اسماعیلی دوسرا حصہ اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو …

[ad_1] اسماعیلی دوسرا حصہ
اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو فلسفہ سے متحد کرنے کی کوشش کی ان میں متعزلہ اور اسمعیلہ (فاطمین) کو قدامت کا شرف حاصل ہے۔ لیکن اسمعیلیوں (فاطمین) کا دوسرے شیعی فرقوں کی طرح یہ تھا کہ شریعت کے تمام روحانی علوم کا منبع اور سرچشمہ حضرت علیؓ کی ذات ہے ہیں اور آپ کے بعد ان علوم کی وراثت آپ کی اولاد کو ملی۔ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے امام جعفر صادق تک پہنچے۔ اسمعیلیوں (فاطمین) کی روایت کے مطابق امام جعفر صادق نے اس کی اشاعت میں بڑا اہتمام کیا۔ فاطمین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اپنا رسول بنایا اور انہیں حکم دیا کہ علیؓ کو اپنا خلیفہ بنائیں اور حضرت علیؓ نے اللہ کے حکم سے خلافت کی امانت ہماری طرف منتقل کی۔ لہذا ہم اللہ کے خلیفہ ہیں اور ہم دنیا میں مذہبی و سیاسی حکمران ہیں۔ اس امام اپنی رائے سے نہیں بلکہ خدا کے حکم اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں بڑا ہو بلکہ وہ اپنے الہام کے ذریعہ مقرر کرتا ہے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق امامت کا سلسلہ باپ کے بعد بیٹا ہی امام بنتا ہے اور ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے، ورنہ دنیا تباہ ہوجائے گی۔ امام سیاسی اور مذہبی حکومتوں کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کا ہر فیصلہ آخر ہوتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ امام معصوم ہوتا ہے۔ امام اپنی حکمرانی کے لیے ایک انجمن بناتا ہے جسے دعوت کہتے ہیں جس کے بہت سے اراکین ہوتے ہیں۔
اسمعیلیوں (فاطمین) نے اپنی سیاسی عمارت کی بنیاد مذہب پر رکھی تھی۔ جسے وہ دعوت کہتے تھے۔ مہدی سے مستنصر کے زمانے تک ان کی مذہبی سرگرمیں جاری رہیں۔ لیکن مستنصر کے دور میں ہی اس کی قوت گھٹنے لگی۔ مستنصر کی وفات کے بعد خود اسمعیلیوں کے دو فرقے ہوگئے۔ مستعلیوں نے آمر کے قتل کے بعد اپنی دعوت یمن منتقل کردی، نزاریوں نے ’الموت‘ کو اپنا مستقر بنایا۔ دروزی جو حاکم کو خدا مانتے تھے مصر چھوڑ کر لبنان منتقل ہوگئے۔ اس طرح اسمعیلیوں (فاطمین) کی قوت جو ایک مرکز پر تھی منتشر ہوگئی۔ اسمعیلیوں کے دعوت کے اس اصول کے مطابق امامت باپ کے بعد منتقل ہونی چاہیے۔ لیکن آمر کے بعد اس کا چچا ذاد بھائی حافظ امام بن گیا۔ گو مستعلوی کہتے ہیں کہ آمر کے قتل کے بعد اس کا ڈھائی سالہ بیٹا طبیب حقیقی امام جو نزاریوں کے خوف سے چھپادیا گیا۔ اس وجہ سے بھی بہت سے اسمعیلیوں کے خیلات بدل گئے اور اسمعیلیوں کی قوت کو ضعیف پہنچا۔
امام کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی دشمنوں کے خوب سے مستور ہوتا ہے۔ جب وہ مستور ہوتا ہے تو اس کی نیابت داعی کرتے۔ جیسا کہ اس دور میں طیبی امام کے مستور ہونے سے اس کی نیابت سیدنا طاہر کے بیٹے کر رہے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق قیامت کے دن قائم القیامہ ظاہر ہوں گے اور تمام حکومتوں کو ختم کرکے اپنی حکومت قائم کریں گے۔ کیوں کہ زمین کا حقیقی مالک امام ہے اور اس کے علاوہ سب ظالم اور غاسب ہیں۔
ان کے عقیدے کے مطابق ساتویں امام محمد بن اسمعیل بن جعفر صادق ہیں، جو قائم سابع اور یوم القیامہ و البعث ہیں۔ ان کے بعد ظاہری شریت معطل ہوگئی ہے اور باطنی شریعت شروع ہوگئی ہے۔ اب ظاہری اعمال نماز، روزے حج وٖغیرہ کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ اب ممثولات اور ولایت کافی ہے۔ ساتویں امام محمد بن اسمعیل ہی اہل معرفت و عقل کے لیے مبدل شریعت ہے۔ ان کے عقائد کے مزید تفصیل اخوان صفاء میں مل سکتی۔
امام کی نیابت داعی کرتے ہیں۔ جب ان کا امام موجود ہوتا ہے تب امام کا رابطہ داعیوں سے کے ذریعہ ہوتا۔ جب امام مستور ہوتا ہے تو امام داعی امام کی نیابت کرتا ہے۔ وہ اپنے الہام سے اپنا جانشین مقرر کرتا اور امام غائب ہونے کی حالت میں وہ ظاہری عبادت کرتے ہیں۔ جب امام موجود ہوتا ہے تو یہ امام کا اختیار ہے کہ وہ عبادات کا تعین کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی اس کے اختیار میں شامل ہے اپنے لوگوں کے لیے حلال اور حرام کا تعین کرے۔ 
فاطمین اپنے مذہبی اور سیاسی معملات کو بہت چھپاتے تھے۔ اس طرح یہ اپنے چانشینوں کے نام چھپاتے تھے اور ان پر اکثر نص بہت ہی خفیہ کرتے تھے۔ اکثر خلیفہ کی موت کا اعلان کے سال کے بعد کیا جاتا تھا۔ مہدی اور اس کے بعد چند اماموں نے اسمعیلیت کو فروغ دینے کی کوشش کیں، لیکن اس میں ناکام رہے۔ اس لیے صرف سیاسی قوت پر قانع رہے۔ اگرچہ ان کی خاص مجلسوں میں باطنی تعلیم اور مجلسوں کا سلسلہ حاکم کے بعد کچھ عرصہ جاری رہا۔ بربر اور مصری شیعہ حکومت سے راضی تو تھے مگر خود شعیہ بننا نہیں چاہتے تھے اور نہ وہ شیعوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ حلول، ناسخ، آسمانی حق، مورثی حکومت وغیرہ کے عقیدوں ایران جیسی مقبولیت نہیں مل سکی۔ یہی وجہ ہے شیعہ فرقوں کے اکثر بانی ایرانی ہوئے۔ اسمعیلیوں میں بھی چند داعیوں کو چھوڑ کر اکثر داعی ایرانی تھے۔
اسمعیلی مذہب ایک پوشیدہ راز ہے۔ دعوت خود ایک قسم کی فری مسنیری ہے۔ یہ ہر کسی کو اپنی انجمن میں شریک نہیں کرتے تھے اور جسے شریک کرتے تھے اس سے زبر دست عہد و پیمان لیتے تھے۔ باطنی علوم پر لیکچر قیصر خلیفہ کے ایک الگ کمرے میں مخفی طور پر دیئے جاتے تھے۔ اسعیلیوں نے اپنے مذہبی اصولوں کی کبھی کہیں بھی کھلا کھلم تبلغ نہیں کی۔ ان یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانے میں یہ صلاحیت نہیں کہ علم باطن ظاہر ہوسکے۔ قائم القیامۃ ہی کہ عہد میں باطن پورے طور پر آشکار ہوگا۔ اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ اسمعیلیت کبھی عام طور پر پھیلی نہیں اور صرف چند افراد ہی تھے کہ اپنے مذہب سے پوری طرح واقف ہوں۔
شیعوں کے تمام فرقے تاویل کے قائل ہیں۔ ان کے یہاں اس آیت ”لا یعلم تا ویلہ الا اللہ والر سخون فی العلم یقولون آمنا بہ“ میں الا للہ پر وقف کرنا درست نہیں ہے۔ ان کے نذدیک وہ علماء بھی جو علم میں راسخ رہے ہیں، یعنی انبیا، اوصیا اور ائمہ تاویل کرتے ہیں۔ لیکن جس فرقہ نے اس فن کو ترقی دی اور خاص طور پر تمام احکام، عبادت اور قصص انبیا کی تاویلوں کے متعلق کتابیں لکھیں وہ اسمعیلیہ ہیں۔ بعض صوفیا بھی تاویل کے قائل رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام انبیا کی شریعتیں رموز و ممثولات پر مبنی ہیں جو کہ تاویل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ یعنی جو نبی شریعت کوئی نبی وضع کرتا ہے، اس کے احکام میں ایسے رموز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جو اس کا اصل مقصود ہوتا ہے۔ تاویل کا عربی میں معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں۔ تاویل کو شریعت کی حکمت، دین کا راز اور علم روحانی بھی کہتے ہیں۔ جس کی تعلیم کے لیے ہر نبی اپنا ایک وصی مقرر کرتا ہے۔ بنی کا فریضہ ہے کہ وہ لو گوں کو شریعت کے ظاہری احکام بتائے اور وصی کا کام یہ ہے کہ وہ ان کو تاویلوں سے آگاہ کرے۔ اسمعیلی تاویلوں کو چھپاتے تھے۔ مگر یہ تاویلیں زیادہ دیر مخفی نہ رہیں اور آہستہ آہستہ منظر عام پر آگئیں۔ بعض غیر اسمعیلی مورخوں نے مثلاً بغدادی، شہر ستانی اور مقریزی نے اپنی تصنیفات میں بؑض تاویلیں ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے بعض اسمعیلیوں کی مصنفوں کی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان میں داعی ناصر خسرو کی ’وجہ دین‘، تاویل الدعام‘ قاضی نعمان بن محمد، تاویل الزکوٰۃ‘ داعی جعفر بن منصور الیمن اور مجالس المستنصریہ ہیں۔ مگر ان میں سب سے اہم اور مستند کتاب ’اخوان الصفا‘ ہے۔
اسمعیلیوں کا سب سے اہم فرقہ قرامطہ تھے۔ اب ان کے فرقوں میں طیبی، نزاریہ اور دورزی شامل ہیں۔
عبدالمعین انصاری
بشکریہ

اسماعیلی دوسرا حصہ اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو فلسفہ سے متحد کرنے کی کوشش کی ان میں متعزلہ اور اسمعیلہ (فاطمین) کو قد…

Posted by Abdul Moin Ansari on Saturday, December 16, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo