ساغرؔ صدیقی نہ ہوتا در محمدؐ کا تو دیوانے کہاں جات…

[ad_1] ساغرؔ صدیقی
نہ ہوتا در محمدؐ کا تو دیوانے کہاں جاتے
خدا سے اپنے دل کی بات منوانے کہاں جاتے
جنہیں عشقِ محمدؐ نے کیا ادراک سے بالا
حقیقت اِن تمنّاؤں کی سمجھانے کہاں جاتے
خدا کا شُکر ہے یہ، حجرِ اسود تک رسائی ہے
جنہیں کعبے سے نِسبت ہے وہ بُتخانے کہاں جاتے
اگر آتی نہ خوشبوئے مدینہ آنکھوں سے
جو مرتے ہیں نہ جلتے ہیں وہ پروانے کہاں جاتے
سِمٹ آئے میری آنکھوں میں حُسنِ زندگی بن کر
شرابِ درد سے مخمور نذرانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا ہے نعتِ ساغرؔ کام آئی
غلامانِ نبیؐ محشر میں پہچانے کہاں جاتے
……
مخمور دہلوی
یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے
ترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے
قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیں
مری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے
نہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائی
ہجوم غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے
میں اپنے آنسوؤں کو کیسے دامن میں چھپا لیتا
جو پلکوں تک چلے آئے وہ افسانے کہاں جاتے
تمہارے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں دیوانے
یہ اپنے ہوش میں ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے
اگر کوئی حریم ناز کے پردے اٹھا دیتا
تو پھر کعبہ کہاں رہتا صنم خانے کہاں جاتے
نہیں تھا مستحق مخمورؔ رندوں کے سوا کوئی
نہ ہوتے ہم تو پھر لبریز پیمانے کہاں جاتے
……..
قتیل شفائی
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے
تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
……….
شکیل بدایونی
نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتے
اگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہُوا اپنوں میں کوئی غیر تو نکلا
اگر ہوتے سب ہی اپنے تو بیگانے کہاں جاتے
دعائیں دو محبت ہم نے مِٹ کر تم کو سکھا دی
نہ جلتی شمع محفل میں تو پروانے کہاں جاتے
تمہی نے غم کی دولت دی بڑا احسان فرمایا
زمانے بھر کے آگے ہاتھ پھیلانے کہاں جاتے
…….
پیر نصیر الدین نصیر
بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے
تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے
خدا کا شکر ، شمع رُخ لیے آۓ وہ محفل میں
جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے
اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی
کسی نے کس کی میت لوگ دفنانے کہاں جاتے
خدا آباد رکھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا
وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے
نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ
کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے
………
حسن چشتی
حدودِ صحنِ گُلشن سے یہ دیوانے کہاں جاتے
اگر جاتے یہ دل والے تو پہچانے کہاں جاتے
ہوا اچھا کہ محفل میں وہ ہم سے دور بیٹھے ہیں
وگرنہ ہم دلِ مضطر کو سمجھانے کہاں جاتے
پرستِش کی تمنّا بُت تراشی پر ہوئی مائل
اگر آزر نہ بنتے ہم تو بُت خانے کہاں جاتے
ہمیں دیکھا سرِ محفل تو نظریں جُھک گئیں اُن کی
نظر ملتی اگر ہم سے تو شرمانے کہاں جاتے
ہمارے دَم سے سارے میکدوں کا ہے بھرم ساقی
نہ ہوتے ہم تو میخانے خدا جانے کہاں جاتے
اگر ہم میکدے میں بادہ و ساغر نہ چھلکاتے
تو پیمانوں کا کیا ہوتا، یہ میخانے کہاں جاتے
خرد والے تو اکثر اپنا گلشن چھوڑ دیتے ہیں
حسنؔ گلشن کے دیوانے ہیں، دیوانے کہاں جاتے
……
وحید القادری عارف
نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
نہ ملتا آستاں ان کا تو دیوانے کہاں جاتے
گدا ہیں ان کے در کے بس یہی پہچان ہے اپنی
نہ ہوتے ان سے وابستہ تو پہچانے کہاں جاتے
اُنہی سے عقدہء پیچیدہ سارے حل ہوئے ورنہ
جہاں میں فلسفے جتنے بھی ہوں مانے کہاں جاتے
جھکایا سر یہاں تو سربلندی ہوگئی حاصل
یہی اک در ہے ورنہ خود پہ اِترانے کہاں جاتے
حیاتِ نو یہاں ملتی ہے اپنی جاں سے جانے میں
تو پھر اس شمع سے جاتے تو پروانے کہاں جاتے
خدا کا شکر ہے قسمت مجھے اس در پہ لے آئی
اُٹھائے بوجھ عصیاں کا مرے شانے کہاں جاتے
اُنہی سے بزمِ ہستی کی نمود و نام و آرایش
نہ ہوتے وہ اگر ہم میں تو ہم جانے کہاں جاتے
ہمیں نسبت ہماری ٹوٹنے دیتی نہیں عارفؔ
بکھر جاتے تو اپنے آپ کو پانے کہاں جاتے
…….
شکیل حنیف
اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے
تمہاری بزم سے اٹھتے تو ہم جانے کہاں جاتے
تمہارے ساتھ دل خوش ہے تمہارے پاس بہلا ہے
تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو بہلانے کہاں جاتے
ستائش کی خواہش حسن کو مخمور رکھتی ہے
اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیوانے کہاں جاتے
لۓ جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں
اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے
سر محفل ہی جلنا شمع کا اچھی روایت ہے
وگر نہ دید کی خاطر یہ پروانے کہاں جاتے
شکیل اپنی جو شہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے
وگر نہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے
………
فیصل قادری گنوری
فروزاں شمع الفت ہےیہ پروانے کہاں جاتے
تری محفل سے اٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے
سہارا بس تمہارا ہے ہمارا کون ہے اپنا
تمہارا چھوڑ کر در ٹھوکریں کھانے کہاں جاتے
پلا کر مست کر ڈالا ہے ساقی نے نگاہوں سے
بھلا ساغر کو پینے اب یہ میخانے کہاں جاتے
سجا رکھی ہے مورت دل کے اندر بس تری جاناں
بتوں کو پوجنے جاناں صنم خانے کہاں جاتے
ترے در کی گدائی نے جہاں میں کر دیا مشہور
گدا تیرے نہ ہم ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے
اگر ہم روبرو ہو کر نہ پیتے ان سے جوفیصل
نگاہِ یار سے چھلکے یہ پیمانے کہاں جاتے


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo