ڈاکٹر مقصود زاہدی کی وفات November 06, 1996 سرخ و…

[ad_1] ڈاکٹر مقصود زاہدی کی وفات
November 06, 1996

سرخ و سفید رنگ، چھریرا بدن، خوش لباس، خوش گفتار، وضعدار اور انتہائی نفیس انسان۔ جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا ہم آج ڈاکٹر مقصود زاہدی کو یاد کررہے ہیں۔ مقصود زاہدی کا شمار ان قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملتان کے ادبی خدوخال نکھارنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ صدر بازار میں جہاں دہی بھلوں کی دکانوں کے سامنے اب جوتوں کی ایک دکان ہے اسی جگہ پر ڈاکٹر مقصود زاہدی کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ یہاں شعروادب کی باتیں ہوتی تھیں۔ علمی بحثیں ہوتی تھیں۔ فارغ بخاری، وزیر آغا، انور سدید، عرش صدیقی، جابر علی سید جیسی شخصیات اسی کلینک پر ڈاکٹر مقصود زاہدی کو ملنے آتی تھیں۔ یہ کلینک شہر کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ مقصود زاہدی شاعر بھی تھے اور نثر نگا ر بھی۔ شاعری میں انہوں نے رباعی جیسی مشکل صنفِ سخن کو اپنایا اور اس صنف میں انتہائی مشکل موضوعات کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ سمودیا۔ نثر میں انہوں نے آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ اس کے بعد تنقید لکھی اور بہت رواں دواں انداز میں خاکے بھی تحریر کئے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1942ء میں ’’ذکر وفکر‘‘ خاکوں کا مجموعہ 1975ء میں ’’یادوں کے سائے‘‘ اور رباعیات کا مجموعہ 1992ء ’’چہارسو‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 1978ء میں ہوئی جب ہم آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ان کی بارعب اور پروقار شخصیت کو دیکھ کران کے ساتھ ملاقات کا حوصلہ ہی نہ پڑتا تھا پھر ایک روز ہمت کرکے ہم ان کے کلینک میں داخل ہوئے، انہیں سلام کیا اور آٹو گراف بک ان کے سامنے رکھ دی ۔یہ آٹو گراف بک ہم نے خریدی ہی اس لئے تھی کہ آٹو گراف کے بہانے زاہدی صاحب سے ملاقات کر سکیں ۔ مقصود زاہدی نے مسکرا کر اس پر ایک مصرعہ لکھ دیا۔
صبر و محنت میں ہے سرافرازی
یہ کسی بزرگ کی پہلی نصیحت تھی جوہمیشہ کیلئے ہمارے دل پر نقش ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب 1990ء میں وہ ملتان سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ زاہدی صاحب ہومیو ڈاکٹر تھے۔ مریضوں کا علاج بھی جاری رکھتے اور شعروادب پر گفتگو بھی جاری رہتی۔ فارغ بخاری کو ہم نے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر ہی دیکھا تھا۔ ڈاکٹر انور سدید ان دنوں ملازمت کے سلسلے میں کوٹ ادو میں مقیم تھے۔ وہ جب بھی ملتان آتے زاہدی صاحب کے کلینک پر ان کی نشست ہوتی۔ تنقید، شاعری اور افسانے کے نئے رجحانات پر ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ہم خاموشی سے سنتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا انداز گفتگو بہت محبت بھرا اور لہجہ بہت دھیما تھا۔ مصافحہ بہت گرمجوشی سے کرتے۔

خود زاہدی صاحب نے رباعی کو اپنی پہچان بنایا۔ مقصود زاہدی صاحب نے اپنے لئے ایک الگ راہ نکالی اور پھر وہ ملک بھر میں رباعی گو کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان کی وفات کے بعد رباعی کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ زاہدی صاحب رباعی کے موضوعات پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔ انہوں نے کائنات ، ہستی اور انسان کو اپنی رباعیات کا موضوع بنایا۔ زندگی کے بہت سے پہلو اور رنگ ان کی رباعیات سے جھلکتے تھے۔ 6 نومبر 1996ء کو مقصود زاہدی اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ مقصود زاہدی صاحب کو ہم سے بچھڑے 21 برس بیت چکے ہیں۔ افسوس کہ ملتان کے ادبی خدوخال نکھارنے والی اس شخصیت کو اہلِ ملتان نے فراموش کردیا ہے۔ گزشتہ 21 برس کے دوران ان کی یاد میں کوئی ایک محفل بھی تو برپا نہیں ہوئی۔ کسی ادارے نے ان پر کوئی کام نہیں کیا۔

رضی الدین رضی


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo