحق اور خلیل اشرف، تخلص آسیؔ ، پہلا تخلص عاصیؔ تھا۔ آپ ۲۱؍دسمبر ۱۸۳۴ء کو اپنے آبائی قصبے سکندر پور ،ضلع بلیا(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سیوان میں اپنے نانا سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے کم عمری میں جون پور کا سفر کیا۔ بعد ازاں مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی سے معقول کی تمام کتابیں پڑھیں۔ طب کسی سے نہیں پڑھی مگر خداداد ذہانت کے سہارے مطالعے سے حاصل کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں شعروسخن سے دلچسپی ہوگئی تھی۔حضرت افضل الہ آبادی جو ناسخ کے شاگرد تھے، ان سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ مجنوں گورکھپوری نے کلام آسی پر تبصرہ کرتے ہوئے انھیں خواجہ میر درد کے بعد تصوف کا دوسرا بڑا شاعر تسلیم کیا ہے۔۲۴؍فروری ۱۹۱۷ء کو غازی پورمیں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔آپ کا دیوان موسوم بہ ’’عین المعارف‘‘ چھپ گیا ہے۔

منتخب کلام

ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں
مگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوں

جہاں تک ہو تجھ سے جفا چاہتا ہوں
کہ میں امتحان وفا چاہتا ہوں

خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں
میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں

کہاں رنگ وحدت کہاں ذوق وصلت
میں اپنے کو تجھ سے جدا چاہتا ہوں

برابر رہی حد یار و محبت
کسی کو میں بے انتہا چاہتا ہوں

کہاں ہے تری برق جوش تجلی
کہ میں ساز و برگ فنا چاہتا ہوں

وہ جب کھو چکے مجھ کو ہستی سے اپنی
تو کہتے ہیں اب میں ملا چاہتا ہوں

جنون محبت میں پند عدو کیا
بھلا میں کسی کا برا چاہتا ہوں

طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو
حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں

جو دل میں نے چاہا تو کیا خاک چاہا
کہ دل بھی تو بے مدعا چاہتا ہوں

یہ حسرت کی لذت یہ ذوق تمنا
شب وصل ان سے حیا چاہتا ہوں

سوا اس کے میں کیا کہوں تم سے آسیؔ
کہ درویش ہو تم دعا چاہتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی
پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

مر کے بھی جذب دل قیس میں تاثیر یہ تھی
خاک اڑاتی ہوئی لیلیٰ سر تربت آئی

مسجدیں شہر کی اے پیر مغاں خالی ہیں
مے کدے میں تو جماعت کی جماعت آئی

وہ ہے کھڑکی میں ادھر بھیڑ نظر بازوں کی
آج اس کوچہ میں سنتے ہیں قیامت آئی

کبھی جی بھر کے وطن میں نہ رہے ہم آسیؔ
روز میلاد سے تقدیر میں غربت آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے
یعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسے

وہ اک نگاہ اے دل مشتاق اس طرف
آشوب گاہ حشر تمنا کہیں جسے

بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے
وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

اے حسن جلوۂ رخ جاناں کبھی کبھی
تسکین چشم شوق نظارا کہیں جسے

اس ضعف میں تحمل حرف و صدا کہاں
ہاں بات وہ کہوں کہ نہ کہنا کہیں جسے

یہ بخشش اپنے بندۂ ناچیز کے لیے
تھوڑی سی پونجی ایسی کہ دنیا کہیں جسے

ہم بزم ہو رقیب تو کیونکر نہ چھیڑئیے
آہنگ ساز درد کہ نالا کہیں جسے

پیمانۂ نگاہ سے آخر چھلک گیا
سر جوش ذوق وصل تمنا کہیں جسے

آسیؔ جو گل سے گال کسی کے ہوئے تو کیا
معشوق وہ کہ سب سے نرالا کہیں جسے
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo