پاکستان ہے تو ہم ہیں!!!

یہ اس وقت کی بات ہے جب سوات میں پاکستانی طالبان کے مطالبہ کو مانتے ہوئے شریعت کا نفاذ عمل میں آچکا تھا . جس سے ایک جانب لبرل طبقہ صدمہ کی حالت میں تھا تو دوسری جانب طالبان کا وہ گروہ جو محض انتشار چاہتا تھا اپنی سدھ بدھ کھو چکا تھا . طالبان اور اسکو چلانے والے پس پردہ ہاتھ تو اس پلان پر عمل پیرا تھے کہ جیسے ہی شریعت کا مطالبہ رد کیا جائے گا عوامی جذبات کی لہر پاکستان آرمی کے خلاف ہوجائے گی لہذا پاکستانی طالبان اس عوامی لہر کو اپنے حق میں کیش کرواتے ہوئے عوام کو فوج سے متنفر کردیں گے ۔ جس سے سول وار جیسی کیفیت پاکستان میں چھا جائے گی ۔ یہ وہی پلان ہے جس کے نمونے آپ لیبیا عراق و شام میں دیکھ رہے ہیں ۔
سب سے پہلے یہ “فوج کو عوام سے لڑا دو پالیسی والی حکمت عملی” پاکستان میں آزمائی گئی تھی کیونکہ اس وقت پاکستان سیاسی طور پر عالمی دنیا میں تنہا ہو چکا تھا ۔ امریکی ایما پر این آر او زدہ کرپٹ ترین حکومت قائم تھی اور مالی طور پر پاکستان تقریبا دیوالیہ ہو چکا تھا ۔ یعنی وہ تمام “آئیڈیل” حالات تیار تھے جس کے ذریعے پاکستان میں زبردست افراتفری پیدا کی جا سکتی تھی ۔ پر پاکستان آرمی کے اس شریعت کے مطالبہ کو مان لینے کے بعد بین القوامی اور مقامی انتشاری قوتوں کو سخت دھچکہ پہنچا لہذا غیر ملکی اشاروں پر چلنے والے ملا فضل اللہ کے لئے یہ بات تشویش لائق تھی ۔
صوفی محمد کی نیت پر کوئی شک نہیں پر وہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے ملا فضل اللہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا ۔ لہذا ایک دن سوات میں میں ہونے والے اجلاس میں جب ملا فضل اللہ نے معاہدہ میں طے پائی جانے والی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دریائے سوات کے دوسری جانب پیش قدمی کی بات کی اور تجویز دی کہ شکردرہ سے ہوتے ہوئے شمالی وزیرستان کے پورے علاقے کو بھی ساتھ ملا کر اپنی پوری ریاست بنائی جائے ۔ اس تجویز کو کثرت رائے سے رد کردیا گیا ۔ مقامی لوگوں کی اکثریت چونکہ شریعت کا نعرہ سن کر ان کے ساتھ شامل ہوئی تھی لہذا ان کا کہنا تھا کہ پہلے سوات کو ایک آئیڈیل ریاست بنایا جائے تاکہ آس پاس کے علاقے کی عوام بخوشی اس نظام کو قبول کریں پر ملا فضل اللہ کے ارادے کچھ اور ہی تھے .
اگلے دن ہی اس نے اپنے ماتحت گروہ کو مالاکنڈ کی جانب اسلحہ سے لیس کر کے روانہ کیا جنہوں نے وہاں گشت اور ہوائی فائرنگ کی ۔ چونکہ آرمی نے ان کے مطالبات مان لئے تھے لہذا یہ سمجھنے لگے کہ اب آرمی ان سے دب گئی ہے ۔ اس واقعہ کے اگلے روز آرمی کی جانب سے معاہدہ پر عملدرآمد کا پیغام بھجوایا گیا جسے اس متشدد گروہ نے بلکل سنجیدگی سے نا لیا اور کچھ دن بعد ہی دریائے سوات پار کر کے شکردرہ کے علاقے میں داخل ہوگئے اور دو دن وہاں اسلحہ سے لیس ہو کر دندناتے رہے ۔ اور جب آرمی نے معاہدہ کی پاسداری کا دوبارہ پیغام بھجوایا تو طالبان کی جانب سے ملا فضل اللہ نے یہ ٹکا سا جواب دیا کہ ہم “والک کرنے گئے تھے” .
اب آرمی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا لہذا ان ہی حرکات کی بنا پر آرمی نے سوات آپریشن شروع کردیا اور بمشکل مہینہ کے اندر ہی سواتی طالبان یا تو افانستان کے علاقے نورستان فرار ہوگئے یا پھر مارے گئے ۔ اس دوران جو طالبان کے سہولت کار تھے اور انکی آشیرباد سے علاقے کے ان داتا بن کر عام عوام اور مقامی سرداروں جنہیں “ملک” کہا جاتا ہے انکی جان اور مال کے پیچھے پڑے تھے ان کے ساتھ جو سلوک مقامی لوگوں اور آرمی نے کیا اب انکی سات نسلیں بڑی “ڈینگیں” مارنے سے قبل ہزار بار سوچیں گی ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے یہ آپ بیتی کیوں تحریر کی ؟
جناب یہ اس لئے تحریر کی کہ آپ بتا سکوں کہ آرمی کی خاموشی کو اس کی کمزوری نا سمجھیں ۔ یہ آج کل جو کچھ بلونگڑے بات بات پر مشرقی پاکستان جیسی ایک اور صورتحال پیدا ہونے کی دھمکی نما بات کرتے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد منسلک نہیں تھی ۔ رسد و ترسیل کا الگ بڑا مسئلہ تھا ۔ رسد و ترسیل کے مسئلہ نے جنگ عظیم میں جاپان کی طاقتور اور جنگجو ترین فوج کو برما میں پست کروا دیا تھا جبکہ ہم تو درمیان میں ایک بڑے دشمن سے بھی نبزد آزما تھے ۔ آپ کو اپنی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنی ہے تو ہزار بار کیجیئے ۔ آرمی پر تنقید کرنی ہے لاکھ بار کیجیئے یہ آپ کا ہی ادارہ ہے ۔ پر اسکی آڑ میں اگر پاکستان توڑنے کی گھٹیا بات اپنے منہ سے اگلو گے تو جلد یا بدیر خمیازہ بھگتو گے ۔
سوشل میڈیا میں جوش میں آکر آپ جو کچھ گند نکالتے ہو یہ پڑھنے والے بہت غور سے پڑھتے ہیں ۔ اس بنا پر جب گھروں سے اٹھوا لیئے جاتے ہو تو غریب ماں باپ در بدر ہوتے ہوئے دھکے کھاتے ہیں کہ ہمارا سپوت تو بہت “معصوم” تھا ۔ یہ یاد رکھو کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی بہت لوگوں نے پاکستان کے حصے بکھرے کرنے کی کوشش کی تھی ۔ خیر سے اب ان کے جسم زمین کے کیڑے ڈکار چکے ہیں ۔
پاکستان میں رہتے ہو تو پاکستان زندہ باد کہنا سیکھو ۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔ پاکستان نہیں تو ہم بھی نہیں …..!!!

ملک جہانگیر اقبال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo