آنس کی زندگی کاپہلاشعر یہ تھا: آخرکو روح توڑ ہی دے…

[ad_1] آنس کی زندگی کاپہلاشعر یہ تھا:
آخرکو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم
کب تک اسیرخوش بورہے گی گلاب میں
تحّیر کی وہ دنیا،جسے تسخیرکرنے میں زمانہ لگتاہے،یہاں پہلے ہی شعرکے انداز سے ظاہر وباہرہے۔آنس نے شاعری کی ابتدا وہاں سے کی جہاں اکثر شعرا کے دیوان ختم ہوجاتے ہیں۔ایسی اڑان کا یہ اختتام،مجھے کچھ حیرت نہیں ہوئی۔کیوں کہ جب غنچہ پھول بنا،اس کے مصھف سے نہ صرف حسن کے جلوے افروزاں ہوئے بل کہ اس کی روح(خوش بوپھول کی روح ہوتی ہے)آب وگل کی اس دنیاکومہکانے پرمصر ہوتی ہے۔اسے اس حقیقت کاادراک ہوتاہے کہ یہ عمل اسے ایک ایسی وادی میں لے جائے گا،جووادیٔ عدم ہے۔لیکن یہ اس کی فطرت ہے اور فطرت تبدیل ہونا تقریباًناممکن ہوتاہے۔ لہٰذا آنس بھی اپنی روح کو کائناتی تناظر میں قربان کرنے کی جلدی میں تھا۔اس لیے جلد ہی وادیٔ ایک ایسی دنیاکی طرف روانہ ہوگیا۔جس کے اسرارِرموز سے ہم قریباً غافل ہیں۔فنی اعتبارسے دیکھ جائے تو آنس پہلے مصرع میں اپنی بات کہہ چکاہے۔لیکن شعری پیکر کی مجبوری نے اسے مجبورکردیا اوراس نے یہ تلازمہ تراشا کہ جیسے خوش بو ‘پابند نہیں رہ سکتی’اسی طرح روح کو مقیدرکھناناممکن ہے۔
اب آنس کاکلام ترتیب میں نہیں ،کہ کون سی غزل کب کہی گئی اب جوبھی گزارشات ہوں گی،مختلف غزلوں کے تناظر میں ہوں گی۔تاوقتِ کہ ان کاکلام تاریخوار مرتب ہوکرسامنے آجائے۔آنس نے جب دیدۂ بینا واکیے توعالمِ حیرت سامنے تھا۔تمام عالم اسے “بازیچۂ اطفال”نظر آیا۔تووہ کہہ اٹھا:
جیون کودکھ،دکھ کوآگ اورآگ کوپانی کہتے
بچے لیکن سوئے ہوئے تھے،کس سے کہانی کہتے
چوں کہ ” وا کر دیے ہیں، شوق نے، بندِ نقابِ حسن
“آنس نے آئینہ خانۂ حیرت میں جب نگاہ کی تو اسے کئی رنگ اورانگ نظر آئے۔اب جو اس کے دل پر شگاف ہوئے تھے ان میں سب کو شامل کرنے کی لگن میں ،دنیا کی طرف متوجہ ہوتاہے۔لیکن اسے دنیامحوِ خواب اور مدہوش نظر آئی۔
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق
یعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
(اسداللہ خاں غالب)
آنس کااندازاتنانیااوراچھوتاہونے کے ساتھ ساتھ روایت کوبھی اس طرح اخذ کرتاہے کہ شعربالکل نیامعلوم ہوتاہے۔گھرمیں علوم وفنوں کا ایک سرمایہ موجود تھا۔آنس نے اس علم وفن کو حرزِ جاں کرلیا۔اسے بدن کی کٹھالی سے گزارکرایساکندن کیاکہ فارس اوراردو زابان وادب کاعطرکشیدکرکے رکھ دیا۔لیکن اس خیال میں ب آنس شامل ہوا توچیزے دگر بن گیا۔لیکن آنس کو اس پربھی افوسوس ہوا۔
تیرالہجہ اپنایااب ،دل میں حسرت سی ہے
اپنی کوئی بات کبھی تواپنی زبانی کہتے
جولوگ لہجہ بدلنے کومعمولی سی چیز یافن سمجھتے ہیں۔ان کےلیےسوچنے کامقام ہے کہ لہجہ بدلنے سے سوچ اور پھرلاشعوری طورپرجو فرق پڑتا ہے وہ اہلِ علم جانتے ہیں۔آنس کوخودبھی اس بات کاادراک تھاکہ وہ ایک نئے طرز کے اسلوبِ شاعری کو رواج دے رہاہے۔اس نے زندگی،زمان ومکاں اورانسانی روبط کی سائیکی کو اس آسانی سے اشعارمیں بیان کیاہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔اس عمر میں زنگی کاایساانوکھا اظہار، سوائے عطائے ربی کے علاوہ کیاکہاجاسکتاہے۔عملی زندگی میں وہ ادب کاطالب نہیں تھا۔وہ ایک بینکرتھا،لیکن اشعارمیں ایسی بایک باتوں کااس سہولت سے اظہاریہ ظاہرکرتاہے کہ جہاں ظاہری علم نے اس کی رہنمائی کی،وہیں باطنی علم کے خزانوں سے بھی اسے وافرحصہ ملاتھا۔
چپ رہ کراظہارکیاہے،کہہ سکتے توآنس
ایک علیحٰدہ طرزسخن کاتجھ کوبانی کہتے
جس معاشرے میں اسے رہنے اوردیکھنے کاموقع ملاتھا۔وہ اس معاشرے کاکھوکھلاپن،تصنع، دکھاوا،ریاکاری، فریب،جھوٹ اورمنافقت سے بدظن تھا۔اس کیروح جو خوش بو تھی،اس تعفن زدہ ماحول میں گھٹ کررہ گئی۔ممکن ہے وہ کچھ اوردن زندہ رہ جاتا،لیکن ظاہروباطن کے تضادات اور لوگوں کے رویوں نے اسے وقت سے پہلے آخری فیصلہ کرنے پرمجبورکردیا تھا۔تعلقات کوبھی،ریا سمجھتاتھا۔اس لیےکہ:
ہوجائے گی جب تم سے، شناسائی ذرااور
بڑھ جائے گی شایدمری تنہائی ذرااور
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرااور
پھرہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکوگے
یہ الجھی ہوئی ڈورجوسلجھائی ذرا او ر
اب وہ معاشرے کے ان زخم خوردہ حسوں کو سدھانہ اورسہلاناچاہتاہے۔لیکن لوگ اسے ناسور ماننے کوتیانہیں ہیں۔اس لیے “وہ الجھی ہوئی ڈورکوباوجوداس کے کہ سلجھاناچاہتاہے،نہیں سلجھاسکتا”۔اس کربِ مسلسل نے شکستِ ذات میں کلیدی کرداراداکیا۔اس لیے وہ کہہ اٹھتاہے۔ میرے ہاتھوں پہ زخموں کی تعداد تمھارے تصور سے زیادہ ہوگی۔
پتھرہیں سبھی لوگ ،کریں بات توکس سے؟
اس شہرِ خموشاں میں صدادیں توکسے دیں؟
ہے کون کہ جوخودکوہی جلتاہوادیکھے؟
سب ہاتھ ہیں کاغذکے دیادیں توکسے دیں؟
سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ!
اورپاس ہے بس ایک ردادیں توکسے دیں؟
جب ہاتھ ہی کٹ جائیں،توتھامے گابھلاکون؟
یہ سوچ رہے ہیں کہ عصادیں توکسے دیں؟
بازارمیں خوش بوکے خریدارکہاں ہیں؟
یہ پھول ہیں بے رنگ بتادیں توکسے دیں؟
آپ نے دیکھا،”پتھردل”لوگ ہیں یاپھر”شہرِ خموشاں “ہے۔اس میں صدادینا،نقارخانے میں طوطی کی آوازتو ثابت ہوسکتاہے۔کیوں کہ حقیقت کاسامناکرنے کی ہمت وجرأت مفقود ہے۔اس کے لیے’شاہیں کاتجسس اورچیتے کاجگر’،چاہیے۔اپنی زات کاسامناکرنے کادیوانہ پن درکارہے۔”سرِ بازارمی رقصم”کالافانی حوصلہ ساتھ ہو۔کیوں کہ اسے جوذمہ داری سونپی جارہی ہے۔اس کے لیے اسے اپنے وجودکوکٹھالی سے گزارکرکندن کرناپرتاہے۔خودکوجلتاہوادیکھنے کاحوصلہ کس مین اورکتنا ہے۔یہ زبانی نہیں عملی قدم اٹھانے کے بعد دیکھناہوگا۔کیوں کہ ہجومِ خلقت میں کوئی تو جو آگے بڑھ کے بِیڑااٹھالے۔وجہ بھی خودہی بیان کردی ہے”سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیادیں توکسے دیں”۔بے کلی اوربڑھ جاتی ہے۔روح کی پھڑپھڑا ہٹ اور بے خودکیے دیتی ہے۔
آنس تم بھی سامنے رکھ کرآئینہ
زورسے اک آواز لگاؤ ،لوٹ آؤ!
آنس اپنے اندرسمٹ جاتاہے۔اسے چاروں اوراندھیرانظر آتاہے۔ایک گہرااعصاب شکن سکوت،روح کاسناٹا،جواسے بےکل کیے دیتاہے۔
باہربھی اب اندرجیساسناٹاہے
دریاکے اس پاربھی گہراسناٹاہے
کس سے بولوں ،یہ تواک صحرا ہے جہاں پر
میں ہوں یاپھرگونگابہراسناٹاہے
محوِ خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں
جاگنے والابس اک اندھاسناٹاہے
ڈ رناہے توانجانی آوا ز سے ڈ ر نا
یہ توآنس دیکھابھالاسناٹاہے
آنس معین کی شاعری معاشرتی رویوں پرنشترتوچلاتی ہے۔اوران ناسوروں کاعلاج بھی چاہتاہے۔لیکن گنگے ،بہرے لوگوں میں وہ کسسے کہے۔اک طرف شورِشر انگیزہے۔جس سے سناٹابھی سہم گیاہے۔اس پر ستم یہ کہ جودیدۂ بینا ہیں،وہ خوابِ خرگوش میں مدہوش ہیں۔آنس کی شاعری قنوطی نہیں ہے۔ اس کے اشعار زندگی کی للک سے معمورہیں۔آنس بارہا زیست کی طرف پلٹتااور لپکتاہے۔ کہ یہ سناٹاکوئی نئی چیز نہیں۔یہ تواب ہمارے ماحول کا حصہ ہے۔لہٰذااس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں ایک بات خوف وخطرسے خالی نہیں ہے کہ”کوئی انجانی آواز”جو محبت کالبادہ اوڑھ کرنفرتوں کے بیج بو دے۔اس سے احتیاط لازم ہے۔ مایوسیاں آنس پر سوارنہیں ہوتیں،پرآنس انتہائی محتاط شاہ شوارہے۔وہ وقتی فتح پریقین نہیں رکھتا۔اسے دائمی فتح سے پیارہے۔لیکن چاروں اور”اندھاسناٹا”ہونے کی وجہ سے خود میں سمٹ کررہ جاتاہے۔اسے کہیں سے کمک نہیں ملتی۔اندرکی روشنی اسے بار بار راستہ دیتی ہے۔
بدن کی اندھی گلی توجائے امان ٹھہری
میں اپنے اندرکی روشنی سے ڈراہواہوں
نہ جانے باہربھی کتنے آسیب منتظرہوں
ابھی بس اندرکے آدمی سے ڈراہواہوں
اب اماں ملی توکہاں ملی “اندھے سناٹے” سے بدن کی “اندھی گلی”میں،باطن جگ مگ تھا،اب گھپ اندھیرے سے ،انسان جب اچانک چکا چوندروشنی میں آتاہے تو اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔باہر آسیب زدہ ماحول کاحول،اس قدرشدید تھا کہ اسے روشنی سے بھی ڈر لگنے لگتاہے۔اوروہ اپنے آپ کواجنبی لگنے لگتاہے۔وہ اپنے آپ سے ڈر جاتاہے۔ حالاں کہ ‘وہ تواندرکی روشنی’ تھی ،جواسے جادہ منزل تک جانے کاراستہ سُجارہی تھی۔یہیں آنس کو کسی ہم دمِ نرینہ کی کمی کااحساس شدت سے ہوتاہے۔
اک آشنائے رازہے حیرت سے وہ بھی گنگ
اک آئینہ ہے وہ بھی مجسم سوال ہے
اب اک آشناتو ہے!لیکن وہ خود ورطۂ حیرت میں ہے۔اسے آنس کی وجود سے خوف محسوس ہونے لگتاہے۔وہ آنس کی اندرکی روشنی کوسمجھ نہیں پاتا۔اور مجسم سوال بن جاتاہے۔ادھر تحیرکی جستجو نے آنس کو خودبھی”مجسم سوال”بنا رکھاہے۔کیوں کہ آئینہ تو منعکس کرنے ولا ایک آلہ ہے۔اور آئینے کی سامنے “آنس”، یہ سوال اس کے چہرے پربھی ہے۔
جھیلوں کی طرح سب کے ہی چہروں پہ ہے سکوت
کتنایہاں پہ کون ہے گہرانہیں ۔ کھلا!
وہ پھرزندگی کی طرف لوٹتاہے۔”لیکن” جیسےاک طوفاں سے پہلے کی خاموشی”اندرکی دنیامیں ہل چل مچی ہے۔اندیشوں کے اژدر پھنکاررہے ہیں۔سفینۂ دل میں تلاطم بپاہے۔لیکن کسی کوبھی دیکھ کر محسوس نہیں ہوتاکہ کچھ ہونے ولاہے۔یاتوخوف نے سکتہ کردیاہے یاپھروہ سب بے خبرہیں۔آنس تھک کے بیٹھ جاتاہے۔ دوست دشمن کی پہچان نہیں ہوتی۔
ایک چہرہ نگاہوں کے دس زاویے
لوگ شیشہ گری کی دکاں ہوگئے
احمدندیم قاسمی نے کہاتھا کہ:
ہرآدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس آدمی کودیکھنا سوباردیکھنا
لیکن آنس کاانداز بیاں نہ صرف منفرد ہے بل کہ نئے خیال کومہمیز بھی لگاتاہے۔کس کس زاویے سے دیکھیں۔ہرلمحہ بدلتے چہرے،بدلتے رویے ،اعصاب شل کیے دیتے ہیں۔اب آنس کی پریشانی شروع ہوتی ہے،یہ انساں ہیں یا”شیشہ گری کی دکاں”ہیں۔
کچھ دیرمیرے ساتھ تماشابنے مگر
پھرتم بھی مل گئے تھے تماشائیوں کے ساتھ
اب بات”تم” تک آگئی ہے۔تم میں بھی ہو سکتاہوں،آپ بھی،اور’تم’وہ بھی ہوسکتاہے۔جواردو ادب کا’تم’ہے۔اب” تماشا”بنناکون ساآساں کام ہے؟اور ساتھ دینا،دنیاکامشکل ترین مرحلہ،جہاں اعصاب چٹک جاتے ہیں،رگیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔اس لیے تو بھرے بازارمیں،تماشا بناکے ،خود تماشائیوں میں شامل ہو گئے۔
جاگ اٹھتے ہیں کتنے اندیشے
ایک مٹی کاگھربنانے سے
من کی وحشت توکم نہیں ہوتی
د ر و دیوا ر کے سجانے سے
جب فضاؤں سے ربط بڑھتاہے
ٹوٹ جاتاہے آشیانے سے
اب یہ کیوں اورکیسے ہوا؟اندیشوں نے طوفانِ بلاخیز کی شکل کب اورکیوں اختیارکی؟جواب بھی خود دیا ہے” ایک مٹی کاگھربنانے سے” ۔اس کاایک پہلو یہ بھی ہے۔جب اس فانی دنیامیں انسان گھربناتاہے۔تواس میں دنیاکی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔پھر گھرانہ شروع ہوتاہے۔اہل وعیال بنتے ہیں۔راستے ،رشتوں میں بدلنے لگتے ہیں۔موت کاخوف جاگزیں ہوتاہے۔اندیشے سر ابھارتے ہیں۔لیکن جو شخص اس دنیا کو ایک سنہری پنجرہ سمجھتاہو؟وہ اس میں گم نہیں ہوتا۔گھرسجانے سے “من کی وحشت “کم نہیں ہوتی۔جو آزاد فضاؤں کے طائر ہیں۔انھیں آزاد فضا ہی راس آتی ہے۔وہ زیادہ دیر اس قید کوبرداشت نہیں کرتے۔اور ان دیکھی، ان سنی دنیاؤں کی لگن انھیں بے خودکرتی ہے،تو وہ خواجہ غلام فریداحمت اللہ علیہ کے الفاظ”دنیاکوں چونچی لاڑ آ”کے مصداق اڑ جاتے ہیں۔پھرانھیں اس کاغم نہیں ہوتا کہ آشیاں تھا یا نہ تھا۔ان کا دنیاسے تعلق واجبی سارہ جاتاہے۔خلق سے بے گانگی انھیں فطرت کے حسن کی طرف متوجہ کرتی ہے۔لیکن فخرِانسانیت یہاں بھی آڑے آتاہے۔آنس عالمِ ناسوت کے حسن کے پاس جاتاہے۔حسن کیاہے؟علامہ محمد اقبال کی نظم”حقیقتِ حسن”سے پوچھتے ہیں۔
خداسے اک روز یہ حسن نے سوال کیا
جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا
اسے جواب ملا:
شبِ درازِعدم کافسانہ ہے دنیا
یہاں سے حسن کی سوگواری شروع ہوتی ہے۔مجیدامجد نے نظم”حسن” میں حسن کے عجب تیور بیان کیے ہیں۔
جمالِ گل ؟نہیں،بے وجہ ہنس پڑاہوں میں
نسیمِ صبح ؟نہیں،سانس لے رہا ہوں میں
یہ عشق توہے اک احساسِ بے خودانہ مرا
یہ زندگی توہے اک جذبِ والہانہ مرا
ظہورِکون ومکاں کا سبب!فقط میں ہوں
نظامِ سلسلۂ روزوشب !فقط میں ہوں
آنس نے ایک اورزاویہ واکیاہے۔ایک اورپہلوسے دیکھاہے۔
گیاتھامانگنے خوش بو، مَیں پھول سے لیکن
پھٹے لباس میں، وہ بھی، گدالگامجھ کو
آنس نے’پھٹے لباس’میں دیکھا۔اب آنس توشاہ کارِ حسن سے اس کا وہ حصہ، جو وہ پوری دنیامیں، بلا تمیز تقسیم کرتاہے،فیض اٹھانا چاہا۔لیکن جب آنس نے چشمِ بصیرت سے دیکھا تو وہ توخود کسی درکے سامنے کاسہ لیس تھا۔اشرفِ مخلوق کووہ مظلوم اورمجبوردکھائی دیا۔آنس کی غیرت نے گوارانہ کیا،وہ لوٹ آیا۔
ہمارے حسنِ طلب کولوگ کیاجانیں
شبِ سیاہ میں جگنواک استعارہ ہے
اترے والی ہے آنس تھکان آنکھوں کی
بہت بڑاہے افق اور ایک تارہ ہے
جو فرد ایک جگنو کوشبِ سیاہ میں روشنی کااستعارہ کہہ کر،اس کو امید کاپیام برسمجھتاہے۔یقیناً عام لوگ اس کے ‘حسنِ طلب’ کوسمجھنے سے عاری ہوسکتے ہیں۔ اور “لکڑی جل کوئلہ بھئی اور کوئلہ جل بھیو راکھ”( لکڑی جل کر کوئلہ بنی اور کوئلے ہو گئے راکھ)۔اب ایک تارہ ۔صرف ایک چنگاری اس خاکستر میں ہے۔تاحدِ فریبِ نظر افق کی پہنائیاں ہیں۔لیکن ایکتارہ ہے جوٹمٹماتاہے۔اب چہرےپرتھکن کے آثار نمایاں ہو چلے ہیں۔انکھوں میں نینس اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ہے صبح کے باطن میں وہی شب کی سیاہی
یہ صبح کامنظر اسی منظر سے اٹھاہے
اک چیخ سے مجروح نہ ہوگی یہ خموشی
طوفاں کبھی جھیل میں کنکرسے اٹھاہے
“یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر”ایساکیوں ہوا۔اس کاجواب بھی آنس نے دیاہے کہ ‘یہ منظر اسی منظر سے اٹھاہے’۔صبح کاانتظارکرنے والو،تم نے فقطِ انتظارِ سحر کیاہے!لیکن اسے اجالنے کاکوئی عمل۔۔۔!تو صبح کے باطن میں بھی شب کی سیاہی درآئی ہے۔اورآنس پکار پکار کے کہہ رہاہے۔تمھیں بارہا چلاچلاکرخبردار کیا گیاتھا۔ لیکن :
کشتی طوفاں کی طرف بڑھتی رہی
میں پکارتارہاتیزہواکے شورمیں
لیکن یہ چیخ گشتِ باز ثابت ہوئی اورجیسے ایک کنکرسے کبھی جھیل میں تلاطم پیدانہیں ہوتا،میری آوازبھی اک گونج بن کررہ گئی۔اوراب:
جیسے حاصل ہوصرف لاحاسل
خواب ،تعبیرِ خواب سے نکلے
اک غلط فیصلہ کیالیکن
عالمِ اضطراب سے، نکلے
کیاعجب ایک دوسراآنس!
ذات کے احتساب سے نکلے
حاصل کچھ نہیں۔لاحاصلی کوخوف آشیاں میں آبساہے۔اس پر بھی آنس نے اطمینان کرلیا۔اورمایوسی کوطاری نہیں ہونے دیا۔لیکن چاروں اوراک مجرم خاموشی نے اسے پھرسے معبدِ ذات میں قیدہونے پر مجبورکردیا۔
ذراتوکم ہوئیں تنہائیاں پرندے کی
اب اک خوف بھی اس آشیاں میں رہتاہے
محبسِ ذات سے طاہرِ روح نالاں ہے۔اس لیے ‘خوف’سے بھی امید کشیدکرلیتی ہے۔کم ازکم تنہائی کے عذاب سے چھوٹے۔اب اس کاہم نشیں اک خوف بھی ہے۔آنس کی شاعری میں بارہا، زندگی کی ہماہمی کی طرف لوٹنے کاذکرہے۔اب یاس سے آس کا پیداہونا کوئی آسان عمل نہیں،نہ ہی مذاق ہے۔ شاعر اس پربھی راضی ہے،فیصلہ چاہے درست ہویا غلط لیکن”عالمِ اضطراب سے نکلے”یہ روز کی کش مکش، گومگو،’ہے ،نہیں ہے’ کی تلوار،کم سے کم اس سے تونجات ملی۔ آنس پھر ہمکتی زندگی کی طرف لپکتاہے۔ممکن ہے، اس دوران میں احتسابِ ذات کے عمل سے ،ایک دوسراآنس،سامنے آئے۔ایسے مثبت رویے رکھنے والاشاعر قنوطی یا موجودیت(Existentialismعام طورپراسے وجودیت لکھاجاتاہے) پرست نہیں ہوسکتا۔آنس میں سادیت نام کونہیں ہے۔وہ اس دنیاکو ایک ایسی کائنات کے تناظر میں دریافت کرنا چاہتاہے۔
مرے اندربسی ہوئی ہے اک اور دنیا
مگرتونے کبھی اتنالمباسفرکیاہے؟
یہ” تو” کوئی اورنہیں ہے۔یہ ‘میں’اور’تو’ہیں۔یہ معاشرہ ہے۔جواقداروروایات،آداب واخلاق سے خالی ہوتاجارہاہے۔جہاں نفس پرستی ہی زندگی ہے۔جہاں خودپرستی ہی روشنی ہے۔جہاں خودنمائی ہی سب خوشی ہے۔ایسے میں آنس کیوں نہ کہے کہ کیاتم نے کسی حضرت انسان کوسمجھنے کی کوشش کی ہے۔خبثِ ذات سے نکلنے سےخوف،اور تعفن کے پھیلنے کے احساس نے،ہرکسی کو دھوکے میں مبتلاکررکھاہے۔اورکوئی بھی تو نہیں بولتاکہ:”بادشاہ سلامت آپ کےجسم پر لباس نہیں ہے۔جو بولے،وہ ولدالحرام ٹھہرے یاپھرگردن زدنی ہو۔تاوقتِ کہ ایک بچہ بول پڑتاہے۔بس پھرکیاتھا،سرگوشیان،چہ مگوئیاں جنم لیتی ہیں۔بادشاہ سلامت سوچنے پر مجبورہوجاتاہے۔بچہ جھوٹ کیوں بولےگا؟
ع کبھی توبچہ صلیب جتنابڑابھی ہوگا
اب آنس کو شدیدقحط الرجال کاسامناہے۔وہ بچہ کہاں سے لائے؟لیکن اسے اس بات کااحساس ہے اس لیے توکہہ اٹھتاہے” کبھی توبچہ صلیب جتنابڑابھی ہوگا”۔
لیکن مایوس اب بھی نہیں ہے۔
اک سردشام آئے گی تپتی سحرکے بعد
لاحاصلی کادکھ بھی ہے لمبے سفرکے بعد
اک دائرے میں گھومتی رہتی ہیں سب رتیں
ویرانیاں شجرپہ اگیں گی ثمرکے بعد
رہتاہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گامیں
جائے اماں اک اوربھی ہوتی ہے گھرکے بعد
اسے امیدہے کہ اب بھی ظلم تادیر طلم نہیں رہ سکتا۔یہ جھلسادینے والی دھوپ،یہ جلادینے والی “تپتی سحر”زیادہ دیررہنے والی نہیں ہے۔اس کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں۔اگرچہ لوگ ایک طویل جدوجہدکے بعد تھک چکے ہیں،’لاحاصلی کے سنپولیے بھی لپٹے ہوئے ہیں۔لیکن اسے پھر بھی امید ہے۔کرہ اپنادائروی چکر مکمل کرنے والاہے۔اب درختوں پر شجر آئے گا۔اس کے بعد ویرانیوں کی باری ہوسکتی ہے۔لیکن میں مایوس نہیں ہوں اورنہ ہی گھر کے ہونے نہ ہونے کاغم ہے۔ کیوں کہ” جائے اماں اک اوربھی ہوتی ہے گھرکے بعد”۔دل کی گہرائیوں سے پھر ایک کرن پھوٹتی ہے۔
تھامے ہوئے گرتی ہوئی دیوارکواب تک
شایدمرے ہاتھوں کے سوااوربھی کچھ ہے
میں اکیلانہیں ہوں یہ’گرتی ہوئی دیوار’ صرف میرے تھامنے سے نہیں رکی،کوئی اوربھی ہے۔جو مرے ساتھ ہے۔عرفانِ ذات آنس کو الہامی طورپر مدد کرتا ہے۔اسے نچلانہیں بیٹھنے دیتا۔اندرکی روشنی اسے زعمِ ذات میں مبتلانہیں ہونے دیتی۔اسے اپنی کم زوریوں کابھی علم ہے۔اوراپنی انتہاؤں کوبھی جانتا ہے۔وہ صرف معاشرے کے رِستے ناسوروں پرنشترنہیں چلاتا بل کہ اپنامحاسب بھی آپ ہے۔اس لیے خوش فہمی میں مبتلاہونے کی بجائے یا نمائشِ ذات کی بجائے ،وہ واضح کرتاہے”کوئی اورہے،جس نے دیوارکوبھی تھاماہواہے اورمجھے حوصلہ بھی دے رکھاہے۔
ذراساکھول کے دیکھوتوگھرکادروازہ
یہ کوئی اورہی دستک ہے اب ہواکب ہے
اسے ملے ہومگرجانتے کہاں ہوتم
خوداپنے آپ پہ آنس ابھی کھلاکب ہے
………………..
مانوس اجننی۔آنس معین(مظہرفریدی)


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo