اعجاز صدیقی فرزند علّامہ سیماب اکبر آبادی … دیک…

[ad_1] اعجاز صدیقی فرزند علّامہ سیماب اکبر آبادی

دیکھنا ہے کون اب کس کا اُڑاتا ہے مذاق
وقت سنجیدہ ہے لیکن لوگ سنجیدہ نہیں

نا خواندگیاں اُلٹیں گی تاریخ کے اوراق
نام اپنا کسی صفحۂ سادہ پہ لکھا چل

تم تو سرِ میخانہ بہکنے لگے یارو
ہم پی کے دکھاتے ہیں ذرا جام ہمیں دو

جیسے ایک چُٹکی سی کوئی یک بیَک لے لے
دوستوں کی پُرسِش کا رنگ ہی نرالاہے

دوُر سے خود مِری صورت مجھے لگتی ہے بھلی
جانے کیوں پاس سے ہر شخص بُرا لگتا لگتا ہے
………………..
اعجاز حسین صدیقی کی وفات
Feb 09, 1978

اردو کے عظیم شاعر علّامہ سیماب اکبر آبادی کے فرزند اور جانشین اعجاز صدیقی (اصل نام اعجاز حسین صدیقی) 1913 ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ معقول تعلیم حاصل کی، انھیں اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ غزل، نظم، تحقیق، تنقید، اصلاحِ سخن، مذہب کی پابندی، پاسداری، غرض کہ ہر وہ خصوصیت جو سیماب میں تھی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اعجاز صدیقی کی شخصیت میں بھی تھا۔ سیماب نے آگرہ سے 1930ء میں رسالہ شاعر جاری کیا اور 1935ء میں اسے اعجاز صدیقی کو اس کا ایڈیٹر بنا دیا، انھوں نےتمام نامساعد حالات کے باوجود تاحیات اپنے والد کے اس چراغ کو روشن رکھا یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی ادارت میں ماہنامہ شاعر کے کئی ضخیم اور دستاویزی خاص نمبر شائع ہوئے جن میں خواتین افسانہ نگار نمبر، منٹو نمبر، آگرہ اسکول نمبر، غالب نمبر، افسانہ ڈرامہ نمبر، قومی یکجہتی نمبر، عصری ادب نمبر، گاندھی نمبر اور ناولٹ نمبر وغیرہ شامل ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت خاندانِ سیماب کراچی چلا گیا لیکن اعجاز صدیقی نے ہندوستان ہی میں رہنا پسند کیا، 1951ء میں علّامہ سیماب کی وفات کے بعد وہ آگرہ سے ہجرت کرکے بمبئی (ممبئی) آگئے۔ اعجاز صدیقی نے نظم اور نثر دونوں میں بہت کام کیا لیکن وہ سب شاعر اور دیگر رسائل کے صفحات میں بکھرا ہوا ہے، نظموں کے دو مجموعے ’’ خوابوں کا مسیحا‘‘ اور ’’کربِ خود کلامی‘‘ شائع ہوئے نیز غزلوں کا مجموعہ ’’ درونِ سخن‘‘ ان کی وفات کے 35 برس بعد چھپا۔ ان کی غزلوں کے تعلّق سے ان کے معاصر شاعر علی سردار جعفری نے لکھا کہ ’’ غزلوں میں ان (اعجاز صدیقی) کا انداز کلاسیکی رہا ہے لیکن اس کلاسیکیت میں انھوں نے جدید عہد کے تقاضوں کی اس طرح آمیزش کی ہے کہ زبان جدّت اور روایت کا ایک خوبصورت امتزاج بن گئی ہے ۔۔۔۔۔ ان کی غزلیں جدید غزل میں ایک بلند مقام رکھتی ہیں لیکن جس طرح اقبال اور یگانہ کی غزل گوئی کو نظر انداز کیا گیا ہے اسی طرح اعجاز صدیقی کی غزل کے ساتھ بھی بد سلوکی کی گئی ہے۔ اس عہد کے غزل کے معماروں میں ان کا نام مستند، معتبر اور قابلِ فخر ہے۔‘‘ اعجاز صدیقی نے اردو کے لیے تاعمر مجاہدہ کیا، مہاراشٹر میں اردو اکادمی کا قیام ان کا ایک اور اہم کارنامہ ہے۔ انھوں نے 9 فروری 1978 ء کو ممبئی میں وفات پائی، ان کے بعد ان کے فرزندان افتخار امام صدیقی، ناظر نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی اردو ادب کے اس شجر کی آبیاری کر رہے ہیں جسے علّامہ سیماب نے لگایا تھا۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo