بلوچ دوسرا حصہ اس لیے یہاں سوال اٹھا ہے کہ بلوچ …

[ad_1] بلوچ دوسرا حصہ
اس لیے یہاں سوال اٹھا ہے کہ بلوچ اگر سامی نسل نہیں ہیں اور آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں توکلمہ بلوچ کا استخراج کس طرح ہوا ہے۔اس کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔
افغانوں کے شجرہ نسب میں ایک قبیلہ بروچ ہے۔ جسے شیرانی کا بھائی بتایا جاتا ہے یہ یقینا شیرانی کے اخلاف ہیں اور شار بعد میں شیروانی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ رواٹی کا کہنا ہے کہ شار غزوں یعنی ترکوں کا قبیلہ تھا اور یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح بروچ بھی ترک النسل ہوئے۔ اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ یہ غز جو غزر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ برصغیر میں داخل ہوئے تو گجر کہلائے۔ انہوں نے ایک ریاست بروچ نام کی قائم کی۔ انہوں نے دو سو سال تک عربوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ یہ ریاست گجرات کے ساحلی علاقہ میں تھی اور اس کا داریاست کا نام بھی بروچ تھا۔ اس طرح بروچ نام کا ہندوؤں کا ایک قبیلہ اب بھی بلوچستان میں آباد ہے۔
قدیم ایرانی زبانوں اوستا، قدیم فارسی اور پہلوی میں ’ر‘ کی نرم آواز ’ل‘ کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ جب عربوں کا نفوز ہوا تو بہت سے ’ر‘ ’ل‘ میں بدل گئے۔ اس طرح ہم اگر بروچ کے ’ر‘ کی جگہ ’ل‘ لگائیں تو یہ کلمہ بلوچ بن جاتا ہے۔ مگر عربوں کے آمد کی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ زمانے میں اور اس سے پہلے اس کلمہ بروچ کی دوسرے زرائع سے تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔
عربوں نے اپنے ابتدائی زمانے میں بلوچوں کا ذکر بلوث، بلوص، بلوش اور بلوس کے نام سے ذکر کیا ہے۔ عربوں نے حصرت عمرؓ کے زمانے میں کرمان فتح کیا تو کرمان کے قریبی پہاڑوں میں بلوچ آباد تھے۔ دسویں صدی میں ابن حوقل لکھتا ہے کہ کوچ و بلوچ ایران کی سرزمین پر آباد ہیں، جو ہند و سندھ کی سرزمین ہے۔
بر دور حاضر کی فارسی میں بلند و اونچے کو کہتے ہیں۔ جب کہ یہ کلمہ اوستا میں ’بروز‘ آیا ہے اور بلوچی میں یہ کلہ ’برُز‘ ہے، جو اوستائی کلمہ کا قریبی تلفظ ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کلمہ بلوچ کی اصل بروز ہے اور بعد میں بروش یا بروچ میں بدل گیا۔ جس کے معنی بلندی یا پہاڑوں پر رہنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ بروش بعد میں عربوں کے نفوز کے زمانے میں رفتہ رفتہ ’ر‘ کی جگہ ’ل‘ استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ عربی میں ’چ‘ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو مختلف تلفظ میں بلوث، بلوص، بلوش اور بلوس کی صورت میں ادا کیا ہے۔ فردوسی نے اسی کی پیروی کرتے ہوئے اس کلمہ بلوچ کو ’چ‘ کے بجائے ’ش‘ سے بلوش کی شکل میں ادا کیا ہے۔ اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کلمہ اس وقت مختلف لہجے میں بولا جاتا تھا۔ سندھی میں اب بھی بلوچ لکھا جاتا ہے مگر پڑھا بروچ جاتا ہے۔ اس طرح اس کے معنی پہاڑی باشندے کے ہیں۔
بلوچ چونکہ پہاڑوں پر آباد تھے اس لیے انہیں یہ نام دیا گیا تھا۔ یہ پہاڑوں پر آباد ہونے والے قبائل کسی ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ یہ مختلف نسلوں جن میں آریائی سھتی اور ترک النسل تھے۔ یہ وہ قبائل تھے جو مختلف قوموں کے حملے بڑی وجہ پہاڑوں پر آباد ہوگئے تھے۔ وہاں آباد ہونے والے قبائل کے مفادات مشترک تھے اس لیے ہم ان کے سابقہ اور موجودہ انضمام کو مدنظر رکھیں تو ہم پر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ یہ رسم ان میں یہیں وجود میں آئی ہے۔ کیوں کے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنی افرادی قوت کو بڑھانا ان کی مجبوری تھی۔ کیوں کے اس علاقہ میں صرف طاقت کا قانون چلتا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف قوموں نے اپنا مطیع بنانے کی کوشش کیں۔ ان پہاڑوں پر رہنے والی قوموں کی نسلیں الگ اگ تھیں، مگر ان کے مفادات ایک تھے۔ اس لیے وہ انظمام پر مجبور ہوگئے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ بعد کے دور میں ایک قوم کی صورت میں متحد ہوگئے۔
بلوچوں کی روایات کے مطابق ان کے جد امجد میر جلال خان کے چار فرزند تھے۔ رند اور لاشار سپاہی اور ہوت اور کورائی غلہ بان، اور ایک لڑکی جتو تھی۔ یہ روایات حقیقت سے کتنی دور ہو مگر ایک بات صاف ظاہر ہے کہ بلوچ مختلف قوموں کا مجموعہ ہے۔ جس میں حالات کے پیش نظر جلدہان، رند، لاشاری، ہوت، کورائی اور جتو مختلف نسلی گروہ تھے اور اس میں رندوں اور لاشاریوں کو لڑاکا ہونے کی وجہ سے کلیدی حثیت حاصل ہوگئی تھی۔ جب یہ ایک قومیت کے تحت متحدہ ہوئے تو انہیں یک نسلی گروہ تصور کرتے ہوئے مندرجہ بالا روایات کی تشکیل خود بخود ہوگئی۔ کیوں کہ مشترک مفادات کے تحت انظام ہونے کی وجہ سے یہ دکھ سکھ میں متحد ہوگئے، ان کی زمینیں مشترک ہوگئیں اور رشتہ داریاں قائم ہوگئیں۔ اس طرح وقت کے ساتھ یک نسلی کا مفروضہ جنم لیا اور اس نے بالاالذکر روایات کی شکل اختیار کرلی۔
میر جلال جلال خان، رند لاشار، کورائی، ہوت اور مائی جتو کی حقیقت پر آئندہ پوسٹ میں بات کروں گا۔
معین انصاری
بشکریہ

بلوچ دوسرا حصہ اس لیے یہاں سوال اٹھا ہے کہ بلوچ اگر سامی نسل نہیں ہیں اور آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں توکلمہ بلوچ کا …

Posted by Abdul Moin Ansari on Monday, December 11, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo