اسمعیلیہ پہلا حصہ امام جعفر صادق کے بڑے لڑکے اسم…

[ad_1] اسمعیلیہ پہلا حصہ
امام جعفر صادق کے بڑے لڑکے اسمعیل سے یہ فرقہ منسوب ہے ان کے مطابق اسمعیل کی وفات ۳۳۱ھ میں وفات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے محمد پر نص کیا تھا اور امام محمد کے بعد تین ائمہ عبداللہ، احمد اور حسین ہوئے۔ یہ تینوں مستورین کہلاتے تھے۔ یعنی یہ بہت پوشیدہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے خاص خاص نقیبوں کے علاوہ ان کا پتہ کسی کو نہیں معلوم ہوتا تھا۔ ان کے ناموں میں بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔ حسین نے عسکر مکرم میں ۸۶۲ھ میں وفات پائی۔ اس نے اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے عبداللہ مہدی کو نص کیا۔ جو مہدی نام سے ۷۹۲ھ مغرب (افریقہ) میں ظاہر ہوا۔ بالاالذکر ہوا ہے کہ ان کے ناموں میں بہت اختلاف ہے اور مختلف تاریخوں میں اس کی تفصیل مختلف درج ہے۔
اس حکمران خاندان جس کی ابتدا 297ھ میں افریقہ میں ہوئی تھی اور خاتمہ 567ھ میں مصر میں ہوا تھا۔ یہ شیعہ اور فاطمی نسب ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور اسی نسبت سے خلفائے فاطمیون یا خلفائے عبیدیون بھی کہاتے تھے۔ جن کے نسب پر مورخین نے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ یہ مذہبی حکومت تھی اور یہ شیعوں کا فرقہ ہے۔ تاریخ میں ان کا ذکر اسمعیلی کے نام سے آیا ہے اور ان کا مشہور فرقہ قرامطہ گزرا ہے۔ آج بھی ان کی باقیات نزار (اسمعیلی) نزاری (بوہری) اور دروزیہ کے نام سے باقی ہیں۔
ان شجروں میں اختلاف یہ ہے کہ یہ ائمہ اپنے کو چھپایا کرتے تھے، یہاں تک بقول ابن خلدون محمد بن اسمعیل کا نام محمد مکتوم پڑ گیا۔ ائمہ مستورین کے داعی بھی اپنا نام بتانے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔ اکثر مورخین نے مہدی کو عبداللہ بن میمون قدح کی طرف منسوب کیا ہے۔ اسمعیلی روایت کے مطابق اسمعیل کے انتقال کے بعد جب محمد ان کے جانشین ہوئے تو ان کو جعفر صادق نے چھپا دیا اور عوام میں موسیٰ کاظم کو ان کا حجاب یا مستودع (یعنی ظاہری نائب) بنادیا۔ چونکہ میمون دعوت باطنہ کا صدر تھا، لہذا عام لوگوں نے سمجھ لیا کہ مہدی میمون کی اولاد میں سے ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اس طرح دو سلسلے قائم ہوگئے۔ ایک سلسلہ اماموں کا دوسرا کفیلوں کا ہے۔ اسمعلیوں کی روایت کے مطابق امام اور کفیل کی ترتیب اس طرح ہے۔
امام۔۔۔ محمد بن اسمعیل بن صادق۔ عبداللہ۔ احمد۔ حسین۔ المہدی
کفیل۔۔۔۔ میمون القدع۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ۔ احمد۔ حسین۔ المہدی
فاطمین حضرت فاطمہ کی نسل سے ہیں کہ نہیں اس بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ صرف ان خلدون اور مقریزی اس بارے میں متفق ہیں کہ یہ فاطمی نسب ہیں۔ خود فاطمین یا ان کے داعیوں نے اثبات نسب میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ معتدد دفعہ ظہور کے زمانے میں نسب کا سوال اٹھایا گیا، لیکن کسی امام نے اس کا جواب نہیں دیا۔ معز سے مصر میں کسی نہ یہ سوال کیا کہ آپ کا نسب کیا ہے۔ اس جواب میں معز نے ایک جلسے میں تلوار اپنی میان سے نکال کر کہا کہ یہ میرا نسب ہے اور پھر سونا حاصرینپر سونا اچھالتے ہوئے کہا کہ یہ میرا حسب۔ اس زمانے میں جو خطبہ پڑھا جاتا تھا اس میں بھی ائمہ مستورین کی جگہ ممتخنین یا مستضعفین جیسے الفاظ پڑھا کرتے تھے۔ زمانہ ظہور کے داعیوں نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ جب بھی ان کے نسب کا سوال اٹھایا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ ان کی مشہور دعا ’دعائم اسلام‘ جو ہر نماز میں پڑھی جاتی ہے اس میں بھی کسی امام مستور کا ذکر نہیں پایا جاتا ہے
علویوں نے سرٹور کوششیں کیں، لیکن ان کی تحریکوں کا عباسیوں نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اسعیلیوں کی تحریک جو نہایت خفیہ تھی مگر انہٰں کامیابی نہیں ہوئی۔ ان کے اماموں کو مستور ہونا پرا۔ یہی وجہ انہوں نے اس کے لیے مغرب (افریقہ) کا انتخاب کیا اور وہاں انہوں نے غیر متوقہ کامیابی حاصل کی۔ بعد جب منصور کے دور میں مصر فتح کی تو خلافت وہاں منتقل کردی گئی۔ جہاں آخری خلیفہ عاصد کی وفات کے بعد صلاح الدین جس کو صلیبی حملوں کے پیش نظر بلوایا گیا تھا نے فاطمی خلافت کے خاتمہ کا اعلان نور الدین زنگی کے ایما پر کر دیا۔
مہدی نے مذہبی آزادی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا مگر فاطمین لیکن لوگوں کو شیعی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور قاضی بھی شیعی مذہب کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ تراویح کی نماز پر، صواۃ الضحیٰ، اذان میں ’اصلوٰۃ خیر من النوم‘ کے بجائے ’حی علی خیر العمل‘ کی پابندی، تراویح پر پابندی اور رمضان کی روزوں کے لیے رویت کے بجائے حساب سے رکھنے پر مجبور کیا جانا تھا۔ اس طرح لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ اپنے دروازوں پر بزرگوں کو ملامت لکھیں۔ پھر بھی عہدوں اور منصبوں کے لالچ میں بہت سے سنی اور اہل کتاب نے شیعی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ اس نسب فاطمین کا اہل کتاب کے ساتھ روادری کا رہا اور انہیں بہت سے اعلی عہدوں پر فائز کیا گیا۔ یہی وجہ فاطمین کی حکومت کے خاتمہ کے بعد جلد ہی مصر سے اسمعیلی مذہب جلد ہی ختم ہوگیا اور فاطمین کے حق میں کوئی قابل ذکر آواز بلند نہیں ہوئی۔
فہرات خلفائے فاطمین
ابو محمد عبداللہ المہدی باللہ 297 ھ تا 322 ھ
ابو القاسم محمد القائم بامراللہ 322 ھ تا 334 ھ
ابو طاہر اسمعیل المنصور باللہ 334 ھ تا 341 ھ
ابو تمیم معد المعز الدین اللہ 341 ھ تا 365 ھ
ابو منصور نزار العزیز باللہ 365 ھ تا 386 ھ
ابو الحسین الحاکم بامراللہ 386 ھ تا 411 ھ
ابو معد علی الظاہر) لا عزاز دین اللہ (411 ھ تا 427 ھ
ابوتمیم معد المستنصرباللہ 427 ھ تا 487 ھ
ابو القاسم احمد المستعلی با اللہ 487 ھ تا 495ھ
ابو علی منصور الامر باحکام اللہ 495 ھ تا 524 ھ
ابوالمیمون عبدالمجید الحافظ الدین 524 ھ تا 544 ھ
ابو منصور اسماعیل الظافر لاعداء اللہ 544 ھ تا 549 ھ
ابوقاسم عیسیٰ الفائز بامرللہ 549 ھ تا 555 ھ
ابو محمد عبداللہ العاصد الدین اللہ 555 ھ تا 567 ھ
ترتیب معین انصاری
بشکریہ

اسمعیلیہ پہلا حصہ امام جعفر صادق کے بڑے لڑکے اسمعیل سے یہ فرقہ منسوب ہے ان کے مطابق اسمعیل کی وفات ۳۳۱ھ میں وفات ہوئی …

Posted by Abdul Moin Ansari on Thursday, December 14, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo