سو لفظوں کی پانچ کہانیاں : سید انور محمود

سو لفظوں کی کہانی نمبر 1 ۔۔۔۔۔پیسے۔۔۔۔۔۔

میری بیوی جو ڈاکٹر ہے

کل روتے ہوئی بولی مجھے اس ملک سے لے چلیں۔کیا ہوا آپ تو ملک سے باہر جانا نہیں چاہتیں تھیں۔کچھ دن سے ایک غریب آدمی اپنے بیمار بچے کو علاج کےلیے لارہا تھا۔ آج اسکے بچے کا ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ میں نے اس سے کہا تم ٹھیرو، میں ایمبولینس کا بندوبست کرتی ہوں۔ وہ بولا نہیں ڈاکٹر صاحب ہم بچے کو اپنے کندھے سے لگاکر بس میں لے جاینگے۔ کسی کو کیا پتہ چلے گا بچہ زندہ ہے یامرچکا ہے۔ سرجانی ٹاون بہت دور ہے اور ہمارئے پاس ایمبولینس کے پیسے نہیں

سو لفظوں کی کہانی نمبر 2 ۔۔۔یہ زندہ رہے گا۔۔۔

تھر کے ہسپتال میں ایک ہفتہ بعد ڈاکٹر راونڈ پر آیا تھا۔ ہر بچے کے ماں باپ ہاتھ باندھے کھڑئے تھے۔ ڈاکٹر نرسوں کی بنائی ہوئی رپورٹ دیکھتا پھربچے کو دیکھتا۔ اس کے بعد بچے کےباپ سے بچے کا نام پوچھتا، ایک پرچے پر دوا لکھ دیتا جو بازار سے لینی ہوتی۔ ڈاکٹر آخری بچے کے پاس پہنچ گیا۔ بچے کے باپ سے بچے کا نام پوچھا۔ ابھی رکھا نہیں بچے کے باپ نے جواب دیا، تو پھر کب رکھوگے؟جب یہ یقین ہوجائے گا کہ میرئے دو بچوں کے برعکس بھوک اور پیاس کے باوجود یہ زندہ رہے گا۔

سو لفظوں کی کہانی نمبر 3 ۔۔۔یہ ملاوٹ۔۔۔

میرا ایک دوست بتارہا تھا کہ لاہور میں میرا ایک ہوٹل اور ایک بیکری ہے۔ کچھ دن پہلے تک میرئے کاروبار میں خوب ترقی ہورہی تھی۔ میری اماں میرا فوٹو ساتھ لیے لڑکی تلاش کررہی تھیں۔ انہیں ایک لڑکی پسند آگئی۔ اماں نے لڑکی کا فوٹو دکھایا، فوٹو میں اس کے ساتھ اسکی سہیلی بھی تھی۔ اماں نے پوچھا اس سے شادی کروگے۔ میرا جواب تھا کبھی نہیں اماں کبھی نہیں، اماں کو کیا بتاتا کہ اس فوٹو میں موجود لڑکی کی سہیلی عائشہ ممتاز نے دس دن پہلے ملاوٹ کی وجہ سے میرے ہوٹل اور بیکری کو سیل کیا تھا۔

سو لفظوں کی کہانی نمبر 4 ۔۔۔شعور۔۔۔

آج عدالت میں خلاف معمول بہت رش ہے۔ پتہ لگا ایک بہت بڑئے ملزم کی حاضری ہے۔ عدالت کے پیشکار سے پوچھا ملزم پر الزام کیا ہے۔ ملزم لوگوں کوشعور کے نشہ کا عادی بنارہا ہے، حکومت نے ملزم پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ ملزم لوگوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ اورلکھنے والوں کو اکساتا ہے کہسو لفظوں میں پوری بات کہہ دو تاکہ زیادہ لوگ زیادہ باشعور ہوسکیں۔ کافی لوگ اس پر عمل کررہے ہیں۔ اچانک عدالتی ہرکارے نے آواز لگائی سو لفظوں کی کہانی کے خالق ملزم مبشر علی زیدی حاضر ہو۔

سو لفظوں کی کہانی نمبر 5 ۔۔۔مفاد پرستی۔۔۔

بھٹو صاحب کی حکومت تھی، مفاد پرستی عام تھی۔ ایک صاحب نے اخبار کے ایڈیٹر کو ایک پرچہ دیا۔ اور کہا یہ خبر چھپوانی ہے۔ پرچے میں لکھا تھا، تابش دہلوی کو صدمہ، انکی خوشدامن صاحبہ کا انتقال ہوگیا۔ تابش دہلوی کی شاعری کے چار مجموعے شایع ہوچکے ہیں۔ تابش دہلوی اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگے ہیں۔ ایڈیٹر نے کہا جناب اس میں تو تین خبریں ہیں، پوچھا فائدہ کس میں ہے؟ ایڈیٹر نے کہا۔ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والی خبر میں۔ تابش دہلوی جھٹ سے بولے

تو پھر وہ ہی چھاپ دیں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo