ایک بیٹی کی ڈائری سے

زندگی کبھی کبھی انسان کو عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے۔وہ لال جوڑے میں ملبوس بنی سنوری کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ ہر چیز سے بیگانہ وه قلم اٹھائے لکھتی چلی جارہی تھی۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اس کے لفظوں کو کسی نے زبان دے دی ہو۔ میں آج ایک عجیب مشکل میں ہوں۔ کیا یہ خوشی کا دن ہے؟ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔اس کی آنکھیں اسکے دل میں اٹھتے طوفانوں کا پتہ دے رہی تھیں۔سنا ہے یہ دن ہر لڑکی  کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہوتا ہے تو پھر میں خوش کیوں نہیں۔غم کا ایک قطرہ اس کی آنکھ سے امڈ کر اس کے چہرے پہ رقص کرنے لگا۔ اس کے سرخ گال مزید سرخ ہو گئے تھے بابا نے تو  ہمیشہ مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھا مگر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ان کی جان نے ان کی جان ہی نکال دی۔اس نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو اپنی لرزتی انگلیوں سے صاف کیا۔مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب عاقل کے والدین میرے لیے رشتہ لائے تھے۔ امی بابا کتنے خوش تھے نا۔ بابا تو تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے دنیا کی ساری خوبیاں اسی میں ہوں۔ وہ ہر لحاظ سے بہت اچھا تھا۔ اپنے نام کی طرح عقلمند سمجھدار اور سب سے بڑھ کر سب کا احترام اور خیال کرنے والا۔ ھم درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے تو اس نے اور اس کے والدین نے بھی ہم سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ کبھی کبھی تو میں اپنی قسمت پر رکش کرنے لگتی تھی۔ وہ سب اتنے اچھے تھے کہ بابا نے زیادہ چھان بین کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کاش! کر لیتے۔وہ ٹھہر گئ۔ آنسو تھے کہ تھم ہی نہیں رہے تھے۔ اس نے ہاتھ میں تھاما قلم نہ روکا اور لکھتی رہی۔پھر ایک دن زندگی بالکل پلٹ گئ۔ شادی میں تین دن باقی تھے۔ گھر میں تقریبات کا آغاز ہو چکا تھا۔ میں مایو کے پیلے جوڑے میں ملبوس سیڑھیاں اتر کر نیچے والے کمرے میں جا رہی تھی جب امی اور بابا کی دکھ بھری آواز سن کر میں ٹھٹھک گئ۔ اب تو میں کچھ نہیں کر سکتا سواے اس کے کہ میں انکی شرط پوری کردوں۔ گھر میں مہمان بھرے پڑے ہیں یہ شادی ٹوٹ گئ تو بہت بدنامی ہو گی۔اب اور کوئ چارہ نہیںبابا کے یہ الفاظ سن کے تو جیسے میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئ تھی۔ میں کچھ سوچے سمجھے بغیر کمرے میں گھس گئ۔ بابا کے چہرے کا رنگ اور امی کی آنکھوں کے آنسوؤں نے میرے سارے سوالوں کے جواب دے دیے تھے۔ آنے والے تین دنوں میں نے بابا کو یا تو گھر میں موجود ہی نہ پایا اور اگر دیکھا بھی تو یا تو وہ کسی دوست سے ادھار مانگ رہے تھے یا پیسوں کا حساب کررہے تھے۔ آج خدا خدا کر کے وہ دن بھی آگیا, جس دن سے چند دن پہلے تک, میں نے اپنی زندگی کی ساری خوشیاں وابستہ کر رکھی تھیں۔ گھر چھوڑنے کا دکھ تو ہے ہی مگر اپنے گھر والوں کو اس قدر تکلیف دے کر چھوڑنے کا دکھ میری جان نکال رہا ہے۔ وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ وہ لکھ رہی تھی کہ چند لڑکیوں نے بارات کے آجانے کی خبر دی اور اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔ جاتے جاتے وہ اپنی ڈائری کھلی چھوڑ گئ تھی۔ اس نے لکھا تھامیں سوچتی ہوں کہ  نا چاہتے ہوئے بھی میرے والدین میری ہی وجہ سے دکھ اور تکلیف کا شکار ہو گئے۔ اب ان دکھوں کی قبر پر میں اپنی خوشیوں کا محل کیسے تعمیر کر سکتی ہوں۔؟

نمرہ فرقان

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo