آنندی – غلام عباس

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا، ہال کھچا کھچ بھر اہوا تھا اور خلاف معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا، بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری  کو شہر بدر کر دیاجائے، کیوں ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد داغ ہے۔

بلدیہ کی ایک بھاری بھر کم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ مانے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے اور پھر حضرات آپ یہ بھی چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار رونا چار چار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے، علاوہ ازین شرفا کی پاک دامن بہو بیٹیاں اور بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں ، صاحبان جب یہ شریف زلویاں ان آبرو باختہ اور نیم عریاں بیوائوں کے بنائو سنگار کو دیکتھی ہیں تو قدرتی طور پر ان کے دم میں بھی آراش و دل رہائی کی نئی نئی امنگیں اور ولوے پیدا ہوتے ہیں اور اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں لونڈروں زرق برق ساڑیوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پر مسرت گھر ان کا راحت کدہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔

اور صاحبان پھر آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ نونہالان قوم کو درس گاہوں میں تعلیم پارہے ہیں، اور جن کی آئنفدہ ترقیوں سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں اور قیاس کہتا ہے کہ ایک نہ ایک دن قوم کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کا سہرا ان ہی کے سر بندے گا، انہیں بھی صبح و شام اسی بازار سے ہو کر جانا پڑتا ہے، یہ قبحائیں ہر وقت بارہ ابھرن سولہ سنگھار کئے ہرا راہ پر لے حجانہ نگاہ و مثر کے ٹیروسنان برساقی جوانی کے نشے میں سر شار سودوزیاں سے بے  پروہ نونہالان قوم اپنے جذبات و خیالات اور اپنی اعلی سیرت کو مصیبت کے مسموم اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ صاحبان؟ کیا ان کا حسن زاہد نونہالان قوم کو جادو مستقیم سے بھٹکا کر ان کے دل میں گناہ کی پر اسرار لذتوں کی تشنگی پیدا کر کے ایک بے کلی ایک اضطراب ایک ہیجان برپا نہ کردیتا ہوگا۔۔۔۔۔؟

اسی موضوع پر ایک رکن بلدیہ جو کسی زمانے میں مدرس رہ چکے تھے اور اعداد شمار رکھتے تھے بول اٹھے۔ صاحبان واضع رہے کہ امتحانوں میں ناکام رہنے والے طلبا کا تناسب پچھلے سال کی نسبت ڈیوڑیا سا ہوگیا ہے۔

ایک رکن جو چشمہ لگائے ہوئے تھے اور ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر اعزازی تھے تقریر کرتے ہوئے، حضرات ہمارے شہر سے روز بروز غیرت، شرافت، مردانگی، نیکوکاری اور پرہیزگاری اٹھتی جارہی ہے، اس کے بجائے بے غیرتی، نامردی، بزدلی، بدمعاشی، چوری اور جعل سازی کا دور دورہ ہوتا ہے، منشیا کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے، قتل و غارت، خود کشی اور دیوالیہ نکلنے کے وارداتیں بڑھ رہی ہیں، اس کا سبب محض ان زنان بازاری کا ناپاک وجود ہے، کیوں کہ ہمارے بھولے بھالے شہری ان کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو کر ہوش و خرو کھو بیٹھتےہیں، اور ان کے ہار سنگار تک رسائی حاصل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز طریق سے زر ہو جائے اور نہایت قبیح افعال کا ارتکاب کر بیتھے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے، کہ یا تو وہ جان عزیز ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یاجیل خانوںمیں پڑے سڑے ہیں۔

ایک پینشن یافتہ معمر رکن جو ایک وسیع خاندان کے سر پرست تھے اور دنیا کا  سردو گرم دیکھ چکے تھے اور اب کش مکش حیات سے تھک کر باقی تاندہ عمر سستانے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے سائے میں پنپتا ہوا دیکھنے کے متمنی تھے تقریر کرنے اٹھے، ان کی آواز لرزتی ہوئی اور لہجہ فریاد کا انداز لئیے ہوئے تھا، بولے صاحبان رات بھر ان لوگوں کے طبلے کی تھاپ ان کے گلے ببازیاں ان کے عشاق کی دھینگا مشتی، گالی گلوچ ، شور و غل ہاہاہاہاہاہاہوہوہوہو سن کر  آس پاس کے رہنے والے شرفا کے کان پک گئے ہیں، حلق میں جاں آگئی ہے رات کی نیند حرام ہےتو دن کا چین منقود علاوہ ازیں ان کے قریب سے ہماری بہو، بیٹو کے اخلاق پر جو برا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہر صاحب اولاد کو ہو سکتا ہے، آخری فقرہ کہتے کہتے ان کی آواز بھر آگئی اور وہ اس سےزیادہ کچھ نہ کہے سکے سب اراکین بلدیہ کو ان سے ہمدردی تھی، کیوں کہ بدقسمتی سے انکا قدیمی  مکان اس بازار حسن کے عین وسط میں واقع تھا۔

ان کےبعد ایک رکن بلدیہ نےجو پرانی تہذیب کے علم بردار تھے اور اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے تقریر کرتے ہوئے کہا۔

حضرات باہرسے جو سیاح اور ہمارے احباب اس مشہور اور تاریخ شہر کو دیکھنے آتے ہیں جب وہ اس بازار سے گزرتے اور اس کے متعلق استفار کرتے ہیں تو یقین کہ ہم پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔

اب صدر بلدیہ تقریر کرنے اٹھے گو قد ٹھنگنا تھا اور ہاتھ پائوں چھوٹے چھوٹے تھے مگر سر بڑا تھا جس کی وجہ سے برد باری آدمی معلوم ہوتے تھے، لہجہ میں حد درجہ متانت تھی بولے حضرات میں اس امر میں قطعی طور پر آپ سے متقف ہوں کہ اس طبقہ کا وجود ہمارے شہر اور ہمارے تہذیب و تمدن کیلئے باعث صد عار ہے لیکن مشل یہ ہے اس کا تدارک کس طرح کیا جائے، اگر ان لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ یہ اپنا ذلیل پیشہ چھوڑدیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کھائیں گے کہاں سے؟

ایک صاحب بولے اٹھے یہ عورتیں شادی کیوں نہیں کرلیتں۔

اس پر ایک طویل قہقہ پڑا اور ہال کی ماتمی فضا مینایک بارگی شگفتگی کے آثار پیدا ہو گئے، جب اجلاس میں خاموشی ہوئی تو صاحب صدر بولے حضرات یہ تجویز ہار بار ان لوگوں کے سامنے پیش کی جاچکی ہے، اس لئے ان کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے، کہ آسودہ اور عزت دار خاندانی، حرمت و ناموس کے خیال سے انہیں اپنے گھروں میں نہ گھسنے دیں گے اور مفلس اور ادنی طبقہ کے لوگوں کو جو محض ان کی دولت کیلئے ان سے شادی کرنے پر آمادہ ہوں گے یہ عورتیں خود منہ نہیں لگائیں گی۔

اس پر ایک صاحب بولے بلدیہ کو ان کے نجی معاملوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں، بلدیہ کے سامنے تو یہ مسئلہ ہے کہ یہ لوگ چاہے جہنم میں جائیں مگر اس شہر کو خالی کردیں۔

صدر نے کہا صاحبان یہ بھی آسان کام نہیں ہے، ان کی تعداد دس بیس نہیں سیکنڑوں پر پہنچتی ہے اور پھر ان میں سے بہت سے عورتوں کے ذاتی مکانات بھی ہیں۔

یہ مسئلہ کوئی مہینہ بھر کے زیر بحث رہا اور باآخر تمام اراکین کی اتفاق رائے سے  یہ امر قرار پایا کہ زنان بازاری کے مملوکہ مکانوں کو خرید لیا چاہئیے اور انکو رہنے کیلئے شہر سے کافی دور کوئی الگ تھلگ علاقہ دیا جائے، ان عورتون نے بلدیہ کے اسی فیصلہ کے خلاف سخت اختجاج کیا، بعض نے نا فرمانی کرکے بھاری جرمانے اور قیدیں تک بھگتیں، مگر بلدیہ کی مرضی کے آگے کوئی پیش نہ چل سکی اور وہ نا چار صبر کرکے  رہ گئیں۔

اس کے بعد ایک عرصہ تک ان زنان بازادی کے مملوکہ مکانوں کی فہرستیں اور نقشے تیارے ہوئے  اور مکانوں کے گاہک پیدا کئے جاتے رہے، پیشتر مکانوں کی بذریعہ نیلامی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان عورتوں کو چھ مہینے تک شہر میں اپنے پرانے مکانوں ہی میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ اس عرصہ میں وہ نئے علاقہ میں مکان بنواسکیں۔

ان عورتوں کیلئے جو علاقہ مختص کیا وہ شہر سے چھ کوس دور تھا، پانچ کوس تک سڑک جاتی تھی اور اسکے آگے کوس بھر کا کچا رستہ تھا، کسی زمانے میں وہاں کوئی بستی ہوگی مگر اب تو کھنڈرون کے سوا کچھ نہ رہا تھا، جن میں سانپون اور چمگادڑوں کے مسکن تھے اور دن دھاڑے الو بولتے تھے، اس علاقے کے نواح میں کچے گھروندوں والے کئی چھوٹے گاؤں تھے مگر کسی کا فاصلہ بھی یہاں سے دو ڈھائی میل سے کم نہ تھا، ان گاؤں کے بسنے والے کسان دن کے وقت کھیتی باڑی کرتے یا یوں ہی پھرتے پھراتے ادھر ادھر نکل آتے تو نکل آتے ورنہ عام طور پر اس شہر خموشاں میں آدم زاد کی صورت نظر نہ آتی تھی، بعض اوقات روز روشن ہی میں گیدڑ اس علاقے میں پھرتے دیکھے گئے تھے۔

پانسو سے کچھ اور بیواؤں میں سے صرف چودہ ایسی تھیں جو اپنے عشاق کی وابستگی یا خود اپنی دل بستگی یا کسی اور وجہ سے شہر کے قریب آزادانہ رہنے پر مجبور تھیں، اور اپنے دولت مند چاہنے والوں کی مستقل مالی سر پرستی کے بھروسے بادل ناخواستہ اسی شہر کے ہوٹلوں کو اپنا مسکن بنائیں گی، یا بظاہر ہر پارسائی کا جامہ پہن کر شہر کے شریف محلوں کے کونوں کھدروں میں چا چھپیں، یا پھر اسی شہر کو چھوڑ دیں گی۔

یہ چوودہ بیوائیں اچھی خاصی مال دار تھیں، اس شہر میں اسکے جو مملوجکہ مکان ان کے دام نہیں اچھے مل گئے اور اس علاقے میں زمین کی قیمت برائے نام تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے ملنے والی دل و جان سے ان کی مالی امداد کرنے کیلئے تیار تھے، چنانچہ انہوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے عالی شان مکان بنوائے کی ٹھان لی، ایک اونچی اور ہوار جگہ ٹوٹی پھوٹی قبروں سے ہٹ کر  منتخب کی گئی زمین کے قطعے صاف کرائے اور چابکدستی نقشہ نوسیوں سے مکان کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہوگیا۔

دن بھر اینٹ، مٹی، چونا شہتیرا گارڈ اور دوسرا عمارتی سامان لاریوں، بھکڑوں، خچروں، گدھوں،  اور انسانوں پر لدا کر اس بستی میں آتا اور منشی حساب کتاب کی کاپیاں بغلوں  میں دبائے انہیں گنواتے اور کاپیاں میں درج کرتے میر عمارت معماروں کو کام کے متعلق ہدایت دیتے، معمار مزدوروں کو ڈانٹتے مزدور اور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے، مزدور زینوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنئے ساتھ کام کرنے کیلئے بلاتے، غرض سارا دن ایک شور ایک ہنگامہ رہتا سارا دن آس پاس کے گائوں کے دیہاتی اپنے کھیتوں میں اور دیہاتوں میں اپنے گھروں میں ہوا کے جھونکوں کے ساتھ دور سے آتی ہوئی کھٹ کھٹ کی آوازیں سنی رہتیں۔

اس بستی کے کھنڈروںمیں ایک جگہ مسجد کے آثار تھے اور اس کے پاس ہی ایک کنواں تھا جو بند پڑا تھا، راج مزدوروں نے کچھ تو پانی حاصل کرنے اور بیٹھ کر سستانے کی غرض سے کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازی بھائیوں کی عبادت گزاری کے خیال سے سب سے پہلے اس کی مرمت کی، چونکہ یہ فائدہ بخش  اور ثواب کا کام تھا اس لئے کسی نے کچھ اعتراض نہ کیا، چنانچہ دو تین روز میں مسجد تیار ہوگئی۔

دن کو بارہ بجے جیسے ہی کھانا کھانے کی چھٹی ہوتی دو ڈھائی سوراج مزدور میر عمارت، منشی اور ان بیسوائوں کے رشتہ دار یا کارندے جو تعمیر کی نگرانی پر مامور تھے اس مسجد کے آس پاس جمع ہو جاتے اور اچھا خاصا میلا سا لگ جا تا تھا۔

ایک دن ایک دیہاتی بڑھیاجو پاس کے گاؤں میں رہتی تھی اس بستی کی خبر سن کر آگئی، اس کے ساتھ ایک خرو سال لڑکا تھا، دونوں نے مسجد کے قریب ایک درخت کے نیچے کھٹیا، سگریٹ، بیڑی ، چنے اور گڑکی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگا دیا بڑھیا کو آئے ابھی دو دن نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سا ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنوئیں کے پاس ایٹنوں کا ایک چھوٹا سا چبوترہ بنا پیسے کے دو دو شکر شربت کے گلاس بیچنے لگا، ایک کجنڑے کو جو خبر ہوئی تو ایک ٹوکڑے میں خر بوزے بھر کر لے آیا، اور خوانچہ والی بڑھیا، کے پاس بیٹھ کر لے لو خربوزہ ، شہد سے میٹھے خربوزے کی صدا لگانے لگا، اس شخص نے کیا کیا گھر سے سری پائے کی پکا دیگچی میں رکھ خوانچہ میں لگا کر تھوڑی سی روٹیا ں مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لےکر آموجود ہوا اور اسی بستی کے کارکنوں کو جنگل میں ہنڈیا کا مزا چکھانے لگا۔

ظہر اور عصر کے وقت میر عمارت معمار اور دوسرے مزدوروں سے کنویں سے پانی نکلوا کر وضو کرتے نظر آتے، ایک شخص مسجد میں جا کر اذان دیتا ، پھر ایک کو امام بنایا جاتا اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے، کسی گاؤں کے ایک ملا کے کان میں جو یہ بھنک پڑی کہ فلاں مسجد میں امام کی ضرورت ہے وہ دوسرے ہی دن علی الصباح ایک سبز و جردان میں قرآن شریف، پنچ سورہ، حل اور مسئلے مسائل کے چند چھوٹے چھوٹے رسالے رکھ کر آموجود ہوا اور اس مسجد کی امامت باقاعدہ طور پر اسے سونپ دی گئی۔

ہر روز تیسرے پہر گاؤں کا ایک کبابی سر پر اپنے سامان کا ٹوکرا اٹھائے آجاتا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس زمین پر چولھا بنا کر کباب کلیجی، دل اور گردے سیخوں پر چڑھا، بستی والوں کے ہاتھ بیچتا، ایک بھٹیاری نے جو یہ حال دیکھا تو اپنے میاں کو ساتھ لے کر مسجد کے سامنے میدان میں دھوپ سے بچنے کیلئے پھوس کا ایک چھپرا ڈال تنور گرم کرنے لگی، کبھی کبھی ایک نوجوان دیہاتی نائی پیھٹی پرانی کسبت گلے میں ڈالے جوتی کی ٹھوکروں سے راستے کے روٹوں کو لڑھکاتا ادھر ادھر کرتا گشت کرتا دیکھنے میں آجاتا۔

ان بیسوائوں کے مکانوں کی تعمیر کی نگرانی انکے رشتے دار یا کارندے کرتے ہی تھے، کسی کسی دن وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر  اپنے عشاق کے ہمراہ خود بھی اپنے اپنے مکانوں کو بنتا دیھکنے آجاتیں، اور غروب آفتاب سے پہلے یہاں نہ جاتیں اس موقع پر فقیروں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں سے آجاتیں اور جب تک خیرت نہ لی جاتی اپنی صداؤں سے برا برا شور مچاتی رہتیں اور انہیں بات کرنے نہ دیتیں، کبھی کبھی لفنگے اور اوباش بے کار عیاش لڑکے شہر سے پیدل چل کر بیسواؤں کی اس نئی بستی کی سن کر گن لینے آجاتے اور اگر ان بیسوائیں بھی آئی ہوتیں تو ان کی عید ہو جاتی اور وہ ان سے ہٹ کر ان کے گرد چکر لگاتے رہتے فقرے کستے، بے تکے قہقہے لگاتے عجیب عجیب شکلیں بناتے اور محبوبانہ حرکتیں کرتے، اس روز کبابی کی خوب بکِری ہوئی۔

اس علاقے میں جہاں تھوڑے ہی دن پہلے ہو کا عالم تھا اب ہر طرف گہما گہمی اور چہل پہل نظر آنے لگی، شروع شروع میں اس علاقے کی ویرانی سے ان بیسواؤں کو یہاں آکر رہنے کے خیال سے جو وحشت ہوتی ہے وہ بڑی حد تک جاتی رہی تھی اور اب وہ ہر مرتبہ خوش خوش اپنے مکانوں کی آرائش اور اپنے مرغوب رنگوں کے متعلق معماروں کو تاکید کرجاتی ہیں۔

بستی میں ایک جگہ ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسی بزرگ کا معلوم ہوتا تھا، جب یہ مکان نصف سے زیادہ تعمیر ہوچکے تو ایک دن بستی کے راج مزدوروں نے کیا دیکھا کہ مزار کے پاس سے دھواں اٹھ رہا ہے سرخ سرخ  آنکھوں والا لمبا تڑنگا مست فقیر لنگوٹ باندھے صفائی کرتے دیکھا گیا  اور کنکر پتھرا ٹھ رہاا تھا اور کنکر پتھر اٹھا کے پرے پھینک رہا تھا، دوپہر کو وہ فقیر ایک گھڑالے کے کنوئیں پر آیا اور پانی بھر کر اٹھا کر مزار پر لے جانے لگا اور اسے دھونے لگا، ایک دفعہ جو آیا تو کنوئیں پر دو تین راج مزدور کھڑے تھے ان سے کہنے لگا جانتے ہو یہ مزار کسا کا ہے؟ کڑک شاہ پیر بادشاہ کا، میرے باپ دادا جان کے مجاور تھے، اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں میں آنسو بھر بھر کے پیر کڑک شاہ کی کچھ جلالی کرامت بھی ان راج مزدوروں سے بیان کیں۔

شام کو یہ فقیر کہیں سے مانگ تانگ کر مٹی کے دو دئیے اور سرسوں کا تیل لے آیا اور پیر کڑک شاہ کی قبر کے سرہانے اور پائنتی چراغ روشن کر دئیے، رات کو پچھلے پہر کبھی کبھی اس مزار سے اللہ ہو کا مست نعرہ سنائی دے جاتا۔

چھ مہینے گزر نہ پائے کہ یہ چودہ مکان بن کر تیار ہوگئے، یہ سب دو منزلہ اور قریب قریب ایک ہی وضع کے تھے، سات ایک طرف اور سات دوسری طرف بیچ میں چوڑی سڑک تھی اور ہر ایک مکان کے نیچے چار چار دکانیں تھیں، مکان کی بالائی منزل میں سڑک کے رخ وسیع برآمدہ تھا، اس کے آگے بیٹھنے کیلئے کشتی نما شہ بنائی گئی تھی، جس کے دونوں سروں پر یا تو سنگ مر مر کے مور رقص کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے اور یا جل پریون کے مجسمے تراشے گئے تھے جن کا آدھا دھڑ مچھلی کا اور آدھا انسان کا تھا، برآمدے کے پیچھے جوا بڑا کمرہ تھا اس میں سنگ مر مر کے نازک نازک ستون بنائے گئے تھے دیواروں پر خوش نما چچی کاری گئی تھی، فرش سبز چمک دار اور پتھروں کا بنایا گیا تھا، جب سنگ مر مر کے ستونوں کے عکس اس فرش پر پڑتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا گویا سفید براق پروں والے راج ہنسوں نے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھیل میں ڈبو دی ہیں۔

بدھ کا شبھ دن اس بستی میں آنے لے لئے مقرر کیا گیا، اس روز بستی کی سب  بیسواؤں نے مل کر بہت بھاری نیاز دلوای بستی کے کھلے میدان میں زمین کو صاف کرکے شامانے نصب کردئیے دیگیں کھڑکنے کی آواز اور گوشت اور گھی کی خوشبو بیس بیس کوس سے فقیروں اور کتوں کو کھینچ لائی دوپہر ہوتے ہوتے ہوئے پیر کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسیم کیا جاتا تھا اس قدر فقیر جمع ہوگئے کہ عید کے روز کس بڑے شہر کی جامع مسجد کے پاس بھی نہ ہوئے ہوں گے، پیر کڑکٹ شاہ کے مزار کو خوب صاف کرایا اور دُھلوایا گیا، اور اس پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اس مست فقیر کو نیا جوڑا سلوا کر پہنا یا گیا جسے اس نے پہنتے ہی پھاڑ دیا۔

شام کو شامیانے کے نیچے دودھ سی اجلی چاندنی کا فرش کردیا گیا تھا گاؤ  تکیے لگا دئے گئے،  پان دان، پیک دان پیچودان اور گلاب پاش رکھ دئیے گئے اور راگ رنگ کی محفل سجائی گئی دور دور سے بہت سے  بیسوائیوں کو بلوایا گیا جوان کی سہلیاں یا برادری کی تھیں ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے آئے جن کیلئے ایک الگ شامانے میں کرسیوں کا انتظام کیا گیا تھا، اور ان کے سامنے کے رخ چقیں ڈال دی گئیں، بے شمار گیسوں کی روشنی سے یہ جگہ بقہ نور بنی ہوئی تھی، ان بیسوائوں کے توندل سیاہ فام سازندے زربفت اور  کمخواب کی شیروانیاں پہنے عطر  میں بسے ہوئے پھوئے کانوں میں رکھے ادھر ادھر مونچھوں کو تاؤں دیے پھرتے اور زرق برق لباسوں اور تتلی کے پر سے بھی باریک ساڑیوں میں ملبوس، غاروں اور خوشبوں سے بسی ہوئی نازنین انکھیوں سے چلتیں رات بھر رقص و سرور کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل میں منگل ہوگیا۔

دو تین دن کے بعد اس جشن کی تھکاوٹ اتر گئی تو یہ بیسوائیں سازو سامان کی فراہمی اور مکانوں کی آرائش میں مصروف ہوگئیں، جھاڑ، فانوس، ظروف، بلوری قد آدم آئینے، نواڑی پلنگ، تصویریں اور قطعات سنہری چوکھٹوں میں جڑے ہوئے لائے گئے اور قرینے سے کمروں میں لگائے گئے اور کوئی آٹھ روز میں جاکر یہ مکان کیل کانٹے سے لیس ہوئے، یہ عورتیں دن کا بیشتر حصہ تو استادوں سے رقص و سرور کی تعلیم لینے غزلیں یاد کرنے، دھنیں بٹھانے سبق پڑھنے تخجتی لکھنے ، سینے پرونے، کاڑھنے گراموفون سننے، استادوں سے تاش اور کریم کھیلنے، ضلع جگت، نوک جھونک سے جی بہلانے یا سونے میں سونے میں گزارتین اور تیسرے پہر غسل خانوں میں نہانے جاتیں جہاں ان کے ملازموں نے دستی پمپوں سے پانی نکال نکال کر ٹب میں بھر  رکھے ہوتے ہیں اس کے بعد وہ بناؤ سنگار میں مصروف ہوجاتیں۔

جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا یہ مکان گیسوں کی روشنی سے جگمگا اٹھتے جو جا بجا سنگ مر مر  کےآدھے کھلے ہوئے کنولوں میں نہایت سفائی سے چھپائے گئے تھے اور ان مکانوں کی کھڑکیوں اور دوازوں کے کواڑوں کے شیشے کو پھول پتیوں کی وضع کے کاٹ کر جڑے گئے تھے ان کی قوس قزح کے رنگوں کی سی روشنیاں دور سے جھل مل  کرتی ہوئی نہایت بھلی معلوم ہوتی، یہ بسوائیں بناؤ سنگار کئے برآمدے میں ٹہلتی آس پاس والیوں سے باتیں کرتیں ہنستیں کھلکھلاتیں۔

جب کھڑے کھڑے تھک جاتی تو اندر کمرے میں چاندنی کے فرش پر گائو تکیے سے لگ کر بیٹھ جاتیں، ان کے سازندے ساز ملاتے رہتے اور یہ چھالیا کترتی رہتیں، جب رات ذرا بھیگ جاتی تو ان کے ملنے والے ٹوکروں میں شراب کی بوتلیں اور پھل پھلاری لیے اپنے دوستوں کے ساتھ موٹروں یا تانگوں میں بیٹھ کر آتے، اس بستی میں ان کے قدم رکھتے ہی  ایک خاص گہما گہمی اور چہل پہلے ہونے لگتی، نغمہ و سرو ساز کے سر رقص کرتی ہوئی نازنینوں کے گھنگھروں کی آواز قلقل مینا میں مل کر ایک عجیب سرور کی کیفیت پیدا کردیتی ہے، عیش و مستی کے ان ہنگاموں میں معلوم بھی نہ ہوتا اور رات بت جاتی۔

ان بیسوائوں کو اس بستی  میں آئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ دکانوں کے کرایہ دار پیدا ہونے شروع ہوگئے، جن کا کرایہ اس بستی کو آباد کرنے کے خیال سے بہت کم رکھا گھا تھا، سب سے پہلے جو دکان دار آیا وہ بڑھیا تھی، جس نے سب سے پہلے مسجد کے سامنے درخت نیچے خوانچہ لگایا تھا، دوکان کو پر کرنے کیلئے بڑھیا اور اس کا لڑکا سگرٹوں کے بہت سے خالی ڈبے اٹھالائے اور انہیں منبر کے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا، بوتلوں میں رنگ دار پانی بھر دیا گیا تاکہ معلوم ہو شربت کی بوتلیں ہیں، بڑھیانے اپنی بساط کے مطابق کاغذی پھولوں اور سگریٹ کی خالی ڈبیوں سے بنائی ہوئی  بیلوں سے دکان کی کچی آرائش بھی کی، بعض ایکڑوں اور ایکرٹسوں  کی تصویریں پرانے فلمی رسالوں سے نکال کر  دیواروں سے چپکا دیں، دوکان کا اصل مال دو تین قسم کے سگریٹ تین تن چار چار پیکٹوں بیڑی کے آٹھ دس بنڈلو دیا سلائی کے نصف درجن ڈبیوں پانوں کی ایک ڈھولی پینے کے تمباکو کی تین چار ٹکیاں اور موم بتی کے نصف بنڈل سے زیادہ نہ تھا۔

دوسری دوکان میں ایک بنیا، تیسری میں حلوائی اور شیر فروش،  چوتھی میں قصائی، پانچویں میں کبابی اور چھٹی میں کنجڑے آبسے کنجڑا آس پاس کے دیہات سے سستی داموں چار پانچ قسم کی سبزیاں لے آتا اور یہاں خاصے منافعے پر بیچ دیتا، ایک آدھ ٹوکرا پھلوں کا بھی رکھ لیتا چونکہ دوکان خاصی کھلی تھی ایک پھول والا اس کا ساجھی بن گیا، وہ دن بھر پھولوں کے ہار گجرے اور طرح طرح کے گہنے بناتا اور شام کو انہیں چنگیر میں ڈال کر ایک ایک مکان میں لے جاتا اور نہ صرف پھول ہی بیچ آتا بلکہ ہر جگہ ایک ایک دو دو گھڑی بیٹھ کے سازندوں سے گپ شپ بھی ہانک لیتا، اور حقے کے دم بھی بھرتا، جس دن تماش بینوں کی کوئی ٹولی اس کی موجودگی میں میں کوٹھے پر چڑھ آتی ہے اور گانا  بجانا شروع ہوجاتا تو وہ سازندوں کے ناک بھاؤں  چڑھانے کے باوجود بھی اٹھنے کا نام نہ لیتا، مزے سے گانے پر سردھنستا اور بیوقوفوں کی طرح ایک ایک کی صورت تکتا رہتا، جس دن رات زیادہ گزر جاتی اور کوئی ہار بچ جاتا تو اسے اپنے گلے میں ڈال لیتاور بستی کے باہر گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتا پھرتا۔

ایک دکان میں ایک بیسوا کا بھائی اور باپ جو درزیوں کا کام جانتے تھے سینہ کی ایک مشین رکھ کر بیٹھ گئے، ہوتے ہوتے ایک حجام بھی آگیا اور اپنے ساتھ ایک رنگریز کو بھی لیتا آیا، اسی دوکان کے باہر الگنی پر لٹکے ہوئے اس طرح کے رنگوں کے لہریا دوپٹے ہوا میں لہراتے ہوئے آنکھوں کو بہت بھلے معلوم ہونےلگے۔

چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک ٹٹ پونچیے بساطی جس کی دکان شہر میں چلتی نہ تھی بلکہ اس دکان کا کرایہ نکالنا بھی مشکل ہوجاتا تھا شہر کو خیر آباد کہہ کر اسی بستی کا رخ کیا، یہاں اسےہاتھوں ہاتھ لیا اور طرح طرح کے لونڈر، قسم قسم کے پاوڈر، صابن، کنگھیاں بٹن سوئی دھاگالیس، فیتے، خوشبودار تیل رومال منجن وغیرہ کی خوب بکری ہونے لگی۔

اس بستی کے رہنے والوں کو سرپرستی اور ان کے مربیانہ سلوک کی وجہ سے اس طرح دوسرے تیسرے کوئی نہ کوئی ٹٹ پونچھیا دکان دار کوئی بزاز کوئی پنساری، کوئی نیچہ بند، کوئی ہابنائی مندے کی وجہ سے یا شہر کے بڑھے ہوئے کرایوں سے گھرا کر اس بستی میں آپناہ لیتا۔

ایک بڑے میاں عطار جو حکمت میں بھی کس قدر دخل رکھتے تھے، ان کا جی شہر کی گنجان آبادی سے گھبرایا تو وہ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے شہر سے اٹھ آئے اسی بستی میں ایک دوکان کرائے پر لی، ہر روز صبح کو بیسوائوں کے ملازم گلاس لے لے کر، آموجود ہوتے اور شربت بزوری، شربت بنفشہ، شربت انار اویسے ہی نزبت بخش روح افزا شربت و عرق خمرہ گائو زبان اور تقویت پہنچانے والئے مربے مع ورق ہائے نقرہ لے جاتے۔

جو دکانیں بچ رہیں ان میں بیسوائوں کے بھائی بندوں اور سازندوں نے اپنی چار پائیاں ڈال دیں، دن بھر  یہ لوگ ان دکانوں میں تاش چوسر اور شطرنج کھیلتے بدن پر تیل ملواتے، سبزی گھوٹتے، بیڑوں کی پالیاں کراتے تیتروں سے سبحان تیری قدرت کی رٹ لگواتے اور گھڑا بجا بجا کر گاتے۔

ایک بیسوا کے سازندے نے ایک دوکان خالی دیکھ کر اپنے بھائی کو جو ساز بنانا جانتا تھا اس میں لا بیٹھایا، دوکان کی دیوار کے ساتھ ساتھ کیلیں ٹھونک کر ٹوٹی پھوٹی مرمت طلب سارنگیاں، ستار، طعنبورے، دل رہا وغیرہ تانک کردئیے، یہ شخص ستار بجانے میں بھی کمال رکھا تھا، شام کو وہ اپنی دکان میں ستاربجاتا جس کی میٹھی آواز سن کر آس پاس کے دوکان دار آجاتے اور دیر تک بت بنے سنتے رہتے، اس ستار نواز کا ایک شاگرد تھا جو ریلوے کے دفتر میں کلرک تھا، اسے ستار سیکھنے کا بہت شوق تھا جیسے ہی دفتر سے چھٹی ہوتی سیدھا اڑتا ہوا اس بستی کا رخ کرتا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کر مشق کیا کرتا،غرض اس استار نواز کے دم سے بستی میں خاصی رونق رہنے لگی۔

مسجد کے ملاجی جب تک یہ بستی زیر تعمیرر ہی،  رات کو دیہات میں اپنے گھر چلے جاتے رہے، مگر اب کہ انہیں دونوں وقت مرگن کھانا بافرط پہنچنے لگا تو وہ رات کو بھی یہیں رہنے لگے، رفتہ رفتہ بیسوائوں کے گھروں سے بچے بھی مسجد میں آنے لگے جس سے ملا جی کو روپے پیسے کی آمدنی ہونے لگی۔

ایک شہر گھومنے والی گھٹیا درجہ کی تھیڑ یکل کمپنی کو جب زمین کے چرھنے ہوئے کرائے اور اپنی بے مانگی کے باعث شہر میں کہیں جگہ نہ ملی تو اس نے اس بستی کا رخ کیا، اور بیسوائوں کے مکانوں کے کچھ فاصلے پر میدان میں تینوں کھڑے کرکے ڈیرے ڈالے دئیے، اس کے ایکڑ اور اداکاری کے فن سے محض نا بلند تھے، ان کے ڈریس پھٹے پرانے تھے، جب کے بہت سے ستارے جھڑ چکے تھے اور یہ لوگ تماشےبھی بہت پرانے اور دقیانوسی سکھاتے تھے، مگر اس کے باوجود کمپنی چل نکلی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹکٹ کے دام بہت کم تھے، شہر کے مزدور پیشہ لوگ کا رخانوں میں کام کرنے والے غریب غربا  جو دن  بھر کی کڑی محنت و مشقت کی کسر شور و غل، خرمستیوں اور ادنی عیاشیوں سے نکالنا چاہتے تھے، پانچ پانچ چھ چھ کی ٹولیاں بناکر گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ہنستے بولتے، بانسریاں اور الفوز بجاتے راہ چلتیوں پر آوازیں کستے ، گالی گلوچ کرتے شہر سے پیدل چل کر تھیڑ دیکھنے آتے اور لگے ہاتھوں  بازار حسن کی بھی سیر کرجاتے، جب تک ناٹک شروع نہ ہوتا تھیڑ کا ایک مسخر تنبور کے باہر ایک اسٹول پر کھڑا کبھی ہلاتا ، کبھی منہ پھلاتا ، کبھی آنکھیں مٹکاتا، عجیب حیا سوا حرکتیں کرتا جنہیں دیکھ کر لوگ زور زور سے قہقہے لگاتے اور گالیوں کی صورت میں داد دیتے۔

رفتہ رفتہ دوسرے لوگ بھی اس بستی میں آنے لگے چناچہ شہر کے بڑے بڑے چوکوں میں تانگے والے صدائیں لگانے لگے، آؤ کوئی نئی بستی کو شہر سے پانچ کوس تک جو پکی سڑک تھی، اس پر پہنچ کر تانگے والے سواریوں سے انعام حاصل کرنے کے لالچ میں یا ان کی فرمائش پر تانگوں کی دوڑیں کراتے، منہ سے ہارن بجاتے، اس دوڑ میں غریب گھوڑوں کا برا حال ہوجاتا ہے ان کے گلے میں پڑے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے بجائے خوشبوں کے پسینے کی بدبو آنے لگتی ہے، رکشا والے تانگوں والوں سے کیوں پیچھے رہتے، وہ ان سے کم داموں پر سواریاں بٹھا کرغرارے بھرتے اور گھنگھروں بجاتے اس بستی کو جانے لگے، علاوہ ازیں ہر ہفتے کی شام کو اسکولوں کالجوں کے طلبہ ایک ایک سائیکل پر دو دو لد کر جوق در جوق اس پر اسرار بازار کی سیر کرنے آتے جس سے ان کے خیال کے مطابق ان کے بڑوں نے خواہ مخواہ محروم کردیا تھا۔

رفتہ رفتہ اس بستی کی شہرت چاروں طرف پھیلنے اور مکانوں اور دکانوں کی مانگ ہونے لگی، کئی عورتیں نےتو جھٹ زمین خرید کر ان بیسوائوں کے ساتھ ساتھ وضع قطق کے مکان بنوانے شروع کئیے، علاوہ ازیں شہر کے بعض مہاجنوں نے بھی اس بستی کے آس پاس سستے داموں زمنیں خرید خرید کر کرایہ پر اٹھانے کیلئے چھوٹے چھوٹے کئی مکان بنواڈلے نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فاحشہ عورتیں جو ہوٹلوں میں شریف محلوں میں روپوش تھیں، مور ملخ کی طرح اپنے نہاں خانوں سے باہر نکل آئیں اوران مکانوں میں آباد ہوگئیں، چھوٹے مکانوں میں اس بستی کے وہ دوکان دار آبسے جو عیاں دار تھے اور رات کو دکان میں سو نہ سکتے تھے۔

اس بستی میں آبادی تو خاصی ہوگئی تھی مگر اب بھی بجلی کی روشنی کا انتظام نہیں ہوا تھا، چنانچہ ان بیسوائوں اور بستی کے تمام رہنے والوں کی طرف سے  سرکار کے پاس بجلی کیلئے درخواست بھیجی گئی تھی جو تھوڑے دنوں بعد منظور کرلی گئی اس کے ساتھ ہی ایک ڈاک خانہ بھی کھول دیا گیا، ایک بڑے میاں ڈاک خانے کے پاس ایک صندوقچے میں لفافے کارڈ اور قلم دوات رکھ کر بستی کے لوگوں کے خط پتر لکھنے لگے۔

ایک دفعہ بستی میں شرابیوں کی دو ٹولیوں میں فساد ہوگیا، اس میں سو ڈا واٹر کی بوتلیں چاقوں اور انیٹوں کا آزادانہ استعمال کی گیا اور کئی لوگ سخت مجروح ہوئے اس پر سرکار کو خیال آیا کہ اس بستی میں ایک تھانہ بھی کھول دینا چاہئیے۔

تھیٹریکل کمپنی  دو مہینے تک رہی اور اپنی بساط کے مطابق خاصا کمانے لگی، اس پر شہر کے ایک سنیما کے مالک نے سوچا کہ کیوں نہ اس بستی میں سنیما کھول دیا جائے، یہ خیال آنے کی  موقع کی جگہ چن کر خرید کر لی جائے  لی اور جلد از جلد دیر تھی  کہ اس نے تعمیرکرا کےکام شروع کروادیا، چند ہی مہینوں میں سنیما ہال تیار ہوگیا، اس کے باہر ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی لگوایا گیا تاکہ تماشائی اگر بائیکسوپ شروع نے سے پہلے آجائیں تو آرام سے باغیچہ میں بیٹھ سکیں، ان کے ساتھ بستی کے لوگ یوں ہی سستانے یا سر دیکھنے کی غرض سے آکے بیٹھنے لگے، یا باغیچہ خاصا سیرگاہ بن گیا، رفتہ رفتہ سقے کٹوار بجاتے اس باغیچے میں آنے اور پیاسوں کی پیاس بھجانے لگے، سر کے تیل مالش والے نہاہت گھٹیا قسم کے تیز خوشبودار تیل کی شیشیاں واسکٹ کی جیبیوں میں ٹھوسنے کاندھے پر میلا کچیلا تولیہ ڈالے، دل پسند بہار مالش کی صدا لگاتے درد سر  کے مریضوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگے، سنیما کے مالک نے سنیما ہال کی عمارت کی بیرونی جانب دو ایک مکان اور کئی دوکانیں بھی بنوائیں، مکان میں تو ہوٹل کھل گیا جس میں رات کو قیام کرنے کیلئے کمرے بھی مل سکتے تھے، اور دکانوں میں ایک سوڈا واٹر کی فیکٹری والا ایک فوٹو گرافر۔ایک سائیکل مرمت والا، ایک لانڈری والا دو پٹواری، ایک بوٹ شاپ والا، اور ایک ڈاکٹر مع اپنے دواخانہ کے آرہے، ہوتے  ہوتے پاس ہی ایک دکان میں کلال خانہ کھلنے کی اجازر ملی گئی، فوٹو گرافر کی دکان کے باہر ایک کونے میں ایک گھڑی ساز آڈیرا جمالایا اور ہر وقت محب شیشہ آنکھ پر چڑھائے گھڑیوں کا کل پرزوں پر غلطاں و پچیاں رہنے لگا۔

اس کے کچھ ہی دنوں بعد بسی میں، نل، روشنی اور صفائی کا باقاعدہ انتظام کی طرف توجہ کی جانے لگی، سرکای کارندے، سرج جھنڈیا، جریبیں اور اونچ نیچ دیکھنے والے لے لے کر آن پہنچے اور ناپ ناپ کر سڑکوں اور گلی کوچوں کی داغ بیل ڈالنے لگے اور بستی کی کچی سڑکوں پر سڑک کوٹنے والا انجن چلنے لگا۔

اس واقعہ کو بیس برس گزر چکے ہیں یہ بستی ایک بھرا ہوا شہر بن چکا ہے، جس کا اپنا ریلوے اسٹیشن اور ٹاؤن ہال بھی، کچہری بھی اور جیل خانے بھی آبای ڈھائی کے لگ بھگ شہر میں ایک کالج دوہائی اسکول ایک لڑکوں کیلئے ایک لڑکیوں کیلئے اور آٹھ پرائمری اسکول ہیں جن میں میونسپلٹی کی طرف مفت تعلیم دی جاتی ہے، چھ سنیما ہیں اور چار بنک جن میں سے دو دنیا کے بڑے بڑے بینکوں کی شاخیں ہیں۔

شہر سے  روزانہ تین ہفتہ وار دس ماہانہ رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں ان میں چار ادبی،  دو اخلاقی و معاشرتی و مذہبی، ایک صنعتی، ایک طبی ، ایک زنانہ ، ایک بچوں کا رسالہ ہے، شہر کے مختلف حصوں میں دو مسجدیں، پندرہ مندر اور دھرم شالے، چھ یتیم خانے، پانچ اناتھ آشرم اور تین بڑے سرکاری ہسپتال ہیں جن میں ایک صرف عورتوں کیلئے مخصوص ہے۔

شروع شروع میں کئی سال تک یہ شہر اپنے رہنے والوں کی مناسبت سے حُسن آباد، کے نام سے موسم کیا جاتا رہا مگر بعد میں اسے نا مناسب سمجھ کر اس میں تھوڑی سی ترمیم کر دی گئی یعنی بجائے حسن آباد کہلانے لگا مگر یہ نام چل نہ سکا کیوں کہ عوام حسن اور حسن میں کچھ امتیاز نہ کرتے، آخر بڑی بڑی بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی اور پرانے نوشتوں کی چھان بین کے بعد اس کا اصلی نام دریافت کیا گیا جس سے یہ بستی آج سے سینکڑوں برس اجڑنے سے پہلے موسوم تھی اور وہ نام ہے آننندی۔

یوں تو سارا شہر بھر صاف ستھرا اور خوشنما ہے مگر سب سے بارونق اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز وہی بازار ہے جس میں زنان بازاری ہوتی ہے۔

آنندی کے بلدیہ کا اجلاس زوروں پر ہے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور خلاف معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہیں بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ زنان بازار  شہر بدر کردیا جائے، کیوں کہ ان کا وجود انسانیت اور شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے، ایک فصیح البیان مقرر کر رہے ہیں، معلوم نہیں وہ کیا مصلحت تھی جس کے زیر اثر اس ناپاک طبقے کو ہمارے اس قدیمی تاریخی شہر کے عین بیچوں بیچ رہنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس مرتبہ ان عورتوں کے رہنے کیلئے جو علاقہ منتخب کیا گیا وہ شہر سے بارہ کوس دور تھا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo