شاہد آفریدی اور پاکستانی قوم کا پیار

بے ساختہ : ڈاکٹر کاشف رفیق

گزشتہ دنوں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی ٹوینٹی میں شرکت کرنے کے لیے بھارت پہنچی تو کپتان شاہد آفریدی نے یہ بیان دے دیا کہ انھیں پاکستان سے زیادہ بھارت میں پیار ملا ہے۔ان کے اس بیان پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا۔ بعض لوگوں نے تو شاہد آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ جبکہ شاہد آفریدی کے دیوانے اس موقع پر بھی اُن کی حمایت میں بولتے ہوئے دکھائی دیے۔ٹیم کا کپتان ہونے کے ناتے اور اپنے مداحوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس قسم کا بیان دینے سے پہلے شاہد آفریدی کو تھوڑا سا سوچنا چاہیے تھا۔یہ پاکستانی قوم کا ہی پیار تھا کہ جس کی بدولت شاہد آفریدی جیسا اوسط درجے کاکھلاڑی ۲۰سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے میں کامیاب ہوا۔ ورنہ کسی اور ملک کی ٹیم میں شاہد آفریدی جیسے کھلاڑی کا کیرئیر ۶ ماہ سے زاہد جاری رہنا ممکن نہیںتھا کیونکہ دیگر ملکوں میں عوامی امنگوں کی بجائے میرٹ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شاہد آفریدی نے جب ۱۹۹۶ میں سری لنکا کے خلاف ۳۷ گیندوں پر ون ڈے انٹرنیشنل کی تیز ترین سنچری اسکور کی تو وہ راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ گئے اور پاکستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔شاہد آفریدی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ سٹیڈیم کا رخ کرتے ۔ اور ان کے آئوٹ ہوتے ہی زیادہ تر تماشائی میچ کے اختتام سے قبل ہی واپس چلے جاتے۔اگرچہ آفریدی نے زیادہ تر اپنے مداحوں کو مایوس ہی کیا مگر پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کا پیار کبھی کم نہیں ہوا اور اسی وجہ سے خراب کارکردگی کے باوجود سلیکٹرز انھیں ڈراپ کرنے سے گریز کرتے رہے اور یوں وہ اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود بھی اتنے سال کھیلنے میں کامیاب ہو گئے۔حالانکہ شاہد آفریدی کا نام بے شمار تنازعات میں سامنے آیا اور ۲۹ بار ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر انھیں سزا بھی دی گئی مگر پھر بھی وہ پاکستانی قوم کے لیے ہیرو ہی رہے۔ پچ خراب کرنے ،بال کو دانتوں سے چبانے،کوچ یا ساتھی کھلاڑیوں سے لڑائی جھگڑے یا ٹیم کی اندرونی خبریں میڈیا کو لیک کرنے کا معاملہ ہو پاکستانی قوم نے آفریدی کی غلطیوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا ۔ شاہد آفریدی کو میڈیا کی بھی زبردست سپورٹ حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ خاص کر بچوں اور خواتین میں انھیں بہت مقبولیت حاصل ہے یہاں تک کہ بعض مداح انھیں محمد یوسف اور یونس خان سے بھی اچھا بیٹسمین سمجھتے ہیں۔شاہد آفریدی کو یوں تو آل رائونڈر تصور کیا جاتا ہے تاہم کرکٹ ماہرین انھیں ریلو کٹا قرار دیتے ہیں۔ ٹیم میں ان کی شمولیت سے ٹیم کا کمبی نیشن خراب ہو جاتا ہے کیوں کہ نہ تو وہ سپیشلسٹ بائولر ہیں اور نہ سپیشلسٹ بیٹسمین۔ حالیہ ورلڈ ٹی ٹوینٹی کے دوران میں جب بھارت کے خلاف میچ میں آفریدی نے بیٹنگ آرڈر میں خود کو نمبر ۳ پر پروموٹ کیا اور ۱۴ گیندوں پر صرف ۸ رنز بنا سکے اور کپتانی میں بھی غلط فیصلے کیے تو پاکستانی قوم کچھ وقت کے لیے ان سے ضرور ناراض ہوگئی اور انھیں بوم بوم آفریدی سے بدل کر ڈک ڈک آفریدی کا خطاب دے ڈالا۔لیکن جب نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور آفریدی نے اپنی ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا تو مداحوں کی ہمدردیاں پھر سے آفریدی کے لیے جاگ اٹھیں۔ انھیں عمر اکل، احمد شہزاد اور شعیب ملک کی سست بیٹنگ میں آفریدی کے خلاف سازش محسوس ہونے لگی۔ حالانکہ احمد شہزاد اور عمر اکمل ، آفریدی کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ گزشتہ برس جب عالمی کپ کے بعد مصباح الحق نے ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم سے کم از کم ایک سال کے لیے باہر رکھنے کی سفارش کی تو شاہد آفریدی کے اصرار اور ضد ہی کی بدولت انھیں ٹیم میں دوبارہ شامل کیا گیا ۔دوسری بات یہ کہ ماضی میں خود شاہد آفریدی کپتان بننے کی خواہش میں ٹیم میں گروپنگ کرواتے رہے ہیں۔ شاہد آفریدی ہی کی قیادت میں سات کھلاڑیوں نے یونس خان کو کپتانی سے ہٹوانے کے لیے قرآن پر حلف لیا تھا۔ بعد میں محمد یوسف کو بھی کپتانی سے ہٹوا کر خود کپتان بن گئے۔ پھر میڈیا کی سپورٹ سے محمد حفیظ کو بھی ٹی ٹوینٹی کی کپتانی سے ہٹوا کر کپتان بننے میں کامیاب ہوئے۔ اور پھر گزشتہ برس ورلڈ کپ سے قبل مصباح الحق کو ہٹوا کر خود کپتان بننے کے لیے بھی سر توڑ کوششیں کیں یہاں تک کے پریس کانفرنس میں بھی اس خواہش کا اظہار کر بیٹھے۔تاہم اس موقع پر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔اب وہ اپنے خلاف کون سی سازشوں کا گلہ کر رہے ہیں ۔ان کی کرکٹ تو دو سال پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ اس کے بعد وہ جتنا بھی کھیلے وہ صرف عوام کی ڈیمانڈ اور میڈیا کی سپورٹ کی وجہ سے ممکن ہوا۔اشتہار ساز کمپنیاں بھی نہیں چاہتیں کہ وہ ابھی ریٹائرڈ ہوں کیوں کہ وہ ایک اچھے ماڈل ضرور ہیں۔اس وقت بھی پاکستانی قوم شاہد آفریدی کی مکمل سپورٹ کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ آفریدی ابھی مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیلیں ۔ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف اگر پاکستان میچ ہار گیا تو یہ میچ شاہد آفریدی کے کیرئیر کا آخری میچ ہو گا اور وہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے۔ ایک سال قبل انھوں نے اعلان کیا تھا کے وہ اس ٹی ٹوینٹی ٹورنامنٹ کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم آسٹریلیا کے خلاف میچ کے اختتام پر انھوں نے یہ کہا کہ ابھی انھوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ اس بارے میں کچھ دن بعد بتائیں گے کہ وہ مزید کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔اُن کا مزید کا کہنا تھا کہ کپتانی کرناخاصا مشکل کام ہے تاہم وہ بطور کھلاڑی ابھی مزید کھیل سکتے ہیں۔ یہ شاید پاکستانی عوام کی اُن سے محبت ہی ہے جس کے بھروسے پر انھیں اپنا انٹنرنیشنل کیرئیر جاری رہنے کی امید ہے۔حالانکہ ماہرین کے خیال میں آفریدی کی ریٹائرمنٹ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھی خبر ثابت ہو گی۔ ان تمام حقائق کے باوجود بھی پاکستانی قوم میں شاہد آفریدی کی حمایت کو دیکھ کر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ پیار اندھا ہوتا ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo