پی ٹی آئی سپورٹس اینڈ کلچرل ونگ کے صدر عمر خیام کا انٹرویو


تفکر- سب سے پہلے خاندانی پس ِمنظر بتایئے۔
ج۔ میرا تعلق پنجاب کے ایک دیہاتی علاقے منڈی بہائوالدین سے ہے۔ لیکن جو میری ایجوکیشن ہے۔ وہ ملک کے مختلف حصوں میں ہوئی۔ جس میں لاہور بھی ہے ، سرگودھا بھی اور اسلام آباد بھی ہے ۔ میرے والد ایک سائنسدان تھے لیکن بہت کم عمری میں ان کی وفات ہوگئی تھی ۔ پچھلے 12 سال سے میں لاہور میں مقیم ہوں اور پروفیشنل وکیل ہوں ۔ پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے ہوئے مجھے 11 سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے ۔
تفکر- آپ کتنے بہن بھائی ہیں ۔
ج: ہم تین بہن بھائی ہیں ، دو بھائی اور ایک بہن ہے ، میرا نمبر درمیان والا ہے ۔
تفکر- آجکل آپ کہاں رہائش پذیر ہیں ۔
ج: میری رہائش لاہور میں ہے ۔
تفکر- آپ نے گریجویشن کہاں سے کی ۔
ج: میں نے گریجویشن FC کالج لاہور سے کی اور لاءمیں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا ۔
تفکر- آجکل آپ وکالت کررہے ہیں ؟
ج۔ جی جی ، اب تو وقت نہیں ملتا لیکن 2007ء سے لیکر 2015ء تک میں نے ایکٹو وکالت کی اور میں کارپوریٹ وکیل ہوں اور اکرم شیخ صاحب کا میں شاگرد ہوں اورپارٹنر بھی ۔
تفکر-آپ نے سیاست میں کب آنے کا سوچا ۔
ج۔ سیاست میں آنے کا تو میں نے 2005ء میں ہی سوچ لیا تھا جب میں یونیورسٹی میں تھا ۔اس وقت میری عمران خان صاحب سے اتفاقاً جمعہ کی نماز پر ایک جگہ ملاقات ہوگئی ۔ پہلی دفعہ میں نے خان صاحب کو دیکھا تھا ان دنوں وار آف ٹیرر بھی نئی نئی شروع ہوئی تھی پاکستان میں اس کا بلو بیک بھی نیا نیا آنا شروع ہوا تھا تو عمران خان صاحب کو میں ٹی وی پر سنتا تھا اس کا جو ویژن تھا وہ ملک کے مسائل کی جو تشخیص کرتے تھے اور پاکستانیوں کو سمجھاتے تھے کہ آپ جس راستے پر چل رہے ہے اس کی ہمیں کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی تو ان کے اس سیاسی ویژن اور بصیرت سے متاثر ہو کر میں نے 2007ء میں ہی باقائدہ سیاست کا آغاز کیا ۔
تفکر- اگر عمران خان صاحب سے آپ کی ملاقات نہ ہوتی تو پھر بھی آپ کا ذہن تھا کہ آپ سیاست میں آئیں گے ؟
ج ۔ جی ، ان سے ملاقات کے بعد میرا زیادہ ذہن بنا ، اس سے پہلے میری سوچ پولیٹیکل تھی لیکن جب میں نے ان کو دیکھا کہ کس حد تک کرشماتی شخصیت ان کی ہے اور جو ان کے مجاز میں سادگی ہے اور جو درویشانہ پن تھا اس نے سمجھیں مجھے بہت متاثر کیا پھر میں نے ان کے افکار کو فالو کرنا شروع کیا اور پھر 2 سال کے عرصہ کے بعد جس دن میں نے اپنی پریکٹیکل لائف شروع کی اسی دن میں نے اپنی سیاسی زندگی کا بھی آغاز کیا ۔
تفکر- کیا آپ سمجھتے ہے کہ آپ نے عوام کیلئے حکومت ملنے سے پہلے ہی کچھ ڈلیور کرنا شروع کر دیا تھا ؟
ج۔ جی بالکل ! ہم دنیا کی تاریخ کی وہ واحد سیاسی جماعت ہیں جس نے حکومت میں آئے بغیر نوجوان ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے کیلئے خاص کر کھیل کے شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ یہ دنیا میں آج تک کبھی نہیں ہوا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنی مدد آپ کے تحت ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کرائے اور اس حکومت کے ہوتے کرائے جس سے ان کی شدید چپقلش ہے ۔
تفکر- آپ نے جب پی ٹی آئی کو جوائن کیا تو سب سے پہلے آپ نے سپورٹس سے ہی سٹارٹ لیا ؟
ج: میں نے سینٹرل میڈیا سیل کو جوائن کیا اور میں عمران خان صاحب کی بہت ساری تاریخی تقاریر بھی میں لکھ چکا ہوں اور بہت سارے تاریخی مواقع پر بیانات بھی میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے نعرے پاکستان تحریک انصاف کے ، جیسے’’ کون بچائے گا پاکستان ۔۔۔ عمران خان ‘‘ یہ میری تخلیق ہے اور” سونامی” کا لفظ جو تھا وہ میں نے عمران خان صاحب پر آرٹیکل لکھا تھا 2010ء میں جوکہ ایک بڑے مشہور انڈین صحافی فرینک حضور نے عمران خان صاحب کی بائیو گرافی لکھی ہے ’’ عمران ورسز عمران ‘‘ اس میں وہ شروع ہی اس لفظ سے ہوتا ہے ۔
تفکر- آجکل آپ سپورٹس اور کلچر کی نمائندگی کررہے ہیں پی ٹی آئی کی طرف سے ۔تو کیا سوچا ہے آپ نے کیا تبدیلی لائیں گے سپورٹس اور کلچر میں۔ اور پھر کلچر کی بھی آ پ نمائیندگی کررہے ہیں تو کیا تبدیلی لائیں گے آپ ؟
ج ۔ دیکھئے تبدیلی سب سے بڑی یہ لائی گئی کہ میرٹ کا نظام لائیں گے شفافیت لائیں گے کھلاڑیوں کی سلیکشن میں ، پاکستان کا مسئلہ ٹیلنٹ کا فقدان نہیں ہے پاکستان میں مسئلہ انصاف کا فقدان ہے ، اپرچونٹی کا فقدان ہے تو پرچونٹی اور ٹیلنٹ کا جو ملاپ ہم کرنے جا رہے ہیں اس کے لئے ہم نے بڑا ہی زبردست پلان بنایا ہے ، پاکستان کی 9 جو بڑی گیمز ہے جس میں کرکٹ ہے ، ہاکی ہے ، ایتھلیکٹس ہے ، کبڈی ہے ، ریسلنگ ہے ، والی بال ہے ، بیڈمنٹن ہے ان کے اندر ہم ٹیلنٹ ہنٹ سکیم شروع کریں گے۔ اس کے بعد اس میں سے بڑے ہی فیئر اینڈ ٹرانسپیرنس طریقہ سے ملک بھر سے جو کھلاڑی ہمارے جمع ہوں گے ان کی ہم لیگز کروائیںگے۔ اس پہ حکومت کا کوئی خرچہ نہیں آئے گا۔ ہم کوآپریٹ سپانسرز لائے گے ، ٹیلی ویژن کو اس کے اندر لائیں گے جس طرح انڈیا میں ہوتا ہے سائوتھ افریقہ میں ہوتا ہے ۔ حکومت کے سامنے ہم پرائیوٹ منی سے انٹرپرائز کھڑا کردیں گے پھر اس سے ہماری قومی ٹیم کے اندر ٹیلنٹ آنا شروع ہوجائے گا۔
کلچر میں بھی اسی طرح جو سب سے پہلا پروگرام ہمارا شروع ہونے والا ’’ وائس آف پنجاب ‘‘ اس میں بھی ہم سنگرز کا ٹیلنٹ ہنڈ پروگرام کرنے جا رہے ہیں ۔ اس میں ملک بھر سے جو 5 بڑے میوزک کے جیسے قوالی ، غزل ، فوک اور مزید ہیں ان 5 کیٹیگریز میں ہم ملک بھر سے بچوں کا امتحان لیں گے ،آڈیشن لیںگے اور ان کو بچوں کو ہم پی ٹی وی پر لائیو دکھایئں گے اور پھر جو بچے ان پروگرام کے ونر ہوں گے ان کو ہم پروموٹ کریں گے ۔
تفکر- کیا آپ ان بچوں کیلئے کوئی اکیڈمی بنانے کا سوچ رہے ہیں؟
ج ۔ جی اکیڈمیز کا پروگرام ہے خاص طور پر گورنمنٹ آف پنجاب کو خصوصی کریڈٹ دوں گا عثمان بزدار صاحب کو۔ لیکن اکیڈمی کی سٹیج پر آنے سے پہلے جو کام کرنے والا ہے ایک تو اپرچیونٹی کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچایا جائے جب ایک ٹیلنٹ ٹول آپ کے پاس آئے گا اور ٹیلنٹ ٹول لاتے رہنے کا ایک میگنیزم بن جائے گا پھر اکیڈمی میں آپ ان کو بہتر ٹریننگ دے سکتے ہیں ۔
تفکر- آپ جو ٹیلنٹ سامنے لائیں گے کیا وہ پرائیوٹ سیکٹر میں جیسے اپنی قسمت سے جہاں بھی ان کی کھپت ہوگی یا گورنمنٹ کوئی اس طرح کا پروگرام متعارف کرائے گی جس میں ان کے روزگار کا کوئی سلسلہ بن سکے؟
ج ۔ جی روزگار اس طرح ہوگا کہ ان کو پی ٹی وی پر ان کے گانے پروڈیوس کئے جائے گے ۔ ہر قومی دن پہ جیسے عید پہ جتنے ہمارے فیسٹیول ہے اس پر ان کو موقع دیا جائے گا ہر آرٹس کونسل جو پاکستان میں ہے وہاں ان پر گورنمنٹ کے خرچہ پر ان کے کنسرٹ کروائے جائیں گے ۔ پھر ان میں سے جو عوام کی پزیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا پھر جیسے کہتے ہے چل سو چل پھر اس کے ساتھ پرائیوٹ پروموشن بھی آنا شروع ہوئے گی کیونکہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے ۔ اگر کسی مرد و خاتون نے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا جیسے کوک سٹوڈیو میں کتنے آئے اور چھا گئے تو اسی طرح حکومت کی سطح پر آئیں گے اور چھائیںگے ۔
تفکر- فلم اور ڈرامہ کیلئے کیا سوچا ہے ؟
ج ۔ فلم کو پروموٹ کرنے کیلئے ایک بھرپور پالیسی ہم نے بنائی ہے۔ سب سے پہلے تو 187سنیما ہیں پاکستان میں ،جس میں تقریباً 300کے لگ بھگ سکرینز ہیں۔ ان کی تعداد اگلے پانچ سال میں ایک ہزار تک لے کر جائیں گے اور جو بہت ساری ہماری میجر آرٹس کونسلز ہیں، اس کے اندر بھی ہم سنیما سکرین کی بھی آڈیشن کریں گے ۔ Walk in Cinema کا ایک تصور ہوتا تھا دنیا میں، اس کو ہم واپس لارہے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقے میں۔اور جو ان پر امپورٹ آئٹم ہے ان پر ڈیوٹی کی بھی کمی کی سفارش ہم نے کی ہے اور تیسری چیز جو ہے وہ ماڈرن ٹیکنالوجی ہے جیسے ڈول بی سائونڈ ہے ڈول بی ڈیجیٹل رنگ ماسکنگ ہے ابھی جو ہماری بڑی بڑی فلمیں بنی ہیں یہ جو ہماری فلم آئی جوانی پھر نہیں آئی اس کے پروڈیوسر ہمایوں سعید میرے پاس آئے انہوں نے کہا پوری فلم ایک طرف 4 کروڑ روپے کی صرف مکسنگ مجھے کروانی پڑی تو اس طرح کی ایک بڑی زبردست جدید لیب ہم قائم کریں گے الحمراء لاہور میں۔ جس میں سبسڈی پہ آدھی قیمت پر اسی لیول کی ٹیکنالوجی ان کو یہاں میسر آئے گی جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا ۔
اس کے علاوہ ایک چیز اور جو ریالٹی نہیں ملتی ہمارے فنکاروں کو۔یہ مافیا ہے۔ اس پر بھی ہم بہت زور سے حملہ آور ہونے جا رہے ہیں اور یہ جو کچھ ریکارڈ کمپنیز نے یرغمال بنایا ہوا ہے ہمارے فنکاروں کو اس سے ان کو آزادی دلوائیں گے ۔
تفکر- فلم کیلئے کوئی اکیڈمی کا سوچ رہے ہیں ؟
ج۔ فلم کیلئے بے شمار اکیڈمی ہیں۔ نیشنل (ناپا)ایک موجود ہے جس کی کارکردگی صفر ہے ، پنجاب میں بھی ایک انسٹیٹیوٹ موجود ہے جس کی کارکردگی صفر ہے ، اسلام آباد میں ہنر کدہ اور لوک ورثہ کے نام سے اکیڈیمز موجود ہیں کارکردگی صفر ہے ان اداروں کو ہم نے بہتر بنانا ہے۔
تفکر- جو ادارے ادب کو پروموٹ کرنے کیلئے بنائے گئےاور اتنا پیسہ گورنمنٹ لگا رہی ہے ،ان کی کارکردگی کیا ہے ؟
ج ۔ صفر ہے ان کی کارکردگی۔ ایک تو سب سے پہلے ہم نے جو نظام وضع کیا ہے جو مشاعرے ہوتے ہیں جو ایک پیکیجز ملتے ہے ان کا کوئی نظام نہیں تھا۔ کسی کو کوئی پسند تھا کسی کو کوئی پسند ۔ سب سے پہلے وہ جو کروڑوں روپے تھے ان کو ہم نے بند کردیا ان کو ہم نے فریز کردیا ۔ اب جو آفس ہے انفارمیشن کلچر ہے وہ باقائدہ اپنا ایک شیڈول بتائے گا اور وسیع پیمانے پر پورے پنجاب سے ہم شروع کریں گے شاعری تو پنجاب تک ہی ہے کراچی تک محدود ہے ۔ تو پنجاب میں وسیع پیمانے پر ہر آرٹس کونسل میں ادب کی جو محفلیں ہے ان کو پروموٹ کیا جائے گا بغیر سفارش کے ۔
تفکر- ابھی دیکھیں پہلے جو تھا الحمراء کا عطاء الحق قاسمی صاحب کو چیئرمین بنایا ہوا تھا ، کانفرنس ہوتی تھی وہی گنتی کے لوگ ہر سال انہوں نے بلانے ہیں اور ان کو پیسہ دیتے تھے اتنا زیادہ فیورٹ ازم اسی طرح صغریٰ صدف نے بھی اپنے کلاس کےبندے رکھے ہوئے تھے۔ اب ٹی وی بھی اس کے انڈر ، ریڈیو بھی اس کے انڈر ، میگزین بھی اس کے انڈر ، فنکشن بھی اس کے انڈر ، میوزک بھی اس کے انڈر آپ اس طرح کی چیزوں کو کس طرح ہینڈل کریں گے ؟
ج ۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ چاہے لاہور آرٹس کونسل ہو ، چاہے پنجاب آرٹس کونسل ہو ، چاہے پلاک ہو ان تینوں کے بورڈ آف گورنرز کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ اس میں ہم نے نئے اور سب سے امپورٹڈ فن سے محبت کرنے والے جن کا اپنی کوئی سٹیک نہ ہو۔ اب اگر میں پلاک کے بورڈ آف گورنرز میں آگیا تو نہ تو میں شاعر ہو مجھے کیا انٹرسٹ ہوگا کہ میں کسی ایک گروپ کو فیور کروں۔ میرے نزدیک تو کرائی ٹیریا وہ ہوگا کہ جس کا شعر مجھے سن کے پسند آیا اگر مجھے پسند آئے گا تو اس کا مطلب ہے شاید دنیا میں 10 میں سے 7 لوگوں کو تو پسند آئے گا تو سب سے پہلے ان کا جو سپورٹ سسٹم تھا اس مافیا کا اس کو ہم نے تحلیل کیا ۔ بورڈ آف گورنرز اس تینوں اداروں کے سمری موو کردی گئی ہے انشاء اللہ جلد آپ دیکھیں گے ہم فن سے پیار کرنے والے ایماندار لوگوں کو لے کر آئیں گے ۔ اور میں ان چیزوں پر بیلیو کرتا ہوں کہ ایک خاتون کا بھی آپ نے نام لیا بجائے ہم ان کو نکال دے ہم انہی کو مجبور کریں گے کہ اب آپ ہمارے بتائے ہوئے اصول پر چلیں گے ۔ ایک چیز میں آپ کو اور بتا دوں وہ دور گزر گیا جب کوئی کسی کو 5 ہزار آٹھ ہزار ، دس ہزار دیتا تھا اب ہم نے یہ پالیسی بنا دی ہے اسمبلی سے قانون منظور کرادیا ہے کہ ہم نے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے کلچر کی۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کی اپرول کے بغیر کوئی ایک ہزار روپیہ بھی کسی کو فنڈ نہیں دے سکے گا ۔ سیکرٹری انفارمیشن سے ہم نے یہ طاقت چھین لی ہے کہ آپ نے جو یہ جمعہ بازار لگا رکھا تھا لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا اور یہ بھی میری ہی سفارش تھی ابھی ایک اور سکیم ہم لے کر آرہے ہیں کہ دس ہزار ایسے لوگوں کو شناخت کریں گے جن کو لمیٹیڈ انشورنس آپ کو دلائے گے اور آٹھ کروڑ روپیہ اس مد میں خرچ کریں گے ۔ تیسری ایک چیز ہے کہ میں نے ایک سمری آگے بھیجی ہوئی ہے ابھی وہ منظور نہیں ہوئی وہ ہے کہ جو پچاس لاکھ گھر بن رہے ہیں ان میں سے بھی کچھ حصہ فنکاروں کیلئے بارعایت ہو ۔
تفکر- کتابیں چھاپنے کا بہت مسئلہ ہے ، پوری دنیا میں کتابیں چھپتی ہے رائلٹی ملتی ہے یہاں اس طرح کا ماحول بن گیا ہے کہ شاعر کو اپنے پیسوں سے ہی کتاب چھپوانی پڑتی ہے اور پھر مفت تقسیم کرنی پڑتی ہے اپنے شوق کیلئے یہ سب کرنا پڑتا ہے اس کی طرف بھی کچھ توجہ دیں ۔
ج ۔ جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا جو کاپی رائٹس کا قانون ہے جو کہ فیڈرل قانون ہے اس کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اور یہ تبدیل ہونے جا رہا ہے ۔
تفکر- عمران خان کی جو 100 دن آپ لوگوں نے ٹارگٹ دیا ہوا آپ مطمئن ہے 100 دن کی کارکردگی سے ؟
ج۔ بالکل مطمئن ہے 100 دن میں ہوا کیا ہے آپ یہ بتائیں کہ 100 دن پہلے کا جو پاکستان ہے 18 اگست صبح ساڑھے 10 بجے انہوں نے حلف اٹھایا تو 18 اگست صبح ساڑھے 10 بجے پاکستان کی کیا حالت تھی آپ کے جتنے ہمسائے ہے وہ ہوسٹ آئے تھے آپ کے گھر آپ کے جتنے بھی اتحادی ہو چاہے وہ امریکہ ہو چاہے سعودیہ ہو چاہے وہ امارات ہو چاہے ملائیشیا ہو وہ آپ سے نفرت انگیز حد تک دور ہو چکے تھے آپ پر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا تھا 22 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ آپ دیکھ رہے تھے سرکاری خزانہ مکمل طور پر خالی تھا امپورٹس آپکی نہ ہونے کے برابر تھی اور ایکسپورٹ کا کوہ ہمالیہ کھڑا کردیا گیا تھا 100 دن کے بعد جو تجارتی خسارہ ہے وہ 22 ارب ڈالر سے کم ہو کر 14 ارب ڈالر آگیا ہے عمران خان کی حکومت جب آئی تھی 14 ارب ڈالر خزانہ میں موجود تھے آج 18 ارب ڈالر موجود ہے سعودیہ عرب نے آپکو 6 ارب ڈالر کا پیکج دیا آپ کے ساتھ یکجہتی کی ، یو اے ای نے آپ کے ساتھ دوبارہ اپنے معاملات کو استوار کرنا شروع کیا اب آپ دیکھ لیں امریکہ پاکستان کے درمیان امریکہ یو ٹرن لے رہا ہے پہلے امریکہ کہتا تھا ڈو مور اب وہ کہتا ہے مجھے تمہاری مدد چاہئے اب کہتا ہے ہیلپ می مور ۔ چوتھی جو سب سے بڑی چیز ہے کہ آپ دیکھیں کہ الیکشن کے دنوں میں اور اس سے پہلے جو دہشتگری کے خلاف جنگ ہے اس میں پاکستان ناکام ہو رہا تھا دہشتگروں کا جب دل کرتا تھا وہ جہاں پر وار کرتے تھے ۔ بلوچستان میں کتنا خوفناک واقعہ ہوا جس میں وہ ریئسانی صاحب سینکڑوں ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے دہشت گردی کے خلاف ہم نے واضح کامیابی حاصل کی ہے ، امن و امان دیکھ لیں ۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن دیکھ لیں ۔ سرکلر ریلوے کی بحالی آپ کراچی میں دیکھ لیں جو قبضہ مافیا ہے جو منی لانڈرنگ مافیا ہے اس کے خلاف کارروائی دیکھ لیں ۔ انگلینڈ تو آپ کی بات ہی نہیں سنتا تھا وہاں پہ لوگ بیٹھ کے آپ کے ملک میں بلوچستان سے لیکر کراچی میں کارروائیاں کررہے تھے ان سب پر زمین تنگ کردی گئی ۔
س : آپ کے جو سپوکس مین ہیں، وہ اپوزیشن کو کیوں نہیں مطمئن کررہے ؟
ج: دیکھیں جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ ہم اپنی بات کہہ چکے جو بے شرم ہے اپنی مرضی کریں ۔ اپوزیشن تو وہ ہے جو کہتے تھے کہ ایٹمی دھماکہ بھی نواز شریف نے کیا ہے اپوزیشن تو یہ کہتی ہے کہ پاکستان کو توڑنے والا نہیں، بچانے والا ذوالفقار علی بھٹو تھا ، اپوزیشن تو یہ کہتی ہے کہ زرداری ایک دو کوڑی کا ڈکیت اور مسخرہ نہیں ایک بہت بڑا مدبر ہے تو ایسے جاہلوں کو تو آپ کبھی مطمئن کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا کاروبار چلتا ہے نفرتیں پھیلا کے۔ ان کا کاروبار چلتا ہے پاکستان کو نقصان پہنچا کے یہ کوئی نریندر لیگ ہے کوئی ان میں ایران کا ایجنٹ ہے کوئی ان میں امریکہ کا ایجنٹ ہے کوئی ان میں انڈیا کا ایجنٹ ہے یہ جو نریندر مودی کو بغیر سیکورٹی کلیرنس کے پاکستان لا رہے تھے ان کو کہاں سمجھ آئے گی کہ عمران خان پاکستان کیلئے کیا کررہا ہے ۔ان کے تو سینے پہ مونگ دلتا ہوا وہ یہاں تک پہنچا ہے ان کی تو چھاتی پہ سانپ لوٹ رہے ہیں یہ دیکھ کر کہ نریندر مودی دنیا بھر میں اس کا مورال کم ہو رہا ہے عمران خان کا مورال بڑھ رہا ہے۔ انڈیا میں بڑے بڑے صحافی لکھ رہے ہیں کہ عمران خان از آئوٹ پلیسنگ مودی ۔ نریندر مودی کو پانچ ریاستوں میں شکست ہوگئی ہے ، کیا امریکہ کیا انگلینڈ کیا سعودیہ وہ سب پاکستان کا رخ کررہے ہے کیا یہ کم تبدیلی ہے؟ پاکستان کے اندر تبدیلی تب آتی ہے جب آپ کے اتحادی آپ کے ساتھ ہوں ، دنیا آپ کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے دنیا آپ کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات رکھنا چاہتی ہے اور آخر میں کیا پاک فوج اور عمران خان ایک پیج پر ہے یا نہیں ہے کیا ہمارے ملک کا بیانیہ اب ایک ہے یا نہیں ہے ہمارا اور فوج کا بیانیہ ایک ہونے سے پاکستان کی کایا پلٹ گئی ہے ۔
تفکر- کیا فوج نے الیکشن میں سپورٹ کی تھی ؟
ج۔ اگر فوج نے الیکشن میں سپورٹ کی ہوتی تو دو تہائی اکثریت ہمارے پاس ہوتی ۔ جھرلو پھرا تھا 1970ء میں جب وہ وہ لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے نام پہ جیت گئے جو گھر جا کے سو چکے تھے اور جو اتنے نکمے تھے کہ ان کی جگہ پہ اس کو خود وڈیرے اپنی زندگی میں لانے پڑے کیونکہ اسے پتہ تھا کہ میں جعل سازی سے آیا ہوں یہ سب دیسی غبارے ہیں۔ ان میں ہوا بھری گئی ہے جھرلو پھرا تھا جب آئی جی آئی بنائی گئی جھرلو پھرا تھا جب ہیوی مینڈیٹ ملا تھا جس کے بوجھ تلے وہ خود دب گئے جھرلو پھرا تھا جب 2013ء میں نواز شریف صاحب کی حکومت آئی تھی یہ کس طرح کی آرمی ہے کہ سینٹرل پنجاب میں ہم فارغ ہوگئے بلوچستان میں ہماری حکومت نہیں ہے جو سب سے زیادہ پرو اسٹبلشمنٹ ریجن ہے یہ لاہور اور گوجرانوالہ یہ سیالکوٹ جنہوں نے جنگیں لڑی ہیں، یہاں سب سے زیادہ فوجی جاتے ہیں، یہاں ہمیں ووٹ نہیں ملا یہ کس طرح کی آرمی کی سپورٹ ہے ۔ تو عمران خان کے خلاف آج بھی سسٹم مذاہمت کررہا ہے ۔ اسٹبلشمنٹ آج بھی مزاہمت کررہی ہے 22 سال جدوجہد کے بعد آنے والا اسٹبلشمنٹ کا ایجنٹ ہے یا گمنامی سے اٹھا کر اچانک ایک دن وزیر ، ایک دن وزیر اعلیٰ پھر وزیر اعظم دوسری مرتبہ وزیر اعظم تیسری مرتبہ وزیراعظم وہ اسٹبلشمنٹ کی ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہے یا 22 سال کی جنگ لڑنے کے بعد اپنے زور بازوں پر آنے والا اسٹبلشمنٹ کا کارندہ ہے یہ ایک عجیب و غریب صورتحال ہے ۔
س ۔ ماہنامہ تفکر کے توسط سے آپ کوئی پیغام عوام کو بالخصوص نوجوانوں کو دینا چاہیں گے ؟
ج ۔ پاکستان کے نوجوانوںکو میں صرف یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ ہم وہ ملک ہیں کہ جس کی آبادی کا 60 فیصد حصہ 35 سال سے کم عمر ہے ہم اس وقت دنیا کی کم عمر ترین قوم ہیں ۔ حال بھی آپکا ہے اور مستقبل بھی آپکا ہے۔ سیاسی نکالوں سے ہوشیار رہیں منفی سوچ رکھنے والوں سے دور رہیں آپ نے عمران خان کو لا کر وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے جو اس سے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس کے ثمرات بہت جلد آپکو ملیں گے ۔ اب آپ دیکھیں گے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بہتری کی طرف جائیں گے ۔ اپنی محنت جاری رکھیں، تعلیم حاصل کریں کھیل میں آگے آئیں، ثقافت میں آگے آئیں، اپنے ملک کو خوبصورت بنائیں۔ اپنے ملک کو اس قابل بنائیں عمران خان کے ساتھ مل کر کہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے عزت کے ساتھ اپنے معاملات طے کرسکیں ۔
پاکستان زندہ باد

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo