منتخب اشعار ابوالمعانی حضرتِ بیدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین ص…

[ad_1] منتخب اشعار ابوالمعانی حضرتِ بیدل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین صدیوں بعد بیدل کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ سید نعیم حامد علی الحامد نے “بہارِ ایجادی بیدل” کے زیرعنوان کیا ہے۔ نعیم حامد خود بھی اعلیٰ درجہ کے شاعر ہیں لہذا بیدل کے خیالات و احساسات کو گرفت میں لینے وہ کامیاب رہے۔
مشہور اردو نقاد پروفیسر انور مسعود نے کہا ہے کہ : اردو زبان اصلی فارسی متن کے صحیح معنوں کے اظہار کی اہلیت نہیں رکھتی اسی وجہ سے ترجمہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
پروفیسر انور مسعود نے اعتراف کیا کہ نعیم حامد کی طرف سے بیدل کے کلام کا اردو ترجمہ طبع زاد شاعری کی مثال بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس ترجمہ کیلئے نعیم حامد نے 20 برس صرف کئے ہیں۔

ساری تخیلاتی بلندیوں ، مسکراہٹوں اور خیالات کی گہرائیوں کو برقرار رکھتے ہوئے ، اور دونوں زبانوں کے مانوس اور عام الفاظ کو بھی ان کی اصل شکل میں جوں کا توں رکھتے ہوئے مطالب کی پیشکشی کا کارنامہ ایک قابل قدر کام بن گیا ہے۔

چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بےگناہ جب بھی سرِ دار نظر آتے ہیں
ایک نئے دور کے آثار نظر آتے ہیں
سرفرازی کے سب آثار نظر آتے ہیں
اہل حق دار پہ سردار نظر آتے ہیں
کسی صورت میں میرا سر تری ٹھوکر میں کیا ہوگا
یہ ممکن ہے کہ تیرا تاج ہوگا میری ٹھوکر میں

***
لالچی محترم نہیں ہوتا
شرم آتی نہیں بھکاری کو
شوخی بادِ صبا کی کارفرمائی کو دیکھ
اس نے گلشن کا ہر اک تنکا سنہری کر دیا
کوئی بھی مغموم دنیا میں نہیں میری طرح
عمر پنجرے میں کٹی دیکھا نہیں صیاد کو

***
دل بیاد پرتو جلوہ مجسم آگ ہے
سامنے سورج کے آئینہ مجسم آگ ہے


احمد الدین اویسی کے انگریزی مقالے (ترجمہ : رفعت صدیقی) سے انتخاب۔ (بشکریہ روزنامہ منصف ، حیدرآباد دکن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——–
بحرفِ ناملائم زحمتِ دل ہا مَشَو بیدل
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا
بیدل، تلخ الفاظ (ناروا گفتگو) سے دلوں کو تکلیف مت دے، کہ جہاں کہیں بھی کوئی پتھر ہوتا ہے وہ شیشے کا دشمن ہی ہوتا ہے۔
————
بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوھر، در دلِ دریا کراں
میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوھر کی طرح سمندر کے دل میں اپنا ایک (الگ تھلگ) گوشہ بنا لیا ہے۔
————
چنیں کُشتۂ حسرتِ کیستَم من؟
کہ چوں آتش از سوختن زیستَم من
میں کس کی حسرت کا کشتہ ہوں کہ آتش کی طرح جلنے ہی سے میری زیست ہے۔
اگر فانیَم چیست ایں شورِ ھستی؟
و گر باقیَم از چہ فانیستَم من؟
اگر میں فانی ہوں تو پھر یہ شور ہستی کیا ہے اور اگر باقی ہوں تو پھر میرا فانی ہونا کیا ہے۔
نہ شادم، نہ محزوں، نہ خاکم، نہ گردوں
نہ لفظَم، نہ مضموں، چہ معنیستم من؟
نہ شاد ہوں نہ محزوں ہوں، نہ خاک ہوں نہ گردوں ہوں، نہ لفظ ہوں، نہ مضموں ہوں، (تو پھر) میرے معانی کیا ہیں میری ہونے کا کیا مطلب ہے۔
————
رباعی
بیدل رقمِ خفی جلی می خواھی
اسرارِ نبی و رمزِ ولی می خواھی
خلق آئنہ است، نورِ احمد دَریاب
حق فہم، اگر فہمِ علی می خواھی
بیدل، تُو پنہاں اور ظاہر راز (جاننا) چاہتا ہے، نبی (ص) کے اسرار اور ولی (ع) کی رمزیں جاننا چاہتا ہے۔ (تو پھر) خلق آئینہ ہے، احمد (ص) کا نور اس میں دیکھ، اور حق کو پہچان اگر علی (ع) کو پہچاننا چاہتا ہے۔
————
حاصِلَم زیں مزرعِ بے بَر نمی دانم چہ شُد
خاک بُودَم، خُوں شُدَم، دیگر نمی دانم چہ شُد
اس بے ثمر کھیتی (دنیا) سے نہیں جانتا مجھے کیا حاصل ہوا، خاک تھا، خوں ہو گیا اور اسکے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہوا۔
دی مَن و صُوفی بہ درسِ معرفت پرداختیم
از رقم گم کرد و مَن دفتر نمی دانم چہ شُد
کل (روزِ ازل؟) میں اور صوفی معرفت کا سبق لے رہے تھے، اُس نے لکھا ہوا گم کر دیا اور میں نہیں جانتا کہ وہ درس (تحاریر، دفتر) کیا تھا۔
————
دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد
(ہمارا) دل، کوئے وفا کی خاک ہوگیا، کیا خوب ہوا، اور سر تیری راہ میں تیری تلوار پر فدا ہوگیا، کیا خوب ہوا۔
————
با ہر کمال اندَکے آشفتگی خوش است
ہر چند عقلِ کل شدۂ بے جنوں مباش
ہر کمال کے ساتھ ساتھ تھوڑی آشفتگی (عشق، دیوانگی) بھی اچھی (ضروری) ہے، ہر چند کہ تُو عقلِ کُل ہی ہو جائے، جنون کے بغیر مت رہ۔
————
عالم بہ وجودِ من و تو موجود است
گر موج و حباب نیست، دریا ھم نیست
یہ عالم میرے اور تیرے وجود کی وجہ سے موجود ہے، اگر موج اور بلبلے نہ ہوں تو دریا بھی نہیں ہے۔
————
بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفاں باش
حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔
————
اگر عشقِ بُتاں کفر است بیدل
کسے جُز کافر ایمانی ندارَد
بیدل اگر عشقِ بتاں کفر ہے تو کافر کے سوا کوئی ایمان نہیں رکھتا۔
————
چہ لازم با خِرَد ھم خانہ بُودَن
دو روزے می تواں دیوانہ بُودَن
کیا ضروری ہے کہ ہر وقت عقل کے ساتھ ہی رہا جائے (عقل کی بات ہی سنی جائے)، دو روز دیوانہ بن کر بھی رہنا چاہیئے۔
اور اسی شعر کا پر تو اقبال کے اس شعر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
————


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo