افغانستان ایک اداس وادی۔۔۔

میں کوہ ہندو کش کے پہاڑوں پہ بیٹھا فیروز کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا۔ صبح صادق کا وقت تھا میں فیروز کے ننھے منے سفید روئی جیسے گالوں پر سرخ زخم کے نشان دیکھ رہا تھا۔ میں ایک فرشتہ ہو کر بلند ترین پہاڑوں سے اسکی تکلیف کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ افغانستان ایک بہت اداس وادی ہے۔یہاں خون کے آنسوؤں کا سمندر ہے جس کا عکس دریاۓ کابل میں بھی نظر آتا ہے۔روز یہاں کے پہاڑوں کی فریاد گونجتی ہے۔ مجھے اس بات پر بھی افسوس ہورہا تھا کہ فیروز کی طرح افغانستان کی بھی کوئی شناخت نہیں ہے۔خدایا! میری آنکھوں میں آنسوں رواں ہوگۓ جب میں نے پہاڑوں سے دور بہت دور اسلام کے نام پہ ہونے والے ظلم کو دیکھا کہ کس طرح بچوں کے ساتھ بد فعلی کی جاتی ہے اور کس طرح عورتوں کو چابک مارے جاتے ہیں۔ کیسے آسمانوں سے ڈرون برساۓ جاتے ہیں۔اور کیسے بے دردی سے لوگوں کا قتل کیا جاتاہے۔ میرے چہرے پر حیرت اور خوف طاری تھاکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے دکھ کیوں نظر نہیں آتے ۔ کیا وہ اتنے بے حس اور سخت دل ہو گۓ ہیں؟ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں فیروز کو اپنے پروں میں چھپالوں۔ اس بچے کا چہرہ ذخمی ہونے کے باوجود تروتازہ تھا۔ وہ ایک بچہ نہیں ایک بہادر جوان نظر آرہا تھا۔ اس کے سنہری گھنگریالے بال جیسے کسی فاتح کے بال ہوں، ہوا میں لہرا رہے تھے۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ بہت سی کانفرنسز منعقد ہویں اور بڑے بڑے پلان بناۓ گئے کہ کسی طرح سے امن وامان کو قائم کیا جاۓ مگر نتیجہ صفر رہا۔ آج بھی افغانستان میں کوئی infrastructure نہیں ہے۔ کوئی خاص معاشی ترقی نہیں ہوئی۔ طالبان اور القاعدہ نے اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ اور امریکہ کو سوائے ڈرون حملوں کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ لگتا ہے انسانی خون بہت سستا ہوگیا ہے ۔ میں افغانستان کے پہاڑوں سے دور پاکستان کی سرحد کی باڑ پہ لگے کانٹوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش یہاں سرخ پھولوں کی بیل ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید پارک میں کھیلتے ہوۓ بچوں کو بے رحمی سے نہیں مارا جاتا۔ مجھے جون ایلیا کی ایک بات یاد آئ وہ کہتا ہے کہ نفرت ذہن کی ایک انتہائ بے ہنگم ناہم آہنگی کی مہلک ترین کیفیت ہے۔ یہ انسان کہ زہن کا سب سے زیادہ زہریلا عارضہ ہے۔ نفرت کا تو لفظ ہی ایک بے حد قابل نفرت لفظ ہے۔ اس لفظ کا نون نحوست کا نون ہے اس لفظ کی نے فتنے اور فساد کی نے ہے ۔ اس کی رے رزالت کی رے ہے۔ ایک اور رویہ قابل غور ہے کہ اداس اور حساس لوگوں کا طبقہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ایسے لوگوں کو کمزور اور بے وقوف سمجھا جانے لگا ہے۔ جب کہ دیکھا جاۓ تو ایسےہی لوگ معاشرے کی حقیقی معنوں میں فکر کرتے ہیں۔میں ابھی پہاڑوں پہ بیٹھا یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ فیروز جاگ گیا تھا اور وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ وہ بول رہاتھا کہ خدا کہ بندے امتحان اور مصیبتوں کے زخم سہتے رہتے ہیں مگر لب پر حرف شکایت نہیں لاتے جسکے صلے میں خدا انہیں ایک پھول کی طرح اٹھالیتا ہے .خدا کی محبت عقل کے بجاۓ معرفت کرکے ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔سیر کرنی ہے تو دل کی آنکھوں کو بیدار رکھو پھر تم آگ کے شعلوں کے درمیاں پھول بن جا ؤ گے۔ یہ کہا ہی تھا کہ فیروز نے ابنی آنکھیں بند کرلیں اور خالق حقیقی سےجا ملا۔ اس کہ چہرے پہ گہرے زخم تو تھے مگر چہرے پر مسکراہٹ ابھی تک قائم تھی۔ مجھے بے اختیار رونا آگیا۔ میں سمجھ گیا کہ خدا اپنے محبوب بندوں کو ہم سے زیادہ کیوں چاہتا ہے۔ مجھ سے اب مزید وہاں نہیں رکا جا رہا تھا اس لئے میں نے افغانستان کے پہاڑوں کو الوداع کہا اس امید کےساتھ کہ کوئی انسان میری طرح پہاڑوں کی اوٹ سے یہاں ہونے والے مظالم پہ ایک داستاں لکھے۔ فیروز کی کہانی سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور مجھے بچپن میں ایک ٹن ڈبے بیچنے والے کی ایک بات یاد آئی ۔ جس سے میں نے پوچھا تھا کہ قیامت کب آئے گی ۔تواس نے جواب دیا کہ جب کوئی آپ کا پیارا کسی حادثے میں مارا جاۓ تب قیامت آجاتی ہے۔ میں اب سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں کہ کتنی قیامتیں گزر چکی ہیں۔ دکھ دریائے کابل کا ہو یا دریاۓ چناب کادکھ تو دکھ ہوتا ہے۔ یہ اداسیوں کا دریا نہ جانے کونسے جل میں اترتا ہے۔ نہ جانے اس جل میں کتنی وحشت اور تنہائ ہوگی۔ مجھے اپنا آپ اب رنگ نسل اورمذہب کی زنجیروں سے آزاد ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ مجھے سب کاغم سانجھی لگنے لگا اور نیلےافق پر جمے معصوم لوگوں کہ اشک صاف نظر آنےلگے۔ مجھے فیروز کا دکھ اپنا دکھ لگنے لگا۔ فیروز! تیرے بہتے ہوۓ آنسوؤں کی رنگینی کو میں بحر کابل کے پانی میں دیکھ رہی ہوں.

انیتا یعقوب

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo