ہوش کرو، کچھ تو ہوش کرو … !!

ایک قصہ سناتا ہوں !!
آج سے پانچ یا چھ سال قبل کراچی میں خونریزی بہت شدت سے پھیل گئی تھی . لسانی و مذہبی بنیاد پر قتل و غارت تو جیسے کراچی کے نصیب میں لکھ دی گئی تھی . ایسے میں ایک اور خوں آشام تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا جسے پیپلز امن کمیٹی کا نام دیا گیا . یہ تنظیم بربریت میں باقی تمام تنظیموں سے بہت آگے تھی . قتل کرنا اور تڑپا تڑپا کر وحشیانہ طریقوں سے اپنے مخالفین کو مارنا ان کا وطیرہ تھا اور پھر ایسی اطلاعات بھی آنے لگیں کہ یہ لوگ بی ایل اے کے دہشتگردوں کو کراچی میں پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں اور مخالفین سے ” جنگ” میں انہیں استعمال بھی کرتے ہیں .
اس سب پر آپریشن کرنے کے احکامات نا دینے کی وجہ ایک تو قائلی پٹی پر شورش دوسرا سوات میں طالبان کی انٹری اور تیسرا عالمی طور پر تنہا پاکستانی ریاست تھی . حکومت اور اس کے اتحادی کرپشن کرنے میں مصروف تھے جب کہ سیکورٹی ایجنسیاں جنگ میں مصروف تھیں . ایسے میں باقاعدہ آپریشن لانچ کرنا سراسر بیوقوفی ہی سمجھا جاتا لہٰذا سب سے پہلے پیپلز امن کمیٹی کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا جس میں پہلا ٹاسک اس تنظیم کو اندر سے توڑنا تھا .
اس مقصد کے لئے دو لڑکوں کا گروپ بنایا گیا جو کراچی کے ہی رہائشی تھے اور لیاری سے ملحقہ علاقوں میں اپنی فیملی کے ساتھ مستقل رہائش پذیر تھے . ان دونوں کو بس تنظیم اور اس میں موجود بی ایل اے کے مضبوط نیٹ ورک کو توڑنے کا ٹاسک ملا .

اس تنظیم کا ڈھانچہ کچھ اس طرح سے تھا !

یہ دو حصوں پر مشتمل تنظیم تھی ، ایک تھا اس کا سیاسی چہرا جسکی سربراہی عزیر بلوچ کرتا تھا تھا اور دوسرا تھا اس کا عسکری ونگ جسے ” کمپنی” کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اس کا سربراہ ” بابا لاڈلہ ” تھا . عزیر بلوچ کو جہاں سیاسی پشت پناہی حاصل تھی وہیں بابا لاڈلا کے بی ایل اے سمیت ایران و بھارت کی خفیہ تنظیموں سے گہرے تعلقات تھے . اور ان کی اصل طاقت کراچی کی بلوچ عوام تھی . بلوچ عوام یہ سمجھتی تھی کہ کراچی میں اپنا لوہا منوانے کے لئے اس طرح کی عسکری و دہشتگرد تنظیم کا اسکی پشت پر ہونا ضروری تھا ، پھر آنے والے دنوں میں جس طرح بلوچ عوام کو ان دہشتگردوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑا یہ ایک لمبی کہانی ہے ..

اچھا تو وہ دو لڑکے پیپلز امن کمیٹی کی صفحوں میں شامل ہوگئے . اور وہاں بابا لاڈلہ گینگ کے دہشتگردوں کو اس برتری کے خمار میں مبتلا کیا کہ اصل طاقت تو تم ہو . یہ عزیر بلوچ و دیگر گھر بیٹھے بیٹھے ” سردار” بن گئے ہیں قتل تم کرتے ہو پیسہ یہ کھا جاتے ہیں . اس طرح سے غیر محسوس طریقے سے اس تنظیم میں گروہی دھڑا بندی واضح ہونے لگی . “لی مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ” سے آنے والا کروڑوں روپوں کا بھتہ بابا لاڈلا گینگ نے عزیر بلوچ کے ساتھ بانٹنے سے انکار کرنا شروع کردیا . دوسری جانب عزیر بلوچ جانتا تھا کہ سانپوں کو ساتھ رکھنا ہے تو زہر کا توڑ ساتھ رکھنا ہے لہٰذا اندرون خانہ اس نے بہت پہلے سے ہی اپنے گروہ میں دہشتگردوں کو شامل کرنا شروع کردیا تھا جس میں سے ایک نام ” عدنان بلوچ ” کا تھا جو بعد میں پیپلز پارٹی کے صوبائی حلقے کا صدر بھی بنا اور کچھ ماہ قبل ہی رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا ہے .

عدنان بلوچ نے پرانا گولیمار کو عزیر بلوچ کا گڑھ بنایا اورجب یہ خبریں بابا لاڈلا تک پہنچی تو گروہی تقسیم بہت حد تک سامنے آ چکی تھی . ویسے ہی جہاں اتحاد حرام کام کے لئے ہو وہاں پھوٹ پڑنا لازمی امر ہے ..
ڈیڑھ سال کے اندر اندر اسں پیپلز امن کمیٹی کی کمر ٹوٹ گئی کچھ کو ایجنسی نے مار دیا اور کچھ یہ آپس میں لڑ لڑ کر ختم ہوگئے . بابا لاڈلا گینگ اب محض چور اچکوں کی ٹکڑیوں کی صورت موجود ہے ، بڑے دہشتگرد جن میں جینگو ، پپو ، پٹھان اور عدنان بلوچ وغیرہ مارے گئے جب کہ عزیر بلوچ گرفتار ہو چکا ہے ..

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ واقعہ کیوں سنایا ؟

بتاتا ہوں….

ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے بعد پاکستان بھر کی مذہبی تنظیمیں ایک طرف ہوگئیں . صرف قیادت ہی نہیں عام مسلمان بھی آپسی اختلافات بھلا کر ہاتھ سے ہاتھ ملا کر کھڑا ہوگیا ، یہ وہ صورتحال تھی جس نے پاکستان کے اس طبقہ کو سانپ سنگھا دیا جو پاکستان کی اسلامی شناخت دھندلانے کے لئے عرصے سے کوششیں کر رہا تھا . سنی شیعہ تو دور کی بات اس نے تو پاکستان میں دیوبندی بریلوی اہل حدیث اختلاف کو بڑھاوا دینے کے لئے بھی کثیر سرمایہ کاری کر رکھی تھی . دونوں جانب کے مخصوص علماء ان کے اشاروں پر رقص کرتے تھے ایسے میں مسلمانوں کا کسی مسئلے پر یک زبان ہوجانا ان کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا . لہٰذا اس اتحاد کو توڑنے کے لئے کراچی کے بدنام دہشتگرد ” ثروت اعجاز قادری ” پر ان کی نظر آن ٹہری .
یہ وہی ثروت اعجاز قادری ہے جس کی تنظیم ” سنی تحریک” کہ اورنگی ٹاؤن کے یونٹ و سیکٹر کے کارکن بیکری والے کو صرف اسلئے گولیوں سے بھون دیتے ہیں کہ اس نے فطرہ کی چار کے بجائے صرف دو بکوں کی قیمت ” بطور ” بھتہ وصول کرنے کی درخواست کی تھی . باقی اگر کسی کو اس تنظیم کے کرتوت جاننے ہیں تو کچھ عرصۂ مہاجر کیمپ سات سے پانچ نمبر رہ آئے . اس شخص کی حیثیت کا اس سے اندازہ لگا لیں کہ یہ موصوف ایک رات طبیعت سے رینجرز سے اپنی تشریف پر لاتیں کھا چکے ہیں جب کہ کراچی میں موجود جید بریلوی علماء سمیت تقریباً تمام بریلوی جماعتیں اسے اپنی محفل میں بٹھانا بھی پسند نہیں کرتی ہیں .
لہٰذا مذہبی اتحاد کو توڑنے اور ممتاز قادری پر بریلویت کا ٹھپہ لگانے کے لئے ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی جس میں عناد ، اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہو اور دماغ کے نام پر ” خالی جگہ پر کریں ” کا بورڈ لگا ہو .
لہٰذا سب سے پہلے پلاننگ کے تحت جنید جمشید پر حملہ کروایا گیا جس کے لئے اسی تنظیم کے کراچی کے علاقے ” گودرہ ” سے تعلق رکھنے والے ارکان کا گروہ چنا گیا جنہیں خود بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کس کے ہاتھوں استعمال ہورہے .
دو دن خوب لعن طعن ہوئی پر اس تنظیم کی جانب سے کسی نے اس واقعہ کی مذمت نہیں کی جس سے تاثر ابھرا کہ گویا ممتاز قادری بریلویوں کے زیادہ ہیں ..
اس کے بعد چہلم سے قبل ثروت اعجاز قادری اس ساری تحریک کو ہائی جیک کر چکا تھا جس سے جید علماء اور خانقاہوں سے تعلق رکھنے والے سلجھے ہوئے افراد و شخصیات اس تحریک سے چہلم کے فورا بعد ہی الگ ہوگئے . ویسے بھی اب یہ مسلمانوں سے زیادہ محض ایک مسلک کی تحریک رہ گئی تھی . کام تو یہاں ختم ہو چکا تھا پر اسی اثناء بھارتی جاسوس کی گرفتاری پر وہی مخصوص طبقہ عوام کی توجہ جاسوس سے ہٹا کر دیگر معاملات پر لگانا چاہتا تھا لہٰذا وہ تحریک جس کا مقصد چہلم کے بعد ایک وفد کی صورت میں مطالبات پیش کرنا تھا اسی ثروت اعجاز قادری اور اسکے ہمنواؤں نوزائیدہ قائدین جن کی قابلیت مخالف فرقہ و مسلک کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دینے سوا اور کچھ نہیں کے اصرار پر دھرنے میں تبدیل ہوگیا . اور پھر اس دھرنے کے دوران بریلویوں کا صرف وہی طبقہ میدان میں رہ گیا جو سنی تحریک کے زیر اثر تھا . اور پھر اس تحریک کے لوگوں کی ” زبان مبارک ” سے جھڑنے والے “پھولوں” کو جس طرح سے پاکستانی عوام گزشتہ تین روز سے سن رہی ہے اس سے ممتاز قادری کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی اتحاد کی فضاء ایک ہفتے میں ہی تتر بتر ہو کر رہ گئی ، وہ تو آئی ایس پی آر کے عاصم باجوہ صاحب کی قابلیت ہے کہ انھوں نے گزشتہ روز بھارتی جاسوس کے کنفیشنل سٹیٹمنٹ میڈیا کے سامنے رکھ کر ایک طویل پریس کانفرنس کی جس سے دوبارہ عوام کی توجہ اصل مدعہ کی جانب مبذول کروا دی وگر نہ ثروت اعجاز قادری نے تو اپنی طرف سے بہت بہترین کام کردیا تھا …

افسوس اس بات کا نہیں ہوتا کہ دشمن پاکستان کے خلاف چال چلتا ہے . ارے وہ تو دشمن ہے اس سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ؟
دکھ صرف اس بات کا ہے کہ پندرہ سال سے جنگ کا حصہ رہنے اور اپنے قیام کے بعد سے ہی پراکسی وار کا شکار رہنے والے ملک کی عوام ابھی تک شعور کی اس منزل کو نہیں پہنچ سکی جس میں وہ اپنے ملک و دین کا بھلا سوچ سکے ، بس ذرا سی کسی نے مسلکی تیلی کیا سلگائی اور سب نے آنکھ کان اور دماغ بند کر کے صرف زبان چلانا شروع کردی ..

ہوش کرو . کچھ تو ہوش کرو … !!

ملک جہانگیر اقبال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo