ابراہیم جلیس حیدر آباد دکن سے اپنے ساتھ ایک رپورتا…

[ad_1] ابراہیم جلیس حیدر آباد دکن سے اپنے ساتھ ایک رپورتاژ بھی لایا۔ اس رپورتاژ میں ہندوستان کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے ڈوبتے دل کی آخری دھڑکنیں تھیں۔ ہم سب دوستوں کو لاہور میں جلیس کا بڑا انتظار تھا۔
سقوط حیدر آباد دکن سے پہلے وہاں کے ریڈیو سٹیشن سے کبھی کبھی اس کی پرجوش آواز سن لیتے، اس آواز میں وہاں کے مسلمانوں کے حق میں خود ارادیت کی للکار تھی۔ جلیس دکن کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے برسر پیکار تھا۔ پھر دکن کی ریاست بھارت کے قبضہ میں چلی گئی اور وہاں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ جلیس کی آواز اسی کہرام میں گم ہو گئی۔ اب ہمیں اس کی بڑی فکر تھی۔ دوستوں کے دل میں طرح طرح کے خیال آتے۔ خدا کرے وہ خیریت سے ہو۔ میں اس سے پہلے نہیں ملا تھا۔ پاکستان کو قائم ہوئے چند مہینے ہی ہوئے تھے۔
ابراہیم جلیس کے افسانے اور طنزیہ مضمون میں رسالوں میں اکثر پڑھا کرتا تھا۔ اس کی کتاب ’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ چھپ کر منظر عام پر آ چکی تھی اور مجھے اس کا تیز تیکھا اور پرجوش جذباتی انداز بہت پسند تھا ۔ حمید اختر اور انشاء وغیرہ اسے پہلے سے جانتے تھے ۔ آخر ایک روز ابن انشاء کو کہیں سے خبر ملی کہ جلیس کل لاہور پہنچ رہا ہے۔ ہم سب اسے لینے والٹن ایئرپورٹ پر گئے، ایک دبلا پتلا ، چھ فٹ لمبا گہرے سانولے رنگ کا نوجوان ہنستا ہوا جہاز سے باہر نکلا اور بڑھ بڑھ کر ہر کسی سے ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے لگا۔ وہ بے تحاشا ہنس رہا تھا اور پرانے دوستوں کو تھاپیاں مار رہا تھا۔ میرا اس سے تعارف کرایا گیا تو وہ مجھ سے بغل گیر ہو گیا اور میرے کندھے پر زور سے ہاتھ مار کر بولا۔ ’’اوئے یارا توں تے بڑا رومانٹک ایں۔‘‘ جلیس کو پنجابی بولنے کا بڑا شوق تھا۔ ہمارے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ پنجابی میں بات کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ گلابی پنجابی بولتا اور غلط سلط بولے چلا جاتا۔ ’’کی گل اے بادشاہو!‘‘ اس فقرے سے وہ بات شروع کرتا۔ وہ ہم سب سے بہت جلد بے تکلف ہو گیا۔
ٹی ہائوس میں آ کر وہ یوں ہمارے ساتھ گھل مل گیا جیسے برسوں سے یارانہ ہو۔ اسی ہفتے ترقی پسند مصنفین کے اجلاس میں ابراہیم جلیس نے اپنا حیدر آباد دکن والا رپور تاژ پڑھا جو بے حد پسند کیا گیا۔ اس رپور تاژ میں شروع سے لے کر آخر تک ایک آبشار کی روانی تھی۔ اجلاس ختم ہوا تو ہم ٹی ہائوس میں آ کر بیٹھ گئے۔ جلیس کی بیوی بچے ابھی نہیں آئے تھے۔ اسے ان کا بے چینی سے انتظار تھا۔ وہ دکن سے نکل چکے تھے اور اب کسی دوسرے شہر میں تھے۔ ایک روز وہ بڑا خوش خوش ہمیں ملا۔ ’’میری بیوی اور بچے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا کروں؟‘‘ اور وہ زور سے قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ جلیس کا قہقہہ بہت پرشور، ہنگامہ خیز اور بلند ہوتا تھا۔ وہ اس قدر بھر پور قہقہہ لگاتا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ دکن کے بعض اصحاب کی طرح وہ ق کو خ بولتا تھا۔ ’’اوئے خمینے!‘‘ لیکن ہر جگہ اس خ کو استعمال نہیں کرتا تھا۔ وہ کئی چیزیں ہر جگہ استعمال نہیں کرتا تھا۔ اس کے پاس کچھ آنسو بھی تھے ۔ جن کا کچھ حصہ وہ اپنے قہقہوں میں استعمال کرتا تھا۔ جلیس کے آتے ہی محفل میں گرم جوشی کا رنگ آ جاتا۔ خواہ کیسی ہی محفل کیوں نہ ہو۔ وہ فقرے بازی شروع کر دیتا اور محفل کا رنگ بدل جاتا۔ خوش گوار ہو جاتا۔ بادل چھٹ جاتے اور ہلکی بوندا باندی شروع ہو جاتی۔

(اقتباس: اے حمید کی کتاب “گلستان ِ ادب کی سنہری یادیں” سے)
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo