خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات نجم الدولہ ، دبیر الم…

[ad_1] خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات
نجم الدولہ ، دبیر الملک ، نظام جنگ میرزا اسد اللہ بیگ خان
غالب
……
مرثیہ مرزا غالب
خواجہ الطاف حسین حالیؔ
…..
کیا کہوں حال دردِ پنہانی
وقت کوتاہ ہے قصہ طولانی
عیش دنیا سے ہوگیا دل سرد
دیکھ کر رنگ عالمِ فانی
کچھ نہیں جز طلسم خواب و خیال
گوشۂ فقر و بزمِ سلطانی
ہے سراسر فریبِ وہم و گماں
تاجِ فغفور و تختِ خاقانی
بے حقیقت ہے شکلِ موجِ سراب
جامِ جمشید و راہ ریحانی
لفظ مہمل ہے نطق اعرابی
حرف باطل ہے عقل یونانی
ایک دھوکا ہے لحنِ داؤدی
اک تماشا ہے حسنِ کنعانی
نہ کروں تشنگی میں تر لبِ خشک
چشمۂ خضر کا ہو گر پانی
لوں نہ یک مشتِ خاک کے بدلے
گر ملے خاتمِ سلیمانی
بحر ہستی بجز سراب نہی
چشمۂ زندگی میں آب نہیں
جس سے دنیا نے آشنائ کی
اس سے آخر کو کج ادائ کی
تجھ پہ پھولے کوئ عبث اے عمر
تو نےکی جس سے بیوفائ کی
ہے زمانہ وفا سے بیگانہ
ہاں قسم مجھ کو آشنائ کی
یہ وہ بے مہر ہے کہ ہے اس کی
صلح میں چاشنی لڑائ کی
ہے یہاں حظِ وصل سے محروم
جس کو طاقت نہ ہو جدائ کی
ہے یہاں حفظِ وضع سے مایوس
جس کو عادت نہ ہو گدائ کی
خندۂ گل سے بے بقا تر ہے
شان ہو جس میں دلربائ کی
جنس کاسد سے ناروا تر ہے
خوبیاں جس میں ہوں خدائ کی
بات بگڑی رہی سہی افسوس
آج خاقانی و سنائ کی
رشکِ عرفیؔ و فخرِ طالبؔ برد
اسد اللہ خان غالب برد
بلبلِ ہند مرگیا ہیہات
جس کی تھی بات بات میں یک بات
نکتہ داں ، نکتہ سنج ، نکتہ شناس
پاک دل ، پاک ذات ، پاک صفات
شیخ اور بذلہ سنج شوخ مزاج
رندد اور مرجعِ کرام و ثقات
لاکھ مضمون اور اس کا ایک ٹھٹحول
سو تکلف اور اس کی سیدھی بات
دل میں چبھتا تھا وہ اگر بہ مثل
دن کو کہتا دن اور رات کو رات
ہوگیا نقش دل پہ جو لکھا
قلم اس کا تھا اور اس کی بات
تھیں تو دلی میں اس کی باتیں تھیں
لے چلیں اب وطن کو کیا سوغات
اس کے مرنے سے مرگئ دلی
خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات
یاں اگر بزم تھی تو اس کی بزم
یاں اگر ذات تھی تو اس کی ذات
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
دل کو باتیں جب اس کی یاد آئیں
کس کی باتوں سے دل کو بہلائیں
کس کو جاکر سنائیں شعر و غزل
کس سے دادِ سخنوری پائیں
مرثیہ اس کا لکھتے ہیں احباب
کس سے اصلاح لیں کدھر جائیں
پست مضموں ہے نوحۂ استاد
کس طرح آسماں پہ پہنچائیں
لوگ کچھ پوچھنے کو آۓ ہیں
اہلِ میت جنازہ ٹہرائیں
لائیں گے پھر کہاں سے غالب کو
سوۓ مدفن ابھی نہ لے جائیں
اس کو اگلوں پہ کیوں نہ دیں ترجیح
اہلِ انصاف غور فرمائیں
قدسیؔ و صائبؔ و اسیرؔ و کلیمؔ
لوگ جو چاہئیں ان کو ٹہرائیں
ہم نے سب کا کلام دیکھا ہے
ہے ادب شرط منہ نہ کھلوائیں
غالب نکتہ داں سے کیا نسبت
خاک کو آسماں سے کیا نسبت
نثر حسن و جمال کی صورت
نظم غنچ و دلال کی صورت
تہنیت اک نشاط کی تصویر
تعزیت اک ملال کی صورت
قال اس کا وہ آئینہ جس میں
نظر آتی تھی حال کی صورت
اس کی توجیہ سے پکڑتی تھی
شکل امکاں محال کی صورت
اس کی تاویل سے بدلتی تھی
رنگِ ہجراں وصال کی صورت
لطف آغاز سے دکھاتا تھا
سخن اس کا مآل کی صورت
چشمِ دوراں سے آج چھپتی ہے
انوریؔ و کمالؔ کی صورت
لوحِ امکاں سے آج مٹتی ہے
علم و فضل و کمال کی صورت
دیکھ لو آج پھر نہ دیکھو گے
غالب بے مثال کی صورت
اب نہ دنیا میں آئینگے یہ لوگ
کہیں ڈھونڈے نہ پائینگے یہ لوگ
شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج
اپنا بیگانہ اشکبار ہے آج
نازشِ خلق کا محل نہ رہا
رحلتِ فخرِ روزگار ہے آج
تھا زمانے میں ایک رنگیں طبع
رخصت موسمِ بہار ہے آج
بارِ احباب جو اٹھاتا تھا
دوشِ احباب پر سوار ہے آج
تھی ہر اک بات نیشتر جس کی
وہی برچھی جگر کے پار ہے آج
دلِ مضطر کو کون دے تسکیں
ماتمِ یارِ غمگسار ہے آج
تلخئ غم کہیں نہیں جاتی
جانِ شیریں بھی ناگوار ہے آج
کس کو لاتے ہیں بہرِ مدفن کہ قبر
ہمہ تن چشم انتظار ہے آج
غم سے بھرتا نہیں دلِ ناشاد
کس سے خالی ہوا جہاں آباد
نقدِ معنی کا گنجداں نہ رہا
خوانِ مضموں کا میزباں نہ رہا
ساتھ اس کے گئ بہارِ سخن
اب کچھ اندیشۂ خزاں نہ رہا
ہوا ایک ایک کارواں سالار
کوئ سالارِ کارواں نہ رہا
رونقِ حسن تھا بیاں اس کا
گرم بازار گلِ رخاں نہ رہا
عشق کا نام اس سے روشن تھا
قیس و فرہاد کا نشاں نہ رہا
ہو چکیں حسن و عشق کی باتیں
گل و بلبل کا ترجماں نہ رہا
اہلِ ہند اب کریں گے کس پر ناز
رشکِ شیراز و اصفہاں نہ رہا
زندہ کیونکر رہے گا نامِ ملوک
بادشاہوں کا مدح خواں نہ رہا
کوئ ویسا نظر نہیں آتا
وہ زمین اور وہ آسماں نہ رہا
اٹھ گیا تھا جو مایہ دار سخن
کس کو ٹہرائیں اب مدارِ سخن
کیا ہے جس میں وہ مرد کار نہ تھا
اک زمانہ کہ سازگار نہ تھا
شاعری کا کیا حق اس نے ادا
پر کوئ اس کا حق گزار نہ تھا
بے صلہ مدح و شعر بے تحسیں
سخن اس کا کسی پہ بار نہ تھا
نذرِ سائل تھی جاں تک لیکن
در خورِ ہمت اقتدار نہ تھا
ملک و دولت سے بہرہ ور نہ ہوا
جان دینے پہ اختیار نہ تھا
خاکساروں سے خاکساری تھی
سر بلندوں سے انکسار نہ تھا
لب پہ احباب کے بھی تھا نہ گلہ
دل میں اعدا سے بھی غبار نہ تھا
بے ریائ تھی زہد کے بدلے
زہد اس کا گر شعار نہ تھا
ایسے پیدا کہاں ہیں مست خراب
ہم نے مانا کہ ہوشیار نہ تھا
مظہر شان حسنِ فطرت تھا
معنی لفظ آدمیت تھا
کچھ نہیں فرق باغ و زنداں میں
آج بلبل نہیں گلستاں میں
شہر سارا بنا ہے بیتِ حزن
ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں
ملک اکثر ہوا ہے بے آئیں
اک فلاطوں نہیں جو یوناں میں
ختم تھی اک زباں پہ شیرینی
ڈھونڈتے کیا ہو سیب و رماں میں
حصر تھی اک بیاں میں رنگینی
کیا دھرا ہے عقیق مرجاں میں
لبِ جادو بیاں ہوا خاموش
گوشِ گل وا ہے کیوں گلستاں میں
گوشِ معنی شنو ہوا بے کار
مرغ کیوں نعرہ زن ہے آستاں میں
وہ گیا جس سے بزم روشن تھی
شمع جلتی ہے کیوں شبستاں میں
نہ رہا جس سے تھا فروغِ نظر
سرمہ بنتا ہے کیوں صفاہاں میں
ماہِ کامل میں آگئ ظلمت
آبِ حیواں پہ چھا گئ ظلمت
ہند میں نام پاۓگا اب کون
سکہ اپنا بٹھاۓ گا اب کون
ہم نے جانی ہے اس سے قدرِ سلف
ان پہ ایمان لاۓ گا اب کون
اس نے سب کو بھلادیا دل سے
اس کو دل سے بھلاۓ گا اب کون
تھی کسی کی نہ جس میں گنجائش
وہ جگہ دل میں پاۓ گا اب کون
اس سے ملنے کو یاں ہم آۓ تھے
جاکے دلی سے آۓ گا اب کون
مرگیا قدر داں فہم سخن
شعر ہم کو سناۓ گا اب کون
مرگیا تشنۂ مذاقِ کلام
ہم کو گھر سے بلاۓ گا اب کون
تھا بساط سخن میں شاطر ایک
ہم کو چالیں بتاۓ گا اب کون
شعر میں ناتمام ہے حالیؔ
غزل اس کی بناۓ گا اب کون
کم لنا فیہ من بکی و عویل
و عتابِ مع الزمانِ طویل


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo