ایک زمین اِمام احمد رضاؔ خان بریلویؒ پیر سیّد نصیر…

[ad_1] ایک زمین
اِمام احمد رضاؔ خان بریلویؒ
پیر سیّد نصیر الدین نصیرؔؒ
۔۔۔۔۔

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حِجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مِہر کب سے نقاب میں ہے

نہیں وہ میٹھی نِگاہ والا خُدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے اُن کے خُدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے

جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزِشِ عشق چشمِ والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دِل کے کباب میں ہے

اُنہِیں کی بُو مایہء سمن ہے اُنہِیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہِیں سے گُلشن مَہک رہے ہیں اُنہِیں کی رنگت گُلاب میں ہے

تِری جلُو میں ہے ماہء طیبہ ہِلال ہر مرگ و زندگی کا
حیات جاں کا رکاب میں ہے مَمات اَعدا کا ڈاب میں ہے

سیہ لباسانِ دارِ دُنیا و سبز پوشانِ عرشِ اعلیٰ
ہر اِک ہے اُن کے کرم کا پیاسا یہ فیض اُن کی جناب میں ہے

وہ گُل ہیں لب ہائے نازُک اُن کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جِن سے
گُلاب گُلشن میں دیکھے بُلبُل یہ دیکھ گُلشن گُلاب میں ہے

جلی ہے سوزِ جِگر سے جاں تک ہے طالبِ جلوہء مُبارک
دِکھا دو وہ لب کہ آبِ حیواں کا لُطف جِن کے خِطاب میں ہے

کھڑے ہیں مُنکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مِرے پیمبر کہ سخت مُشکل جواب میں ہے

خُدائے قہّار ہے غضب پر کُھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیعِ مَحشر تُمھارا بندہ عذاب میں ہے

کریم ایسا مِلا کہ جِس کے کُھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ اے مفلسو کہ پِھر کیوں تُمھارا دِل اِضطِراب میں ہے

گُنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں اُمنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خُدا کے خورشید مِہر فرما کہ ذرّہ بس اِضطِراب میں ہے

کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
تُو اور رضؔا سے حِساب لینا رضؔا بھی کوئی حِساب میں ہے۔۔۔!

۔۔۔۔۔

جو دُور ہو تُم تو لمحہ لمحہ غضب میں ہے اِضطِراب میں ہے
ابھی مُقدّر میں گردِشیں ہیں ابھی سِتارا عذاب میں ہے

لڑکپن اب ہو چُکا ہے رُخصت کوئی جہانِ شباب میں ہے
تجلّیاں ہیں کے بے مُحابا ہزار چہرہ نقاب میں ہے

نہیں ہے تیری مِثال ساقی یہ تُجھ میں دیکھا کمال ساقی
عجیب کیف و سرور و مستی تِری نظر کی شراب میں ہے

نظر کو ہے وہ مقام حاصل کہ ہر جگہ ہے جمالِ کامل
نہ اُن کا جلوہ نقاب میں تھا نہ اُن کا جلوہ نقاب میں ہے

فریب خوردہ سہی نگاہیں کُھلی ہیں اُن پر خِرَد کی راہیں
خراب حالی کا دَور دَورہ جو تھا جہانِ خراب میں ہے

اِس انجمن کی فضا میں رہ کر سُکُون کیوں کر رہے مُیّسر
ابھی تو وہ آزما رہا ہے ابھی تو یہ دِل عتاب میں ہے

بہیں جو اشکِ فراق و حسرت تڑپ کے رہ جائے ساری خلقت
غضب کا طوفانِ درد پِنہاں ہماری چشمِ پُر آب میں ہے

تِری وہ پہلی نظر کا چَرکا تعلُق اُس سے ہے عُمر بھر کا
بڑے مزے کی خلِش ہے دِل میں بڑا مزا اِضطِراب میں ہے

وفا کی راہوں سے ہٹ گئے وہ جفا کی جانب پِلٹ گئے وہ
نصیرؔ اب کِس شُمار میں ہے نصیرؔ اب کِس حساب میں ہے​۔۔۔!


ایک زمین
اِمام احمد رضاؔ خان بریلویؒ
پیر سیّد نصیر الدین نصیرؔؒ
۔۔۔۔۔

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حِجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مِہر کب سے نقاب میں ہے

نہیں وہ میٹھی نِگاہ والا خُدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے اُن کے خُدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے

جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزِشِ عشق چشمِ والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دِل کے کباب میں ہے

اُنہِیں کی بُو مایہء سمن ہے اُنہِیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہِیں سے گُلشن مَہک رہے ہیں اُنہِیں کی رنگت گُلاب میں ہے

تِری جلُو میں ہے ماہء طیبہ ہِلال ہر مرگ و زندگی کا
حیات جاں کا رکاب میں ہے مَمات اَعدا کا ڈاب میں ہے

سیہ لباسانِ دارِ دُنیا و سبز پوشانِ عرشِ اعلیٰ
ہر اِک ہے اُن کے کرم کا پیاسا یہ فیض اُن کی جناب میں ہے

وہ گُل ہیں لب ہائے نازُک اُن کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جِن سے
گُلاب گُلشن میں دیکھے بُلبُل یہ دیکھ گُلشن گُلاب میں ہے

جلی ہے سوزِ جِگر سے جاں تک ہے طالبِ جلوہء مُبارک
دِکھا دو وہ لب کہ آبِ حیواں کا لُطف جِن کے خِطاب میں ہے

کھڑے ہیں مُنکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مِرے پیمبر کہ سخت مُشکل جواب میں ہے

خُدائے قہّار ہے غضب پر کُھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیعِ مَحشر تُمھارا بندہ عذاب میں ہے

کریم ایسا مِلا کہ جِس کے کُھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ اے مفلسو کہ پِھر کیوں تُمھارا دِل اِضطِراب میں ہے

گُنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں اُمنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خُدا کے خورشید مِہر فرما کہ ذرّہ بس اِضطِراب میں ہے

کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
تُو اور رضؔا سے حِساب لینا رضؔا بھی کوئی حِساب میں ہے۔۔۔!

۔۔۔۔۔

جو دُور ہو تُم تو لمحہ لمحہ غضب میں ہے اِضطِراب میں ہے
ابھی مُقدّر میں گردِشیں ہیں ابھی سِتارا عذاب میں ہے

لڑکپن اب ہو چُکا ہے رُخصت کوئی جہانِ شباب میں ہے
تجلّیاں ہیں کے بے مُحابا ہزار چہرہ نقاب میں ہے

نہیں ہے تیری مِثال ساقی یہ تُجھ میں دیکھا کمال ساقی
عجیب کیف و سرور و مستی تِری نظر کی شراب میں ہے

نظر کو ہے وہ مقام حاصل کہ ہر جگہ ہے جمالِ کامل
نہ اُن کا جلوہ نقاب میں تھا نہ اُن کا جلوہ نقاب میں ہے

فریب خوردہ سہی نگاہیں کُھلی ہیں اُن پر خِرَد کی راہیں
خراب حالی کا دَور دَورہ جو تھا جہانِ خراب میں ہے

اِس انجمن کی فضا میں رہ کر سُکُون کیوں کر رہے مُیّسر
ابھی تو وہ آزما رہا ہے ابھی تو یہ دِل عتاب میں ہے

بہیں جو اشکِ فراق و حسرت تڑپ کے رہ جائے ساری خلقت
غضب کا طوفانِ درد پِنہاں ہماری چشمِ پُر آب میں ہے

تِری وہ پہلی نظر کا چَرکا تعلُق اُس سے ہے عُمر بھر کا
بڑے مزے کی خلِش ہے دِل میں بڑا مزا اِضطِراب میں ہے

وفا کی راہوں سے ہٹ گئے وہ جفا کی جانب پِلٹ گئے وہ
نصیرؔ اب کِس شُمار میں ہے نصیرؔ اب کِس حساب میں ہے​۔۔۔!
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo