ایک ردیف، 10 شاعر ” لا الہ الا اللہ ” __________…

[ad_1] ایک ردیف، 10 شاعر

” لا الہ الا اللہ ”
_______________________

علامہ اقبال

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وھم و گماں لا الہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
_____________________

افتخار عارف

میانِ تیغ و سناں، لَا الٰہ الّا اللہ
حدیثِ شعلہ بجاں، لَا الٰہ الّا اللہ

مقامِ سجدۂ بے اختیار، عجز تمام
کمالِ حرفِ بیاں، لَا الٰہ الّا اللہ

جہاں رسولﷺ کے نقشِ قدم وہیں پہ علیؓ
وہیں حسینؓ جہاں لَا الٰہ الّا اللہ

ہر امتحان، ہر اک ابتلا کی منزل میں
قرار دلِ زدگاں لَا الٰہ الّا اللہ

شہود و شاہد و مشہود ایک ہوں کہ نہ ہوں
امین و امن و اماں لَا الٰہ الّا اللہ

غبار اُڑاتے ہوئے وقت کے مقابل بھی
حصارِ نام و نشاں لَا الٰہ الّا اللہ

سوالِ بیعتِ دربارِ شام اور حسینؓ
کہاں یزید کہاں لَا الٰہ الّا اللہ

کنارِ آبِ رواں، ارتباطِ مشک و علم
فغانِ تشنہ لباں لَا الٰہ الّا اللہ
_____________________

حافظ مظہر الدین مظہر

قلندروں کی اذاں لا الہ الا اللہ
سرودِ زندہ دلاں لا الہ الا اللہ

سکونِ قلب تپاں لا الہ الا اللہ
دوائے دردِ نہاں لا الہ الا اللہ

فروغِ کون و مکاں لا الہ الا اللہ
تجلیوں کا جہاں لا الہ الا اللہ

قرارِ ماہ و شاں لا الہ الا اللہ
پناہِ گلبدناں لا الہ الا اللہ

ہے بے نیازِ خزاں لا الہ الا اللہ
بہارِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

بتوں سے دے گا اماں لا الہ الا اللہ
بنا وظیفہ جاں لا الہ الا اللہ

وہ خود ہے جلوہ فشاں لا الہ الا اللہ
وجودِ غیر کہاں لا الہ الا اللہ

غریبِ شہر کے سینے میں ہے نہاں کوئی
فقیر کا ہے بیاں لا الہ الا اللہ

یہی ہے میرا پتہ لا الہ الا ہو
یہی ہے میرا نشاں لا الہ الا اللہ

جنوں مشاہدہ ذاتِ ذوالجلال میں ہے
خرد ہے وہم وگماں لا الہ الا اللہ

نظر اٹھا کہ جمودِ حیات بھی ٹوٹے
پکار زمزمہ خواں لا الہ الا اللہ

اسی لیے تو بتوں کی جبیں ہے خاک آلود
ہے میرے وردِ زباں لا الہ الا اللہ

ہے میرا نغمہ توحید لاشریک لہ
ہے میری تاب وتواں لا الہ الا اللہ

اسی سے میری محبت کی شام ہے رنگیں
میری سحر کی اذاں لا الہ الا اللہ

وہیں جمالِ رخِ یار کی تجلی ہے
جہاں ہ وجد کناں لا الہ الا اللہ

بہا کے آج لیے جا رہا ہے مظہر کو
برنگ سیل رواں لا الہ الا اللہ

______________________

بلال رشید

صداۓ کون و مکاں لا الہ الا اللہ
یہی ہے ورد زباں لا الہ الا اللہ

یہ ورد عقل کے اندھوں کا ہو نہیں سکتا
ہے اہل دل کا بیاں لا الہ الا اللہ

یہی وظیفہ ہے میری نجات کا ضامن
ہے میرے دل کی اذاں لا الہ الا اللہ

ہے بزم کفر میں لات و منات کی باتیں
جہاں پہ حق ہے وہاں لا الہ الا اللہ

بروز حشر نوازے گا اہل ایماں کو
نوید امن و اماں لا الہ الا اللہ

فقط ہے کامل و قیوم ذات اللہ کی
کرے یہ راز عیاں لا الہ الا اللہ

یزیدیت کی علامت جہاں میں فسق و فجور
حسینیت کا نشاں لا الہ الا اللہ

نہ کیوں یہود سے قبلہ ہمیں ملے واپس
چلیں جو پڑھ کے جواں لا الہ الا اللہ

دعا ہے تجھ سے خدایا ہو وقت آخر بھی
مری ذباں پہ رواں لا الہ الا اللہ

بلال شاعر مشرق نے خوب لکھا ہے
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
________________________

منصور آفاق
سلطان باہو کی فارسی غزل کا ترجمہ

نجاتِ خلقتِ جاں لا الہ الا اللہ
کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

یہ خوفِ آتشِ دوزخ یہ خطرۂ ابلیس
وہاں کہاں کہ جہاں لا الہ الا اللہ

بگاڑ سکتی ہے کیا اس کا چرخ کی گردش
ہے جس کی جائے اماں لا الہ الا اللہ

یہ جائیدادِ جہاں کچھ نہیں ہے اُس کے لئے
ہے جس کے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ

یہ کائنات یہ عالم نہیں وہاں باہو
جہاں جہاں پہ عیاں لا الہ الا اللہ

_______________________

منصور آفاق

الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ

یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ

کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ

نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ

سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ

وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ

وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ

ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ

_________________________

ڈاکٹر نسیم (وارانسی)

وہ شاہ، سب ہیں گدا، لا الہ الا اللہ
ہے کون اس سے بڑا، لا الہ الا اللہ

پیامِ غارِ حرا، لا الہ الا اللہ
نبیؐ کی پہلی صدا، لا الہ الا اللہ

اذاں کی آئی صدا، لا الہ الا اللہ
تو گونجے ارض و سما، لا الہ الا اللہ

کبھی یہ مشعل توحید بجھ نہیں سکتی
چلے کوئی بھی ہوا، لا الہ الا اللہ

یہ بحر و بر، یہ زمیں، آسماں یہ شمس و قمر
وہی ہے سب کا خدا، لا الہ الا اللہ

یہی وظیفہ ازل سے ہے ساری خلقت کا
ندائے ارض و سما، لا الہ الا اللہ

شعاع مہر جو پھوٹی افق سے وقتِ سحر
تو بادلوں پہ لکھا، لا الہ الا اللہ

عدو ہے سارا زمانہ تو کیا خدا تو ہے ساتھ
کسی سے خوف نہ کھا، لا الہ الا اللہ

تو اژدہوں سے گھرا ہو تو دل میں خوف نہ لا
اٹھا لے اپنی عصا، لا الہ الا اللہ

وہی ہے بس، وہی شایان بندگی اے دل
وہی ہے تیرا خدا لا الہ الا اللہ

ترا ولی، ترا فریاد رس، ترا معبود
ہے کون اس کے سوا، لا الہ الا اللہ

اسے نصیب ہوا اوجِ عبدیت کا مقام
وہ جس نے دل سے پڑھا، لا الہ الا اللہ

تری جبیں ہے فقط اس کے سنگِ در کے لیے
اسے کہیں نہ جھکا، لا الہ الا اللہ

وہی ہے آسرا ٹوٹی ہوئی امیدوں کا
دکھے دلوں کی صدا، لا الہ الا اللہ

تو لوحِ دل پہ رقم کر اسے بہ خطِ جلی
یہی ہے نقشِ شفاء، لا الہ الا اللہ

اسی سے چمکے گا آئینہ تیرے باطن کا
یہی ہے دل کی جِلا، لا الہ الا اللہ

اسی سے مانگ، تجھے جو بھی مانگنا ہے نسیمؔ
وہی سنے گا دعا، لا الہ الا اللہ

__________________________

رزاق افسر (میسور)

ظہورِ صبح ازل لا الہ الا اللہ
حیات ہو کہ اجل لا الہ الا اللہ

ہمارا کل تھا وہی آج بھی وہ ہے اپنا
اصول دیں کا ہے کل لا الہ الا اللہ

دلیل وحدت رب لا الہ الا اللہ
مزاج عظمت رب لا الہ الا اللہ

طفیل رحمت خیر الانام ہے افسرؔ
سبیل قربت رب لا الہ الا اللہ

خدا کا خاص کرم لا الہ الا اللہ
عطائے شاہؐ امم لا الہ الا اللہ

سمٹ کے آ گئی ہے جس میں کائنات تمام
ارم سے تابہ حرم لا الہ الا اللہ

خدا کا ذکر جلی لا الہ الا اللہ
عروج شان نبیؐ لا الہ الا اللہ

جو دل کہ مومنِ شب زندہ دار ہے اس کی
دعائے نیم شبی لا الہ الا اللہ

مکاں کا دست ہنر لا الہ الا اللہ
زماں کا زادِ سفر لا الہ الا اللہ

مری نظر میں ہے تفسیر آخری اس کی
قرآں کا نام دگر لا الہ الا اللہ

مدارِ فکرِ بشر لا الہ الا اللہ
قرارِ قلب و نظر لا الہ الا اللہ

نمودِ صبح سے تاروں کی رونمائی تک
ہے سب کا رختِ سفر لا الہ الا اللہ

زباں تو میری کہے لا الہ الا اللہ
سمجھ سے پر ہے پرے لا الہ الا اللہ

اسی پہ کھلتا ہے افسرؔ یہ بابِ رازِ خفی
جو جان و دل سے پڑھے لا الہ الا اللہ
___________________________

محمد شاہد پٹھان (جئے پور)

نگاہ و دل کا نشہ لا الہ الا اللہ
ایاغِ آبِ بقا لا الہ الا اللہ

فضائے باغِ بلادِ حجاز میں اول
پیام لائی صبا لا الہ الا اللہ

حیات بخش ہے گلزارِ مصطفی کی بہار
کلی کلی کی صدا لا الہ الا اللہ

نشاطِ اہلِ وفا عشقِ سرورِ بطحیٰ
طریقِ اہلِ صفا لا الہ الا اللہ

سکندری کا نشہ تخت و تاج و حورو قصور
قلندری کی ادا لا الہ الا اللہ

جمال حمد و ثنا عشقِ صاحبِ لولاک
جلالِ ذکرِ خدا، لا الہ الا اللہ

اسے نصیب ہوئی سرفرازیِ کونین
زباں پہ جس کی رہا لا الہ الا اللہ

نگاہِ لطفِ محمد ؐ کا فیض ہے شاہدؔ
ہے ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ

_________________________

سعدیہ نور

روح کی حقیقت ہے لا الہ الا اللہ
نفس کی قناعت ہے لا الہ الا اللہ

شمس کی دَرخشانی پر ،قمر کی تابش پر
یہ رقم شہادت ہے لا الہ الا اللہ

آسمان کی عظمت پر زمیں کی پستی پر
نقش یہ علامت ہے لا الہ الا اللہ

قلب کے وجودِ فانی پہ گر ہو تسخیری
کرتا یہ دلالت ہے لا الہ الا اللہ

خالقِ جہاں کا اب نور بس گیا مجھ میں
زیست کی صداقت ہے لا الہ الا اللہ

تار تار سازِ جسم کا ثنا میں ہے مصروف
تن کی بھی عبارت ہے لا الہ الا اللہ

اسمِ ”لا” سے اثباتِ حق کی ضرب پر میرے
دل نے دی شہادت ہے لا الہ الا اللہ

روزِ حشر نفسا نفسی کے شور و غوغے میں
عفو کی سفارت ہے لا الہ الا اللہ

خون کی روانی میں نقش ”لا ”عبارت ہے
عبد کی عبادت ہے لا الہ الا اللہ

__________________________

نامعلوم

ہے دست قبلہ نما لا الہ الا اللہ
ہے درد دل کی دوا لا الہ الا اللہ

کسی کی چشم فسوں ساز نے کیا جادو
تو دل سے نکلی صدا لا الہ الا اللہ

جو پھونکا جائے گا کانوں میں دل کے مردوں کے
کرے گا حشر بپا لا الہ الا اللہ

قریب تھا کہ میں گر جاؤں بار عصیاں سے
بنا ہے لیک عصا لا الہ الا اللہ

گرہ نہیں رہی باقی کوئی مرے دل میں
ہوا ہے عقدہ کشا لا الہ الا اللہ

عقیدہ ثنویت ہو یا کوئی تثلیث
ہے کذب بحث و خطا لا الہ الا اللہ

ہے گاتی نغمہ توحید نے نیستاں میں
ہے کہتی باد صبا لا الہ الا اللہ

ترا تو دل ہے صنم خانہ پھر تجھے کیا نفع
اگر زباں سے کہا لا الہ الا اللہ

حضور حضرت دیاں شفاعت نادم
کرے گا روز جزا لا الہ الا اللہ

زمیں سے ظلمت شرک ایک دم میں ہوگی دور
ہوا ہے جو جلوہ نما لا الہ الا اللہ

ہزاروں ہوں گے حسیں لیک قابل الفت
وہی ہے میرا پیا لا الہ الا اللہ

نہ دھوکا کھائیو ناداں کہ شش جہات میں بس
وہی ہے چہرہ نما لا الہ الا اللہ

چھپی نہیں کبھی وہ رہ سکتی وہ نگہ جس نے
ہے مجھ کو قتل کیا لا الہ الا اللہ

بروز حشر سبھی تیرا ساتھ چھوڑیں گے
کرے گا ایک وفا لا الہ الا اللہ

ہزاروں بلکہ ہیں لاکھوں علاج روحانی
مگر ہے روح شفا لا الہ الا اللہ
_________________________

” خودی کا سر ِ نہاں ، لا الہ الا اللہ ”
صدائے کون و مکاں ، لا الہ الا اللہ
رموز ِ عشق ورائے خرد ورائے جنوں
ورائے فہم ِ بُتاں ، لا الہ الا اللہ
صدائے کُن سے لرزتے ہیں دو جہان و عدم
سکون ِ قلب و اماں، لا الہ الا اللہ
چراغ ِ راہ ِ عمل، شمع ِ آگہی ہے یہی
ہے طور جلوہ فشاں ، لا الہ الا اللّہ
یہ نعرہ مرگ مفاجات و ہست سے ہے ورا
جنوں کی تاب و تواں ، لا الہ الا اللّہ
یہ ساز و سوز عرب ہے نیاز و ناز ِعجم
دو عالموں کی اذاں ، لا الہ الا اللّہ
حدودِ مشرق و مغرب نہ بند ِ باغ و بہار
نہ قید ِ رنگ و زباں ، لا الہ الا اللّہ
یہی ازل سے ابد تک ہے رہنمائے خرد
نہیں ہے چون و چراں ، لا الہ الا اللہ
حریم ِ شاہ کے تابع نہیں فقیر ِ حرم
امام ِ پیر ِ مغاں ، لا الہ الا اللّہ
گمان و دیدہء کافر سے ماورا ہے یہ آگ
نہ شعلہ ہے نہ دھواں ، لا الہ الا اللہ
مجاز ِ عشق گل و لالہ کے ہیں افسانے
بِنائے حق ِ گماں ، لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ عشق کے ماتوں کی دلربائی ہے
دیار و دشت ِ جہاں ، لا الہ الا اللّہ
شکستہ حال، جگر پارہ، دل فگاروں میں
تلاش گہر فشاں ، لا الہ الّا اللّہ
فقیری عشق ِ محمد کا ہے ثمر لیکن
شجر ہے اس کا نہاں، لا الہ الا اللہ
یہ حق نمائی ہے درویش کاروبار نہیں
نہ کار ِ سود و زیاں، لا الہ الا اللہ
(فاروق درویش)

۔۔۔۔۔

احمد علی برقی اعظمی
ظہورِ کون و مکاں لا االہ الااللہ
ہماری روحِ رواں لا الہ الااللہ

ہمارا عقدہ کشا ہے یہ کلمۂ توحید
نہ کیوں ہو وردِ زباں لاالہ الااللہ

نشانِ کفر و ضلالت وہاں نہیں ہوتا
بفضلِ رب ہے جہاں لاالہ الااللہ

جہاں ہے معرکۂ خیر و شر وہاں سب کی
ہے روحِ عزمِ جواں لاالہ الااللہ

ہے کائنات میں وردِ زباں موذن کے
رواں بشکلِ اذاں لا الہ الااللہ

کشادہ ذہن ہیں جو خاکدانِ عالم میں
نہیں ہے اُن کو گراں لاالہ الااللہ

یہ سودمند ہے شاہ و گدا سبھی کے لئے
ہے سب کا فیض رساں لاالہ الااللہ

عرب ہو یا ہو عجم اور تمام عالم میں
شعار امن و اماں لاالہ الااللہ

ہے جن کو منزلِ حق کی تلاش اُن کے لئے
ہے معرفت کا نشاں لاالہ الااللہ

کلیدِ قُفلِ سعادت ہے مومنوں کے لئے
یہاں ہو یا ہو وہاں لاالہ الااللہ

ہر ایک گام پہ دیتا ہے نوعِ انساں کو
نویدِ باغِ جناں لاالہ الااللہ

ہمیشہ وجہہِ حرارات ہے جو رگ و پے میں
ہے خون بن کے رواں لاالہ الااللہ

ہر ایک گام پہ ہے رزمگاہِ ہستی میں
ہماری تاب و تواں لاالہ الااللہ

رہِ وفا میں محافظ ہے اہلِ ایماں کا
بغیر تیر و کماں لا الہ الااللہ

ہے میرے گلشنِ ہستی میں فضلِ باری سے
بہارِ عمرِ رواں لاالہ الااللہ

ہمیشہ جاری و ساری ہے دل کی دھڑکن میں
بہار ہو کہ خزاں لاالہ الااللہ

نہ کچھ بگاڑ سکیں گے مرا بفضلِ خدا
’’بتانِ وہم و گماں، لاالہ الااللہ

رہِ سلوک میں ہے خضرراہ برقی کا
نہاں ہو یا ہو عیاں لاالہ الااللہ

۔۔۔۔۔
بشُکریہ
بحر سے خارج
Umar Jawaid Khan
Ahmad Ali Barqi Azmi


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo