معراج فیض آبادی کی وفات Nov 30, 2013 30 نومبر 201…

[ad_1] معراج فیض آبادی کی وفات
Nov 30, 2013

30 نومبر 2013ء کو اردو کے ایک معروف شاعر معراج فیض آبادی نے وفات پائی۔
معراج فیض آبادی ہندوستان کی جان ہی نہیں بلکہ یہ جانِ ادب ، اردو دنیا کا دھڑکتا ہوا دل ہیں۔ یہ ادب کا وہ چاند ہیں جو روزِ اول سے ہی مہِ کامل ہیں ، ایک ایسا مہِ کامل جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی ، جو کبھی گہن کا شکار نہیں ہوتا۔

معراج فیض آبادی نے اسٹیج کی کامیابی کے لیے خود کو ہلکا، سستایا بازاری نہیں کیا۔ بلکہ سامعین کو اپنی سطح سے اوپر اٹھنے پر مجبور کیا۔ ضمیر بیدار ہواتا ہے، تجربے اور مشاہدے کی توفیق ہوتی ہے تو حقیقت کی آنچ سے کاغذ کا سینہ جل اٹھتا ہے اور اس طرح کی شاعری وجود پاتی ہے ؂
اب اُس قلم سے قصیدے لکھائے جاتے ہیں
وہی قلم جو کبھی انقلاب لکھتا تھا
تیور:
تخت شاہی کی ہوس کیایہ گدائی ہے بہت
ہم فقیروں کے لیے ایک چٹائی ہے بہت
ہو مبارک تمہیں دنیا کے خزانے لوگو!
ہم کو محنت کی یہ تھوڑی سی کمائی ہے بہت
تاریخ:
سربرہنہ ریگزاروں پر چلائے جائیں گے
ایسا لگتا ہے کہ ہم پھر آزمائے جائیں گے
دعائیہ لہجہ:
مرے کریم مجھے بھی قلندری دے دے
زمانہ میری ضرورت پہ طنز کرتا ہے

سرفروشوں کی قدر اور سربلندی کی خواہش یہ شعر کہلواتی ہے ؂

ہمارے عہد میں قدریں بدل گئیں معراجؔ
عظیم ہیں وہی چہرے جو سراٹھا کے چلیں
شاعر کے لہجہ میں عجب تاثیر اور بانکپن ہے۔ظلم وجبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ہے مگر سپاٹ انداز، کھردرا لہجہ اور غیر معیاری الفاظ کا استعمال اُسے کسی ازم کے نام پر گوارہ نہ تھا۔ ایسے ہی جذبات اس طرح کے اشعار کو وجود بخشتے ہیں ؂
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
*
ہر طرف جھوٹ کے چہرے پہ ضرورت کی نقاب
اب یہاں سچ کو دماغوں کا خلل کہتے ہیں
*
آئینہ جھوٹ بھی بولے تو کہاں تک بولے
لوگ اب عکس یہاں قد سے بڑا مانگتے ہیں
نفرت و تعصب کی کھیتی کرنے والوں کو شاعر کا انتباہ ؂
ہماری نفرتوں کی آگ میں سب کچھ نہ جل جائے
کہ اس بستی میں ہم دونوں کو آئندہ بھی رہنا ہے
عصری موضوعات کو بھی شاعر نے پُروقار انداز میں پیش کیا ہے ؂
دیکھی محلوں کی چمک اپنا کھنڈر بھول گیا
اب کے پردیس سے لوٹا تو وہ گھر بھول گیا
*
خون کی ہر بوند جیسے خود کشی کرنے لگے
کتنا مشکل ہے بزرگوں کی نشانی بیچنا
*
یہ خوف کی فضا یہ اذیت پسندلوگ
جانے کہاں چلے گئے وہ دردمند لوگ
معراج فیض آبادی کو ماضی پرست یا قدامت پسند سمجھنا درست نہیں ہے۔ ہاں ماضی کی درخشندہ روایات کے تحفظ کے ہر عمل سے انہیں سکون قلب ضرور ملتا تھا۔اسی لیے ان کی شاعری میں آپ کو جابجا فکر وعمل کے چراغ روشن نظرآئیں گے ؂
نہ وہ لباس، نہ وہ گفتگو، نہ وہ انداز
مٹادئیے ہیں بزرگوں کے سب نشاں ہم نے
*
اس حویلی کے شکستہ بام و در ہونے کے بعد
لوگ پوجیں گے اسے لیکن کھنڈر ہونے کے بعد
*
بڑھا رہا ہے فصلیں وہ قصرِ شاہی کی
سوال یہ ہے ہمارا کھنڈر کہاں جائے
جدید انداز ؂
لہجہ لہجہ یہ سلگتے ہوئے ماحول کی آگ
چیختے ہیں جو مرے لفظ خطا کس کی ہے
معراج فیض آبادی کی نگہہ حقیقت شعار سے یہ تلخ سچائی کیسے چھپی رہتی ؂
سزاملی ہے بزرگوں سے بے نیازی کی
کہ آج اپنے ہی بچوں سے ڈر رہے ہیں ہم
اور کہیں وہ اس طرح گویا ہوتے ہیں ؂
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہیں باپ کے چہرے کی جھرّیاں ہم نے


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo